Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 4

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 4

–**–**–

شگفتہ بیگم نے فوراً آگے بڑھ کر حریم کو اپنی پناہ میں لے لیا ، ہاے میری بچی۔۔۔۔
، کچھ نہیں ہوا بیٹا اُسکی کمر کو تھپکتے ہوئے انھوں نے کہا ۔۔۔۔ اور قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے ،اس پر دم کرنے لگیں۔احمد صاحب نے کمرے کا بلب جلایا اور کھڑکیوں کے پردے ہٹائے تاکہ دن کا اجالا اندر آسکے، کوئی نہیں ہے بیٹا ، کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔، حریم کے مسلسل رونے پر انھوں نے اسکو دلاسہ دیا۔۔۔ ، اور فکر سے اسکے پاؤں کو دیکھا جہاں دو عدد دانتوں کے نشان واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے ۔۔۔۔
اچھا بیٹا ایک منٹ تم بیٹھو میں پاؤں پر دوا لگا دیتی ہوں لگتا ہے کسی کیڑے نےکاٹ لیا ہے ۔۔۔۔۔۔ ، نہیں امی ایک مونسٹر نے میرا پاؤں پکڑا تھا ۔۔۔۔ حریم نے
لرزتی آواز میں بتایا اور امی دو جانوروں نے بھی مجھے پکڑا تھا ۔۔۔۔ وہ کون تھے امی۔ ۔۔۔۔۔؟
حریم کے معصومیت بھرے سوال پر
شگفتہ بیگم نے احمد صاحب کی طرف دیکھا اور حریم کو بات بدل کر کہنے لگیں ، چلو ہم دوا لگاتے ہیں پھر سب نیچے چلیں گے ۔۔۔
وہاں آپ تھوڑا ٹی وی دیکھ لینا ۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔؟ جی امی میں کا رٹون دیکھوں گی۔۔۔۔ ،
دوا لگا کر حریم، شگفتہ بیگم اور احمد صاحب نیچے لاؤنچ میں آگے ۔
حریم کو ٹی وی کھول کر دینے کے بعد شگفتہ بیگم احمد صاحب کے پاس صوفے پر ہی بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
اب کیا ہوگا احمد صاحب ان کو پتہ چل گیا ہے ۔۔۔ وہ گھر تک آگے ہیں ۔۔۔۔
دیکھیں اِسکو نجانے کتنا خون پی کر گئے ہیں اس بچی کا اور پیٹ پر پہلے ہی کاٹنے اور سینے کے زخم ہیں وہ تو یہ بیچاری اپنے حواسوں میں نہیں ورنہ اسکا کیا حال ہوتا خوف سے۔۔۔۔؟
اگر آپ پہلے ہی کچھ کر لیتے تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی ۔آپ کو کچھ یاد بھی ہے ۔۔۔۔بھیگتی آنکھوں سے انہوں نے شوہر کو کچھ یاد دلایا ۔۔۔۔
سب یاد ہے ۔۔۔۔۔۔ شگفتہ، احمد صاحب نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔ ،
مگر آپ نے اس دن کے بعد ُانکو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔
یاد ہے کیسے اس دن انھوں نے موت کا تماشہ بنایا تھا ، کیا قصور تھا اسُکا بتائیں مجھے ،
آپ کو کہا بھی تھا اتنے ویران علاقے میں گھر نہیں لیں مگر آپ نے میری ایک نہیں سنی اور سمیر بھی چلا گیا ہمیں چھوڑ کر ۔۔۔،
وہ نہیں گیا تھا کہیں ۔۔۔۔۔ احمد صاحب نے غصے سے کہا ۔۔،
ہاں نہیں گیا تھا صرف میری دوا لینے گیا تھا ۔۔۔۔۔،اور انھوں نے اس کو ایسے دبوچا جیسے نجانے کب سے گھات لگا کر بیٹھے ہوں اسکے لیے۔ ۔۔۔۔۔۔
، میں نے بہت روکا تھا اس کو مت لاؤ دوا اس وقت رات کا ایک بج رہا ہے ۔سمیر نے کتنے پیار سے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔،
امی جی بس دو منٹ میں دوا لے آؤنگا ، قصبے سے۔ پھر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔،
اگر آپ اسُکے دستک دیتے ہی دروازہ کھول دیتے تو وہ اسکو نہیں کھاتے ، میں نے تو کھولا تھا دروازہ تمھیں یاد نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔مگر انہوں نے ُاسکو اپنے دانتوں سے کھانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔!
تو آپ بچاتے تو۔۔۔۔۔۔۔! میرا بچہ میرے ہی گھر کے دروازے پر
زندہ اُدھڑتا رہا ۔۔۔۔۔۔!
چیختا رہا ۔۔۔۔۔!
مگر آپ نے پھر دروازہ نہیں کھولا اسکی چیخیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں ، اسکا خون ۔۔۔۔۔، میرے سمیر کا خون دروازے کی دہلیز سے بہہ بہہ کر اندر آرہا تھا ۔۔۔۔!
مگر میں کچھ نہیں کر سکی اپنے بچہ کے لیے ان وحشیوں کی چپڑ چپڑ چبانے کی آوازیں روز مجھے اس رات کے جہنم میں پھینک دیتی ہیں ،
احمد صاحب اب آپ سُن لیں کچھ بھی ہو سمیر تو چلا گیا اب اس بچی کو میں کچھ نہیں ہونے دونگی آپ نے ہر حال میں اسکو بچانا ہے ان درندوں سے وہ اب گھر کے اندر تک آگے ہیں۔۔۔۔۔! پھر سے اس علاقے میں دندناتے پھر رہے ہیں،
قبرستان میں کوئی نشان نہیں چھوڑتے یہ اپنا ۔۔،۔ کوئی پتہ نہیں ہے کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔
سمیر کی جن دو انگلیوں کو آپ قبر میں دفنا کر آپ فاتحہ خوانی کرنے جاتے ہیں نا۔۔۔۔۔۔!
مجھے اسکے باقی جسم کا حساب دیں ، میرا بچہ کسی جانور کا چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ ایک زندگی سے بھر پور لڑکا تھا
جوجینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اچھا میں کچھ سوچتا ہوں تم ہمت کرو میں وعدہ کرتا ہوں اس لڑکی کو ہر حال میں بچاؤں گا۔۔۔۔۔
شگفتہ تم اسکا خیال رکھنا میں نےگھرکےچاروں طرف آیت الکرسی کا حصار کر دیا ہے اور تم پر اور اس بچی پر بھی دم کر دیا ہے۔ ۔۔ ۔
کیسی بھی دستک ہو ۔۔۔۔۔، کوئی بھی آواز دے دروازہ نہیں کُھولنا ۔۔ ۔۔،
غور سے سن لو دروازہ نہیں کُھولنا۔۔۔۔ چاہے میری ہی آواز آئے ۔۔۔۔
وہ پھر آئیں گے ہر جتن کریں گے گھر میں گھسنے کا، شیطان ہیں وہ مَکر کریں گے۔
بس تم اچھی طرح سمجھ لو دروازہ نہیں کھولنا چاہے کچھ بھی ہو جاے اور اس بچی کو اکیلے نہیں چھوڑنا۔۔۔۔۔ ،
اس گھر کے سوا اس وقت اس بچی کے لیے کوئ جگہ محفوظ نہیں ہے اسکے لیے کہیں آمان نہیں ہے ابھی۔۔۔۔۔۔
میرے پاس دروازے کی چابی ہے میں خود تالا کھول کر آجاؤں گا۔۔،
میں اب جاتا ہوں کوئ گاڑی تو ہوگی جس میں یہ بچی یہاں تک پہنچی ۔۔۔۔۔۔
میں ڈھونڈتا ہوں جاکر شاید کوئی پتا کوئ سامان مل جاے اسکا تاکہ اس کے گھر اطلاع کر سکوں۔۔۔۔۔۔،
میں مغرب سے پہلے آجاؤں گا۔۔۔۔
اللہ کی امان میں سونپا۔۔۔۔
احمد صاحب کے جانے کے بعد شگفتہ بیگم نے حریم کو صوفے پر لٹایا اور سامنے باورچی خانے میں جاکر کھانا بنانے کی تیاری کرنے لگیں۔۔۔۔۔۔ ،
حریم کارٹون دیکھتے دیکھتے سوگئی تھی ، شگفتہ نے اسِکو چادر سے ڈھکا اور آیت الکرسی کا ورد کر کے ایک بار پھر اس پر دم کر دیا ۔۔۔۔
تقریباً آدھا گھنٹے بعد دروازے کےباہر ایک چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آنے لگی ۔۔۔۔۔۔،
جیسے کوئی چھوٹا بچہ دہلیز پر بیٹھ کر رو رہا ہو ۔۔۔۔۔،
کچھ دیر تو شگفتہ بیگم کو لگا کے یہ ُانکا وہم ہے مگر جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا یہ آواز تیز تر ہوتی جا رہی تھی اور آواز موٹی ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے کسی چھوٹے بچے کی جگہ اب کوئی موٹی آواز والا مرد بچے کی طرح رو رہا ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔،
شگفتہ بیگم کے بلند آواز میں قرآنی آیات کی تلا وت کرنے پر آواز ایکدم سے آنا بند ہوگئی۔ ۔۔۔
اف شکر ہے میرے اللہ۔ یہ شیطان تو گیا۔۔۔۔۔
، کھانا بھی تقریباً تیار تھا ۔۔۔۔۔۔
شگفتہ بیگم نے حریم کو جگایا اور اسکواپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگیں ۔۔۔۔۔
کھانا کھاتے کھاتے انہوں نے حریم سے ِاسکا نام پوچھا،
کیا نام ہے تمھارا بیٹا۔۔۔۔۔؟
حریم سے پوچھے گئے سوال کا جواب گھر کے باہر سے آیا۔۔۔۔۔۔!
دروازے کے باہر سے اچانک آواز آئی ۔۔۔۔۔
حریم۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ، حریم نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔۔
حریم دروازہ کھولو۔۔۔۔۔ !
حریم نے شگفتہ بیگم کی طرف دیکھا اور بولی
امی صائم آگئے دروازہ کھولیں ۔۔۔۔۔ !
شگفتہ بیگم نے حریم کو حیرت سے دیکھا اور کہا نہیں بیٹا یہ صائم نہیں ہے ۔۔۔۔
نہیں امی صائم ہیں یہ انکی آواز ہے۔
دروازہ اب بری طرح دھڑ دھڑآیا جا رہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
،
کھولو دروازہ کھولو ، حریم۔۔۔۔۔!
ایک لڑکے کی آواز بار با ر آرہی تھی ۔۔۔۔،
شگفتہ بیگم نے مضبوطی سے حریم کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر سے قرآنی آیات کا ورد با آواز بلند شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکی قر ت ُسن کر باہر سے ایکدم عجیب پرسرار سی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔۔
اے بڑھیا ۔۔۔۔۔!
کب تک روکے گی تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اندھیرا تو ہونے ذرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دیر چلنے اور ڈھونڈنے کے بعد احمد صاحب کو ایک لال رنگ کی کار نظرآئ
قریب جاکر دروازہ کھولنے پر دروازے لاک تھے۔۔۔۔۔
اب کیا کریں ۔۔۔ ۔ ؟
گاڑی کا ُکھلنا بہت ضروری تھا۔ احمد صاحب نے ایک بڑا پتھر اٹھا کر زور سے شیشے پر مارا دو تین بار زور سے مارنے پر۔ شیشہ ٹوٹ گیا ،
احمد صاحب نے کھڑکی سے ہاتھ اندر ڈال کر دروازہ کھولا اور گاڑی میں ڈھونڈنا شروع کیا ، ایک بیگ اور ایک کاغذات کا کیس انکو ملا انہوں نے اُسکو کھولا تو اندر ڈرائیونگ لائسنس اور کچھ میڈیکل ڈاکومنٹس ملے ۔۔۔۔ جس سے پتا چلتا تھا کہ وہ حریم نامی لڑکی امید سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
صائم کریم اور حریم صائم۔ کے شناختی کارڈ بھی ملے اور ایک سیل فون بھی جو شاید اس حریم نامی لڑکی کا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،
عصر کا وقت ہو چکا تھا اب کسی بھی طرح احمد صاحب کو سورج غروب ہو نے سے پہلے پہلے گھر
پہنچنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ورنہ اندھیرا ہونے کی صورت میں بہت بڑی مصیبت آجاتی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: