Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 17

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 17

–**–**–

راستے میں مرشد صاحب نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا۔۔۔۔
بیٹا تمھارے پاس فون ہے۔۔۔۔؟؟
جی بابا ہے ۔۔۔۔۔
بیٹا ایک نمبر پر فون کرنا ہے ۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔بابا یہ لیں ۔۔۔۔ڈرایور نے اپنا فون مرشد صاحب کو دے دیا ۔۔۔۔
انھوں نے ایک نمبر ملایا دوسری جانب فوراً فون اٹھایا گیا
جی ۔۔بابا۔۔۔۔۔۔
بلال آپریشن کی تیاری کرو۔۔۔
جی بابا۔۔۔۔۔۔۔
پھر فون بند کرکے مرشد صاحب نے ڈرائیور کو واپس کر دیا شکریہ بیٹا۔۔۔۔۔
کوئ بات نہیں بابا جی یہ جو مریضہ ہے آپ کی کون ہے ۔۔ ۔۔
بیٹی ہے میری ۔۔۔۔۔
پھر مرشد صاحب ڈرائیور سے مخاطب ہوتے ہوے بولے۔۔۔ہاں ، بس یہاں سے دائیں وہ دیکھو سامنے دارالخیر اسپتال ہے ہاں وہیں روکنا جلدی چلو۔۔۔۔
ِانکی ٹیکسی کے رکتے ہی۔ مرشد نے ٹیکسی والے کے ساتھ مل کر حریم کو اٹھایا اور اندر لے کر بھاگے عفت جہاں کے سارے کپڑے خون میں ڈوبےہوے تھے جب ٹیکسی سے وہ اتر رہی تھیں تو ٹیکسی کی پچھلی سیٹ ساری خون میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔۔
عفت جہاں کا دل یہ سب دیکھ کر ڈوب رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اندر ایمرجنسی میں داخل ہوتے ہی سامنے ایک لڑکا سفید اور آل میں سارے اسٹاف کو لیے کھڑا تھا ۔۔۔
ان لوگوں کو آتے دیکھتے ہی وہ ُانکی جانب لپکا۔۔۔۔
بابا۔۔۔۔۔۔
جلدی بلال بہت مشکل ہو گئ ہے اسکو بچاؤ جاؤ جلدی کرو ۔۔۔۔
بہت دیر سے خون بہہ رہا ہے۔۔۔۔
جی بابا میں جاتا ہوں۔۔۔۔
پھر وہ یہ بول کر پلٹ کر سارے اسٹاف کو ہدایات دینے لگااسٹریجر پر ڈال کر حریم کو آپریشن تھیٹر میں لے کر چلے گے ۔
احمد صاحب بھی شگفتہ بیگم کے ساتھ اسپتال پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔۔
کیا ہوا مرشد صاحب کہاں لے کر گے ہیں ۔۔۔۔۔؟
کہاں لے کر جائیں گے احمد۔ ۔۔۔۔۔۔
آپریشن تھیٹر میں ہے ۔۔۔۔
دعا کرو ۔۔۔۔۔مرشد صاحب نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب منتظر نظروں سے آپریشن تھیٹر کے دروازے کی جانب دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
ایکدم سے دروازہ کھول کر وہ ڈاکٹر باہر آیا ۔۔۔۔،اور سیدھا مرشد صاحب کے پاس آیا
بابا ۔۔۔آپ دعا کریں ۔۔۔
لڑکی کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔۔۔
خون بھی بہت نکل گیا ہے ۔۔۔۔۔
بچہ بھی پری میچور ہے دعا کریں کے سروایو کر جاۓ
سب خیر ہوگیان شاء اللہ۔ ، تم جاؤ ۔۔۔۔۔
اس ڈاکٹر کے جانے کے بعد ۔۔۔۔
احمد صاحب نے مرشد صاحب سے پوچھا ۔۔۔
یہ آپ کو بابا کیوں کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔؟
بیٹا ہے میرا احمد
یہ اسپتال بھی اسی کا ہے۔۔۔۔۔
اوہ ۔۔۔۔کیا بتایا ڈاکٹر نے ۔۔۔۔۔۔!
دعا کرو احمد ۔۔۔ اُسے دعا کی ضرورت ہے
یہ بول کر مرشد صاحب نے تیزی سے تسبیح پڑھنی شروع کر دی۔۔۔۔۔۔
سارے شمشان گھاٹ میں تیز روشنی ہو رہی تھی
گھاٹ کے بیچ میں ایک بڑا سا آگ کا الاؤ دِھک رہا تھا
اور اس الاؤ کے ارد گرد بہت سے مردہ خور حیوان اپنی لمبی زبانوں سے زمین چاٹ رہے تھے زمین پر ہر جگہ صرف تازہ خون پڑا تھا اورالاو میں ہر تھوڑی دیر بعد ایک بچہ زیبحہ کر کےاسکا سر آگ میں ڈالا جا رہا تھا اور باقی کا دھڑ ان حیوانوں کے آگےپنڈت ڈال رہا تھا ۔۔۔۔
بہت دیر سے یہ تماشہ جاری تھا ۔۔۔۔۔۔
پنڈت نے اچانک اپنے دونوں ہاتھوں کو فضا میں بلند کیا ۔۔۔۔۔۔۔
اور ہاتھ میں موجود چھ ماہ کے بچے کا سر جسم۔سے نوچ کر آگ میں پھینک دیا اور باقی بچے ہوے جسم میں موجود آدھی گردن کے حصے پر اپنے منحوس دانت گاڑ دیے اور سیر ہو کر تازہ خون پینے کا بعد ۔۔۔۔۔۔
اپنی خبیث آواز میں ڈکراتے ہوے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
آگیا۔۔۔۔۔۔ بالنوں کا بالن آگیا۔۔۔۔
ہمارا پالن ہار آگیا ۔۔۔۔۔۔
اور پھر کالی کے پتلے کہ پاس جا کر اپنی کلائی۔کاٹی اور ایک پیالے میں اسُکا خون بھر کر کالی کے پاؤں کے اوپر اس خون کو انڈیل دیا۔۔۔۔۔۔۔
پھر سر کو جھکا کر منتر پڑھتے ہوے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نرنم سواہا نیم ہیم دھرم کش کرنم سواہا۔۔۔۔۔۔۔
کالی کے بالن کا نام ۔۔ ۔۔۔
کالی گھو شِت کرنم ۔۔۔۔۔۔
کالی ۔۔۔۔۔۔
کالی ۔۔۔۔۔۔۔۔کالی کی جے ۔۔۔۔۔
چلو سواگت کا سمے ہے ۔۔۔۔۔۔
بالن کا منہ میٹھا کرنا ہے ۔۔۔ ۔
یہ بول کر پنڈت زور زور سے اپنی مکروہ آواز میں ہنسنے لگا اور ساتھ ہی ِاسکے چیلے چپاٹے بھی کتوں کی طرح رینکنے لگے۔۔۔۔۔۔۔
آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھول کر ڈاکٹر بلال باہر آے اور پیچھے پیچھے ایک نرس گود میں ایک بچے کو اٹھا کر باہر آئی۔۔۔۔۔۔
نرس نے عفت جہاں کی گود میں بچہ دیتے ہوے کہا۔۔۔۔
مبارک ہو اماں جی آپ نانی بن گیں ۔۔۔۔
عفت جہاں نے بچے کو گلے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں ۔۔۔ ۔۔
عفت جہاں نے پریشانی سے نرس سے پوچھا ۔۔۔۔۔
میری بہو ۔۔۔۔۔میری بہو کیسی ہے ۔۔۔۔۔۔؟
زخم بہت بڑا تھا اماں جی ۔۔۔۔۔۔شکر ہے اللہ کا اسکی زندگی تھی بچ گئ ورنہ بچنے کی امید بہت کم تھی
ابھی آی ۔ سی ۔ یو میں رکھیں گے کچھ دن ۔۔۔
آپ روئیں نہیں بچے کے کان میں آذان دلوائیں۔۔۔۔
لڑکا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
کمزور ہے ِاسکو انکیوبیٹر میں رکھنا ہوگا۔۔۔۔۔۔
عفت جہاں نے نرس کی بات سن کر بچے کومرشد صاحب کی گود میں دے دیا ۔۔۔۔۔۔
مرشد صاحب نے بچے کے کانوں میں اذان دی۔۔۔۔
اور پھر نرس اسکو لے کر ایک طرف بنی چلڈرن نرسری میں لے گئ ۔۔۔۔۔۔
نرس نے اندر نرسری میں آکر ایک خالی بکس میں اس بچے کو لٹا دیا ہاتھ میں۔ بے بی آف حریم کا ٹیگ بھی ڈالا گیا تھا ۔۔۔بچے نے آنکھیں موند رکھی تھیں
بال بھی سنہری تھے پلکیں بھی سنہری تھیں وزن میں بہت ہلکا بچہ تھا اور کمزوری کی وجہہ سے ہی اسکو انکیوبیٹر میں رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وقت سے پہلے پیدائش ہوئی تھی اسلیے نرس نے باقی موجود نرسنگ اسٹاف سے کہا۔۔۔
اس بچے کا بہت زیادہ خیال رکھنا یہ ڈاکٹر صاحب کے رشتے داروں کا بچہ ہے ۔۔۔۔
ساتھ کی اسٹاف نے بچے کو شفقت سے دیکھا اور بولی
ہاں بھی جیسے ہم تو خیال رکھتے ہی نہیں ۔۔۔۔۔
دوسری نرس واپس باہر چلی گئی اور نرسری کااسٹاف باتوں میں مشغول ہوگیا
کچھ دیر بعد بچے کو پھندا لگا تو نرس نے ُاسکے قریب
جاکر دیکھا کہ بچے کو پھندا کیوں لگ رہا ہے
بچے پر نظر ڈالتے ہی نرس اپنی جگہ پر جم کر رہ گئ سارے منہ پر سرخ خون لگا ہوا تھا اور منہ کہ اندر بھی خون بھرا ہوا تھا جیسے کسی نے اسکو خون پلایاہو۔۔۔
نرس کے منہ سے ایک دلخراش چیخ باہر نکلی اور وہ خوف سے بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑی ۔۔۔۔۔
نرسری سے چیخ کی آواز سن کر مرشد صاحب اور احمد صاحب دونوں پھرتی سے نرسری میں داخل ہوے بچے کے منہ اور چہرے پر خون لگا دیکھ کر ۔۔۔۔۔
مرشد صاحب نے احمد صاحب سے کہا ۔۔۔۔۔
دکھا دیا انھوں نے اپنا کام خون پلاکر گئے ہیں۔۔۔
احمد اب ہمیں ُانکو ختم کرنے جانا ہو گا چلو آؤ جلدی کرنی ہوگی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: