Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 13

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 13

–**–**–

حریم نے گھور کر شگفتہ بیگم کو دیکھا اور تیزی سے انکو پیچھے دھکا دیتے ہوئے کچن سے باہر بھاگ گئیور اسکے پیچھے کالے رنگ کے ہیولے ُاڑ تے ہوے جاتے نظر آے۔۔۔۔۔۔
شگفتہ بیگم نے عفت جہاں کی طرف دیکھا اور فوراً
حریم کے تعاقب میں کچن سے نکل گئیں۔۔۔۔۔
باہر لاونچ میں حر یم زمین پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کو زبان سے چاٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
عفت نے خوفزدہ آواز میں حریم کے قریب جاکر پوچھا۔۔۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو حریم ۔۔۔۔۔۔۔؟
ہاتھ کیوں چاٹ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟
حریم نے اپنی آنکھیں سُکیڑ کر غصے سے عجیب سی آواز میں کہا ۔۔۔۔
کھانا کھایا ہے کیا نظر نہیں آتا ۔۔ ۔۔۔
بیٹا وہ تو گوشت تھا نا ۔۔ ۔۔۔ ۔۔
کھانا تھا میرا۔۔۔۔۔
کیا تجھے بھی کھا لوں۔۔۔۔ ۔۔؟
عفت اور شگفتہ نے جلدی سے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ انُکے کمرے سے نکلنے کا ارادہ کرتے ہی ۔۔۔۔۔حریم نے ُانکو دیکھا اور کہا ۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔۔!
پھرحریم نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بڑی سی الٹی کر دی ۔۔۔۔جو بہت سے خون اور کچے گوشت سے بھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شگفتہ اور عفت جہاں پریشانی سے یہ سب دیکھ ہی رہیں تھیں کہ حریم نے اچانک اپنے دونوں ہاتھوں سے اس غلیظ ُالٹی کو کھانا شروع کر دیا۔۔۔۔
شگفتہ بیگم نے اُس کو ہاتھ پکڑ کر روکنا چاہا تو ایک ہاتھ سے حریم نے ان کو اٹھا کر پھینک دیا۔۔۔۔۔۔
شگفتہ بیگم دور دیوار سے ٹکرائیں اور نیچے گرتے ہی بیہوش ہو گئیں تھیں۔۔۔
شگفتہ بیگم کو زمین پر گرتے دیکھ کر عفت جہاں کو پہلا خیال یہ ہی آیا کہ ان دونوں کو فوراً حریم سے دور ہونا چاہیے پھر کچھ لمحوں بعد عفت جہاں خوفزدہ ہوتے ہوے شگفتہ بیگم کو گھسیٹتے ہوئے لاؤنچ سے باہر لے کر چلی گیں ۔۔۔۔۔
کمرے میں لا کر عفت جہاں نے پریشانی سے ان کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنی شروع کر دیں مگر ہر طرح سے کوشش کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آرہی تھیں۔۔۔ ۔۔۔
عفت جہاں ساری صورتحال میں سر پکڑ کر بیٹھ گیئں اور قرآنی آیات کا ورد شروع کردیا۔۔۔۔۔۔۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
احمد صاحب نے جھٹکے سے اُس عورت سے اپنا پاؤں چھڑوایا اور آگے بڑھ کر ایک طرف جہاں کچھ کچرا کم تھا اور زمین پر جلنے کے بہت سے نشانات تھے شاید وہ ہی اصل جگہ تھی مردہ جلانے کی احمد صاحب نے بالآخر چلے کے لیے جگہ ڈھونڈ ہی لیا تھی ۔۔۔۔
احمد صاحب نے پہلے اپنے گرِد مرشد کی دی ہوئی راکھ سے حصار بنایا اور اس دائرے میں اندر آکر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
پھر انھوں نے اپنے سامنے ایک مٹی کا چراغ جلا کر رکھ دیا اور تسبیح نکال کر چّلہ شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب اپنی پڑھائی میں سکون اور اطمینان کے ساتھ مشغول تھے کہ ایسا محسوس ہوا کہ انُکے کاندھے پر کوئی چڑھ کر بیٹھ گیا ہو جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے نظر آنداز کر دیا مگر لمحہ بہ لمحہ وزن بڑھتا جارہا تھا ۔۔۔۔۔احمد صاحب نے ہمت کر کے وِرد جاری رکھا تھوڑی دیر بعد وہ وزن خود با خود ہٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔چلہ کھینچتے ہوے اب دو گھنٹے ہو گئے تھے فجر تک چّلہ پورا کرنا تھا۔۔۔ ۔
اس وقت رات کے ڈھائ بج چکے تھے ۔۔۔۔
احمد صاحب کو اپنے سامنے سے ایک عورت کی آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔
سنو۔۔۔۔۔میرا بچہ بہت بھوکا ہے اس نے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔۔
کچھ کھانے کو لا دو ۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی ایک چھوٹے سے بچے کی بھوک سے بلکنے کی آواز آنے لگی ۔۔۔۔۔
بچے کے روتے ہی اس عورت کی تکرار تیز تر ہوتی جا رہی تھی
کچھ کھانے کو لا دو ۔۔۔۔۔۔۔
کچھ کھانے کو لا دے ۔۔۔۔۔۔
کھانا لا دے ۔۔۔۔،
کھانا لا دے ۔۔۔۔۔۔
اب تو ایسا معلوم ہوتا تھا کی آٹھ دس عورتیں ایک ساتھ کھانا لانے کی گردان کر رہی ہوں
کچھ دیر بعد ساری آوازیں بدل کر مردوں کی آوازوں میں تبدیل ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
آوازیں اِسقدَر تیز تھیں کہ احمد صاحب کو پڑھنے میں مشکل ہو رہی تھی احمد صاحب نے اور تیزی سے وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔
پھر سے سارے میں ایک پرسرار۔ خاموشی چھا گئ
تقریباً سوا تین بجے سارے مندر میں
او۔۔۔۔۔۔۔ اووووو۔۔۔۔۔۔
اووں۔۔۔۔۔اووں۔۔۔۔۔
کی آوازیں سنائی دینے لگیں ایسا لگتا تھا کہ وہ عجیب و خلقت حیوان بہت زیادہ تعداد میں
شمشان گھاٹ میں جمع ہو گے ہوں انھوں نے احمد صاحب کے گرد چکر کاٹنا شروع کر دیے ۔۔۔۔۔۔
وہ۔ چکر لگاتے ہوے اپنی لمبی زبانوں سےشڑپ شڑپ۔۔۔۔
کی آوازیں نکالتے جاتے اور غُرا غُرا کر چکر کاٹتے جاتے۔۔۔۔۔۔
اچانک سےسارا مندر تیز گھنٹیوں کی آوازوں سے گونجنے لگا اور گھنٹیوں کے بجتے ہی سارے ہیولے کتوں کی طرح رِینکنے لگے اور زور زور سے رونے لگے۔۔۔۔۔۔۔
اتنی تیز آوازیں تھیں کہ احمد صاحب کو محسوس ہونے لگا کہ اُنکے کان کے پردے پھٹ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے سارا دھیان اپنے چلّے پر لگا رکھا تھا مگر شور بہت ہو رہا تھا۔ ایکدم سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی اور ساتھ ہی ایک مکروہ آواز سارے شمشان گھاٹ اور مندرمیں گونج اُٹھی۔ “ہش ” سارا شمشان گھاٹ اور مندر اسُ منحوس آواز سے گونجنے لگا آواز لمحہ بہ لمحہ احمد صاحب کے پاس شمشان گھاٹ میں آتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ آواز احمد صاحب کو اپنے بہت قریب محسوس ہوئ۔۔۔
خبیث پنڈت کی آواز سارے میں گونجی ۔۔۔۔۔
بعض نہیں آیا تو ۔۔۔۔۔؟
ہمت ہے تو کھول أنکھیں دیکھ مجھے ۔۔۔۔۔۔
ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
بول۔۔۔۔۔ ۔
کر لے چلّے۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے گھر آیا ہے تو۔۔۔۔
کالی والوں کے گھر ۔۔۔۔۔۔
ہمیں گھاٹ پر مارنے آیا ہے ۔۔۔۔۔۔ کمبخت
تو یہاں ہے نا۔ ۔۔۔۔۔۔
دیکھ ہم تیری بیوی کو یہاں لے آئے ۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے پریشانی سے دونوں آنکھیں کھول دیں۔۔۔۔۔سامنے بہت سے مرُدے کھڑے تھے کسی کے سرَ سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔
کسی کا چہرہ آدھا کھایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
کوئی قیمہ قیمہ ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
بہت سے آدھے کھاۓ گۓ اور پورے مردے بھی تھے
ان کے ساتھ ہی چاروں ہاتھوں پیروں سے چلنے والے وہ کتے نما آدم خور خون چوسنے والی مخلوق
بھی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔
پنڈت نے احمد صاحب کی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں ڈال کر اپنی مکروہ آواز میں کہا۔ ۔۔۔۔
بیوی کو دیکھے گا احمد ۔۔۔۔۔۔؟
رُک۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دیکھ پنڈت نے ایک طرف اشارہ کیا وہاں سے شگفتہ بیگم بلکل ٹھیک چلی آرہی تھیں۔۔۔۔۔۔
انھوں نے آتے ہی بولا۔۔۔۔۔
آئیں احمد جلدی گھر چلیں۔۔۔۔
حریم کی حالت بہت بگڑ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب کو لگا کہ یہ شگفتہ بیگم ہی ہیں انھوں نے۔ چلہ ّ روکنے کا فیصلہ کیا اور اِس سے پہلے کے وہ حصار سے نکلتے انھوں نے چراغ کی جانب دیکھا اور چراغ کے بلکل سامنے ہی شگفتہ بیگم بغیر پاؤوں کے کھڑی تھیں یعنی یہ سب ایک چال تھی ۔۔۔۔۔۔!
اگر وہ اس حصار سے نکل جاتے تو کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب کو اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر پنڈت نے زور دار آواز سے قہقہہ لگایا اور “ہش” کہا اور سارے لوگ پنڈت سمیت غائب ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے اپنا وظیفہ تیزی سے پورا کرنا شروع کر دیا اور کچھ دیر بعد انکا چّلہ پورا ہوتے ہی کہیں دُور سے آذانیں سنائ دیں ۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے سامان سمیٹ کر رکھا اور سامنے نظر ڈالی تو ایک طرف۔ کونے میں بہت سے عجیب خلقت انسان نما وحشی کسی چیز پر جُھکے ہوئے تھے احمد صاحب نے آگے قدم بڑھائے تو سارے وحشی اُچھل اُچھل کر بھاگنا شروع ہوگئے
نیچے زمین پر ایک پنجر نما انسان پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جسکی دونوں آنکھیں غائب تھیں اور آنکھوں کے گڑہوں سے کچھ نوچی ہوئ رگیں باہر لٹک رہی تھیں ۔۔۔۔۔
سارا جسم سفید رنگ کا تھا جیسے جسم میں خون کا ایک خطرہ بھی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
حریم کی حرکتیں دیکھ کر عفت جہاں نے اس کو کسی طرح سلانے کا فیصلہ کیا اور اپنی دوائیوں میں سے چار نیند کی گولیاں ایک گلاس دودھ۔میں ڈال کر وہ حریم کے پاس لاؤنچ میں لے کر آگئیں۔۔۔۔۔۔
حریم اپنی ساری الٹی کھا کر ُاسی گنَد میں ہی آنکھیں بند کیے سیدھی لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
عفت جہاں نے دل مضبوط کر کے حریم کو آواز دی ۔۔۔
حریم ۔۔۔۔۔۔
حریم بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔اٹھو۔۔۔۔
تھوڑا دودھ پی لو۔۔۔۔۔۔!
حریم نے دونوں آنکھیں کھول کر ُانکو مشکوک نظروں سے دیکھا اور لیٹے لیٹے ہی اپنا گندا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
عفت جہاں نے دودھ کا گلاس اُسکے سرخ اور پیلے بدبو دار ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔۔۔
حریم نے گلاس منہ کے اوپر لا کر بڑا منہ کھولا اور پورا دودھ لیٹے لیٹے ہی اپنے منہ میں انڈیل لیا جیسے کوئی کسی برتن میں دودھ ڈال رہا ہو سارا دودھ ختم ہونے پر حریم نے گلاس ہوا میں اچھال دیا جو زمین پر گر کر چھناکے سے ٹوٹ گیا۔۔۔۔
حریم نے عفت جہاں کو دیکھا اور زور سے چیخی ۔۔۔۔۔
جا۔۔۔۔۔ دفعہ ہو جا۔۔۔۔۔
اور زور زورسے ہنسنے لگی ۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔ ہا۔ ۔
عفت جہاں ڈر کر واپس دوسرے کمرے میں آئیں اور انھوں نے دوبارہ سے شگفتہ بیگم کو ہوش میں لانے۔کے لیے پانی کے چھینٹیں مارے تھوڑی دیر بعد ہی شگفتہ بیگم نے کراہتے ہوے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔ ۔
عفت جہاں نے اُنکو ہوش میں آتے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے بہن آپ کو ہوش آگیا ۔۔۔۔۔
شگفتہ بیگم نے عفت جہاں سے حریم کا پوچھا ۔۔۔
حریم۔۔۔۔۔۔؟
وہ ٹھیک نہیں ہے بہن ۔۔۔۔۔
میں نے اسُکو دوا دی ہے آپ ُرکیں میں دیکھ کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔
عفت جہاں نے شگفتہ بیگم سے کہا اور لاؤنچ میں چلی گئیں۔۔۔۔۔۔۔
لاؤنچ میں آکر انھوں نے ڈرتے ڈرتے حریم کو آواز دی حریم ۔۔۔۔
حریم بیٹا ۔۔۔ ۔
حریم نے کوئ جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔۔
شاید دوا نے کام کر دیا۔۔۔۔۔
عفت جہاں عجلت میں شگفتہ بیگم کے پاس آئیں اور ان سے کہا شگفتہ بہن شکر ہے وہ سوگی ہے میں نے اُسکو نیند کی دوا دی تھی۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ نہیں کر سکتی آپ چلیں ذرا ہمت کریں ہمیں اسُکو باندھنا ہوگا۔ ورنہ پتا نہیں وہ ہوش میں آتے ہی ہمارا کیا کرے گی ۔۔۔۔۔۔؟
ہاں یہ تو ہے شگفتہ بیگم نے رَنج سے کہا ۔۔۔۔
چلیں جلدی کریں میں کوئ رسی اور دوپٹے لاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
احمد صاحب نے اس آدمی کے قریب جاکر دیکھا تو اُسکے جسم پر چھوٹے بڑے سوراخ نُما زخم کے بہت سے نوکیلے دانتوں کے نشان تھے ۔۔۔۔
ابھی بھی شاید وہ اس کا خون ہی پی رہے تھے ۔۔۔۔۔
مرشد نے کہا تھا جو پہلی چیز نظر آئے لے آنا
۔۔۔۔
احمد صاحب نے اُس آدمی کو اپنی کمر پر لادنے کی کوشش کی اور بہت مشکل سے ُاس کو کمر پر لٹکا لیا۔۔۔۔۔۔۔
اس آدمی کا سارا جسم کسی مُردے کی مانند سرد ہو رہا تھا جسکے جسم کی ٹھنڈک سے احمد صاحب کو خوف محسوس ہو رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کسی مردے کو کمر پر لاد کر جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
شمشان گھاٹ سے سیڑھیاں چڑھ کر احمد صاحب اوپر مندر میں أگے ۔۔۔۔۔۔
مندر سے آہستہ آہستہ چل کر باہر نکلنے لگے کے ایکدم کسی چیز سے انکا پیر ُالجھا اور وہ اُس آدمی سمیت نیچے گر پڑے ۔۔۔۔۔
اپنے دونوں لب سیے احمد صاحب نے پھر سے اٹھنے کی کوشش میں زمین پر ہاتھ مارا اور سہارا لینے کی لیے زمین پر ہاتھ رکھا تو اُنکا ہاتھ کسی پلپلی سی چیز پر پڑا شاید اسی چیز سے وہ اُلجھ کر گرے تھے ۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے اس چیز کو ہاتھ میں اُٹھایا تو وہ کسی مردار خور منحوس خبیث کی لمبی تھوک اور خون سے لتھڑی زبان تھی احمد صاحب کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی ایک سرد لہر اٹھی اور وہ سوچنے لگے کہ کیا اس کو بھی۔لےجاوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: