Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 5

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 5

–**–**–

صبح آٹھ بجے ضامن کی آنکھ کھلی۔ دس بجے کی اسکی فلائٹ تھی۔ وہ جلدی سے اٹھا۔ فريش ہو کر کچن ميں آيا۔
يہ ہالہ کے انکے فليٹ ميں آنے کا بعد پہلی صبح تھی کہ وہ خود ناشتہ بنا رہا تھا۔
جلدی جلدی اس نے اپنے اور ہالہ کے لئيے ناشتہ بنايا۔ اپنی رات والی بے اختياری پر وہ خود بھی حيران تھا۔ يہ کيسا رشتہ تھا کہ وہ جو لڑکيوں سے الرجک تھا اب ايک لڑکی کے آگے اپنے دل کو جھکنے سے روک نہيں پا رہا تھا۔
ناشتہ بنا کر وہ اپنے روم ميں گيا۔ ہالہ مزے سے سو رہی تھی۔اسے سوتے ديکھ کر بے اختيار ايک مسکراتٹ اسکے چہرے پر آئ۔
بہت آہستہ سے وہ اسکے قريب گيا۔
“اٹس رئيلی ڈيفيکلٹ ٹو ليو يو ناؤ۔” وہی احساس اور بے اختياری جو رات سے اسے اپنی لپيٹ ميں ل‏ئيے ہوئ تھی وہ اسے اس سوۓ ہوۓ وجود کی طرف کھينچ کر کچھ گستاخياں کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
اس نے خود پر کنٹرول کرتے، اپنا موبائل نکالا اور اس خوابيدہ وجود کی کچھ ياديں اپنے موجائل ميں محفوظ کيں۔ اور پھر جھک کر اسکے سر پر بوسہ ديا۔
“گيٹ اپ مائ ليڈی” بہت آہستہ سے کہہ کر اسکو کندھے سے ہلايا جيسے ہی وہ اس نے آنکھيں کھوليں وہ پيچھے ہوا۔
‎اٹھ جاؤ يار، ميری دس بجے فلائٹ ہے۔”
ہالہ جھجھکتے ہوۓ اٹھ کر بيٹھی۔
“کين آئ سی يور فٹ؟” ضامن نے کمفرٹر ہٹانے سے پہلے اس سے اجازت لی۔
ہالہ نے خود ہی پاؤں باہر نکالا۔
ضامن نے اچھے سے چيک کيا بس سويلنگ رہ گئ تھی۔
“آپ پہلے فريش ہو کر بريک فاسٹ کرو پھر جانے سے پہلے ميں مساج کردوں گا۔” يہ کہتے ساتھ ہی اسے ايک لمحے کا بھی کچھ سوچنے کا موقع دئيے بغير ضامن نے جھک کر اسے بازوؤں ميں اٹھايا اور واش روم کی جانب بڑھا۔
ہالہ تو نہ صرف ششدر رہ گئ بلکہ اسکی قربت سے اسکی کيا حالت تھی يہ صرف وہی جانتی تھی۔
“ميں چل ليتی” اسکی گردن کے گرد بازو باندھے اسکی شرٹ کے بٹنز کو ديکھتے وہ جس گھبراہٹ اور خفت سے بولی يہ وہی جانتی تھی۔ضامن کے ہونٹوں پر اسکی يہ حرکت مسکراہٹ لے آئ۔
“ميرے پاس يہ چند منٹس ہی ہيں آپکی تيمارداری کے لئيے، پھر پتہ نہيں ہم کب ملتے ہيں، ملتے بھی ہيں يا نہيں۔۔” اسے واش روم کے دروازے پر اتارتے اس نے اپنی جان ليوا مسکراہٹ ميں اسے جکڑا۔ دروازے کی چوکھٹ پر رکھا ہالہ کا ہاتھ لرزا۔ ابھی ابھی تو انہوں نے محبت کرنا سيکھا تھا ابھی تو اس رشتے کی ڈور کے کناروں پر وہ کھڑے تھے۔ ابھی سے جدائ کا خوف۔ ہالہ خاموشی سے لنگڑاتی ہوئ اندر بڑھی۔
منہ ہاتھ دھو کر جيسے ہی وہ باہر آئ ضامن نے دوبارہ اسے اٹھايا اور بيڈ پر بٹھا کر ناشتہ رکھا ساتھ خود بھی تيار ہونے لگا۔
ہالہ اداسی سے اس مکمل ماحول کو ديکھ رہی تھی۔ کتنا خوبصورت احساس تھا کہ وہ ضامن کے روم ميں ہے پورے استحقاق کے ساتھ اسے اپنے آس پاس چلتا ديکھ رہی ہے۔ شيشے کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں ميں برش کرتے ضامن نے شرارتی مسکراہٹ سے اسے ايک ٹک خود کو تکتے ديکھا۔
“مسز ناشتہ بھی کيا ميرے ہاتھوں سے کرنا ہے۔۔آئ کين سی يو ان دا مرر۔۔مجھے آج مسٹ اپنے مشن کے لئيے نکلنا ہے۔ سو ميں ابھی جب تک يہاں ہوں مجھے ايسے ديکھنے سے پرہيز کريں يہ نہ ہو کہ اپنے مشن پر جانے کا ارادہ کينسل کرنے کے ساتھ ساتھ مجھے ڈيڈی اور سر کو کال کرکے يہ کہنا پڑے کے آپکی چہيتی کی رخصتی آج ہی اس روم سے اس روم ميں ہو گئ ہے۔” ضامن کے اتنے بولڈ انداز نے اسکے ہاتھوں کے طوطے اڑا دئيے تھے۔
ضامن مسلسل اپنی نظروں کا فوکس اس پر رکھے ہوۓ ريڈی ہو کر اسکے سامنے بيڈ پر بيٹھ گيا۔
“اب آپ بھی مجھے ديکھنا بند کريں نہيں تو يہ نہ ہو کہ اويس انکل کو ميں کال کرکے کہوں کے آپکا معصوم سيکرٹ ايجنٹ آپکی شريف سی بيٹی کو تنہا سمجھ کر لائن مار رہا ہے۔”
کمر ضامن کے بيڈ سے ٹکاۓ نيچے ديکھتے ہوۓ وہ بڑی ادا سے بولی۔
“ہا ہا ہا! اسی لئ‏‏يے ميں نے ان دونوں ميں سے کسی کا نمبر اس ميں سيو نہيں کيا ہوا۔” اس نے ہالہ کے چڑاتے ہوۓ قہقہہ لگايا۔
“يہ فاؤل ہے انکا بھی نمبر ايڈ کريں”
“سوری ڈئير” اس نے اسے مزيد چڑاتے گھڑی ديکھی اسی لمحے فليٹ کا مين ڈور کھلنے کی آواز آئ اور کچھ دير بعد سميعہ اندر آئ مگر ہالہ اور ضامن کو ضامن ہی کے بيڈ روم ميں ديکھ کر حيرت سے اسکا منہ کھل گيا۔
“منہ بند کر لو اب، ہالہ کے پاؤں ميں موچ آگئ ہے دھيان رکھنا۔ اس ٹيوب کا مساج کر دينا۔ کو‏ئ گڑ بڑ لگے تو مجھے فوراّّ انفارم کرنا۔ ميں اب نکلوں” سميعہ کو ہدايت ديتا وہ اپنا بيگ اٹھا کر ہالہ کی جانب مڑا اور اسکی جانب ہاتھ بڑھايا۔
ہالہ نے آہستگی سے تھاما ضامن نے ہلکا سا دباتے چھوڑا خداحافظ کہا اور نکل گيا۔ جبکہ سميعہ پريشانی سے اسکے پاؤں کا جائزہ لے رہی تھی۔
__________________________
رات ميں وہ دونوں ضامن اور اسفند کے ہی روم ميں سونے کے لئيے ليٹی تھيں۔ سميعہ کو بہت خوشی ہوئ تھی ان دونوں کے خوشگوار تعلقات کا سن کر۔
سميعہ سو چکی تھی جبکہ ہالہ کو کل رات کا ايک ايک منظر ياد آرہا تھا۔
اس نے موبائل اٹھائ اور وہی پکچر نکالی جس ميں ضامن اسکے ماتھے پر بوسہ دے رہا تھا۔ نجانے صبح سے اب تک وہ کتنی مرتبہ يہ تصوير ديکھ چکی تھی مگر دل ہی نہيں بھر رہا تھا۔
ابھی وہ ضامن کے خيالوں ميں کھوئ تھی کہ واٹس ايپ پہ کھڑوس ايجنٹ کا ميسج آيا جس ميں کسی سونگ کی اٹيچمنٹ تھی۔ ہالہ نے سميعہ کی پاس پڑی ہينڈ فری اپنے موبائل ميں لگائ۔
Phillip Laure
کی آواز نے سحر سا کھينچا
Faster than a shooting star
Baby you stole my heart
I never want it back
I never thought it’d be like this
believing in us
can feel so dangerous
when you’re lost lost lost in love
you never wanna find your way out
when you’re lost lost lost in love
you never want to be
you never want to be found
I feel so strange because of you
I have everything to lose
I wouldn’t have it any other way
If this turns out to be a dream
Please don’t wake me
I don’t want to leave this place
what a lovely mystery
all the ways two hearts can meet
we were made to collide
you and i, you and i are lost
baby we’re lost
what a lovely mystery
come on get lost with me
what a lovely mystery
come on get lost with me
get lost with me…
get lost with me…
get lost with me…
گانا سننے کے دوران ہی ايک ايک پکچر ميسج آيا۔
جس ميں ہالہ کی سوتے ہوۓ کی پکچر تھی اور اس پہ ضامن نے کيپشن لکھی تھی “مائ سليپنگ بيوٹی کوئين” اس نے حيرت سے وہ تصوير ديکھتے ضامن کو ميسج کيا۔
“يہ آپ نے کب لی، مجھے چور کہا تھا اب يہ کيا ہے” ساتھ ايک غصے والا اموجی بھی بھيجا۔
ضامن کا لافنگ اموجی آيا۔
“جب ميری منکوحہ ہو کر آپ پہ ميرا رنگ چڑ سکتا ہے اور آپ رات کی تاريکی ميں رسک لے کر ميری تصوير لے سکتی ہيں تو ايک چور کا شوہر ہو کر ميں دن کے اجالے ميں يہ چوری کيوں نہيں کر سکتا
“ميں کہاں سے چور ہوں” اس نے حيرت والا اموجی ميسج کے ساتھ بھيجا۔ “آپ نے نہ صرف ميری تصوير چوری سے Baby you stole my heart لی بلکہ ”
اسکے اس اظہار پر اسے اپنے گال دہکتے ہوۓ محسوس ہو ۓ ‎ ۔
کين آئ کال يو” اسکے يہ جان ليوا انداز ہالہ کو اسکے عشق ميں مبتلا کر رہے تھے۔
“نو يو آر ميکنگ می نروس” ہالہ کے اتنے کيوٹ انداز پہ ضامن بے ساختہ مسکرايا۔
“آر يو بلشنگ۔۔۔وانا سی يو مسز ڈونٹ وانا مس دس چانس” ضامن کے ميسج کے ساتھ ڈھير سارے کسنگ اور ہارٹس والے اموجی آۓ۔
ہالہ نے مسکراتے ہوۓ آنکھيں بند کيں۔ يہ اسکی زندگی ميں پہلا رشتہ تھا جس کی محبت کو وہ پورے مان کے ساتھ محسوس کر رہی تھی۔ اور يہ رشتہ اسکے لئيے بہت قيمتی تھا۔
اچانک آنسو اسکی آنکھوں سے رواں ہوۓ اسکی محروم زندگی ميں اللہ نے اچانک ضامن کی محبت دے کر سب محرومياں جيسے ختم کر ديں تھيں۔
“مسز؟؟؟؟” کچھ دير تک جب ہالہ کا ميسج نہيں آيا تو ضامن نے تشويش سے ميسج کيا۔
ہالہ نے اپنے آنسو صاف کرکے جواب ٹائپ کيا۔
“ميں نے سم‏يعہ سے آپکے باس کا نمبر لے ليا ہے ابھی انکو کال کرکے بتاتی ہوں آپکا سعادت مند آفيسر اپنے مشن کی فکر چھوڑ کر رات کے اس وقت ايک خوبصورت لڑکی کو تنگ کر رہا ہے۔”
اسکے ريپلائ پر وہ بمشکل اپنا قہقہہ روک پايا۔اللہ نے واقعی مياں بيوی کا رشتہ کتنا خوبصورت بنايا ہے کہ سارے دن کی تھکن اور سٹريس لے کر جب آدمی اپنی بيوی کے پاس آتا ہے تو وہ اسکی سب تھکن اپنی محبت ميں سميٹ ليتی ہے۔
آج کا اتنا ٹف دن گزار کر اس وقت دور بيٹھی ہالہ نے جيسے اسکی ساری تھکن اپنی باتوں سے سميٹ لی تھی۔
“وہ خوبصورت لڑکی ميری بيوی ہوتی ہے، سو سر کو ميرے اس وقت آپکو تنگ کرنے پر کوئ اعتراض نہيں ہوگا”
“تصحيح کر ليں، بيوی نہيں منکوحہ” ہالہ نے اسے جتاتے ہوۓ پھر سے چڑايا۔
“ہنی انشااللہ واپس آکر سب سے پہلے آپکی رخصتی ہی کروانی ہے۔تاکہ پھر ہمارے درميان دن اور رات کی کوئ قيد نہ آسکے۔ ناؤ ہيو سويٹ ڈريمز آف يور کھڑوس ايجنٹ”
آخری جملہ پڑھ کر وہ شرم سے پانی پانی ہوگ‏ئ۔ نجانے جانے سے پہلے کب ضامن نے اسکا سيل چيک کر ليا تھا۔اف سيکرٹ ايجنٹ کی بيوی ہونا بھی خطرے سے خالی نہيں کچھ چھپا نہيں رہتا اس نے خفت سے مسکراتے ہوۓ سوچا۔اور ضامن کو گڈ نائٹ کہہ کر سونے کے لئيے ليٹ گئ۔
_______________________
بہت دنوں سے نہ تو ضامن کا کوئ فون آيا تھا اور نہ ہی ميسج۔
صرف اسفند نے ميسج کرکے اتنا بتا ديا تھا کہ کچھ دہشتگردوں کے ايرياز کو ٹريس آئٹ کر ليا ہے سو انہی پر آج کل وہ تيزی سے کام کر رہے ہيں۔
اور ضامن تو اپنے کام کے سلسلے ميں اتنا جنونی ہو جاتا ہے کہ اسے تو اپنی بھی ہوش نہيں ہوتی۔ ضامن کے بارے ميں مختلف باتيں اسے سميعہ سے پتہ چلتی تھيں۔
جيسا کہ اسکی فيملی ميں اسکے ڈيڈی کے علاوہ ممی تھيں، ايک بھائ اور ايک چھوٹی بہن۔ بھائ پڑھائ کے سلسے ميں باہر ہوتا ہے جبکہ بہن ڈاکٹر بن رہی ہے۔
عاصم ملک جو کہ اب اسکے سسر بھی تھے روزانہ اسے کال کرتے، اسکے علاوہ ضامن کی مدر اور بہن سے بھی اسکی اب بات چيت ہوتی رہتی تھی وہ تو اس سے ملنے کو بے چين تھيں۔
“يار اتنے دنوں سے تم يہاں بند ہو، آؤ آج ميں تمہيں باہر لے کر چلتی ہوں۔” سميعہ اور وہ شام ميں چاۓ پی رہيں تھيں۔
نجانے سميعہ کو کيا سوجھی۔کہ اس نے جھٹ پٹ باہر نکلنے کا پلين بنا ليا۔
“نہيں يار ميں کيسے نکل سکتی ہوں”
“ايسے ڈئير کہ ميرے پاس جرباب اور نقاب دونوں ہيں تو تم وہ کيری کرو گی۔ اسکے علاوہ اسفند کے کچھ خاص بندے ہيں انکو ميں کال کرکے کہتی ہوں وہ ہميں فالو کريں گے۔ اور يہ بندی موذر سے لے کر گرنيڈ سب چلا ليتی ہے۔ ميں ويسے آئٹی مميں ہوں مگر ٹريننگ ميں نے سب لی ہوئ ہے۔ اور کچھ مشنز ميں تمہارے مياں کو اسسٹ بھی کر چکی ہوں۔” ہالہ تو حيرت سے منہ کھولے اس دھان پان سی سميعہ کو ديکھ رہی تھی۔
“چلو اب حيران بعد ميں ہونا پہلے تيار ہو جاؤ۔” اس نے ہالہ کو اٹھاتے ہوۓ کہا۔اور خود کسی کو کال کرنے چل پڑی۔
وہ دونوں نقاب اور جرباب پہنے ہو‎ۓ تھيں۔
ہالہ تو اتنے دنوں بعد باہر کی دنيا ديکھ رہی تھی۔حالانکہ وہ نقاب ميں تھی پھر بھی پريشان تھی۔
کسی مشہور بوتيک کے آگے سميعہ نے گاڑی روکی۔ اندر جا کر وہ ہالہ کے لئيے کپڑے سليکٹ کرنے لگی۔
“تم ميرے لئيے کيوں لے رہی ہو، ميرے پاس پيسے نہيں ہيں”
“وہ جو ايک عدد تمہارا شوہر ہوتا ہے نہ اس نے مجھے تمہاری شاپنگ کے لئيے جانے سے پہلے پيسے دئيے تھے۔ تمہارے اتنے امير شوہر کے ہوتے ہوۓ ميرا تم پہ اپنے پيسے ضائع کرنے کا کوئ شوق نہيں ہے۔”
سميعہ کے اس انداز پر ہنسنے کے علاوہ نجانے کہاں سے ڈھيروں آنسو بھی اسکی آنکھوں ميں سمٹ آۓ۔ يہ احساس ہی اسکے لئيے اتنا خوش کن تھا کہ اسکا کوئ رشتہ اب ايسا ہے جو اس کی فکر کرنے والا ہے، اسکی ضرورتوں کو سوچنے والا ہے۔ اب اسے پيسے کمانے کی فکر ميں اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئيۓ در در کی ٹھوکريں رہيں کھانا پڑيں گی۔
جس وقت انکا پروگرام بنا ہالہ اتنی جلدی ميں نکلی کے اسے اپنا موبائل رکھنا ياد نہيں رہا۔
بہت دنوں کے بعد ضامن آج شام تھوڑا فری تھا سب سے پہلا خيال اسے ہالہ کو کال کرنے کا آيا۔ ايک دو مرتبہ جب اس نے کال کی اور ہالہ نے نہيں اٹھائ تو اسکی پريشانی بڑھنا شروع ہوگئ۔ اب تو اس کے ساتھ دل کا رشتہ جڑ چکا تھا تو پريشانی کيوں کر نہ ہوتی۔
اب اس نے سميعہ کو کال کی۔
وہ دونوں شاپنگ کرکے اب واپسی کے راستے پر تھيں۔ اسفند کے دو خاص بندے سول ڈريس ميں سارا ٹا‏ئم انکے ساتھ رہے تھے۔
“لو جی آگيا تمہارے مياں کا فون، اب ميری شامت آجانی ہے، تمہارا موبائل کہاں ہے” سميعہ نے اسے بتاتے موبائل کا پوچھا۔
“وہ تو لاؤنج ميں ہی پڑا رہ گيا۔ مجھے ياد ہی نہيں رہا اٹھانا۔”
“بس ہوگئ اب ہماری آؤٹنگ پوری” ضامن سے ملنی والی متوقع ڈانٹ کا سوچتے اس نے موبائل پہ ضامن کی کال کو يس کيا۔
“کہاں ہو تم اور يہ ہالہ کہاں ہے فون کيوں اٹينڈ نہيں کر رہی۔”
ضامن کی پريشان آواز آئ۔
“وہ ايسا ہے کہ ميں ہالہ کو تھوڑی دير آئٹنگ کے لئ‏يے لائ تھی۔”
سميعہ نے ہمت کرکے سچ بتايا۔
“ہيو يو گون ميڈ” ضامن اسکی بات پہ دھاڑا۔
“يار اسے پوری طرح نقاب ميں لے کر آئ ہوں ڈونٹ يو وری، اسفند کے دو بندے بھی ہميں فالو کر رہے ہيں”
“تو اتنی تمہيں اور ہالہ کو کيا مصيبت تھی اتنے پروٹوکول کے ساتھ باہر نکلنے کا رسک لينے کی، اسی لئيے کيا ميں اسے تمہارے پاس چھوڑ کر گيا تھا”
ضامن نے اچھی طرح اسکی کلاس لی۔
“توبہ ہے ضامن تم تو پکے عاشق بن گۓ ہو۔ وہ بچاری آخر اس چار ديواری ميں رہ کر تنگ پڑھ گئ ہے۔ انسان ہے وہ”
“وہ چار ديواری اسکے لئيے بہت امپورٹنٹ ہے۔ اور خبردار جو دوبارہ يہ بے وقوفی کی۔ گھر پہنچ کر ميری ہالہ سے سکائيپ پر بات کرواؤ”
“يس باس” اس نے شکر کرتے فون بند کيا۔
“لوجی ميں نے تو ڈانٹ سن لی اب تم تيار ہو جاؤ” اس نے ہالہ کو ڈرايا۔
فليٹ پر پہنچتے ساتھ ہی سميعہ نے سکائيپ پر ضامن کو وڈيو کال ملائ۔
وہ دونوں ضامن کے روم ميں ہی بيڈ پر بيٹھی تھيں۔
کال پک ہوتے ہی ضامن کا چہرہ نظر آتے ہی ہالہ کو لگا ہر منظر روشن ہوگيا ہے۔ ہلکی سی شيو ميں بليک ٹی شرٹ اور ٹرائزر ميں اپنے کيزول حليے ميں بھی ہالہ کو بے حد ڈيشنگ لگ رہا تھا۔
“ہالہ کہاں ہے” سميعہ کا چہرہ سکرين پر ابھرتے ہی اس نے پوچھا۔
“اف ضامن کتنے بے مروت ہو بيوی کی پڑی ہے، صحيح کہتے ہيں بھابھياں آتے ہی بھائ بہنوں سے بدل جاتے ہيں” سميعہ کے دہائ دينے پر ہالہ اور ضامن دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ ابھری۔
“بک بک نہيں کرو، ہالہ کو بلاؤ، آئ وانا سی ہر” ضامن نے اپنا لہجہ غصيلا بناتے ہو‌ۓ کہا
“مجھے کيا انعام ملے گا تمہاری بيوی کی منہ دکھائ کا”سميعہ اسے تنگ کرنے پر بضد تھی۔
“اسفند اسے فون کرکے کسی کام پہ لگا۔” اس نے زچ ہو کر ساتھ بيٹھے اسفند کو کہا
“ہا ہا ہا! ضامن تم کتنے کيوٹ لگ رہے ہو اس عاشقوں والے گيٹ اپ ميں” سميعہ کو آج پہلی مرتبہ اسک ريکارڈ لگانے کا موقعہ ملا تھا وہ کيسے مس کرتی۔
ابھی وہ ہنس ہنس کے بے حال ہو رہی تھی کہ اسفند کی موبائل پر کال آگئ۔
“کاش تم اتنی ہی سعادت مندی کا مظاہرہ ميرے لئيے بھی کر ليا کرو۔” اس نے فون کان سے لگاتے ہی اسفند کو لتاڑا۔اور اٹھ کر باہر چلی گئ۔
“ہالہ” وہ جو سميعہ کو جاتا ديکھ رہی تھی۔ ضامن کی آواز پر ليپ ٹاپ کی سکريرن کی جانب ديکھا۔ جہاں ابھی بھی ہالہ منظر سے آؤٹ تھی۔
اس نے ليپ ٹاپ کا رخ اپنی جانب کيا۔
“اسلام عليکم” ہالہ کی تصوير آتے ہی اسفند اسکے چہرے سے نظريں نہيں ہٹا سکا۔ سکائ بليو پرنٹڈ شرٹ اور دوپٹہ کندھوں پر لئيے آدھے کھلے آدھے بند بالوں ميں وہ سيدھا ضامن کے دل ميں اتر رہی تھی۔
“ضامن!” وہ اسکی نطروں سے کنفيوز ہو رہی تھی۔
“آپ ٹھيک ہو نہ” ہالہ اسکی اتنی فکر اور محبت پر يکدم رو پڑی۔
“واٹ ہيپنڈ يار، ٹھيک ہو نہ، ہالہ پليز مجھے پريشان نہيں کرو” وہ اسکے رونے سے تڑپ اٹھا۔
“ميں ٹھيک ہوں، آ۔۔آپ کيسے ہيں” اس نے اپنے آنسو صاف کرکے بدقت نظريں جھکا کر کہا اور ضامن کی نظريں اسکے علاوہ کہيں اور ديکھنے سے انکاری تھيں۔
“ٹھيک ہوں روئيں کيوں” ضامن کی نظريں اب تک اسکی بھيگی پلکوں ميں اٹکی ہوئ تھيں۔
ہالہ نے نفی ميں سر ہلاتے جواب ديا۔ ايک مرتبہ پھر آنسوؤں کا گولہ اسکے حلق ميں اٹکا۔
اسکے اپنی طرف نہ ديکھنے اور سنجيدہ چہرے نے اسکی ؤں ہالہ ايسے پريشان کروگی تو کيا ميں ابھی فلائٹ پکڑ کے آ ؤں‎ ا ‎ ۔” پريشانی بڑھائ۔
“کچھ نہيں بس ويسے ہی” اس نے بمشکل آنسوؤں کو پيچھے دھکيل کر يہ الفاظ ادا کئ‏يے۔
“آر يو شيور” ضامن نے بے يقينی سے پوچھا۔
اس نے اثبات ميں سر ہلايا۔
“اوکے دين لک ايٹ دا سکرين” ضامن نے اسے اپنی پکچر کی طرف ديکھنے کو کہا۔
ہالہ نے بمشکل اسکرين پر نگاہ ڈالی جہاں اسکی جگر جگر کرتی نظريں اسی کو ديکھ رہيں تھيں۔
ضامن نے کچھ ٹائپ کرکے اسے سکائپ پر ميسج کيا۔
ہالہ نے جيسے ہی ميسج اوپن کيا تو کس والا اموجی ديکھ کر وہ بلش کرگئ۔ ضامن دائيں ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے مسکراتی نظروں سے اسکے ايکسپريشنز ديکھ رہا تھا۔
آئ وش آئ کڈ بی دير” اسے بلش کرتے ديکھ کر ضامن نے جزبوں سے چور آواز ميں کہا۔
“ميں کال کاٹ رہی ہوں آپ مجھے تنگ کر رہے ہيں۔” ہالہ نے خفگی سے اسے ديکھتے ہو‎ۓ کہا۔ضامن نے اسکی بات پر قہقہہ لگايا۔
“يہ تو الزام ہے ميں تو اتنی دور بيٹھا ہوں” ضامن نے شرارتی نظروں سے اسے ديکھا۔ اسکی بات کا مفہوم سحبھتے ہی ہالہ نے اسے غصے سے گھورا۔
اور ساتھ ہی کال کاٹ دی۔
سيکنڈ بعد ہی اسکے موبائل کے بجنے کی آواز لاؤنح سے آئ۔
ہالہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ کال پک کی۔
“ہيلو” اس کی خفگی بھری آواز فون پر ابھری تو ضامن کے چہرے پر مسکراہٹ آئ۔
“کل جب آپکے پاس ہوں گا تو پھر کہاں چھپيں گی۔”
“رئيلی” ضامن کی بات سمجھتے وہ حيرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سميت بولی۔
“جی کل رات ميں اور اسفند واپس آرہے ہيں”
“گريٹ”
“ہالہ” ضامن کی پکار نے اسکا دل دھڑکايا۔
“آپ روئ کيوں تھيں” اسکے آنسوؤں نے ابھی تک اسے پريشان کيا ہوا تھا۔ وہ کيسے بتاتی کے اپنی محروم زندگی ميں ضامن کی محبت اس کے لئيے بہت قيمتی ہے۔
پھر سے آنسو اسکی آنکھوں ميں سمٹے۔
“آئم ميسنگ يو” اس کی بھيگی آواز کے اس مختصر سے اظہار کو ضامن نے پوری شدت سے محسوس کيا۔
“ميسنگ يو ٹو سوئيٹ ہارٹ، ڈونٹ وری آئل بی دير ٹومورو، جسٹ ون نائٹ ہيز ليفٹ” ضامن کی محبت کو اسکے لئيے سنبھالنا مشکل ہو گيا۔
خداحافظ کہہ کر اس نے فون بند کيا۔ مگر کبھی کبھی قسمت ويسا نہيں کرتی جيسا ہم سوچتے ہيں۔
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: