Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 2

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 2

–**–**–

اگلے دن صبح اسکی فجر کے ٹا‏م پر آنکھ کھلی۔وضو کرکے جاۓ نماز ڈھونڈی جو کہ پاس ہی رائيٹنگ ٹيبل کے نيچے والے خانے ميں اسے پڑی نظرآ‏ئ۔
نماز پڑھ کر وہ کشمکش ميں تھی کہ يہيں بيٹھے يا باہر جاۓ۔باہر سے کھٹر پٹر کی آواز آئ تو وہ دل ميں ہمت مجتمع کرتی دروازہ کھول کر باہر نکل آئ۔
ضمان ٹريک سوٹ پہنے جوسر ميں جوس بنا رہا تھا۔
دروازے کی آواز پر مڑ کر ديکھا اور پھر بے تاثر چہرے کے ساتھ دوبارہ اپنے کام ميں مصروف ہوگيا۔
“ھمم! کھڑوس کہيں کا” ہالہ کو اس سے اتنی بے مروتی کی اميد نہيں تھی۔
اور اب اس نے سوچ ليا تھا کہ اس سے کوئ اميد بھی نہيں رکھنی۔
وہ صوفے پر خاموشی سی آکر بيٹھ گئ کہ ضامن گلاس ميں جوس لئيے اپنی طرف آتا دکھائ ديا۔
“اب اتنا بھی بے مروت نہيں” اس نے خود کو تسلی دی۔
مگر جيسے ہی اسے اپنے مقابل صوفے پر بيٹھ کر غٹاغٹ جوس چڑھاتے ديکھا۔ اپنی خوش فہمی پر لعنت بھيجی۔
“يہاں جتنے بھی دن رہنا ہے اپنی خدمت آپکو خود کرنی ہے ٹرے ميں کھانا سجا کر کوئ آپکو پيش نہيں کرے گا اور نہ ہی آپ
‎ ۔ ہماری مہمان ہيں کچن سامنے ہے خود اٹھيں اور خود بنائيں۔”۔ گلاس خالی کرکے اٹھتے ہو ۓ وہ اچھی طرح اسکو خوش فہمی کی دنيا سے باہر نکال لايا
گلاس کچن کاؤنٹر پہ رکھ کر غالباّّ وہ جوگنگ کے لئيے چلا گيا تھا۔
مرتے کيا نہ کرتے وہ اٹھی اور اپنے لئيے ناشتہ بنايا۔يہ کيا انکا احسان کم تھا کہ انہوں نے اسے يہاں رہنے ديا تھا۔
دماغ سے منفی سوچوں کو جھٹکتے وہ ناشتہ بنانے لگی پھر کچھ سوچتے ان دونوں کے لئيے بھی آمليٹ بنا ديا۔ فروزن پراٹھے پڑھے ہوۓ تھے۔ اسکا مطلب ہے صبح پراٹھے کھاتے ہيں۔
سوچتے ہوۓ اس نے پراٹھے بھی گرم کر لئيے۔
ابھی وہ يہ سب کرکے اور جوس کس برتن دھو کر فارغ ہو‏ئ تھی کہ وہ دونوں واپس آگۓ۔ اسفند، ضامن سے پہلے جو گنگ کے لئيے چلا گيا تھا۔
ہالہ نے اندازہ لگايا۔
“واہ واہ کيا خوشبو آرہی ہے، بھائ کسی اور کے فليٹ ميں تو نہيں آگۓ۔” آمليٹ اور پراٹھوں کی خوشبو پورے فليٹ ميں پھيلی ہوئ تھی۔
“مسخرہ پن چھوڑو ناشتہ کرو اور جلدی نکلو۔ سر کی دوبارہ کال نہيں آنی چاہئيۓ۔” انہيں جوگنگ کے دوران اپنے باس کی کال آگئ کسی کيس کی ارجنٹ ميٹنگ تھی۔
“اسلام عليکم” ہالہ کو اسفند کی خوش مزاجی سے تھوڑی سے تقويت ملی تو اسے کچن کی جانب آتے ديکھ کر اس نے جھٹ سلام کيا۔
“وعليکم سلام ارے جيتی رہو سسٹر صبح صبح ہمارے لئيے اتنی محنت کرنے کا شکريہ آؤ ٹيبل پر رکھتے ہيں”
ضامن چينج کرنے اندر چلا گيا اور اسفند خوش اخلاقی سے کہتا اسکے ساتھ مل کر چيزيں ٹيبل پر لے آيا اور اسے کھانے کا اشارہ کيا۔
“آجا يار” اسفند نے اسے آتے ديکھ کر کہا۔
“نو تھينک يو اب تم بھی جلدی کرو” ضامن بے مروتی سے کہتا کچن کی جانب چلا گيا اور سيب نکال کر کھانے لگا۔
حالانکہ ضامن خود پراٹھے لاتا تھا اور شوق سے بھی کھاتا تھا۔
اسفند نے اسکی اس حرکت پر يکدم ہالہ کو ديکھا جس کا چہرہ خفت سے سرخ ہو گيا تھا۔ وہ بچی تو نہيں تھی کہ ضامن کے اس انسلٹنگ ايٹی ٹيوڈ کو نہ سمجھتی۔
“اوکے سسٹر ٹائم شارٹ ہے سو آئ ہيو ٹو گو۔ اتنے مزيدار ناشتے کے لئيے تھينک يو” اسفند نے ضامن کے رويے کی تلخی کو کم کرنے کی کوشش کی۔
“پليزر بھائ” ہالہ نے بھی اسے مسکراتے ہوۓ جواب ديا۔
ضامن نے بڑے غور سے بھائ بہن کی محبت کا يہ نظارہ ديکھا۔
“سسٹر ہم باہر سے لاک کرکے جا رہے ہيں کيونکہ آپکی يہاں موجودگی کو ہم ڈسکلوز نہيں کرنا چاہتے ابھی۔ دوپہر ميں سميعہ آپکے پاس آجاۓ گی۔ اسکے پاس يہاں کی ڈپليکيٹ چابی ہوتی ہے۔لينڈ لائن ہے ليکن آپ نے اٹينڈ نہين کرنا کو‏ئ ايشو ہو تو مجھے يا ضامن کو کال کر لينا يہ ہمارے نمبرز ہيں۔” نکلنے سے پہلے اسفند اسکے قريب آيا جو صوفے پہ بيٹھی تھی۔ اسے آتا ديکھ کر اٹھ کھڑی ہوئ۔
اسفند نے ضروری ہدايات ديتے ہوۓ ايک پيپر ديا جس پر ان دونوں کے نمبر لکھے تھے۔
ضامن پاس کھڑا انہيں ديکھ رہا تھا۔ ہالہ نے سر ہلاتے سب ہدايات سنيں
_______________________۔
کبھی کبھی يہ ضروری نہيں ہوتا کہ ہم لفظوں سے اپنی ناپسنديدگی کا اظہار کريں۔ ہمارے رويے بہت کچھ سمجھا ديتے ہيں” گاڑی چلتے ہی اسفند نے کہا۔
اس ليکچر کا مقصد؟” ضامن نے حيرت سے اسفند کو ديکھتے ہوۓ کہا۔
“اتنے بچے نہيں ہو کہ سمجھ نہ آۓ”
“وہ لڑکی اگر کسی مجبوری ميں ہمارے پاس مدد کی اميد لے کر آئ ہے اور تمہيں اسے مجبوراّ رکھنا بھی پڑھ گيا ہے تو اسکا يہ مطلب نہيں کہ اپنے ہر عمل سے جتايا جاۓ۔ پراٹھے آئ تھنک تم ہی بہت شوق سے لاتے اور کھاتے بھی ہو اگر تم صرف بيٹھ کر کھا ہی ليتے تو کوئ فرق نہيں پڑھ جاتا تمہاری شان ميں۔ اگر آج کوئ مجبور ہے اور ہم کسی کی مدد کرنے کے قابل تو ہماری اس خوش قسمتی ميں نہ ہمارا کوئ کمال ہے اور اسکی بدقسمتی ميں نہ اسکاقصور۔ جينڈر ڈسکريمينيشن سے بالاتر ہو کر سوچو کہ وہ ايک انسان بھی ہے اور اللہ نے اسے ہمارے پاس اسی لئيے بھيجا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اسکی مدد کريں۔ ميرا خيال ہے اس سے زيادہ سمجھانے کی تمہيں ضرورت نہيں ہے۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ تم اسکے سامنے بچھ جاؤ۔ ريزرو رہو روڈ نہيں۔”
اسفند شايد سال ميں ايک مرتبہ ہی اتنا سنجيدہ ہوتا تھا اور جب وہ سنجيدہ ہوتا تھا تو پھر ضامن کو کسی خاطر ميں نہيں لاتا تھا۔
اب بھی ضامن کو يہی بہتر لگا کہ خاموشی ميں ہی عافيت ہے۔ اور يقيناّّ اسکی بات بھی ٹھيک تھی۔ ضامن کی سب سے بڑی خوبی ہی يہی تھی کہ وہ اپنی غلطی کو جلد مان ليتا تھا اور عملاّ اسے ٹھيک کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
_________________________
بجے کے قريب فليٹ کا دروازہ کھلا۔ ہالہ کچن ميں کھڑی کچھ پکانے کا ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ سميعہ آگئ۔1
ہيلو کيوٹ ليڈی” سمیعہ کے دوستانہ رويے نے اسے بہت ڈھارس دی۔نہيں تو صبح والے ضامن کے رويے پر وہ بہت دلبرداشتہ ہوئ تھی۔ اور اپنا ٹھکانہ کہيں اور کرنے کا شدت سے سوچ رہی تھی۔
“بالکل ٹھيک تم سناؤ۔ کيا کر رہی تھيں” سميعہ اس سے مل کر ادھر ادھر ديکھتے ہوۓ بولی۔
“کچھ پکا لوں کيا ميں” اس نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا
“ارے کيوں نہيں چلو مل کر کچھ پکاتے ہيں۔” وہ سر ہلاتی اسکے ساتھ لگ گي۔
انہوں نے چکن نکالا، نوڈلز، چاول سب موجود تھا،ہالہ نے سنگا پورئين رائس کا آئيڈيا ديا دونوں نے جھٹ پٹ بنا ليا۔
سميعہ کيا تم ميرے لئيے کوئ جگہ ارينج کر سکتی ہو۔آئ نو ميں نے تم سب کو بہت پريشان کيا ہے ليکن ميرا خيال ہے کہ ميرا يہاں رہنا بھی ٹھيک نہيں ہے۔”
اس نے ہچکچاتے ہوۓ سميعہ کو کہا جب وہ دونوں کھانا کھانے کے بعد لاؤنج ميں بيٹھی چاۓ پی رہيں تھيں۔
کيوں کيا ہوا رات تک تو ميں سب سيٹ کرکے گئ تھي۔کيا اسفند نے کچھ کہا ہے” سميعہ اسکی شرارتی طبيعت سے واقف تھی سو جھٹ سے پوچھا۔
“ارے نہيں اسفند بھائ تو بہت اچھے ہيں” وہ جلدی سے کلئير کرنے کے لئيے بولی۔
“تو پھر ضامن؟” اب کی بار ہالہ نے خاموشی سے بس سر جھکا ديا۔
“ارے يار اسکی بات کو سيريس مت لو۔ انفيکٹ وہ لڑکيوں سے الرجک ہے۔ ميرے ساتھ بھی صرف اسی لئيے فرينک ہے کيونکہ مجھ ميں لڑکيوں والے گٹس نہين۔ تم اسکی بات کو ايک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دو۔ اور ويسے بھی جيسے ہی سر کو پتہ چلے گا وہ تمہارا خود بندوبست کر ديں گے، ڈونٹ وری۔” سميعہ کی بات وہ کچھ مطمئن ہو گئ۔
_______________________-
ميٹنگ ختم ہونے کے بعد اويس عالم جو کہ انکے باس تھے۔ انہوں نے اسفند اور ضامن کو روک ليا۔
“ہاں بھئ کس لڑکی کو پروٹيکشن پروائيڈ کی جارہی ہے۔” انہوں نے ايک ہاتھ سے پيپر ويٹ گھماتے ہو ۓ پوچھا اسفند سے تھا ‎ اور نظريں ضامن پر تھيں۔
اسفند اور ضامن دونوں نے ايک دوسرے کی جانب ديکھا اور پھر اسفند نے ساری ڈيٹيل بتائ۔
“اسکے ڈيٹا سے متعلق انفارميشن تم نے سميعہ سے لے کر اپنے پاس سيو کی ہے۔”
“جی سر” اسفند تيزی سے بولا۔
“دين واٹ آر يو ويٹنگ فار شو اٹ ٹو می” انکا ٹھنڈا دھيما لہجہ بھی کبھی کبھار ان دونوں کے ہاتھ پاؤں پھولاديتا تھا۔
اسفند نے جلدی سے ڈيٹا نکال کر انکے سامنے رکھا۔
اسکے باپ کے نام اور پوزيشن نے انہيں اچھا خاصاچونکايا تھا مگر انہوں نے ان دونوں کو يہ محسوس نہيں ہونے ديا۔
“اوکے ناؤ واٹ يو وانٹ” انہوں نے براہ راست ضامن سے پوچھا۔
“واٹ ايور يو ول ڈسائڈ آئل پرسيو اٹ”
“آريو شيور” انہوں نے جانچتی نظروں سے ضامن کو ديکھا جو انکے عزيز ترين دوست عاصم ملک کی اولاد تھا اور انہيں اپنی اولاد کی طرح عزيز تھا انکے ہر حکم کو ماننے والا۔ اب بھی ايسا ہی ہوا تھا۔
“اوکے دين اٹس بيٹر ٹو کيپ ہر ود يو فار سم ٹا‏ئم”
اوکے سر” دونوں نے انکی ہاں ميں ہاں ملائ اور مصافحہ کرکے باہر نکل آۓ۔
_________________________
ہيڈ کوارٹر سے نکل کر وہ سيدھا فليٹ پر آۓ۔ جہاں سميعہ انکی منتظر تھی۔ منتظر تو ہالہ بھی تھی آخر انکا جو کوئ بھی باس تھا ان دونوں نے آج اس سے ہالہ کے متعلق بھی بات کرنی تھی۔
وہ دعا مانگ رہی تھی کہ کسی طرح انکا وہ باس ہالہ کا کہيں اور بندوبست کروا دے اور اس کھڑوس سے ضامن سے اسکی جان چھٹے۔
مگر قسمت ابھی اس پر اتنی بھی مہربان نہيں ہوئ تھی۔
انکے اندر آتے ہی سلام دعا کے بعد سميعہ نے پوچھا”تو پھر بات ہوئ تم لوگوں کی سر سے۔”
“کچھ کھانا کھانے کی اجازت ہے يا پھر پہلے تمہاری عدالت ميں حاضری ديں۔”
ضامن تو پہلے ہی تپہ ہوا تھا سميعہ کی بے صبری پر اس پہ چڑ دوڑا۔
پيچھے سے اسفند نے ہاتھ جوڑ کر سميعہ کو خاموش ہونے کا کہا۔
“يار تو فريش ہو کر آ۔سميعہ کچھ پکايا ہے تو جلدی سے رکھو۔”
اسفند نے فوراّّ دونوں کو ادھر ادھر کيا نہيں جنگ چھڑ جانی تھی۔
ضامن فوراّّ بيڈ روم کی طرف بڑھا۔
“تمہيں کيا ضرورت تھی بھڑوں کے چھتے ميں ہاتھ ڈالنے کی” اسکے جاتے ہی اسفند نے سميعہ کو ڈانٹا۔ وہ تو شکر تھا کہ ہالہ دوسرے کمرے ميں نماز پڑھ رہی تھی نہيں تو وہ پھر سے دلبرداشتہ ہو جاتی۔
“تو اب بتا بھی چکو کہ سر نے ہالہ کے بارے ميں کيا کہا۔
“انہوں نے فی الحال اسے یہيں رکھنے کا کہا ہے۔ اسی لئيے اسکا موڈ آف ہے” اسفند نے تفصيل بتاتے ہوۓ ضامن کے خراب موڈ کی وجہ بتائ۔
“چلو جی ہالہ بے چاری کا نصيب۔۔وہ ضامن کے ايٹی ٹيوڈ سے کافی ٹينس تھی” “ہاں ميں نے اسے سمجھايا تھا صبح ہوپ فلی اب وہ انسان بن کر رہے گا۔” دونوں کھانا لاؤنج کی سينٹر ٹيبل پر رکھتے باتيں بھی کر رہے تھے۔
شکر کے ضامن نے خاموشی سے کھانا کھايا۔
کچھ دير بعد سميعہ چلی گئ اور اسکے جاتے ہی ہالہ بھی اپنے روم ميں چلی گئ جہاں وہ رات ميں ٹھری تھی۔
اسفند چاۓ بنا کر ناک کرکے اسے کمرے ميں دينے آيا۔
“بھائ آپ نے چاۓ کيوں بنائ مجھے کہ ديتے”
ہالہ کو اسکے ہاتھ سے چاۓ ليتے بہت عجيب لگا۔
“ارے کوئ بات نہيں ہم شروع سے ہی ہوسٹلز ميں رہے ہيں سو ہميں اپنے کام کرنے کی عادت ہے۔”
“ليکن جب تک اب ميں يہاں ہوں آپ لوگ ايسے کوئ کام نہيں کريں گے”
“اوکے اوکے!” اس نے اتنے مان سے کہا کہ اسے مانتے ہا بنی۔
اور پھر کچھ دنوں ميں ہالہ نے انکے سارے کام اپنے ذمے لے لئيے۔
ضامن کو وہ براہ راست مخاطب نہيں کرتی تھی۔ اسفند کے تھرو اس کی چيزوں کا خيال رکھتی۔
ضامن کو چونکہ اس ميں کوئ دلچسپی نہيں تھی سو اسے اس بات سے کوئ فرق نہيں پڑھتا تھا۔ بلکہ وہ شکر ہی کرتا کہ وہ اسے مخاطب نہيں کرتی۔
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: