Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 3

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 3

–**–**–

حریم کی بات سن کر احمد صاحب کا دل اسکے غم سے بھر گیا ۔۔۔،
پتہ نہیں کیا گذری تھی ا س لڑکی پر اور کیا ہوا تھا اس لڑکے صائم کے ساتھ جو یہ اِسقدر بلک کر روتی ہے اور معطل حواسوں سے صائم کو پکارتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں نا ابو جلدی چلیں ۔۔۔،
صائم بلا رہا ہے نا۔۔۔۔۔۔؟
ہاں بیٹا آؤ چلیں ، صائم بلا رہا ہے۔۔۔
بے ربط گفتگو ، بے وجہ ہنسنا تمام راستےحریم کی حرکتیں دیکھ کر احمد صاحب کو یقین ہو گیا کہ اس لڑکی کی دماغی حالت اب ٹھیک نہیں رہی ، چلتے چلتے، کبھی نیچے بیٹھ جاتی ، اور کبھی روتے ہوے کہتی۔۔۔۔۔
“ابو میں تھک گئی گودی میں لیں “
،
“ابو اب گودی نا ” ۔۔۔۔۔
بہت مشکل سے احمد صاحب اُسکو گھر لانے میں کامیاب ہوئے ۔۔۔۔
گھر پہنچ کر انھوں نے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔
کافی بار دستک دینے کے بعد گھر کے اندر سے ایک نسوانی آواز آئی۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ ایک منٹ آتی ہوں ۔ ۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی جب سامنے نظر اٹھی ۔۔۔دروازے کے عین سامنے ایک زرد رنگت والی لڑکی کھڑی تھی مٹی سے اٹے کپڑے۔۔، بکھرے بال ۔۔۔۔،
مگر مسکراہٹ ، غم۔۔۔۔،اور تھکن کے تاثر والی لڑکی۔۔۔۔،
شگفتہ علی نے سوالیہ نظروں سے احمد صاحب کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
شگفتہ راستہ چھوڑو ۔۔۔۔!
،
شگفتہ بیگم ابھی تک بیچ دروازے میں جو کھڑی تھیں اوہ۔۔۔۔یہ کہتے ہوے دروازے کے بیچ سے ہٹ گئیں۔۔۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔۔،؟
احمد صاحب ۔۔۔۔۔۔۔؟
تھوڑی دیر میں بتاتا ہوں۔۔،پہلے تم اس بچی کو منہ ہاتھ دلاکر کپڑے بدلوا دو، پھر کچھ کھلا پلا کر اسکوُسلانا بھی ہوگا ۔۔۔۔۔،
پھر بعد میں بیٹھ کر آرام سے ساری تفصیل بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔ ،
حریم تب تک ایک صوفے پر بیٹھ کر اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے کھُجانے میں مشغول تھی ۔۔۔۔۔،
شگفتہ نے انکی ساری بات سن کر، حریم کو دیکھا۔۔۔۔، کُھجلی ہو رہی ہے بیٹا سر میں ، انھوں نے شفقت سے پوچھا۔۔۔ ، ہاں امی بہت کُھجلی ہورہی ہے۔۔۔۔،
اُسکے منہ سے امی سن کرشگفتہ علی کا رنگ دل کے زرد ہوگیا، کیا کیا نا یاد آیا تھا انکو اس لڑکی کے منہ سے امی سن کر ۔۔۔۔۔
آؤ بیٹا ہم اوپر کمرے میں چلتے ہیں ،پھر کھانا کھائیں گے۔۔۔۔۔،
کمرے میں امی ۔۔۔، میرے کمرے میں آئیں چلیں حریم نے آگے بڑھ کر محبت سے شگفتہ بیگم کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔،
حریم کو سہارا دے کر اوپر کمرے تک لانے میں ہی شگفتہ بیگم کی حالت غیر ہوگئی انہوں نے بیڈ پر بٹھا کر کچھ دیر رُکنے کا کہا اور گہری گہری سانسیں لینے لگیں ۔۔۔۔۔
کچھ دیر بیٹھ کر انھوں نے حریم کو ایک سوٹ دیا کہ پہن لو ۔۔۔، اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔۔
کچھ دیر بعد کمرے میں داخل ہوئیں تو حریم الٹی قمیض پہن کر بیٹھی تھی یہ دیکھ کر شگفتہ بیگم کو اُسپر بے حد ترس آیا ۔۔۔۔،
اچھا میں اپنی بیٹی کو ٹھیک سے قمیض پہنا دیتی ہوں ،۔۔۔۔۔
قمیض ٹھیک کرتے ہوے انہیں محسوس ہوا کہ جیسے انکے ہاتھ پر کچھ چپچپا سا سیال لگاہے ۔۔۔ہاتھ دیکھ کر انکے رونگٹے کھڑے ہوگئے پورا ہاتھ خون میں تر تھا اور حریم کے پیٹ کی طرف قمیض پر بھی کافی خون لگا تھا… , فوری طور پر انھوں نے حریم کو لٹا کر اسکے پیٹ پر دیکھا تو بے اختیار انکے منہ سے چیخ نکل گئی۔۔۔۔ آہ ۔۔۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔۔؟
ایسا لگتا تھا کہ جیسے حریم کے پیٹ کو چاک کر کے پھر سےسیا گیا ہے۔۔۔۔۔ پیٹ کے تازہ زخم میں سے خون رس رہا تھا ۔۔۔۔،
شگفتہ بیگم نے فوری طور پر خون صاف کر کے مرہم لگایا اور احمد صاحب کے پاس نیچے جاکر سارا معاملہ پوچھنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔
سیڑھیاں اتر کر نیچے آئیں اور احمد صاحب کو حریم کے زخم کے بارے میں بتا کر پوچھا۔۔۔۔
احمد صاحب کون ہے یہ لڑکی ۔۔۔۔؟
اِسکی اسقدر خراب حالت کیوں ہے ۔۔۔؟
آپکو یہ ملی کہاں سے ہے۔۔۔۔۔؟
قبرستان سے ملی ہے جہاں سمیر دفن ہے ۔۔۔۔
یا میرے اللّٰہ ۔۔۔۔۔۔
اب کیا ہوگا خوفزدہ ہوکر کہا ۔۔۔۔اور منہ پر ہاتھ رکھ کر وہ وہیں پریشان کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔۔۔۔وہ پھر آگئے ۔۔۔۔۔۔؟
ہاں لگتا تو ایسا ہی ہے یہ شاید کل رات وہاں کسی صائم کے ساتھ آئی ہوگی ۔۔
مگر شگفتہ میری سمجھ میں ایک بات نہیں آرہی
” انھوں “نے اِسکو کیسےزندہ چھوڑ دیا وہ تو کسی کو زندہ نہیں چُھوڑتے ۔۔۔۔؟
احمد صاحب نے پیشانی مسلتے ہو تفکر سے کہا ۔۔ ۔۔
پتا نہیں احمد اب کیا ہو گا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔
تم پریشان نہ ہو اللّٰہ ہے نا ۔۔ تم اسکو کچھ کھلا پلا کر دوا دے کر سُلا دو وہ تو اپنے حواسوں میں نہیں ہے کہ کچھ بتا سکے ۔نجانے کون ہے۔۔۔۔؟
کہاں سے آئی ہے ۔۔۔۔ ؟ کیا ہوا ہے اسکے ساتھ۔۔۔؟
جو بھی ہے احمد صاحب،
کچھ بہت بُرا گزرا ہے اسپر۔۔۔۔۔۔۔،
چلیں اب میں جاکر دیکھتی ہوں ، بہت مشکل سے شگفتہ بیگم نے تھوڑا سا کھانا کھلا کر اسُکو درد اور نیند کی دوا کھلا کر سُلایا اور نیچے آگئیں۔۔۔۔۔
نیچے دونو ں میاں بیوی پریشانی سے حریم کی حالت اور سمیر والے حادثے پر بات کر رہےتھے ۔۔۔۔
کہ۔۔۔۔اچانک سے۔۔۔۔
ایکدم سے حریم کی دلخراش چیخ سنائی دی ۔۔۔۔ احمد صاحب نے شگفتہ بیگم کو دیکھا اور
“انکو پتا چل گیا “
۔۔۔،بول کر بہت تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہونے پر سامنے کا منظر دل دہلا دینے والا تھا ۔۔۔۔۔
حریم کے پاؤ ں کے انگوٹھے پر دو دانتوں کے نشان بنے تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔،
حریم بلند آواز سےبول رہی تھی۔۔۔۔ ہٹو ،چُھوڑو چھوڑ دو۔ ۔۔۔۔۔۔ کی آواز لگا رہی تھی اور چیخ رہی تھی اور اپنے اطراف ایسے ہاتھ چلا رہی تھی کہ جیسے کسی کو دھکا دے کر ہٹا رہی ہو۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: