Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 14

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 14

–**–**–

مرشد صاحب نے تو کہا تھا کہ جو بھی ملے۔ ساتھ لے آنا ۔۔۔۔اب تک اس کمزور اور
قریب المرگ آدمی اور اب یہ عجیب سی خون میں لتھڑی ہوئی زبان کے سوا کچھ نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے کراہیت سے وہ لمبی سی زبان۔ اٹھا کر اپنی قمیض کی جیب میں ڈال لی اور پھر سے اس آدمی کو کمر پر ڈال کر اٹھنے لگے اور پھر سے کھڑے ہوگئے ۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے مندر سے باہر آکر تیزی سے وہ کچا رستہ پار کیا اور اب وہ آبادی میں موجود تھے اس سے پہلے کہ کوئ اُنکو اس عجیب سے آدمی کے ساتھ دیکھتا احمد صاحب نے تیزی سے چلنا شروع کر دیا تیز چلنے کی وجہہ سے اب انکی سانس ُپھول گئ تھی۔ میدان شروع ہونے پر احمد صاحب کو اپنے کمرے ہر موجود اس آدمی کا وزن بڑھتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔
ایسا لگتا تھا کہ جیسے کمر پر ایک آدمی نہیں دس آدمی ہیں احمد صاحب کی کمر اور کندھےاب وزن سے درد کرنے لگے تھے مگر وہ پھر بھی مسلسل چل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
میدان کے وسط میں پہنچ کر احمد صاحب کی ہمت جواب دے گئی اور انھوں نے اس آدمی کو اپنی کمر سے اتار کر زمین پر ڈالا اور خود بھی وہیں زمین پر نڈھال سے بیٹھ گے ۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب کو کچھ دیر بعد چار نمازی لڑکے اپنے قریب آتے دیکھا ئ دیے ۔۔۔۔۔
قریب آنے پر ان لڑکوں نے احمد صاحب کو سلام کیا ۔۔۔۔۔۔
السلام و علیکم بزرگو۔۔۔ ۔۔۔۔
کیسے ہیں آپ ۔۔۔۔۔؟
احمد صاحب نے ان کو دیکھا اور خاموشی سے پھر سے نیچے زمین پر دیکھنے لگے ۔۔۔۔
حلیے سے تو وہ لڑکے کسی۔ شریف خاندان کے نظر آتے تھے صاف ستھرے سفید لباس اور سروں پر ٹوپی لگاے شاید نماز پڑھ کر لوٹے تھے۔۔۔۔۔
اچھا بزرگو ہم جاتے ہیں یہ پانی تو پی لو بزرگو تھکے ہوے لگ رہے ہیں۔۔۔۔
اچھا ر بّ رکھا۔۔۔۔۔
سلام کا جواب تو دے دو۔ ۔۔
احمد صاحب نے ان لوگوں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔اور خاموش رہے ۔۔۔۔
اچھا بزرگو یہ پانی پی لیں ۔۔۔۔
ان لڑکوں میں سے ایک جو تھوڑا سمجھدار دکھائی دیتا تھا اس نے ہمدردی سے احمد صاحب کو پانی کی بوتل زمین سے ُاٹھا کر کھول کر دی ۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے کچھ لمحے سوچ کر پانی پینے کے لیے بوتل کو منہ سے لگا لیا اور أدھی بوتل پانی پی لیا ۔۔۔۔۔۔۔ !
احمد صاحب نے بوتل بند کر کے ان لڑکوں کی جانب تشکر کی نظر سے دیکھا اور بوتل اُنکو دے دی ۔۔۔۔۔۔
ُاسی سمجھدار لڑکے نے بوتل ان کے ہاتھ سے لی اور پرُسرار سی مکروہ مسکراہٹ سے مسکرا کر بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔
‘آگیا نا جھانسے میں احمد”۔ ۔۔۔
اور سارے لڑکے ہوا میں دھول کی طرح تحلیل ہو گۓ۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب حیرانی سے دیکھتے ہی رہ گے پھر
احمد صاحب نے خوف سے اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھا جو بہت ٹھنڈے ہوگے تھے اور ان پر لال نشان بھی نمودار ہونے لگے تھے ۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے پریشانی سے اُس آ دمی کو کمر پر اٹھایا اور تیزی سے بس اسٹاپ پہنچ گے سامنے ہی وہ بس کھڑی تھی اور اس کا ڈرائیور سڑک پر احمد صاحب کا منتظر کھڑا تھا اس نے لپک کر احمد صاحب کو سہارا دیا اور احمد صاحب کو بس میں سوار کرایا پھرب تیزی سے بس چلا دی ۔۔۔۔۔
تیز رفتاری سے گاڑی چلا کر شوکت نے احمد صاحب کو دو گھنٹے میں ہی کراچی پہنچا دیا ۔۔۔۔
بس اڈے پر بس روکتے ہی شوکت نے احمد صاحب کو رکُنے کا کہا اور بس سے اتُر گیا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد شوکت کے ساتھ فیصل بس میں داخل ہوا اور اس آدمی کو ایک چادر پر ڈال کر چادر کو ہاتھوں سے اٹھا لیا شوکت اور فیصل نے اس آدمی کو ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور احمد صاحب کے لیے ٹیکسی کا اگلا دروازہ کھول دیا ۔۔۔
احمد صاحب کے ٹیکسی میں بیٹھتے ہی فیصل نے ٹیکسی چلا دی اور خاموشی سے سفر گزرنے لگا بیس منٹ بعد ٹیکسی مُرشد کے آستانے پر پہنچ گئی گاڑی ُرکتے ہی نور محمد باہر آیا اور اس نے فیصل کو کہا۔۔۔۔۔۔۔
میرے ساتھ اِسکو اندر لے چلو اور وہ دونوں اس آدمی کو اٹھا کر مرشد کے پاس لے گئے۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے جیسے ہی ٹیکسی سے باہر نکل کر اندر مرشد کے آستانے کی جانب قدم بڑھائے نور محمد نے باہر آکر غصے سے کہا ۔۔۔۔۔
دور رہ ۔۔۔۔۔۔
اندر نہیں آنا۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے حیرانی سے نور محمد کو دیکھا تب ہی پیچھے سےمرشد نے آکر جلال سے کہا۔۔۔۔۔
پلید ہے تو ۔۔۔ ۔۔
ُانکی غلاظت پی کر آیا ہے۔۔۔۔
نجس کر دیا تجھے ۔۔۔۔۔۔
کہا تھا نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوشیار رہنا۔۔۔۔
یہ ہاتھ دیکھ اپنے۔ ۔۔۔۔۔۔
مرشد نے احمد صاحب کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
احمد صاحب نے ہاتھوں کو دیکھا جہاں بڑے بڑے آبلے نکلے ہوے تھے اور ان آبلوں میں خون بھرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: