Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Last Episode 18

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – آخری قسط نمبر 18

–**–**–

چلو احمد ہمیں جلدی جانا ہوگا ۔۔۔۔
یہ بول کر مرشد نے کچھ زیر لب پڑھا اور بچے کے کان میں پھونک دیا ۔۔۔۔۔
بچے نے فوراً ایک بڑی سی ابکائ لی اور مرشد نے ہاتھ آگے بڑھا کر بچے کو الٹا لٹا دیا اور کمر نرمی سے سہلانے لگے ذرا سی دیر میں اس بچے کے منہ سے ایک خون والی بدبودار الٹی نکلی ۔۔۔۔پھر مرشد نے اس بچے کو اٹھا کر حیران کھڑی نرس کو دیا
۔۔۔۔
بیٹا اسکو کسی اور ڈبے میں لٹا دو اب کوئ مسلہ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
جی بہتر ۔۔۔۔۔۔
نرس نے حریم کے بیٹے کو احتیاط سے ہاتھوں میں لے کر دوسرے انکیوبیٹر میں لٹا دیا ۔۔۔۔۔
چلو احمد ۔ ۔۔۔۔۔۔
مرشد صاحب اور احمد سلطان دونوں اسپتال سے باہر آگے باہر آنے پر سامنے دیکھا تو نور محمد ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔
ہاں تمھیں خبر ہوگئ جی مرشد ۔۔۔۔
سامان لانے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟
جی مرشد ۔۔۔ ۔۔۔۔
چلو پھر بسم اللّٰہ کرتے ہیں ۔۔۔۔
یہ بول کر مرشد صاحب ُاس ٹیکسی میں بیٹھ گے جو نور محمد کے بلکل پاس کھڑی تھی ۔۔۔۔
احمد صاحب ابھی تک کچھ سمجھ نہیں پائے تھے کیونکہ گاڑی کی چھت پر بہت سی لکڑیاں رکھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔
مرشد صاحب نے احمد صاحب کی جانب دیکھا اور کہنے لگے آؤ احمد تم بھی ساتھ آؤگے احمد صاحب پھر نور محمد اور احمد صاحب کے بیٹھتے ہی ٹیکسی ڈرائیور نے ٹیکسی چلا دی ۔۔۔۔۔
سارا راستہ خاموشی سے کٹنے لگا اس وقت شام کے چار بج رہے ہونگے ۔۔۔۔۔۔
مرشد صاحب نے نور محمد کو کال ملانے کا کہا۔۔۔۔
جی مرشد ملاتا ہوں
نور محمد نے کال ملا کر فون مرشد صاحب کو دے دیا۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔ہیلو بلال بچی کیسی ہے۔۔ ۔۔۔؟
ہوش آگیا۔۔۔۔۔؟
جسکو نو ر محمد لایا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اس بچی کا شوہر ہے ۔۔۔۔۔
بچی سےملاو اور بتاؤ کہ اسکا بیٹا ہوا ہے ۔۔
جی بابا ۔۔۔۔ مگر ابھی چل پھر نہیں سکتا ۔۔۔۔
میں وہیں جا رہا ہوں بلال ۔۔۔۔۔
وہ لڑکا چلے گا بھی اور جیے گا بھی ۔۔۔۔۔
جی با با ۔۔۔۔۔۔ ان شا اللہ
آنکھوں کا کچھ ہوا۔ ۔۔۔۔
ایک دو مریض ہیں بہت بیمار ۔۔۔
کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟
کہتے ہیں اگر مر جایں تو اُنکی آنکھیں کسی کو عطیہ کر دی جائیں۔۔۔۔
کام کریں گی۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ٹشو میچ ہوگے تو شاید ٹھیک کام کریں اسکی آنکھوں کی کچھ نسیں بھی نوچی ہوئ تھیں بابا ۔۔۔۔۔
میں کوشش کرونگا اللہ مالک ہے
چلو انکا خیال رکھنا۔۔۔۔۔
بابا۔۔۔۔۔۔
ہاں بولو ۔۔۔۔۔
کام مشکل ہے
ہاں بہت زیادہ۔۔۔۔۔۔۔
مرشد نے تفکر سے بتایا
میں دعا کرونگا
آپ کامیاب لوٹیں۔۔۔۔
فون بند کر کے مرشد نے نور محمد کوفون دے دیا ۔۔۔ ۔۔
پہلے کس طرف جائیں گے مرشد ۔۔۔
قبرستان ۔۔۔۔ ۔
کونسے۔۔۔۔۔؟ مرشد سمیر والے ۔۔۔۔۔؟
ہاں ۔۔۔۔۔
رات کے تقریباً 8 بجے وہ لوگ حیدرآباد کے قریب اس قبرستان پہنچے۔۔۔۔۔۔۔۔
قبرستان پہنچ کر مرشد نے نور محمد کو کہا۔۔۔۔
نور محمد جاؤ قبر کھودو۔۔۔۔۔۔
جی مرشد نور محمد نے کھدال نکالا گاڑی سے اور احمد صاحب کی نشاندھی پر سمیر کی قبر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
قبر پر پہنچتے ہی نور محمد نے قبر کی کھدائی شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی کھدائی کے بعد ہی قبر میں سے خون کی بدبو آنے لگی اور ساری مٹی بھی اب لال گیلی سی نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دیر کھدائی کرنے کے بعد نور محمد نے کچھ دیر پڑھائی کی اور پھر قبر میں بیٹھ کر ہاتھ سے کچھ ڈھونڈ نے لگا ۔۔۔۔۔۔
ذرا دیر میں ہی نور محمد کے ہاتھوں میں وہ آگیا جس کے لیے اس نے قبر کھودی تھی ۔۔۔۔۔
سمیر کی دو انگلیاں ایسی تازہ تھی کہ جیسے آج ہی ان کو دفنایا گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
نور محمد نے جیب سے ایک کپڑا نکالا اور اُن۔انگلیوںکو کپڑے میں لپیٹ کر جیب میں رکھ لیا پھر ساری قبر کو ویسے ہی برابر کر دیا جیسے کچھ دیر پہلے تھی اور جلدی سے وہاں سے چل کر ٹیکسی میں آکر بیٹھ گیا اور مرشد کے ہاتھ میں وہ انگلیاں جیب سے نکال کر تھما دیں احمد صاحب نے افسردگی سے سمیر کی انگلیوں کو دیکھا اور ُانکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔۔
مرشد نے احمد صاحب کو دیکھا اور بولے ۔۔۔۔
نہیں احمد رونا نہیں ہے ۔۔۔۔۔
حساب لینا ہے ۔۔۔۔
جلدی چلو۔۔۔۔
ڈرائیور نے مستعدی سے گاڑی دوبارہ سڑک پر ڈال دی آدھے گھنٹے کے بعد وہ اس اسٹاپ پر اترے جہاں احمد صاحب اور نور محمد اترے تھے ۔۔۔۔۔
کافی دیر چلنے کے بعد اب وہ سارے سامان کے ساتھ کالی کےمندر میں پہنچ چکے تھے ۔۔ ۔
مندر میں اتنی تیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی کہ جیسے کسی نے کئی من عطر وہاں پھینکا ہو زمین پر جابجا سوکھے خون کے نشانات بھی موجود تھے
مرشد نے کالی کے پتُلے کی طرف دیکھا اور سب کو نیچے شمشان گھاٹ میں چلنے کا بولا اور خود سیڑھیاں اتر کر شمشان گھاٹ میں پہنچ گے ۔۔۔۔۔۔۔
ایک جگہ زمین پر بہت بڑی آگ جلانے کا کالا دھبہ موجود تھا مرشد نے مسکراتے ہوے کہا۔۔۔۔۔۔
چلو اسکی چتا جلاتے ہیں اور ساری لکڑیاں انھوں نے اس جگہ ایک دائرے میں رکھ دیں اچانک پورا مندر تیز گھنٹیوں کی آواز سے گونجنے لگا مرشد نے سمیر کی انگلیاں نکالیں اور اس پر کچھ پڑھ کر لکڑیوں کے بیچ میں رکھ دیا اور خود سامنے زمین پر بیٹھ گے
پھر مرشد احمد صاحب اور نور محمد سے بولے
اب تم دونوں بھی اسکے گرد بیٹھ جاؤ اور اپنے گرد حصار بنالو۔۔۔۔۔
نور محمد نے مرشد کے ہاتھ سے راکھ لے کر احمد صاحب کے گرد اور اپنے گرد بھی حفاظتی حصار بنا لیا۔۔۔۔۔
مرشد صاحب بولے اُسکو پتہ چل گیا ہے ۔
وہ اور اسُکے چیلے ابھی کھنچے آئیں گے جہاں بھی ہونگے سارے کے سارے آیں گے ان انگلیوں سے انُکو جو خوشبو آۓ گی اُس سے وہ باؤلے کتے کی طرح کھچے آئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
مرشد صاحب کے خاموش ہوتے ہی سارے شمشان گھاٹ میں منحوس آواز یں گونجنے لگیں۔۔۔۔۔
سارے شمشان گھاٹ میں۔ ایسا لگتا تھا کہ بہت سے بھیڑے اور کتے عجیب سی آوزیں نکال رہے ہوں ۔۔۔۔۔
مرشد نے اپنی بارعب آواز میں جلال سے کہا ۔۔۔۔
سامنے آ۔۔۔۔
کیوں چھپا ہے مردود
ڈر گیا۔۔۔۔۔۔
ایکدم سے سامنے ہوا میں ایک کالا سا ہیولا لہرایا
شری نارائن ڈرتا نہیں ہے ہم بھگتوں کے بھگت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اچھا آ ذرا سامنے تو آ۔۔۔۔۔۔۔
تیرے سامنے ہی کھڑا ہوں بڈھے ۔۔۔۔۔۔
پنڈت نے حلق کے بل چیخ کر کہا۔۔ ۔۔۔۔
مرشد نے ذرا سی راکھ اپنے سامنے سے اٹھا کرُ اسکی جانب پھینکی ۔۔۔۔کہاں سامنے یہاں۔۔۔۔۔
راکھ اسُکے اوپر گرتے ہی بہت سے عجیب و خلقت حیوان رکھ کا ڈھیر بن کر زمین پر گر گئے ۔۔۔۔۔۔
مرشد نے چمکدار آنکھوں سے سب دیکھا اور بلند آواز سے بولے
شروع کرو ۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نور محمد اور مرشد نے تیز آواز سے کچھ پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔
ان لوگوں کی پڑھائی کی آوازیں سنتے ہی سارے عجیب وغریب حیوان نما وحشی سارے کے سارے سمیر کی انگلیوں پر کودنا شروع ہوگے اب ان لکڑیوں اور سمیر کی انگلیوں پر کی فٹ اونچا منحوسوں کا ڈھیر تھا ۔۔۔۔۔۔
پنڈت کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ لوگ چیخ چیخ کر کیا پڑھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
مگر پنڈت سارا کچھ دیکھ کر بہت ہڑبڑایا ہوا تھا ایکدم مرشدنے اپنے سامنے پڑھائ جاری رکھتے ہوے ایک چراغ جلایااور اپنی جگہہ پر کھڑے ہوئے اور پھر اس چراغ کو انکے ڈھیر پر پھینک دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے شمشان گھاٹ میں دلخراش منحوس آوازیں سنائی دینے لگیں۔۔۔۔۔۔۔
پنڈت نے جیسے ہی اس آگ کو بجھانے کے۔لیےہوا کا بگولا پھینکا مرشد بیچ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگے اب مرشد اور تیزی سے پڑھائی کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ پنڈت کی طرف پیش قدمی بھی کر رہے تھے ۔۔۔ ۔
مرشد نے ایکدم آگے بڑھ کر پنڈت کی گردن دبوچ لی اور اسُکو زمین پر پٹخ کر بولے۔۔۔۔۔۔
بول کیا بولتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
بدبخت حدیں توڑنے پر یہی انجام مقرر ہے
تو کالی کا بھگت تھا نا کہاں گئی تیری کالی ۔۔۔۔۔۔؟
میرا اللہ بڑا مددگار ہے ۔۔۔۔
دیکھ جل گے سارے منحوس اب تیری باری کے ۔۔۔۔۔۔
پنڈت نے خوفزدہ ہوکر مرشد کے پاؤں پکڑ لیے ۔۔۔۔
بنتی کروں ہوں۔۔۔۔۔
مجھے نا جلاؤ۔۔ ۔۔۔۔
میں وچن دیتا ہوں۔۔۔۔۔
کسی کو نہیں تنگ کرونگا۔ ۔۔۔۔۔۔
میں کیوں تیرے وعدے پر یقین کروں ۔۔۔۔۔۔۔
تو خبیث ہے ۔۔۔۔۔۔ تو مردود ہے۔۔۔۔۔۔۔
نہیں مجھے معاف کر دیو۔۔۔۔۔۔
پنڈت نے مرشد کے سامنے سر زمین پر رکھ دیا
پھر ایکدم مرشد کو پاؤں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹ لیا اور اس سے پہلے کے وہ سنبھل پاتے ُانکی گردن میں اپنے دانت گاڑ دیے
نور محمد نے سریت سے پڑھائ کرتے ہوے وہ ساری کی ساری راکھ پنڈت سے خبیث وجود پر ڈال دی ۔۔۔۔۔۔
راکھ جسم پر پڑتے ہی پنڈت خود زمین پر گر کر راکھ کا ڈھیر بن گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
مرشد جان کنی کی حالت میں زمین پر لیٹے تھے اور انکی گردن میں سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
مجھے چھوڑ دو نور محمد یہیں۔۔۔۔۔
تم اور احمد باہر نکل کر یہاں سے جاؤ
مگر مرشد صاحب۔۔۔۔۔
آپ ۔۔۔۔۔۔
مجھے چھوڑ دو نور محمد اس بدبخت نے جاتے جاتےمجھے بھی مار دیا ہے کچھ دیر میں یہیں مر جاؤں گا ۔۔۔۔
تم جاؤ اللہ کہ حوالے اور پھر مرشد صاحب نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔۔۔۔۔
سارے شمشان گھاٹ میں دھواں اور بدبو ہی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
نور محمد اور احمد صاحب دل گرفتگی سے مندر سے باہر آگئے۔۔۔
نور محمد باہر نکل کر زمین پر بیٹھ کر سسک سسک کر رونے لگا احمد صاحب نے اُسکے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دلا سا دیا۔ ۔۔۔۔
چلو نور محمد واپس چلنا ہے ۔۔۔۔۔
بہت سے نقصان کے بعد وہ دونوں واپس ٹیکسی میں آکر بیٹھ گئے۔
فخر کے وقت نور محمد اور احمد صاحب اسپتال کے
سا منےُ اترے۔۔۔۔
اسپتال میں اندر آکر احمد صاحب بینچ پر بیٹھ گے اور نور محمد ڈاکٹر بلا ل کے پاس چلا گیا۔۔۔۔۔۔
صبح تک سب کو پتہ چل چکا تھا کہ مرشد صاحب اب نہیں رہے سارے ماحول میں ایک سوگوار ی چھائ ہوئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد ۔۔۔۔۔۔
حریم کو اسپتال سے چھٹی مل گئ تھی اور وہ اسپتال سے اپنے بچے کے ساتھ گھر آچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب کی محبت اور عقیدت میں حریم نے احمد صاحب کے بیٹے کے نام پر بچے کا نام سمیر رکھ دیا تھا
عفت جہاں نے احمد صاحب اور شگفتہ بیگم کو کراچی میں ہی روک لیا تھا اور اُنکے اسقدر اِسرارپر انھوں نے انکی بات بالآخر مان ہی لی تھی ۔۔۔۔
آج سارے گھر والے کافی مطمئن تھے کیونکہ آج صائم کی آنکھوں سے پٹیاں بھی اتارنی تھیں ڈاکٹر بلال نے ایک حادثے میں ہلاک آدمی کے اہلیخانہ سے بات کر کے اس کی آنکھیں صائم کے لگانے کی کوشش کی تھی جس میں انُکے سِینیر سرجن اور وہ کچھ حد تک ہی کامیاب ہوے تھے ۔۔۔۔۔۔
پٹیاں ُاترنے پر صائم کی ایک آنکھ ہی کامیابی سے دیکھ سکتی تھی جبکہ دوسری آنکھ بہت تھوڑا دھندلا سا دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔
صائم کو اتنے عرصے بعد دیکھنے پر حریم خود پر قابو نہیں رکھ پائ اور صائم کا ادھورا ہاتھ پکڑ کر بلک بلک کر رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔صائم نے حریم کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا شکر ہے حریم ہم سب پھر سے ایک ساتھ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بہت سی تباہی کے بعد بھی ۔۔۔۔۔
روؤ نہیں اللہ کا شکر ادا کرو۔۔۔۔۔۔
عفت جہاں نے صائم کے پاس سمیر کو لے جاکر کہا یہ دیکھو اپنے بیٹے سمیر کو۔۔۔۔۔۔۔
صائم نے محبت سے اُسکو اپنی گود میں لے لیا۔۔۔۔۔۔
6ماہ بعد ۔۔۔۔۔
حریم اٹھو نا دیکھو سمیر رو رہا ہے ۔۔۔
حریم ۔۔۔۔۔۔
صائم نے حریم کے کاندھے کو ہلاتے ہو ے نیند سے جاگاتے ہوے کہا۔۔۔۔۔
حریم نے نیند سے ُاٹھ کر سمیر کی نیپی چینج کی اور
اسکو کاٹ سے اٹھا کر اپنے ساتھ ہی لٹا لیا۔۔۔۔۔۔
سمیر اور حریم دونوں پھر سے گہری نیند سوگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد صائم کی آنکھ کسی آواز سے کُھلی
صائم نے بستر پر آپنے آس پاس دیکھا سمیر کہیں نہیں تھا ۔۔۔۔
صائم نے سارا کمرہ دیکھا سات ماہ کا بچہ جا کہاں سکتا تھا
سارا گھر دیکھنے کے بعد صائم نے کچن کا رخ کیا۔۔۔۔۔
سامنے فرج کھلا ہوا تھا۔۔۔۔صائم نے پریشانی سے اندر آکر دیکھا تو سامنے سمیر کھڑا ہوا کچا گوشت کھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہونے پر ۔۔۔۔
سمیر نے گردن موڑی اور اپنی کالی آنکھوں کو صائم کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولا ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ڈر گئے۔۔۔۔۔۔۔ ۔؟
صائم خوف سے زمین پر بیہوش ہو کر گر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
ہا۔ ۔۔۔۔ شیطان کے وعدے پر اعتبار کیا ۔۔۔
کتنا غلط کیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔چچ چچ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
ختم شد
دو ماہ بعد پھر سے حاضر ہونگی۔
کالی کے ساتھ۔
ام رباس
اپنی قیمتی رائے ضرور دیں تاکہ اپنی تحریر کی خامیاں ٹھیک کر سکوں

 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: