Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 2

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 2

–**–**–

صائم بھی ان عجیب و خلقت لوگوں کو دیکھ کر دنگ رہ گیا جو آدھا جسم ڈھانپے ، سفید رنگت کے ساتھ منہ سے رال ٹپکاتے کسی وحشی درندے کی طرح ایسے لپک لپک کر اس تازہ مردے کی بوٹیاں کھارہے تھے کہ جیسے دنیا میں ان خون میں لتھڑی بوٹیوں سے ذیادہ کچھ لذیز نہیں۔۔۔۔۔۔
یہ سب دیکھ کر صائم کو شدید کراہیت ہونے لگی اور اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کچھ دور خوفزدہ کھڑی حریم کی جانب مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔،
صائم نے اسکو واپس آنے کا اشارہ کیا اور جیسے ہی ان لوگوں کی جانب گھوما ۔۔۔اسکے بلکل سامنے وہ داڑھی والا آدمی کھڑا تھا ، حلیہ سے تو وہ کوئی پنڈت نظر آتا تھا ، کالا چوغا ،بکھرے بال اور داڑھی عجیب سی اک کھٹی سی بدبو اُٹھ رہی تھی اسکے وجود سے۔۔۔ ، صائم نے اس آدمی سے دور ہوتے ہوئے کہا ۔۔،
کون ہو تم ۔۔۔؟
یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے۔۔۔۔؟
یہ مردہ کیوں نکال کر کھا رہے ہو۔۔۔؟
اس آدمی نے صائم کے بلکل پاس آکر اسکے کان میں دھیمی آواز میں کہا۔۔۔۔۔۔،
“ہمیں تازہ مردہ چاہیے ہوتا ہے”
“اب تم ہمارے ہو”
اس پنڈت کی بات سن کر صائم کے جسم کے سارے رونگٹے کھڑے ہوگے اور ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی اک سرد لہر اٹھی ،
صائم نے اس کو پیچھے دھکیلا اور وہاں سے واپس جانے کے لیے قدم بڑھائے ۔۔۔۔
مگر صائم نا تو وہاں سے ہل پایا اور نہ ہی اُس پنڈت کو خود سے دور کر پایا،
یہ سب دیکھ کرپنڈت اور اسُکے چیلے زور زور سے ہنسنے لگے۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔کہا تھا نا۔۔۔۔۔،اب تم ہمارے ہو،اور اسنے اپنی سرخ ہوتی آنکھیں صائم کی آنکھوں میں گاڑ کر آگے بڑھتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ایک نظر پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑی حریم کو دیکھا ،اور اپنے ان وحشیوں کو دیکھ کر ہش کا اشارہ کیا ، دونوں عجیب و خلقت لوگ کسی کتے کی طرح دونوں ہاتھوں اور پاؤوں سے دوڑتے ہوئےحریم کی جانب جانے لگے انکی لمبی رال ٹپکاتے زبانیں گز بھر لمبی زمین پر ساتھ گھسٹتی جاتی تھیں۔۔۔۔۔۔، ان کو اپنی جانب آتے دیکھ کر حریم نے زور سے ایک چیخ ماری اور ہوش و خرد سے بیگانہ ہوکر نیچے گر پڑی ۔۔۔۔!
اب تو اور بھی آسان تھا سب کام۔۔۔ پنڈت نے اپنی مکروہ مسکراہٹ سے صائم کی طرف دیکھا۔۔۔ صائم کی آنکھ سے بے بسی کا آنسو ٹپکا۔۔۔۔،
اس پنڈت نے تب ہی آگے بڑھ کر اپنے دانت صائم کی گردن میں گاڑ دیے ۔۔۔۔۔۔صائم ہل بھی نہیں سکتا تھا بے بسی اور لاچارگی سے اپنی موت کو خود پر حاوی ہوتے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔،
حریم کو اچھی طرح سونگنے کے بعد دونوں وحشی اسکے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنے آقا کے دوسرے حکم کے انتظار میں بیٹھ کر اونچی آواز سے کتے کی طرح رینکنے لگے ،
صائم کے بے دم وجود کے زمین پر گرتے ہی۔۔۔۔ پنڈت نے اپنے منہ پر لگا گرم خون ہاتھ سے پوچھا اور ہش کی آواز نکالی ۔۔۔۔۔ ،
آواز کانوں میں پڑتے ہی دونوں وحشی لپک کر صائم کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔،اور اسکی آنکھیں اپنے لمبے ناخن والی انگلیوں سےنوچنے لگے۔۔۔۔۔۔،آنکھوں کے بعدکس حصے کو ادُھیڑنا تھا یہ تو بس وہ پنڈت ہی جانتا تھا جو خوب سیر ہوکر زمین پر آسن جما کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
رات اپنی سیاہی اور رازوں کے ساتھ مزید گہری ہوتی جارہی تھی ۔
موت کا سناٹا مکمل طور پر ہر سو چھاگیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
صبح کا روشن زندگی سے بھر پور اجالا سارے میں پھیل گیا تھا ،بڑی نعمت ہے یہ روشنی بھی ساری سیاہی سارےبرے کام اپنی روشنی سے مٹا دیتی ہے۔
احمد علی صاحب ایک ریٹائر پروفیسر تھے ، احمد صاحب نے ملازمت کے بعد سکون کی خاطر اس پرفضا مقام پر رہائش کو ترجیح دی اور یہاں منتقل ہوگئے۔
نماز فجر کی ادائیگی کے بعد وہ اپنے جواں سال بیٹے کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنے قبرستان پہنچے تو وہاں ایک لڑکی بیہوش پڑی تھی۔۔۔، پیلی رنگت والی لڑکی ،اس لڑکی کے منہ سے کچھ خون نکل کر مٹی پر بھی جمع ہوا تھا۔۔ ۔۔، یہ سب دیکھ کر تو احمد صاحب پریشان ہی ہوگے کہ اب کیا کریں ۔۔۔۔۔۔؟
پانی کی بوتل جو وہ قبر پر پانی چھڑکنے کے لیے ساتھ لائے تھے اس سے انہوں نے اس لڑکی کے چہرے پر پانی کےچھیٹے مارے۔۔۔ ،
اٹھو بیٹی کون ہو تم۔۔۔ ؟
آنکھیں کھولو۔۔۔ ،
حریم نے پانی کے چھیٹے منہ پر پڑنے سے کچھ آنکھیں کھولیں اور سامنے احمد صاحب کو دیکھ کر سہم گی اور سرسیما نظروں سے انُکو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
احمد صاحب کچھ سمجھ نہیں سکے اور اس سے پوچھا کیا ہوا بیٹی۔۔۔۔؟ تم اتنی خوفزدہ کیوں ہو۔۔۔۔۔؟
تم کون ہو۔ ۔۔۔؟
یہاں کیسے آئیں ۔۔۔۔۔،کب سے یہاں پڑی ہو۔۔۔۔۔۔؟
انکی بات سن کر حریم نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا اور زور زور سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔،
صائم صائم۔۔۔۔۔۔،انہیں تازہ مردہ چاہیے ہوتا ہے
انہیں تازہ مردہ چاہیے ہوتا ہے،
صائم ۔۔۔۔۔۔درد سے پھٹی آواز میں صائم کو پکارتے ہوے رونے لگی ۔۔۔۔
احمد صاحب نے اسکی اس حالت کو دیکھتے ہوے اس لڑکی کو گھر لے جانے کا فیصلہ کیا ، اٹھو بیٹی میرے ساتھ میرے گھر چلو۔۔۔ ،احمد صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو اٹھاتے ہو کہا۔۔۔
ہٹو ۔۔۔۔۔،ہٹو ۔۔۔۔۔۔،چھوڑو ، چھوڑو۔۔۔۔،
صائم احمد صاحب نے اس کی حالت کے پیشِ نظر اسکو کہا۔۔۔۔ اچھا بیٹی اٹھو آؤ صائم کے پاس چلیں میں تمھیں صائم کے پاس لے چلتا ہوں ۔۔۔۔،
احمد صاحب کی بات سن کر حریم ایک دم چپ ہوگئی اور بچوں کی طرح حیران ہوکر بولی۔۔۔۔۔، صائم کے پاس۔۔۔۔اور انکا ہاتھ پکڑ کر بولی چلیں ابو جلدی چلیں صائم کے پاس جا نا ہے۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Last Episode 8

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: