Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 4

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 4

–**–**–

بھينچے ہونٹوں کے ساتھ گاڑی چلاتے وہ انتہائ سنجيدہ حدتک خاموش تھا۔
جيسے ہی وہ اويس عالم کے فليٹ پر پہنچے اسے اپنے تاثرات صحيح کرنے پڑے۔ جو بھی تھا بہرحال وہ اويس عالم کے کسی بھی فيصلے کی سرتابی کا سوچ بھی نہيں سکتا تھا۔
ايک عجيب سا لگاؤ تھا اسے ان سے۔
فليٹ ميں انٹر ہوتے ہی اسے عاصم ملک اور او‏يس شاہ کے کچھ اور دوست نظر آ ۓ ساتھ ميں مولوي بھی تھا ‎ ۔
يعنی کہيں اب بچاؤ کی صورت نہيں تھی۔
“ہاں تو کيا فيصلہ ہے تمہارا” ہالہ کو لئيے جب اويس عالم دوسرے کمرے ميں گۓ تو اپنے پيچھے اسے بھی آنے کا اشارہ کيا۔
“ميں نے کبھی بھی آپ کے کسی فيصلے کی مخالفت نہيں کی، مگر کيا ميرا یہ جاننا حق نہيں بنتا کہ جو لڑکی ميری بيوی بننے والی ہے اسکا انفيکٹ بيک گراؤنڈ کيا ہے۔ وہ لڑکی جو صبح تک ايک قاتلہ کے روپ ميں ميرے سامنے تھی۔ اچانک اس ميں ايسے کون سے سرخاب کے پر نکل آۓ کہ آپ اور ڈيڈی اسے ميری تحويل ميں دينے پر بضد ہيں۔”
الچھے لہجے ميں اپنے دل کی بات کہتا وہ انہيں ہميشہ سے زيادہ بہت پيارا لگا۔ پومک کے ٹريک سوٹ ميں اپنی مردانہ وجاہت کے ساتھ وہ اور بھی ڈيشنگ لگ رہا تھا۔
“يقيناّ! يہ سب تمہارا حق ہے۔ کيا تمہارے خيال ميں ميں ايک لڑکی کی اس انفارميشن سے مطمئن ہو جاتا جو تم لوگوں نے مجھے پروائڈ کی تھی۔ بيٹا ميں تمہارا استاد ہوں۔ سو يہ سمجھ لو کو جو انفو تم لوگوں نے پروائڈ کی وہ اس سب کا ايک چھوٹا سا حصہ تھی جو بعد ميں ميں نے اپنے رسورسز سے حاصل کی۔ وہ غلط نہيں تھا جو ہالہ نے تمہيں بتايا۔ مگر جو کچھ مجھے پتہ يلا وہ اس سے کہيں زيادہ ہے۔ مگر وہ ميں تمہيں ابھی نہيں بتا سکتا، ہمارے پاس ٹائم اتنا نہيں۔ بس يہ سمجھ لو کہ يہ قاتلہ نہيں ہے۔اور کيا اگر ميں تمہيں اپنی بيٹی سے نکاح کے لئيۓ کہتا تو کيا تم تب بھی سوچنے کا وقت ليتے؟”
“آف کورس ناٹ” انکی اتنی بڑی بات کے بعد اب شک کی گنجائش نہيں تھی کہ ہالہ بہرحال بے قصور ہی ہے۔
“تو پھر يہی سمجھو کہ ميں تمہارا نکاح اپنی بيٹی کے ساتھ کروا رہا ہوں۔”
ہالہ جو کہ برقعہ اتار چکی تھی اور نظريں نيچی کئيے انکی باتيں سن رہی تھی۔ اويس عالم نے اسے محبت سے اپنے ساتھ لگاتے ہو‌ۓ کہا۔
ضامن نے ايک نظر اسکی آنسو برساتی نظروں کر کہا۔
“مجھے منظور ہے ميں مطمئن ضرور ہوگيا ہوں مگر الجھن ابھی بھی برقرار ہے کہ ميری ہونے والی کا بيک گراؤنڈ کيا ہے”
“تصحيح کر لو بيوی نہيں ہونے والی منکوحہ؟”
“کيا مطلب” اس نے الجھ کر انہيں ديکھا۔
“ابھی صرف نکاح ہو رہا ہے اسکی رخصتی نہيں، رہے گی وہ تمہارے ہی فليٹ ميں ليکن تمہاری منکوحہ کے روپ ميں۔ اتنی آسانی سے ميں اپنی پياری بيٹی کو تمہارے حوالے نہيں کر سکتا جس کے ساتھ صرف نکاح پر ہی جرح ختم نہيں ہو رہی۔”
يہ زيادتی ہے سر، ابھی تو گھنٹہ بھی نہيں ہوا آپکو اپنی عزيزز جان بيٹی سے ملے کہ آپ نے پارٹی بدل لی ہے۔” اس نے انکی طوطا چشمی پر اعتراض کيا۔
انہوں نے ہنستے ہوۓ اسے گلے لگايا
انہوں نے ہنستے ہوۓ اسے گلے لگايا۔
“اگر تم ميرے عزيز ترين دوست کے بيٹے ہو تو ہالہ بھی ہمارے ايک بہت عزيز دوست کی بيٹی ہے اور ہماری ايک بہت ديرينہ خواہش پوری ہو رہی ہے۔ ايسے حالات کا تو سوچا نہيں تھا مگر۔۔” اس کس کندھوں پر ہاتھ جماۓ انہوں نے اسے ايک اور حقيقت بتاتے ہوۓ مزيد الجھايا۔
“بيٹا تم ادھر ہی بيٹھو ابھی سم‏يعہ بيٹی آرہی ہے۔” انہوں نے حيران ضامن کے کندھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہالہ کو مخاطب کيا اور ضامن کو لئيے باہر چلے گۓ۔
__________________________
“کبھی سوچا نہيں تھا کہ تيرے نکاح کا فنکشن ميں ٹريک سوٹ ميں اٹينڈ کروں گا” اسفند کے شرارتی انداز پر ہلکی سی مسکراتٹ اسکے چہرے پر آکر ختم ہوگئ۔
نکاح کے پيپرز پر سائن کرتے ہی نجانے کيسے بہت سا اطمينان اسکے اندر آيا يہ وہ بھی نہيں جانتا تھا۔
“ارے نوشے مياں کہ چہرے پر تو آج مسکراتٹ بھی آئ ہے” “شٹ اپ” اسفند کے چہکنے پر وہ بمشکل اپنی مسکراہٹ روک سکا اور مصنوعی خفگی سے اسے ديکھا۔
سب کے چلے جانے کی بعد اب صرف فليٹ ميں اويس عالم، عاصم ملک، ضامن، اسفند، ہالہ اور سميعہ رہ گۓ تھے جس کے آتے ہی انہوں نے نکاح شروع کيا تھا۔
“اسفند جاؤ ہالہ اور سميعہ کو باہر آنے کا کہو” عاصم صاحب کے کہنے پر وہ اس کمرے کی جانب بڑھا جہاں وہ دونوں بيٹھی ہوئيں تھيں۔
ہالہ اور سميعہ جيسے ہی لاؤنح ميں آ‏ئيں ضامن نے پہلی مرتبہ اسے غور سے ديکھا۔ گندمی صاف رنگت، پانچ فٹ آٹھ انچ قد، نازک سا سراپا، سيدھے گھنے لئيرز ميں کٹے بال جس کی کچھ لٹيں اب بھی اسکے چہرے پر تھيں۔ روشن چمکدار اک عزم لئيے آنکھيں جو مقابل پر اٹھيں تو انہيں ايک بار کے بعد دوسری مرتبہ ديکھنے پر ضرور مجبور کر ديں۔اس وقت وہ ليمن کلر کی سرٹ ميں گرين کلر کا دوپٹہ لئيے اور ساتھ ميں بليک جينز پہنے ہوۓ تھی۔ دونوں اتنے غير معمولی حليۓ ميں تھے کہ شايد ہی کبھی کوئ دلہن جينزکی پينٹ اور لان کی شرٹ ميں اور کوئ دلہا ٹريک سوٹ ميں اپنے نکاح کا فنکشن اٹينڈ کر رہاہو۔
ضامن خود پر حيران تھا کہ وہ کيوں اسکو اتنے غور سے ديکھ رہا ہے۔
صوفے پر عاصم صاحب کے ساتھ بيٹھنے سے پہلے اسکی نظر سامنے اٹھی تو ضامن کو ديکھا جو دائيں ہاتھ کی مٹھی کو ہونٹوں اور تھوڑی پر رکھے بڑی غور سےاسے ديکھ رہا تھا۔
ہالہ کا دل زور سے دھڑکا۔ “جب اس کو بتا ديا ہے کہ ميں کوئ قاتل واتل نہيں ہوں پھر بھی يہ کھڑوس مجھے ايسے کيوں ديکھ رہا ہے۔ اسٹوپڈ اس ٹريک سوٹ ميں بھی کتنا ڈيشنگ لگ رہا ہے۔” وہ خود سے الجھتی نظريں جھکا کر بيٹھ گئ اور دوبارہ ضامن کو ديکھنے کی غلطی نہيں کی۔
لوگ نکاح کے چھوارے کھاتے ہيں اور ہم تمہارے نکاح کا ناشتہ کھا رہے ہيں۔ بھائ تيرا ہر کام ہی نرالا ہے۔” اسفند ناشتے کے لئيے چيزيں لاتا ہوا بولا۔
“شروع کرو بچو” اويس ملک کے کہنے پر سب نے اپنی اپنی پسندکی چيزيں لينا شروع کيں۔ بريڈ، آمليٹ، جيم، بٹر سب موجود تھا۔
ہالہ نے جيسے ہی حيم لينے کے لئيے بوٹل کو پکڑا، ضامن نے بھی اسی لمحے اسفند کی کسی بات پر اسے جواب ديتے ہاتھ بڑھیايا اور بوٹل کی جگہ ہالہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ ميں آيا۔
ا ‎گو کہ اس نے ايک دم ہاتھ پيچھے کر ليا اور ہالہ نے بھی خفت زدہ ہوتے ہو ۓ ہاتھ پيچھے کر لي مگر اسفند کو جو کھانسی سٹارٹ ہوئ تو پھر ضامن کا ايک ہاتھ کمر پر کھا کر ہی ختم ہوئ۔
ضامن ميں جانتا ہوں کہ تم اس سب معاملے کو لے کر بہت کنفيوزڈ ہو سو ميں تمہيں کچھ حقيقتيں بتانا چاہتا ہوں” ناشتے کے بعد اويس عالم نے ضامن کی کنفيوژن کو ختم کرنے کا سوچا۔
“ميں، عاصم اور سرفراز بيسٹ فرينڈز تھے۔تينوں کا پيشن بھی ايک جيسا تھا۔ سو ہم تينوں نے سيکرٹ سروسز جوائن کی اور خوش قسمتی سے ہم تينوں سليکٹ ہو بھی گۓ۔ انہی دنوں ہميں رحمان شاہ کے متعلق کچھ کيسز بھی پتہ چلے جو کہ سرفراز کا سوتيلا بھائ بھی تھا۔ مگر بہت چھوٹے سے انکا ملنا جلنا بند تھا۔وہ بہت سے ملک دشمن عناصر کے ساتھ بھی کام کرتا تھا۔ ہم تينوں اپنی اپنی جگہ اسکے خلاف ثبوت اکٹھے کر رہے تھے۔ اور وہ سب ثبوت ہم سرفراز کے پاس ہی محفوظ کرواتے تھے۔نجانے اس شر پسند انسان کر کہاں سے شک ہو گيا سرفراز پر کہ پہلے تو اس نے انکے گھر آنا جانا بحال کيا حالانکہ سرفراز اتنے اچھے طريقے سے اس سے ملتا نہيں تھا۔ہالہ تب بہت چھوٹی تھی شايد چار سال کی۔ ايک دن بھابھی اور سرفراز کسی شادی سے آرہے تھے کہ اس نے راستے ميں آئل ٹينکر کو اس طريقے سے کھڑا کروايا کہ دونوں کا تصادم ہوا اور وہ دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہو گۓ۔ ہم يہی سمجھتے رہے کہ ہالہ بھی انکے ساتھ تھی مگر اللہ نے اسکی جان بچانی تھی سو سرفراز کا ايک خاص آدمی تھا تنوير جس کو ہمارے علاوہ کوئ نہيں جانتا تھا۔ہالہ اس رات اسی کے پاس تھی۔رحمان بھی يہی سمجھتا تھا کہ ہالہ بھی انہی کے ساتھ زندہ نہيں۔مگر وہی بندہ ہالہ کو ايس او ايس چھوڑ کر گيا اور اب وہ رحمان کے خاص بندوں ميں سے ہے۔ کيونکہ وہ سرفراز کا بدلہ لينا چاہتا ہے۔ گندگی کو ختم کرنے کے لئيے اس ميں اترنا پڑتا ہے۔تنوير نے بھی بہت سال لگا کر اب رحمان کا اعتماد اس حد تک جيت ليا ہے کہ وہ بغير کچھ سوچے اور ديکھے اسکی ہر بات مانتا ہے۔جب تم نے مجھے ہالہ کا بتايا اور ميں نے اور عاصم نے اسکی انفارميشن پڑھی تو ہم تبھی جان گۓ تھے کہ يہ ہمارے ديرينہ دوست کی بيٹی ہے۔ اسکے پھول کو اب ہم کسی صورت آندھيوں کے حوالے نہيں کر سکتے تھے لہذا مجھے اسکے لئيے تم لوگوں کے فليٹ سے سيف جگہ کوئ نہيں لگی۔” اويس عالم نے يہ سب بتاتے روتی ہوئ ہالہ کو ديکھا جس کو اب عاصم ملک اپنے ساتھ لگاۓ بيٹھے تھے۔
“ہالہ کے بارے ميں انفارميشن ليتے ہو ۓ ‎ مجھے تنوير کا پتہ چلا ميں نے بہت خفيہ طريقے سے اسے کانٹيکٹ کيا تھا۔ اس نے ساری بات ہميں بتائ اور يہ بھی کہ رحمان نے ہالہ کو اٹھوا ليا تھا۔ اسی لئيے کہ ہالہ نے اسکے خلاف جو رپورٹنگ کی تھی۔ وہاں بھی تنوير نے اسے نکلنے ميں مدد دی۔ جس رات کو اشتہار بنا کر اسکے ايس ايچ او بيٹے نے ہالہ کے خلاف اخبار ميں آج قتل کا کيس چھپوايا ہے۔ انفيکٹ اسنے اپنے ايک کارندے کو غلط نيت سے ہالہ کے کمرے ميں بھيجا تھا۔ جس جگہ ہالہ کو اسنے کڈنيپ کروا کر رکھا تھا وہاں کا ہولڈ تنوير کے پاس تھا اسنے ہالہ کو اپنی حفاظت کے لئيے ايک خنجر ديا تھا۔ سو ہالہ نے اسی کے ذريعے اپنی طرف سے اسے زخمی کيا مگر قسمت سے وہ اسکی ايسی وين پہ لگا جسکے ڈيمج ہوتے ہی وہ موقع پر مرگيا اور ہالہ وہاں کی کھڑکی توڑ کر بھاگ کھڑی ہو ئ اور صبح تک تم لوگوں کی گاڑی ميں اسنے پناہ لی ‎
ميں چونکہ ايک کيس کے سلسلے ميں وزيرستان جارہا ہوں اور کچھ پتہ نہيں کہ کب تک آتا ہوں لہذا ميں نے اور عاصم نے تہ کيا کہ جانے سے پہلے ہالہ کا کوئ بہتر انتظام کر جاؤں۔ کوئ پتہ نہيں جو لوگ اس حد تک آگے جا سکتے ہيں وہ کل کو تمہارے فليٹ پر بھی پہنچ سکتے ہيں سو ہمارے پاس کوئ ايسا ويلڈ ثبوت ہو ہالہ کو ان سے بچانے کا کہ دنيا کی کوئ عدالت ہميں جھٹلا نہ سکے۔بس يہی وجہ تھی اس جلدی کی”
انہوں نے بتاتے ہوۓ ہر وہ گرہ کھولی جو ضامن کو الجھاۓ ہوۓ تھی۔ ضامن کو اگر اب يہ سب جاننے کے بعد ہالہ سے محبت نہيں ہوئ تھی تو ناپسنديدگی بھی نہيں رہی تھی۔
__________________________
انکے نکاح سے اگلے دن ہی کال آگئ ايک ضروی آپريشن کی جس کس لئيے انہيں کوئٹہ جانا تھا۔ اسفند تو اسی دن چلا گيا جبکہ ضامن نے اگلے دن جوائن کرنا تھا اور واپسی جب تھی کسی کو کچھ تبہ نہيں تھا۔ ضامن نے اسی دن ہالہ کے لئيے موبائل خريدا کہ بہر حال اسکے ساتھ کانٹيکٹ کا کوئ سورس ہونا چاہئيے۔ سميعہ کو اسنے اتنے دن ہالہ کے پاس رہنے کا کہا اسکے علاوہ دو بندوں کو اپنے فليٹ کی نگرانی پر لگا ديا۔
“يہ ميں آپکے لئيے لايا ہوں سم اس ميں ميں نے ڈال دی ہے اور اپنا اور اسفند کا نمبر بھی فيڈ کر ديا ہے۔” شام ميں جب وہ فليٹ پر آيا تو ہالہ کو لاؤنج ميں آنے کا کہا جو اپنے کمرے ميں بيٹھی کوئ کتاب پڑھنے ميں مصروف تھی۔
“بيٹھ جائيں آپکو سسٹم سمجھا ديتا ہوں” اسے بدستور کھڑے ديکھ کر اس نے ٹوکا اور اپنے ساتھ صوفے پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
“ميں نے نہ تو پہلی مرتبہ موبائل ديکھا ہے اور نہ ہی ميں اتنی پينڈو ہوں کہ مجھے آئ فون يوز کرنا نا آتا ہو۔”اس نے ضامن کی آفر کو خاطر ميں لاۓ بغير فون پکڑا اور اسے لاجواب کرتی جانے لگی۔
“اسفند نہيں ہے تو کيا ميں بھوک ہڑتال کروں۔” اسنے ہالہ کو جتايا کہ اسنے اسے کچھ نہيں پوچھا تھا۔
“يہ فليٹ کس نے رينٹ پر ليا ہے” “ميں نے” اس نے حيران ہوتے اسکی بات کا جواب ديا “تو جب فليٹ آپکا، کچن آپکا اور فريج بھی آپکا تو جو مرضی بنائيں اور کھائيں، کوئ آپکو يہاں ٹرے ميں سجا کر پيش نہيں کرے گا۔” طنزيہ انداز ميں اسی کا طعنہ اسے مارتے ہو ۓ وہ بولی۔ ‎‎
ہاہاہا! گڈ شوٹ۔۔۔آپکے منہ سے جھڑنے والے ان پھولوں کی وڈيو بنا کر، وہ بھی اپنے شوہر کے لئيے ڈيڈی اور سر کو سينڈ کرنی چاہئيے جو آپکو بڑی بی بی بچی سمجھتے ہيں۔”
‎ قہقہہ لگاتے ہو ۓ وہ اسکے مقابل سينے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا۔ جان ليوا مسکراہٹ بدستور ہونٹوں پر تھی۔ اس سے پہلے کہ ہالہ کو يہ مسکراہٹ جکڑتی اس نے فوراّ نظريں اس پر سے ہٹا‏ئيں۔
مائنڈ اٹ ابھی صرف نکاح ہوا ہے، آپ شوہر نہيں بن گۓ” اس نے اويس عالم کی بات دھراتے کہا۔ اسے جتا کر وہ کمرے ميں چلی گئ۔
سر آپ نے صرف نکاح کرکے اچھا نہيں کيا۔ ميری بيوی تو ميرے قابو ميں ہی نہيں” اسنے بالوں پر ہاتھ پھيرتے ہوۓ سوچا اور کچن ميں جا کر اپنے لئيے خود کافی بنانے لگا۔
رات ميں دونوں نے اپنے اپنے کمرے ميں کھانا کھايا۔
آدھی رات گزر چکی تھی اور ہالہ کو ابھی تک نيند نہيں آ رہی تھی۔ موبائل پر اس نے ضامن کا نمبر ضامن کو ايڈيٹ کرکے کھڑوس ايجنٹ کے نام سے سيو کر ليا پھر نجانے کيا دماغ ميں آئ۔
آخر تھی تو مسٹز ايجنٹ کی منکوحہ تو پھر رسکی کيوں نہ ہوتی۔ دبے قدموں ضامن کے روم ميں گئ۔ آہستہ سے دروازہ کھولا۔
نائٹ بلب کی روشنی ميں اسے سامنے بيڈ پر ضامن ليٹانظر آيا جودوسری جانب کروٹ ليئے سو رہا تھا۔ دبے قدموں اس طرف گ‏ئ۔
نجانے کتنے دنوں بعد يہ چہرہ ديکھنا پڑے بس دل کے مجبور کرنے پر اس نے سوتے ميں ضامن کی پکچرز لينے کا سوچا۔ وہ تو نجانے کب سے اس کھڑوس ايجنٹ سے خاموش محبت کر بيٹھی تھی۔
دو تين مختلف اينگز سے اسکی پکچرز لے کر وہ اسی طرح دبے قدموں واپس جا رہی تھی کہ اپنے پيچھے ابھرنے والی آواز نے اسے فريز کر ديا۔
“کسی کی يوں رات کے وقت بغير پوچھے پکچرز لينا بہت ہی غير اخلاقی حرکت ہو چاہے اس بندے سے آپکا نکاح ہی ہوا ہو۔” ہالہ يہ بھول گئ تھی کہ سيکرٹ سروسز والے سوتے ميں بھی جاگ رہے ہوتے ہيں۔
وہ شرمندگی کے مارے جيسے ہی آگے بڑھی تو يکدم گھبراہٹ ميں اسکا پاؤں مڑااور دھڑام سے نيچے گری۔
ضامن ايک جست ميں اٹھ کر اسکے پاس آيا۔ اسے بازو سے پکڑکر اٹھنے ميں مدد دی اور بيڈ پر بٹھايا۔
“آر يو آل رائٹ” اس نے پريشانی سے اسکے آنسوؤں کو ديکھا۔
بال پيچھے ہٹاتے اس نے نفی ميں جواب ديا جو گرنے کے باعث کيچر ميں سے نکل آۓ تھے۔
ضامن نے جلدی سے لائٹ آن کی۔
“کہاں چوٹ لگی ہے” اس نے تشويش سے اس سے پوچھا۔ ضامن اسکے قريب بيڈ پر بيٹھ گيا۔
“پاؤں ميں بہت درد ہو رہا ہے۔ مڑ گيا تھا۔آپکو کيا ضرورت تھی مجھے اسطرح ڈرانے کی” اس نے اپنی چوٹ کا بتاتے ہوۓ شرمندگی مٹانے کو سارا الزام اسکے سر ڈالا۔
ضامن تو ششدر اسکے الزام کو سن رہاتھا۔ پھر يکدم ہنستے ہوۓ سر کو نفی ميں ہلايا اور اسکے قريب نيچے بيٹھتے اسکے ٹراؤذر کا پائينچہ اوپر کيا۔
اور اسکے پاؤں کا جائزہ ليا۔ موچ آگئ تھی۔
“ميں نے نہيں ڈرايا چوری کی سزا ملی ہے۔” اس نے مسکراہٹ دباتے ہالہ کو ديکھتے ہوۓ کہا۔
“جی نہيں ايسے کوئ شہزادہ گلفام نہيں آپ وہ تو ميں اسکے کيمرے کا رزلٹ چيک کر رہی تھی” جتنا وہ خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی اتنا ہی عياں ہو رہی تھی۔
“يعنی مجھ سے زيادہ حسين منظر آپکو نظر نہيں آيا جس کو آپ کيپچر کرتيں” ضامن کی بات نے اسکی بولتی بند کی۔
“آ آ۔۔۔کيا آپ باتيں لے کر بيٹھ گۓ ہيں مجھے بہت درد ہو رہا ہے” ضامن کو جھڑکياں دينے کی ہمت اسکی جی دار منکوحہ ہی کر سکتی تھی۔
اس نے يکدم اسکے پاؤں کو ايک جھٹکا ديا۔ اس سے پہلے کے ہالہ کی چيخ بلند ہوتی ضامن نے ايک ہاتھ پھرتی سے اسکے منہ پرجمايا۔ہالہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے ديکھا نجانے کيا تھا اسکی آنکھوں ميں کے ہالہ کی پلکيں لرزيں اور اس نے نظريں جھکا ليں۔
“آئ ايم سوری” ضامن کی سرگوشی نماں آواز نے اسکا دل دھڑکا ديا۔
ضامن نے اسکے منہ سے ہاتھ پٹايا۔ اور نجانے کيا ہوا کہ اسکے ہاتھ سے موبائل لے کر کيمرہ نکالا ايک بازو ہالہ کے گرد پھيلايا۔ہالہ نے حيرت سے چہرہ اٹھا کر اسے ديکھا۔ ضامن نے دوسرے ہاتھ ميں موبائل لے کر اسکا فرنٹ کيمرہ آن کيا اور بولا” ايسے ليتے ہيں پکيچر” اس نے ہالہ کی حيرت زدہ نظروں ميں ديکھا مسکرايا اور اسکے ماتھے پر بوسہ ليا اور ساتھ ہی کلک کا بٹن دبايا۔
اس سے پہلے کے رات کا سحر اسے اپنی لپيٹ ميں ليتا پيچھے ہوتے ضامن نے خود کو سنبھالا۔
“ميں آپکے لئيے پين کلر اور دودھ لاتا ہوں” کہتے ساتھ ہی موبائل اسکے پاس رکھا اور باہر نکل گيا۔
ہالہ سے دھڑکنيں قابو کرنا مشکل ہو گيا۔
کچھ دير بعد اسے پين کلر اور دودھ دے کر اپنے ہی کمرے میں سونے کی تاکيد کرکے دوسرے کمرے ميں سونے چلا گيا۔
اسکے پلو پر ليٹتے اور اسکے کمفرٹر کو خود پر لے کر اسکی خوشبو محسوس کرنا يہ سب اتنے خوش کن احساس تھے کہ اسے کس وقت نيند نے اپنی آغوش ميں ليا وہ نہيں جانتی تھی۔ جبکہ دوسری جانب ضامن کو تو لگ رہا تھا کہ آج کی رات نيند ہی نہيں آنی۔
بہت مشکل سے اس نے کچھ دير کے ل‏ئيے سونے کی کوشش کی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: