Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 1

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 1

–**–**–

يا اللہ کہاں چھپوں اگر وہ يہاں بھی پہنچ گۓ تو۔۔۔” اور اس سے آگے وہ سوچ نہيں سکی۔ وہ تو کتوں کی طرح اسکی بو سونگھتے پھر رہے تھے اگر ہالہ انکے ہاتھ لگ جاتی تو انہوں نے واقعی اسے چيل کنوؤں کے آگے ڈال دينا تھا۔
ہال روڈ کا بہت مصروف علاقہ تھا۔ ہالہ نے پاس کھڑی سفيد آلٹو کو حسرت سے ديکھا کہ اگلے لمحے ہی وہ چونک گئ۔ اسے اسکے لاکس کھلے نظر آۓ۔ کيا قسمت ايسے بھی مہربان ہو سکتی تھی۔ اس کے وہم وگمان ميں بھی نہيں تھا۔
اس نے ادھر ادھر ديکھتے جلدی سے دروازہ کھولا اور پچھلی سيٹوں کے بيچ خود کو چھپا کر اپنا کالا دوپٹہ ايسے اوڑھا کہ کار کے کارپٹس کا ہی گمان ہوتا تھا۔
“اے اللہ ميں آپکا نام لے کر سب چھوڑ آئ ہوں۔ آپ نے اس کار کا لاک کھلا رکھ کر ميرا اس بات پہ ايمان پختہ کر ديا ہے کہ بے شک آپ سے بڑھ کر کوئ آپکے بندے کی حفا ظت نہيں کر سکتا تو اے اللہ مجھے محفوظ ہاتھوں ميں پہنچا دينا۔” ہالہ نے آنکھيں بند کرکے بڑی شدت سے اللہ کو مخاطب کيا تھا۔
___________________
“ضامن کچھ خدا کا خوف کھا يار! کسی دن تيری اس بھلکڑ نيچر کی وجہ سے تجھے اپنی گاڑی سے ہاتھ دھونے پڑ جائيں گے بيٹا” اسفند نے سفيد آلٹو کی فرنٹ سيٹ کا ڈور کھولتے ہوۓ ضامن کو لتاڑا۔” “پتہ نہيں يار مجھے کيسے بھول گيا۔” ضامن نے حيرت سے ياد کرنے کی کوشش کی کہ وہ کار کا لوک لگانا کيوں بھول گيا تھا۔
ضامن اور اسفند ہال روڈ اپنا ليپ ٹاپ ٹھيک کروانے آۓ تھے۔ آدھے گھنٹے کا کام تھا۔ جيسے ہی وہ واپس آۓ تو گاڑی کا لاک کھلا ديکھ کر اسفند کا ميٹر گھوم گيا۔
“دل کرتا ہے پورا باداموں کا گودام تيرے نام کردوں۔ تجھے سيکرٹ سروسز نے آخر کيسے لے ليا ہے۔ ميں آج تک اس بات پہ حيران ہوں۔اللہ ہی پوچھے تجھے” اسفند کے طعنے وہ ايک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہا تھا۔ اپنی جان ليوا
مسکراہٹ سے مسکراتے ہوۓ اس نے ايک ابرو اٹھا کر اسے ديکھا اور بے اختيار قہقہہ بلند کيا ۔ “ہاہاہا! يہ بيويوں والے طعنے دينے سے ذرا پرہيز کيا کرو” ضامن نے بمشکل اپنی مسکراہٹ روکتے ہوۓ گھمبير آواز ميں کہا۔چھ فٹ سے نکلتا قد،مضبوط چوڑے شانے، گھنے سياہ بال، گہری پرسوچ آنکھيں، کھڑی ناک اور گندمی چمکدار رنگت جس کو پيورايشين بيوٹی کہا جاتا ہے، کلين شيو، جہاں سے گزرتا تھا لڑکيوں کے دل دھڑکا جاتا تھا۔ بقول اسفند کے ہم اتنی توپ چيز ہيں نہيں جتنا سيکرٹ سروسز نے ہميں بنا ديا ہے۔
ضامن اور اسفند چائلڈ ہڈ بڈيز تھے۔ شروع سے آرمی جوائن کرنے کی خواہش تھی دونوں کی۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلی اور دونوں نے آرمی کوجوائن کرنے کے ساتھ سيکرٹ سروسز کو بھی جوائن کيا جس سے بہت کم لوگ واقف تھے۔ ويسے تو دونوں کی فيمليز اسلام آباد ميں رہتی تھيں۔ ليکن انکی پوسٹنگ مختلف جگہ ہوتی تھی۔آجکل لاہور ميں بڑھتی ہوئ دہشتگردی کے باعث يہ دونوں جوہر ٹاؤن ميں رينٹ پر فليٹ لے کر رہ رہے تھے۔
ہالہ دم سادھے پچھلی سيٹوں کے درميان ليٹی دونوں کی باتيں سن رہی تھی۔ سيکرٹ سروسز کے نام پر چونکی اور سوچا کہ اللہ نے صحيح ہاتھوں ميں پہنچايا ہے۔ يہ يقيناّّ ميری مدد کريں گے۔
جيسے ہی گاڑی فليٹس کی بلڈنگ کی کمپاؤنڈ ميں انٹر ہوئ ہالہ آہستہ سے اٹھنے لگی۔مگر پھر بھی پيچھے والی سيٹس ميں ارتعاش محسوس کرکے وہ دونوں چونکے اور ہاتھ پينٹس ميں موجود موزر پر گئے۔
جيسے ہی ہالہ کا سر ابھرا تب تک ضامن گاڑی پارک کر چکا تھا۔ اسکے اٹھتے ہی دونوں نے برق رفتاری سے پيچھے مڑتے ہينڈز اپ کہا۔ ہالہ اپنے اتنے قريب دو گنز ديکھ کر بے اختيار چيخنے لگی۔
ايک کے بعد جب دوسری چيخ بھی ماری تو ضامن نے جلدی سے آگے بڑھ کر ايک ہاتھ اسکے منہ پر جمايا مگر موذر والا ہاتھ بدستور وہيں تھا۔اپنے اتنے قريب موذر ديکھ کر ہالہ کی آنکھيں دھشت سے پھٹنے کے قريب تھيں۔
“اگر ايک آواز بھی اور نکلی تو يہيں پر بھون کر رکھ دوں گا۔” انتہائ سخت لہجے ميں کہتے ضامن نے اسے دھمکی دی۔ صبح سے وہ جس ذہنی اور جسمانی مشقت برداشت کر چکی تھی اب اس دھشت انگيز منظر کو ديکھنے کی اس ميں ہمت جواب دے گئ تھی۔
وہيں پر وہ ڈھلک گئ۔”واٹ دا ہيل۔۔اٹھو ڈرامے مت کرو ادروائز تم مجھے جانتی نہيں۔” ضامن نے غصے سے اسے جھنجھوڑتے ہوۓ کہا۔
اسفند نے بھی پيچھے ہوتے اسکی ڈھلکی کلائ پکڑ کر جونہی نبض چيک کی تو وہ واقعی ميں بہت مدہم چل رہی تھی۔
“چھوڑ دے ميرے بھائ وہ واقعی بے ہوش ہوگئ ہے۔” اسفند نے اسکے بے ہوش ہونے کی تصديق کرتے ہوۓ کہا۔
دونوں سيدھے ہے کر اپنی سيٹس پر بيٹھے۔
“اب اس بلا کا کيا کريں۔” ضامن نے کسی قدر جھنجھلاہٹ سے کہا۔
“بلا تو واقعی ہے” اسفند نے شرارت سے ہالہ کو ديکھتے ہو ۓ کہا ‎ ۔
ميں نے ہزار مرتبہ کہا ہے کہ جب ميرے ساتھ ہو تو اپنی لڑکيوں سے متعلق چيپ سوچ اپنے پاس رکھا کرو۔” ضامن نے غصے سے اسے ڈانتے ہوۓ جھاڑ پلائ۔ اتنی ٹينس سچويشن ميں اسے اسفندکی يہ بات ايک آنکھ نہيں بھائ۔
“اب کيا کريں اسکا اگر کوئ کمپاؤنڈ ميں آگيا تو کيا ہوگا۔” ضامن نے پريشانی سے سوچتے ہوۓ کہا۔ فوج اور انٹيليجنس ميں ہوتے ہوۓ بے شمار ٹينس سچويشنز سے وہ دونوں گزرے تھے مگر يہاں بات ايک لڑکی کی تھی جس کے ساتھ انکی موجودگی ہر طرح سے مشکوک ہوسکتی تھی۔
“اسکا ايک ہی حل ہے کہ اسکو اٹھا کر پچھلے خفيہ راستے سے اپنے فليٹ ميں چليں۔ کيونکہ فرنٹ سے اسکو لے کر جانا ہماری پوزيشن کو آکورڈ کردے گا۔”
“دماغ ٹھيک ہے تمہارا۔ سر کو اگر پتہ چل گيا نہ تو بيٹا اس زمين اور آسمان ميں ہم کہيں ںظر نہيں آئيں گے۔”
“تم بيٹھ کر سر کی پرميشن کا ويٹ کرو ميں جا رہا ہوں” ضامن کی بات پہ اسفند غصے سے گاڑی سے نکلنے لگا۔
“کيا ہوگيا ہے يار۔۔اچھا چل ميں اسے اٹھاتا ہوں تو پہلے نکل کر چيک کر پچھلہ راستہ کلئير ہے تو ميں اسے اٹھا کر آتا ہوں۔ مجھے مس بيل دے گا تو ميں سمجھ جاؤں گا کہ سب سيٹ ہے۔” ضامن نے بالآخر اسکے آيڈيا کو قبوليت بخشتے ہوۓ کہا۔
اسفند ليپ ٹاپ ہاتھ ميں لئيے گاڑی سے نکل کر پچھلی سيڑھيوں کی طرف بڑھا جو کہ ايمرجنسی کے لئيے لوگوں کے ل‏ئيے اپنے بچاؤ کا ايک راستہ تھا۔
تھوڑی دير بعد اسفند کی مسڈ کال آئ۔ جس کا مطلب تھا کہ انکے فليٹ تک راستہ کلئير ہے۔
ضامن نے پھرتی سے ہالہ کو کندھے پر ڈالا۔ گاڑی لاک کی اور پچھلے راستے کی جانب دبے قدموں سے بڑھنے لگا۔
فليٹ ميں داخل ہو کر اسنے ايک کمرے ميں ہالہ کو بيڈ پر لٹايا۔ يہ دو کمروں کا فلی فرنشڈ اور لگژری فليٹ تھا۔ انٹر ہوتے ہی ايک چھوٹا سا کاريڈور جس کے اينڈ پر دائيں جانب دو بيڈ روم سامنے بڑا سا لاؤنج جس کے ساتھ امريکن سٹا‏ل اوپن کچن اور اسکے ساتھ سٹور اور لانڈری تھی۔ لا‏ؤنج ميں بڑی سی گلاس وال تھی جس ميں سے ايک دروازہ چھوٹے سے ٹيريس ميں کھلتا تھا جہاں چيرز رکھ کر ساتھ ميں مختلف پلانٹس سے ايک خوبصورت سا سيٹنگ ايريا بنايا گيا تھا جہاں اکثر رات يا شام ميں اسفند اور ضامن چاۓ پيتے تھے۔
“سميعہ کو کال کرکے ابھی اور اسی وقت آنے کا کہو۔” ضامن ہالہ کو بيڈ پر لٹاکے باہر آتے ہی اسفند سے بولا۔ سميعہ نہ صرف اسفند کی منگيتر تھی بلکہ انہی کے ساتھ انٹيليجينس ميں آئ ٹی ڈيپارٹمنٹ سے منسلک تھی۔
“اسکو بلانے کا مقصد۔ ويسے بھی شام ہوگئ ہے۔”
“رات تو نہيں ہوئ۔ اسکی چيکنگ ميں يا تم تو کر نہيں سکتے سو سميعہ ہی کرے گی۔ اور اسکو اپنا سسٹم لانے کا کہنا کيونکہ اس لڑکی کے ہوش ميں آتے ہوۓ اسکا سارا ڈيٹا سميعہ چيک کرے گی۔پتہ نہيں کون ہے اور کس مقصد کے تحت ہماری کار ميں تھی۔”
اوکے” ضامن کی بات سمجھتے ہوۓ اسفند نے کال کرکے سميعہ کو اپنے ہاں آنے کا کہا
“ہيلو گائز!” پندرہ منٹ بعد انکے فليٹ کی بيل ہوئ۔ اسفند ديکھنے گيا۔ اسکے ساتھ سميعہ لاؤنج ميں انٹر ہوئ۔
“کیا ہوا ہے اتنی ايمرجنسی ميں مجھے کيوں بلايا” بليک جينز پر حسب سابق گرين اور بليو چنری کا کرتا پہنے بليو سٹالر گلے ميں ڈالے اونچی سی پونی ٹيل اور نظر کے گلاسز لگاۓ پا ؤں ميں جوگرز پہنے وہ اپنے ٹام بواۓ حليے ميں بھی بہت کيوٹ ‎ لگتی تھی۔ تيکھے نقوش۔ نڈر اور کانفيڈنٹ۔
ضامن نے سارا واقعہ سنا کر لڑکی کو چيک کرنے کا کہا۔
کيونکہ وہ خود لڑکيوں سے دو ميل دور ہی رہتا تھا۔
ساری بات سميعہ نے خاموشی سے سنی۔
“يہ بتاؤ کہ اسے گاڑی سے يہاں تک اٹھا کر تم ہی لاۓ تھے يا اسفند۔”
اسفند اور ضامن کے مقابل صوفے پر بيٹھی وہ مشکوک نظروں سے انہيں ديکھ رہی تھی۔
“تم دونوں کا کوئ حال نہيں۔ اب کيا لکھ کر دوں کے ميں نے ہی اسے اٹھايا تھا۔ تمہيں يہاں تفتيش کے لئيے نہيں بلايا جو کام کہا ہے وہ کرو۔”
ضامن نے اسے جھاڑ پلاتے کہا۔ ان سب کو پتا تھا کہ وہ کام کے وقت کسی قسم کی ادھر ادھر کی باتيں برداشت نہيں کرتا۔
سميعہ اسکا خراب موڈ ديکھ کر جلدی سے اٹھی اور اس کمرے ميں گئ جہاں ہالہ موجود تھی۔
ايک عجيب سی کشش تھی اس ميں جو لوگوں کو اپنی جانب کھينچتی تھی۔ سميعہ بھی اس بات کی معترف ہوئ۔
اسکو چيک کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اسے ہوش ميں لانے کی کوشش کرتی رہی آخر پانچ دس منٹ کے بعد اسے ہوش آگيا۔
سميعہ کو اسکے پاس سے کوئ قابل قدر چيز نہيں ملی۔
آنکھيں کھولتے ہی جو چہرہ ہالہ کو نظر آيا وہ اسکے ل‏ئيے بالکل انجان تھا۔
“ک۔۔ک۔۔کون ہو تم” ہالہ ايک دم گھبرا کر اٹھی۔
سميعہ ايک دم پيچھے ہوئ
ہالہ نے گھبرا کر چاروں جانب ديکھا۔”ڈئير يہ تو ميں تم سے پوچھنے آئ ہوں کہ تم کون ہو” سميعہ نے ديوار کے پاس پڑی رائيٹنگ ٹيبل کی کرسی پکڑ کے بيڈ کے قريب رکھتے ہوۓ کہا۔
“مم۔۔ميں کہاں ہوں” اس نے سميعہ کا سوال نظر انداز کرتے ہوۓ ايک اور سوال کيا۔
“ديکھو لڑکی ابھی تک تو تم زمين پر ہی ہو۔ ليکن وہ جو باہر ايک بوگی مين بیٹھا ہے نہ وہ تمہيں عالم بالا ميں پہنچانے ميں ايک سيکنڈ بھی نہيں لگاۓ گا۔”
“ک۔۔ک۔۔کون” ہالہ کی آنکھيں دہشت سے پھيل گ‏ئيں۔
پہلا خيال يہی آيا کہ وہ ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گئ ہے اسے بھول گيا تھاکہ اس نے کسی گاڑی ميں پناہ لی تھی۔
“ميڈم وہی جس کی گاڑی ميں تم نے پناہ لی تھی”
سميعہ کے کہنے پے اسکے دماغ ميں بيہوش ہونے سے پہلے کے سب منظر سپارک ہوۓ۔
“اوہ ميں کيسے بھول گئ کے اللہ نے مجھے بچانے کے لئيے ايک راہ نکالی تھی” خود سے مخاطب ہوتے اس نے سوچا۔
“شکر” بے اختيار مسکراتے اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز ميں کہا۔
“کيا مطلب” سميعہ جو اسکی مسکراہٹ سے ابھی صحيح سے متاثر بھی نہيں ہو پائ تھی کسی قدر تعجب سے بولی۔
“اس شکر کا مقصد۔۔۔” ابھی اسکا جملہ بھی پورا نہيں ہوا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئ۔سميعہ نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔”کيا ہے” وہ پہلے ہی انہيں مشکوک سمجھ رہی تھی۔ اور اب ہالہ کی شکر کرنے والی بات سن کر اور بھی کنفيوزڈ ہوگئ تھی۔
“ضامن پوچھ رہا ہے کہ کچھ بتايا اس لڑکی نے۔”
ميری تو بچپن کی رشتہ داری ہے نہ جو ملتے ہی ميرے گلے لگ کر سب بتا دے گی۔” سميعہ نے اپنا غصہ اسفند پر نکالا۔
“ميرا کيا قصور ہے يار۔ اچھا اسکو لے کر باہر آؤ” اس نے مڑتے ہوۓ کہا۔
“چلو تمہاری پيشی آگئ ہے۔” سميعہ نے اسے اٹھنے اور اپنے پيچھے آنے کا کہا۔
ہالہ کو اب تسلی ہوگئ تھی کہ وہ محفوظ ہاتھوں ميں ہے۔سميعہ کے پيچھے چلتے ہوۓ وہ سب الفاظ ترتيب دے رہی تھی جو يقيناّّ اسے اس شخص کے سامنے کہنے تھے جس کے جارحانہ تيوروں سے وہ بے ہوش ہوئ تھی۔
لاؤنج ميں آکر سميعہ اسکے سامنے سے ہٹی اور پھر ضامن اور ہالہ آمنے سامنے تھے۔
ضامن کھڑا ہو کر اسکے سامنے آيا اور جانچتی ہوئ نظروں سے اسے ديکھا۔
ہالہ کو اپنا اعتماد برقرار رکھنا دنيا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔
“کيا نام ہے تمہارا کون ہو کہاں سے آئ ہو اور ہماری ہی گاڑی ميں کيوں بيٹھيں۔ الف سے يہ تک شروع ہو جاؤ۔ اور اگر ايک لفظبھی غلط ہوا تو ميں يہ نہيں ديکھتا کہ مجرم مرد ہے يا عورت ايک جيسا سلوک کرتا ہوں” ضامن کے خشک اور بے لچک لہجے نے اسکے حواس سلب ضرور کئيے۔
“سميعہ سب نوٹ کرو اور اسی وقت اس کا سارا بائيو ڈيٹا نکالو۔”
اسفند اسے بتا چکا تھا کہ لڑکی کے پاس سے کچھ نہيں نکلا۔
“ميرا نام ہالہ سرفراز ہے پيرنٹس کا بچپن ميں انتقال ہو گيا تھا۔ ايس اوايس وليج ميں کون مجھے چھوڑ کر گيا ميں نہيں جانتی۔ انہوں نے مجھے پڑھايا۔ پنجاب يونيورسٹی سے ميس کوم ميں ماسٹرز کرکے ايک اخبار ميں رپورٹر ہوں۔ اقبال ٹاؤن ميں کراۓ کے فليٹ ميں رہتی ہوں۔ پچھلے دنوں رحمان شاہ کے بارے ميں کچھ چيزيں ميرے ہاتھ لگيں اور وہ ميں نے شائع کروا ديں۔ اسے ميرا سچ ہضم نہيں ہوا۔ اس نے مجھے کہا کہ ميں باقاعدہ پريس کانفرنس ميں اس سے معافی مانگ کر کہوں کہ ميں نے اس کے بارے ميں غلط خبر دی تھی وہ اس ماڈل گرل کے قتل کے کيس ميں ملوث نہيں۔ جب ميں نہيں مانی تو پہلے اس نے مجھے جاب سے نکلوايا اور پھر ميرے فليٹ پر بھی دھمکانے آيا اور پھر حد يہ کی کہ ميرے پيچھے اس دن غنڈے پڑوا کر مجھے کڈنيپ کرنے کی کوشش کی۔اللہ نے ميری جان بچانی تھی جو آپ کی کار ان لاک تھی اور پھر اب ميں يہاں ہوں” اسکے چپ کرتے ہی وہ تينوں جيسے ہوش ميں آۓ۔
وہ کيا سمجھے تھے اور اصل ميں وہ لڑکی کيا نکلی۔
رحمان شاہ اور ايک مشہور ماڈل گرل کا واقعہ گزرے اتنے دن نہيں ہوۓ تھے۔
انکو بھی اطلاع ملی تھی کہ رحمان شاہ نے ہی اس ماڈل گرل کو قتل کروايا تھا جس کی لاش اسی کے اپنے فليٹ سے ملی تھی۔
مگر انہيں ثبوت نہيں ملے تھے۔
“سميعہ سرچ ايچ اينڈ ايوری تھنگ” ضامن نے ہالہ کو بيٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ سميعہ سے کہا اور خود کافی بنابے چلا گيا
آدھے گھنٹے ميں سميعہ نے اسکا سارا ڈيٹا چيک کرکے ضامن کو چيک کروايا۔مگر جس ايک حقيقت نے اسے چونکايا وہ اسکے فادر کی آئ ايس آئ کی اسسٹنٹ ڈائريکٹر کی ڈيڑگنيشن تھی۔
“تمہارے فادر آئ ايس آئ ميں تھے۔” ضامن نے صوفے بيٹھے گود ميں پڑے ليپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر کہا۔
“جی” مختصر جواب دے کر ہالہ خاموش ہوگئ۔
“اب تم کيا چاہتی ہو۔ کہاں جانا ہے” اسفند نے اس سے سوال کيا۔
“آئ نو يہ مشکل ہوگا۔ مگر مجھے يہ اندازہ ہو گيا ہے کہ آپ لوگ سيکرٹ سروسز ميں ہيں۔ اور آپکی جاب کا مقصد ہی بے قصور کو بچانا ہے۔ ميں نہ صرف بے قصور ہوں بلکہ اکيلی بھی ہوں۔ مجھے آپکی ہيلپ چاہئيے۔ ميں کچھ عرصہ روپوش رہنا چاہتی ہوں اور آپکے پاس ميں سب سے زيادہ محفوظ رہوں گی۔”
اسکی فرمائش نے ان سب کو مخمصے ميں ڈالا۔
“بی بی يہاں ميں اور اسفند دو لڑکے ہی رہتے ہيں۔ يہ تو ابھی چلی جاۓ گی۔ آگے تم خود بہتر سوچ سکتی ہو۔”
ضامن کی بات پر ايک مسکراہٹ ہالہ کے ہونٹوں تک آئ۔
“جو لوگ اپنے قوم کی ماؤں بيٹيوں کی عزت کی خاطر اپنی جان تک کی پرواہ نہيں کرتے انکی شرافت پر تو ميں کوئ کوئسچن مارک لگا ہی نہيں سکتی۔”
اسکی بات پر ان تينوں نے ايک دوسرے کی طرف ديکھا۔
کيونکہ اس لڑکی کی سچائ نے انہيں قائل تو کر ليا تھا۔
“کتنی دير تک” ضامن نے پوچھا۔
“جب تک اللہ ميرا ٹھکانہ کہيں اور نہيں کر ديتا”
“يہ سب اتنا آسان نہيں ہے۔ ہم يہاں اس بلڈنگ ميں اکيلے نہيں رہتے۔ لوگوں کو پتہ چل گيا۔ تو ابھی تو صرف تم بے گھر ہو پھر ہم سب ہو جائيں گے۔
ضامن نے جھنجھلاتے ہوۓ کہا۔ وہ تو کسی لڑکی کو ويسے ہی برداشت نہيں کر سکتا تھا۔ سميعہ تو اسفند کی طرح اسکی بچپن کی دوست اور بہن بنی ہوئ تھی۔
“ضامن آج کی تو رات گزارو صبح سر سے مشورہ کريں گے۔ آئم شيور وہ بہتر سولوشن بتائيں گے”
سميعہ کے کہنے پر وہ دونوں متعفق ہوۓ۔
“ٹھيک ہے” ضامن کے مان جانے پر تينوں نے سکھ کا سانس ليا۔
سميعہ کچھ دير بعد اپنے گھر کی طرف نکلی۔ ہالہ سے اتنی دير ميں اچھی گپ شپ ہو گئ تھی۔
ضامن اور اسفند نے اسے اسی کمرے میں ٹہرنے کا کہا جہاں اسے بے ہوش حالت میں لا کر لٹايا تھا۔ دونوں بيڈ رومز کے ساتھ اٹيچڈ باتھ تھے۔اسی لئيے انہيں کوئ ايشو نہيں ہوا۔ رات ميں آنے والے حالات کا سوچتے کب اسکی آنکھ لگی وہ نہيں جانتی تھی….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: