Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 3

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 3

–**–**–

يہ کچھ ہی دنوں بعد کی بات تھی۔ ہالہ فليٹ ميں اکيلی تھی۔ ضامن اور اسفنر کسی کام کے سلسلے ميں صبح کے نکلے ہو ۓ تھے ‎ ۔
اب بھی اس بلڈنگ ميں کسی کو ہالہ کی انکی فليٹ ميں موجودگی کا نہيں پتہ تھا۔ کيونکہ وہ جانے سے پہلے فليٹ کو لاک کر جاتے تھے۔
سميعہ کچھ شاپنگ کرکے اسکے کپڑے اور ضرورت کی چيزيں دے گئ۔
ہالہ لاؤنج ميں بيٹھی تسبيح پڑھ رہی تھی کہ دروازے پر کلک کی آواز سے وہ يہی سمجھی کہ ضامن اور اسفند آگۓ ہيں۔
وہ کچن ميں انکے لئيے جوس بنانے گئ کيونکہ وہ آتے ہی جوس ضرور پيتے تھے۔
جيسے ہی قدموں کی آواز آگے آئ تو کسی کے بولنے کی آواز بھی آئ جيسے کوئ فون پر بات کر رہا ہو۔ مگر يہ آواز ہالہ کے لئيے اجنبی تھی۔
اسکے ہاتھ جوسر پر ڈھيلے ہوگۓ۔اور آنے والا موبائل بند کرکے اب لاؤنج ميں اپنا بيگ سائيڈ پر رکھ کر مڑ کر صوفے پر بيٹھنے لگا اسکی نظر سيدھی کچن ميں پريشان کھڑی ہالہ پر پڑھی۔
وہ جو کوئ بھی تھے انہيں بزرگ نہيں کہا جا سکتا تھا۔ ضامن جتنا ہی قد کھاٹ۔ کنپٹيوں کے بال سفيد تھے انکی جتنی بھی عمر تھی۔
ہالہ کو وہ فورٹيز کے ہی لگے۔
وہ بھی اس فليٹ ميں ايک لڑکی کو ديکھ کر ہالہ سے بھی کہيں زيادہ حيران ہوۓ۔
“کيا انہوں نے کام والی رکھ لی ہے۔ مگر پھر خيال آيا کہ کام والی نہ تو جينز پہنتی ہے اور نہ ہی اتنی صاف ستھری اور خوبصورت ہوتی ہے۔
وہ وہاں بيٹھنے کی بجاۓ کچن کے پاس آۓ اور ماتھے پہ تيوری لا کر اسے ديکھا۔
“کون ہو تم اور ان دو لڑکوں کے فليٹ ميں کيا کر رہی ہو” بارعب شخصيت کے ساتھ انکی آواز بھی انہی کی طرح بارعب تھی۔
“مم۔۔ ميں۔۔” ابھی وہ کوئ کہانی گڑھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ مين ڈور پر کلک کی آواز کے ساتھ ہی کوئ اندر آيا اور پھر دبے قدموں اندر آتے ايک دم عاصم ملک پر پسٹل تانتے ہوۓ بولا۔
“ڈيڈی” ايک دم پسٹل والا ہاتھ نيچے گيا۔
واپس آکر ضامن نے جيسے ہی فليٹ کے دروازے پر لگا‏‏ئ تو اسے لاک کھلا ہوا ملا وہ يہی سمبھا کہ انکے فليٹ پر کسی نے دھاوا بولاہے۔ پہلی مرتبہ اسے ہالہ کا خيال آيا کہ کہيں اسے نہ کچھ ہوا ہو۔
وہ گن پاکٹ سے نکال کر دبے قدموں آيا تاکہ اندر موجود شخص کو پکڑ سکے مگر يہ وہم و گمان ميں نہ تھا کہ اسکے ڈيڈی بھی ہو سکتے ہيں۔
وہ خود بھی آئ ايس آئ کے ڈائريکٹرز ميں سے تھے۔ سو کسی نہ کسی کيس کس سلسلے ميں لاہور آتے جاتے تھے۔ جب سے ضامن اور اسفند کی پوسٹنگ يہاں ہوئ تھی وہ اب لاہور آکر انہی کے پاس ٹھرتے تھے۔
لہزا فليٹ کی ايک چابی انکے پاس بھی ہوتی تھی۔
“کون ہے يہ” جيسے ہی وہ ان سے ملنے کے لئيے آگے ہوا انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہيں رکنے کا کہا۔
“پہلے جو پوچھا ہے اسکا جواب دو” وہ بھی ضامن کے ہی باپ تھے۔
“ڈيڈی آپ پہلے بيٹھ جائيں” اس نے کھا جانے والی نظروں سے ہالہ کو ايک نظر ديکھ کر عاصم صاحب سے کہا۔
“ميرے پيچھے تم لوگوں نے يہ کچھ شروع کر ديا ہے۔ تبھی ڈور بھی لاک تھا۔ ميں ابھی اويس سے بات کرتا ہوں۔ ہو کيا رہا ہے آخر يہاں” انہوں نے غصے سے کہتے ہو‎ۓ ضامن کو گھورا۔ وہ کچھ اور ہی سمجھے تھے۔
“ڈيڈی سر کو پتہ ہے اس لڑکی کا اور انکی پرميشن سے ہی ہم نے اسے يہاں رکھا ہے۔”ضامن نے انہيں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جو فون نکال رہے تھے۔
“صرف دو منٹ ہيں تمہارے پاس جلدی سے سب بتاؤ اسکے بارے ميں” ہالہ کو اب سمجھ آئ کہ ضامن کی نيچر ايسی کيوں ہے۔ يقيناّّ اسکے پيرينٹس نے اسکی تربيت بہت ٹف کی تھی۔
ہالہ کچن ميں ہی تھی اور وہ دونوں لاؤنج ميں بيٹھے تھے۔
“ادھر آؤ بيٹا” ضامن کی ساری بات سننے کے بعد انہوں نے ہالہ کو اپنے پاس بلايا۔
وہ گھبراتی ہوئ انکے پاس آئ۔ انہوں نے اسے اپنے برابر صوفے پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
ضامن سامنے والے صوفے پر دونوں گھٹوں پر کہنياں ٹکاۓ اور ہاتھوں کو آپس ميں جوڑے سر ہلکا سا جھکاۓ بيٹھا تھا۔
ہالہ کو تو اکثر کسی فلم کا ہيرو ہی لگتا تھا۔
“بيٹا آئ ايم سوری جس طريقے سے آپ اس گھر ميں موجود تھيں۔ ميں اس سے پريشانی ميں غلط نتيجہ اخذ کرگيا۔ بہرحال ہم آپکو پوری طرح پروٹيکٹ کريں گے۔ رحمان شاہ آلريڈی ہماری ہٹ لسٹ پہ ہے۔ اس ک‏يس کے علاوہ ہم نے اور بھی کيسز اسکے ڈھونڈے ہيں۔ خير آپ ريليکس ہو کر کچھ عرصہ يہاں رہو پھر کچھ اور بندوبست کرتے ہيں آپکا”
انہوں نے اسے تسلی ديتے آخر ميں ضامن کو ديکھتے کہا۔
“يہ اسفند کہاں ہے۔” انکے سوال پر اس نے سر اٹھايا نظر سيدھی اپنی جانب تکتی ہالہ پر پڑھی تو اسکے ماتھے پر شکنيں ابھر آئيں۔
ہالہ نے فوراّ سر نيچے جھکا ليا۔
“کچھ کام سے گيا ہے ابھی آ جاۓ گا۔آپ فريش ہو جائيں تب تک۔”
اس نے اپنی جگہ سے اٹھتے کہا۔
آپ کچھ ليں گے انکل۔ جوس يا چاۓ” ہالہ نے انکو اٹھتے ديکھ کر پوچھا۔
واۓ ناٹ بيٹا چاۓ” انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ ہالہ کو تھوڑی سی تسلی ہوئ۔
________________________
ابھی وہ جوگنگ سے واپس آيا ہی تھا۔ کمپاؤنڈ سے آتے ہوۓ ہوکر جو اخبار دے کر گيا تھا وہ ہاتھ ميں لئيے اپنے فليٹ کی جانب گيا۔ آج ضامن اکيلا ہی جوگنگ پہ گيا تھا۔
اسفند کی طبيعت ٹھيک نہيں تھی سو وہ سو رہا تھا۔
ہالہ نے جونہی اندر آتے ضامن کو ٹيکھا کچن ميں اس کس لئيے ناشتہ بنانے چلی گئ۔
ان دونوں ميں اگر بہت خوشگوار بات چيت کا تبادلہ نہيں ہوتا تھا تو سرد مہری بھی نہيں تھی۔
ضامن کو اندازہ ہو گيا تھا کہ وہ خود بھی اسے اگنور کرتی ہے اور اسے يہ بات بہت اچھی لگی تھی۔
“ميں نے ناشتہ بنا ديا ہے اگر آپ کہتے ہيں تو ٹيبل پر لگا دوں۔” ہالہ نے اسے فريش ہو کر آتے ديکھا۔ مگر وہ ابھی بھی ٹراؤزر اور ٹی شرٹ ميں تھا۔
يہ پہلی مرتبہ تھا کہ وہ اسے براہ راست مخاطب کر رہی تھی۔
“نہيں ابھی بس چاۓ دے ديں، اسفنھد اٹھے گا تو اکٹھے کر ليں گے۔” اس نے مصروف سے انداز ميں اخبار پڑھتے بغير اسکی طرف ديکھتے ہوۓ کہا۔
ابھی اس نے دوسرا صفحہ کھولا ہی تھا کہ پہلی خبر پر ہی وہ شاکڈ رہ گيا۔ بے يقينی سے اس نے کچن ميں چاۓ بناتی ہالہ کو ديکھا۔
“اؤے بڈی آگيا تو جوگنگ کرکے”اسفند نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا۔
ضامن نے بے باثر چہرے کے ساتھ اسے ديکھا۔ اسفند ايک دم چونکا۔
“کيا ہوا ہے” اسے ضامن کے چہرے پر کچھ غير معمولی تاثرات ديکھے۔
اس نے خاموشی سے اخبار کی اس خبر کی طرف اشارہ کيا۔
اسفند اسکے پاس ہی صوفے پر بيٹھ کر خبر پڑھنے لگا اور جيسے جيسے پڑھتا جا رہا تھا اسکے چہرے کے تاثرات بدلتے جا رہے تھے۔
جبکہ ضامن کی کھوجتی اور کچھ غصيلی نظريں اب تک ہالہ پر جميں تھيں۔
وہ جونہی چاۓ لے کر آئ تو ضامن کو اپنی طرف تکتا پا کر کچھ حيران اور پريشان سی ہوئ۔
“کيا ہے يہ” ضامن نے اسفند سے اخبار لے کر ہالہ کی جانب بڑھايا۔
اس نے حيران ہو کر اخبار ديکھا جس ميں اسکی تصوير کے ساتھ ہيڈ لائن تھی۔ “مفرور قاتلہ” اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے خبر کو پڑھنا شروع کيا۔
“ہالہ سرفراز جو کہ کسی گروہ کے ساتھ ملوث ہے۔ جمعرات کی رات ايک بے قصور کو ماڈل ٹاؤن کے بلاک ايل ميں لوٹ کر اور پھر قتل کرکے بھاگ گئ۔ جس کسی کو نظر آۓ يا اسکے متعلق کچھ خبر ہو مندرجہ ذيل رابطے پر اطلاع دے۔ پوليس کو يہ مفرور قاتلہ درکار ہے۔ براہ مہربانی ہمارے ساتھ تعاون کريں۔”
اخبار اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گيا۔ضامن کھڑاہو کر اسکے مفابل آيا۔
“جمعہ کا دن تھا نہ جب تم مصيبت بن کر ہمارے ساتھ يہاں آئ تھيں”
“نہ۔۔نہ۔۔۔نہيں يہ سب غلط ہے ميں نے کسی کا قتل نہيں کيا۔”
وہ روتے ہوۓ بے اختيار بولی۔
“يہ خبر جس نے چھپوائ ہے وہ ايس ايچ او ہے۔ نام تو پڑھ چکی ہوگی۔ زمان شاہ۔ اب يہ بھی بول دو کے وہ ايس ايچ او نہيں۔ ہم جھوٹ بول رہے ہيں۔تم۔۔۔” ابھی اس نے غصے سے کہتے اسکی بازو پکڑی ہی تھی کہ اسکے موبائل پر اويس عالم کی کال آنے لگی۔
اس نے اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوۓ کال اٹينڈ کرتے ہالہ کی بازو کو ايک جھٹکے سے چھوڑا اور ايک غصيلی نظر اسکے چہرے پر ڈالی جو مجرموں کی طرح سر جھکاۓ رو رہی تھی۔
“اسلام عليکم سر۔”
“وعليکم سلام! تھوڑی دير ميں ميں سميعہ کو بھيج رہا ہوں وہ نقاب ميں آ‎ۓ گی۔ تم اور اسفند ہالہ کو لے کر ميرے کينٹ والے فليٹ ميں نقاب ميں ہی لے کر آؤ گے۔ سميعہ کھڑکی کے راستے سے تمہارے فليٹ سے نکل آۓ گی۔
تمہارے ڈيڈی بھی ميرے پاس پہنچ چکے ہيں۔ تمہارا اور ہالہ کا ميرے فليٹ پر نکاح ہوگا۔ پھر وہ نقاب ميں تمہارے ڈيڈی کے ساتھ تمہارے فليٹ پر واپس آۓ گی۔”
انکے آخری جملے سن کر اسکا دماغ بھک سے اڑ گيا۔
“ہالڈ آن سر۔۔۔يہ ۔۔يہ کيا کہا ہے آپ نے” اس نے بے يقينی سے پوچھا کہ شايد وہ جلدی ميں کچھ غلط کہہ گۓ ہيں۔
“اونچا سننے لگ گۓ ہو کيا۔ تمہيں پتہ ہے کہ ميں اپنی بات دہراتا نہيں۔ ليکن تمہارے متوقعہ ہونے والے نکاح کی خوشی ميں، ميں بتا ديتا ہوں کہ تمہارا اور ہالہ کا نکاح ہو رہا نے کچھ دير بعد۔ اينی آبجکشن” انہوں نے ٹھنڈے اور سرد لہجے ميں کہا۔
“جی بالکل بہت سارے آبجکشنز” وہ موبائل سنتا اپنے روم ميں آگيا۔
“آئ گيو آ ڈيم! ميں نے کبھی تمہارے باپ کی نہيں سنی تم کيا چيز ہو”
“وہ ميرے ڈيڈی ہيں يہ ميں ہوں”
ضامن ان سے کافی فرينک تھا سو کبھی کبھی تو انکے ساتھ دوستوں کی طرح بات کرتا تھا۔
“سر يہ کوئ ٹافی دينے کی بات نہيں اور نہ ميں اتنا بچہ ہوں آجکا اخبار آپ نے شايد پڑھا نہيں، محترمہ عادی مجرم اور قاتلہ ہيں۔”
اب ميں ان اخبار والوں کی باتوں پے اپنے فيصلے کروں گا۔اور ہم جانتے تھے کيا خبر آنے والی ہے اسی لئيے يہہ فيصلہ کيا ہے۔
“سر مجھے يقين نہين آرہا کہ اتنا کچھ جاننے کے بعد بھی آپ يہ کچھ کہ رہے ہيں”
“اور مجھے ي‍قين نہيں آرہا کہ تم مجھ سے آرگيو کر رہے ہو”
“مگر سر” وہ بے چارگی سے بولا
ضامن انف” انکی دھاڑ پر وہ ہکا بکا رہ گيا۔
“تم يہ نہيں کر سکتے تو ٹھيک ہے اسفند تو ہے نا”
سر۔۔” اس نے بے ‏يقينی سے انکی بات سنی۔
“جب تک سميعہ نہيں آتی تم اچھی طرح سوچ لو اور فون ہالہ کو دو”
اسنے لب بھينچتے انکی بات سنی پھر باہر آکر کھا جانے والی نظروں سے ہالہ کو ديکھ کر فون اسکی جانب بڑھايا۔
اس نے حيران ہوتے ہاتھ بڑھا کر پکڑا۔
اور دوسری جانب کی بات سنتے دوسرے کمرے ميں چلی گئ۔
کيا ہوا ہے يار کس کی کال ہے ميں تو چکرا گيا ہوں” اسفند ابھی تک بے يقینی کی کيفيت ميں تھا۔
“بيٹا ابھی تو يہ کچھ بھی نہيں نيکسٹ مشن کے لئيے تيار ہوجاؤاينڈ آئ بيٹ اگر تمہارے چودہ طبق روشن نہ ہو ۓ تو ميرا نام بدل ‎ دينا
کيا مطلب” اسفند نے تعجب سے پوچھا اور پھر جو کچھ ضامن نے بتايا اس سے اسکے چودہ کيا چودہ ہزار طبق روشن ہوگۓ۔
“ہاؤ از بٹ پاسبل يار” اسفند کی پريشان آواز پر وہ صرف تلخ مسکراہٹ ہی دکھا سکا۔
“آپکا موبائل” ايک ہاتھ اسکی آنکھوں کے آگے آيا۔ اس نے جھپٹنے والے انداز ميں اس سے موبائل ليا۔ اور جونہی غصيلی نظر اسکی جانب کی تو اسکی بھيگی روئ روئ پلکيں ديکھ کر اسکا ميٹر پھر سے گھوم گيا۔
“يہ ڈرامے کس بات کے کر رہی ہو، تمہيں تو خوش ہونا چاہئيے، يہی گھٹيا مشن لے کر آئيں تھيں نا اور کتنے چہرے ہيں تمہارے آج وہ سب بھی دکھا دو۔ کس مظلوميت کا رونا رويا ہے تم نے کے ميرے فادر اور باس دونوں کو بے وقوف بنا ليا ہے۔” وہ دانت پيستے ہوۓ اسکے مقابل کھڑا اس سے پوری طرح سچ اگلوانے کے موڈ ميں تھا۔
“ميں آپکے منہ نہيں لگنا چاہتی” وہ کسی بھی لڑائ سے بچنے کے لئيۓ اتنا کہ کر اندر کمرے کی جانب مڑنے لگی کہ کلائ ضامن کے ہاتھ ميں آگئ۔
“سمجھا کيا ہوا ہے تم نے خود کو۔ ميں ايسے لہجے برداشت نہيں کرتا” ضامن نے اسکے بازو کو جھٹکا ديتے اسکا رخ اپنی جانب کيا۔
“مجھے بھی کوئ شوق نہيں آپ جيسے کھڑوس سے تعلق جوڑنے کا۔اور ميں کيا ہوں اور ميری اصليت کيا ہے يہ ابھی کچھ دير ميں آپکو واضح ہو جاۓ گی۔” وہ غصے سے اپنا بازو چھڑاتی اندر جا کر دروازہ بند کر گئ۔
“يہ۔۔۔” ضامن کے پاس تو جيسے الفاظ ہی ختم ہو گۓ تھے۔ کسی لڑکی کی ہمت نہيں ہوئ تھی کہ اس سے اسطرح بات کرتی۔
ابھی وہ اور اسفند اس حيرانگی سے نہيں نکلے تھے کہ سميعہ آگئ۔
اور پھر انہوں نے ويسے ہی کيا جيسے اويس عالم نے انہيں حکم ديا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: