Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 6

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 6

–**–**–

اگلے دن وہ درنوں کچن ميں مختلف ڈشز بنا رہيں تھيں ضامن اور اسفند کے لئيے جنہوں نے رات ميں آنا تھا۔
“سميعہ اگزيٹ ٹائم کيا بتايا تھا اسفند بھائ نے پہنچنے کا۔”
“يار دس بجے کہ کہا تھا۔”
سميعہ نے مصروف سے انداز ميں چکن کڑاہی بناتے ہوۓ کہا۔
ہالہ نے لاؤنج ميں لگی گھڑی ديکھی جس پر ابھی فقط پانچ بجے ہوۓ تھے۔
“اف ابھی پانچ گھنٹے بعد ميں آپکو ديکھ پاؤں گی”۔يہ سوچتے ہوۓ وہ يہ نہيں جانتی تھی کہ پانچ سيکنڈ بعد ہی وہ اتنی تکليف دہ خبر سنے گی۔
سميعہ کے موبائل پر کال آئ۔ اس نے ايک ہاتھ سے ہنڈيا ميں چمچ چلاتے دوسرے ہاتھ سے کال پک کی۔
“ہيلو” اسکے ہيلو کہتے ہی جو خبر س نائ دی اس نے اسکے پاؤں کے نيچے سے زميں کھينچ لی۔
“کيا بکواس کر رہے ہو تم، منہ توڑ دوں گی ميں تمہارا” غصے اور تکليف کے ملے جلے احساسات سميت وہ چلا اٹھی۔
ہالہ جو کہ فريج ميں دودھ رکھ رہی تھی۔ سميعہ کی غصيلی آواز سن کر وہيں سن ہو گئ۔
“کب ہوا يہ، کہاں ہيں وہ دونوں اوکے ميں آرہی ہوں”
سميعہ کی بھيگی آواز نے اسے جو کچھ باور کروايا تھا وہ سننا نہيں چاہتی تھی۔
سميعہ فون بند کرکے اسکی طرف پلٹی جو فريج کے ساتھ شاکڈ کھڑی اسی کی جانب ديکھ رہی تھی۔
سميعہ اسی کی جانب بڑھی۔
“پليز سم‏يعہ، ضامن کے بارے ميں کوئ۔۔۔۔۔” نفی ميں سر ہلاتے اس نے سميعہ کے آنسوؤں سے تر چہرے کو خوف سے ديکھتے ہوۓ کہا اور دونوں ہاتھوں ميں چہرہ لئيے وہيں بيٹھتی چلی گئ۔ وہ وہ سوچنا بھی نہيں چاہتی تھی جو ہوگيا تھا۔
“ہالہ وہ دونوں آئ سی يو ميں ہيں، ان کی گاڑی پر آج کسی نے فائرنگ کی تھی۔اسلام آباد شفٹ کيا ہے انہيں۔ ميں ارجنٹ ٹکٹس کروا رہی ہوں ہم ابھی نکل رہے ہيں۔ اس وقت انہيں ہماری دعا کی ضرورت ہے آنسوؤں کی نہيں۔ اٹھو اور اپنی چيزيں پيک کرو۔”
سميعہ نے خود کو کمپوز کرکے اسے تسلی دی ساتھ ہی کسی کو دو پلين کی ٹکٹس کا کہا۔
اگلے ڈھاؤ گھنٹے بعد وہ پنڈی سم ايم ايچ ميں تھيں۔ جہاں ان دونوں کی فيمليز موجود تھيں۔
ہالہ نقاب ميں ہی تھی۔ سم‏يعہ اسکا ہاتھ تھامے ہوۓ تھی۔
ہالہ سواۓ عاصم ملک کے اور کسی کو باۓ فيس نہيں جانتی تھی۔
وہ سيدھا انکے پاس گئ انہوں نے بڑھ کر اسکو اپنے ساتھ لگايا۔ کتنی محبت سے انہوں نے اسے ضامن کے نکاح ميں ديا تھا۔ کل ہی ابھی ضامن نے ان سے ريکوئيسٹ کی تھی کہ لاہور جاتے ہی وہ جلد ہالہ کی رخصتی کروائيں۔
ہالہ کے لئيے اسکے لہجے ميں چھپی محبت کا سن کر وہ کتنے خوش ہوۓ تھے اور آج۔
“کتنی خواہش تھی ميری کے ميں جلد از جلد تم سے ملوں مگر کيا پتہ تھا کہ ايسے حالات ميں ملنا پڑھے گا۔”
ہالہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ضامن کی ممی نے اسکا رخ اپنی طرف کرکے اسے اپنے ساتھ لگايا۔
ضامن کی بہن بھی اسکے گلے لگ کر بے اختيار رو پڑی۔
اور ہالہ وہ تو اب تک بے يقينی کی کيفيت ميں تھی۔ پھر وہ اسفند کے گھر والوں سے ملی۔
“ضامن کے سر پر چوٹيں آئ ہيں جس کی وجہ سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہيں۔ دونوں کو بچانے کی ليکن بہرحال اصل بچانے والی ذات وہی ہے آپ لوگ بس دعا کريں۔ اللہ کرم کرے گا۔”
ڈاکٹرز آکر اپنے پروفيشنل انداز ميں تسلی دے گۓ۔ مگر يہ وہ دو فيمليز جانتی تھيں کہ ان پر کيا گزر رہی ہے۔
ہالہ کے تو آنسو نہيں رک رہے تھے۔
اس کو اللہ نے اتنا قيمتی رشتہ دے کر آج سولی پر چڑھا ديا تھا۔
“اے اللہ آپ تو جانتے ہيں نہ ميرے پاس اس ايک رشتے کے علاوہ اور کوئ رشتہ نہيں۔ اپنے حبيب کے صدقے ميرے لئيے اسے نئ زندگی دے ديں۔ مجھے تو محبت کے معنی اب پتہ چلے تھے۔ ميں نے تو ابھی اسے محسوس بھی نہيں کيا۔ آپ نے زندگی کے ہر قدم پر مجھے تکليف دہ حالات سے بچايا۔ اللہ آج بھی مجھے ميرے اس بہت اپنے کے بچھڑنے کے دکھ سے بچا ليں۔ يہ تکليف ميرے بس سے باہر ہو رہی ہے۔پليز اللہ جی
ساری رات سب کی آنکھوں ميں کٹی اور صبح کی روشنی انکے لئيے ايک نئ زندگی لے کر آئ تھی۔جب ڈاکٹرز نے بتايا کہ دونوں خطرے سے باہر ہيں۔
کچھ گھنٹوں بعد انہيں رومز ميں شفٹ کر ديا گيا۔ ہالہ پہلے اسفند کو ديکھنے گئ۔ بالکل بھائيوں کی طرح ہر لمحہ اس نے ہالہ کا خيال رکھا تھا۔
اسفند اسے ديکھ کر بہت خوش ہوا۔ اب وہ ہوش ميں تھے۔ ليکن ڈاکٹرز نے زيادہ بات چيت سے منع کيا تھا۔
اسفند سے مل کر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ ضامن کے روم کی طرف بڑھی۔
دروازہ کھول کر جيسے ہی وہ اندر داخل ہوئ سيدھی نظر آنکھيں بند کئيے ضامن پر پڑھی جس کے سر پر پٹياں لپٹی تھيں۔
وہاں پہلے سے ہی ضامن کی ممی اور بہن تھيں۔
“آؤ نہ ہالہ” اسے دروازے پر ہی کھڑا ديکھ کر ضامن کی ممی نے کہا۔
ہالہ کا نام سنتے ہی ضامن نے آنکھيں کھول کر گردن گھما کر اسے ديکھا۔
حيرت، خوشی محجبت نہ جانے کون کون سے جذبے ہالہ کو اسکی آنکھوں ميں نظر آ‎ۓ۔ وہ آہستہ سے چلتی اسکی ممی کی چئير کے پاس کھڑی ہوئ جو ضامن کے بيڈ کے قريب رکھی ہوئ تھی۔
“رمشا آؤ ذرا اسفند کو ديکھ آئيں۔” اسکی ممی نے ان دونوں کو اکيلے ميں ملنے کا موقع ديا اور روم سے باہر چلی گئيں۔ ہالہ نظريں جھکاۓ ہوۓ تھی۔ جبکہ ضامن کی نظريں اس پر تھيں جو ابھی بھی نقاب ميں تھی۔
“ہالہ” ضامن نے اسے پکارا اس نے چونک کے ضامن کو ايسے ديکھا جيسے ابھی تک اسکے زندہ سلامت ہونے کا يقين ہی نہ ہو رہا ہو۔
ضامن نے اسے اپنے پاس بيڈ پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔ وہ آہستہ سے چلتی اسکے بيڈ پر ٹک گئ۔
“آئ وانا سی يو” ضامن کی بات سمجھتے اس نے آہستہ سے نقاب گرايا۔ نظريں اسکی چھکی ہوئيں تھيں جن ميں آہستہ آہستہ آنسو اکٹھے ہو رہے تھے۔ اور بے اختيار پلکوں کی باڑھ توڑ کر باہر آگۓ۔
“ہنی ايسے نہيں کريں۔” ضامن نے اسکے گود ميں دھرے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بمشکل کہا۔
ہالہ تو اس تسلی پر اور بھی بکھر گئ۔
اور بے اختيار اسکے سينے پر سر رکھ کر روتی چلی گئ۔
ضامن نے آنکھيں بند کرکے اسکے گرد اپنا داياں بازو پھيلايا۔
” ہنی پليز سٹاپ کرائينگ يور ٹيرز آر ہرٹنگ می۔ آئم نوٹ ان ديٹ پوزيشن ٹو وائيپ ديم پراپرلی۔”
اسکی کمر سہلاتے وہ آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا۔
ہالہ کو يکدم اپنی بے اختياری کا احساس ہوا تو فوراّّ سيدھی ہوئ اور ذرا سا رخ موڑ کر اپنے آنسو صاف کرنے لگی۔
اچانک ضامن نے اسے ديکھتے اسکا ہاتھ پکڑا ہالہ نے اسکی جانب ديکھا تو وہی دل کھينچ لينے والی مسکراہٹ اسکے چہرے پر تھی جو ہالہ کا دل اتھل پتھل کر ديتی تھی۔
“تھينکس فار دس ان کنڈيشنل لو” ضامن اسکا ہاتھ ہونٹوں تک لے جا کر بولا۔
“کوئ ايسے بھی کسی کی جان نکالتا ہے۔” ہالہ نے خفگی سے کہا۔اور اسکے پاس سے اٹھ کر بيڈ کے پاس رکھی کرسی کو اسکے بيڈ کے اور پاس کرکے بيٹھ گئ۔
“اور کو‏ئ ايسے بھی اپنی جان کو تنگ کرتا ہے” ضامن نے اسی کے انداز ميں کہتے اسکی بھيگی پلکوں پر ہاتھ اپنے دائيں ہاتھ کا انگوٹھا پھيرا۔
“آيم سوری” ہالہ نے آنکھيں نيچے کرتے ہوۓ کہا۔
“آہاں۔۔۔ ان آنسوؤں نے ہی تو مجھے بتايا ہے کہ ميرے لئيے کوئ بہت فکرمند تھا۔”
اچھا اب آپ زيادہ باتيں نہيں کريں۔” ہالہ نے اسے ٹوکتے ہوۓ کہا۔
____________________________
اگلا پورا ہفتہ ضامن اور اسفند نے ہاسپٹل ميں گزارا پھر انہيں ڈسچارج کر ديا گيا اور دونوں کچھ عرصہ ريسٹ کے لئيے اپنے اپنے گھر چلے گۓ۔ ہالہ بھی ضامن کے گھر آچکی تھی اور ضامن کی بہن کے گھر اسکا قيام تھا۔ ايک کنال پر بنا ہوا يہ خوبصورت سا گھر مارگلہ ہلز کے سامنے تھا جہاں سے پہاڑوں کا خوبصورت منظر اس گھر کی خوبصورتی ميں اضافہ کرتا تھا۔
خاص طور پر ضامن کا روم اوپر کی سٹوری پر تھا اور اسکے ٹيرس کے بالکل سامنے ہلز نظر آتی تھيں۔
گھر آکر ضامن کے بہت سے کام ضامن کی ممی نے ہالہ کو سونپ دئيے انہيں اپنی يہ کيوٹ سی بہو بہت پسند تھی اور اسکے پيرنٹس کے ساتھ بھی جو لگاؤ تھا اس سے ہالہ انکو اور بھی عزيز تھی۔
ضامن تيزی سے ری کور کر رہا تھا اور اب تو چلنے بھی لگ گيا تھا۔
“ميں سوچ رہا ہوں کہ پرسوں سے جوائنگ دوں” ناشتے پر سب کے ساتھ بيٹھے ہوۓ ضامن نے کہا۔
“ہاں ٹھيک ہے مگر ميں چا رہا تھا کہ اب رخصتی کرکے تمہارے وليمے کا فنکشن اناؤنس کريں۔” عاصم صاحب کے کہنے پر اسکی نظر سامنے بيٹھی ہالہ کی طرف اٹھی اس نے بھی اسی لمحے ضامن کو ديکھا۔ اسکی لرزتی پلکوں کو ديکھ کر ايک مسکراہٹ ضامن کے ہونٹوں پر آئ جس کو اس نے جوس کا گلاس پيتے ہوۓ چھپايا۔
“ڈيڈی آ‎ئ تھنگ وليمہ ابھی رہنے ديں کيونکہ گيدرنگ ميں کوئ بھی پکچر ہالہ کی ليک ہو سکتی ہے اور ابھی کوئ رسک لينا ٹھيک نہيں۔”
ضامن کی بات انکے دل کو لگی۔
چلو تم لاہور سے چھٹياں لے کر نيکسٹ ويک تک آجاؤ تو گھر ميں ہی چھوٹا سا کوئ گيٹ ٹوگيدر کر ليتے ہيں۔ ہالہ يہيں رہے گی۔”
“ٹھيک ہے، آپ ارلی مورننگ کی ميری فلائٹ بک کروا ديں”
رات ميں ضامن کی ممی نے اسے ضامن کی پيکنگ کرنے کے لئيے کہا۔
ضامن کہيں باہر گيا ہوا تھا ہالہ نے شکر کرتے جلدی سے جا کر اسکی پيکنگ شروع کی۔ ابھی وہ واش روم سے اسکی شيونگ کٹ لينے گئ ہی تھی کہ اسکے روم کا ڈور کھلنے کی آواز آئ۔
اب ہالہ پريشان تھی کہ اندر ہی رہے يا باہر جا‌ۓ۔
ضامن حيسے ہی اندر آيا تو سامنے بيڈ پر اپنا بيگ ديکھ کر يہی سمجھا کہ ممی اسکی چيزيں رکھ رہی ہيں۔
“ممی ميری وہ بليک شرٹ ضرور رکھئيے گا” واش روم کا کھلا دروازہ ديکھ کر وہ يہی سمجھا کہ ممی اندر ہيں بيڈ کے بائيں جانب لگے شيشے ميں اپنے بالوں ميں برش کرکے جيسے ہی وہ پلٹا ہالہ کو اپنی چيزيں رکھتا ديکھ کر خوشگوار حيرت ہوئ۔
“اوہو! شوہر کی خدمتيں ہو رہی ہيں۔ صبح سے کہاں چھپی ہوئيں تھيں آپ۔ رخصتی کی بات اس لئيے نہيں کی تھی کہ آپ پردہ سٹارٹ کر ديں۔” ضامن اسکی جانب آتے ہوۓ بولا۔
“آپ چپ کرکے ابھی باہر چلے جائيں تاکہ ميں سکون سے آپکی پيکنگ کردوں۔ کچھ مس ہوگيا تو بعد ميں مجھے مت ڈانٹئيے گا۔”
“نا تو آج ميں اس روم سے جاؤں گا اور نہ آپکو جانے دوں گا”۔ ضامن کی بات پر اسکا منہ اور آنکھيں دونوں کھل گئيں۔
“لگتا ہے ابھی تک دماغ سے چوٹ کا اثر نہيں گيا” ہالہ نے چڑ کر اس پر طنز کيا جو بيڈ پہ بيگ کے پاس بيٹھا دونوں ہاتھ پيچھے بيڈ پر رکھے اسے شرارتی مسکراہٹ سے ديکھ رہا تھا۔
“ميرا خيال ہے ميں ممی کو ہی باقی کی پيکنگ کے لئيے بھيجتی ہوں” اس نے خفگی سے منہ پھلا کر کمرے سے جانے کے لئيے قدم بڑھاۓ کے ہاتھ ضامن کی گرفت ميں آگيا۔
“اچھا نہ يار اپنی کيوٹو سی بيوی کو تنگ نہ کروں تو کس کو کروں” اس نے کھڑے ہوتے ہالہ کے گال کو پيار سے کھينچتے ہوۓ کہا اور پھر بيڈ کے بالکل سامنے لگے سی ڈی پلئير کے سامنے جا کر سی ڈيز چيک کرنے لگا۔
ہالہ نے سکھ کا سانس ليا۔
کچھ دير بعد ايک سونگ سليکٹ کرکے اس نے ہالہ کو پکارا۔
“ايک وش پوری کر سکتی ہيں ميری” ضامن نے بہت آس سے پوچھا۔
“وہ کيا” ہالہ نے بيگ کی زپ بند کرتے ہوۓ کہا وہ يہی سمجھی کہ کافی يا چاے کی فرمائش ہوگی۔
ضامن نے پلے کا بٹن آن کيا اور ہالہ کے پاس آکر اسکی جانب ہاتھ بڑھايا۔ “مے آئ ہالڈ يور ہينڈ ليڈی” اسکی مسکراہٹ نے ہالہ کو مسمرائز کيا اس نے کچھ کنفيوڑ ہو کر اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
ضامن نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر اسکے بالوں سے کيچر اتارا اور بيڈ پر اچھالا۔
اسکا ايک ہاتھ اپنے ‎شولڈر پر رکھا اور اپنا باياں ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھا۔
ہالہ حيرت سے يہ سب ديکھ رہی تھی۔ اب اسٹيريو پر
Norah Jones
کی آواز ابھری۔
Come away with me in the night
Come away with me
And I will write you a song
Come away with me on a bus
Come away where they can’t tempt us
With their lies
I want to walk with you
On a cloudy day
In fields where the yellow grass grows knee-high
So won’t you try to come
Come away with me and we’ll kiss
On a mountaintop
Come away with me
And I’ll never stop loving you
And I want to wake up with the rain
Falling on a tin roof
While I’m safe there in your arms
So all I ask is for you
To come away with me in the night
Come away with me
“لٹس جوائن مائ اسٹيپس” آگے پيچھے اپنے پاؤں کو لے جاتے وہ اسے لائٹ رومانٹک کپل ڈانس کروا رہا تھا۔
“آئ کانٹ ڈو دس ضامن” ہنستے ہو‎ۓ ہالہ بولی۔
“واۓ آر يو ڈونگ دس” آہستہ آہستہ اسکے ساتھ فدم ملاتے ہالہ نے اسکی مسکراتی نظروں ميں ديکھا۔
کتنا ڈفرنٹ شخص اللہ نے اسے ديا تھا جو اسکے ہر نئے دن ميں اسے سرپرائز کرتا تھا۔
“يہ ميری بچپن کی وش تھی کہ ميں اپنی وائف کے ساتھ کپل ڈانس کروں” ضامن کے غير سنجيدہ جواب نے ہالہ کو قہقہہ لگانے پر مجبور کيا۔
ضامن نے محبت پاش نظروں سے اسکے ہنستے چہرے کو ديکھا۔
پچھلے کچھ دن وہ ہالہ کو اپنے لئيے اتنا روتا ديکھ چکا تھا کہ اب اسکی ہنستی مسکراتی ياد اپنے ساتھ لے کر جانا جاتا تھا۔
بے اختيار ضامن نے اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے ںطر بد سے محفوظ رہنے کی دعا کی۔
“آئ وانٹ ٹو ميک ايوری نا‏ئٹ اينڈ ڈے ممبريبل ديٹ وی سپينڈ ٹوگيدر۔” اسکی گمبھير جذبوں سے چور آواز پر ہالہ نے اسکے سينے پر سر رکھ کر خود کو اسکی جذبے لٹاتی نظروں سے چھپايا۔ ضامن اسکی معصوم سی ادا پر اپنی مسکراہٹ نہيں روک پاي۔
____________
اگلے دن صبح اسکی فلائٹ تھی۔ سب اسے چھوڑنے جا رہے تھے۔ ہالہ بھی ساتھ تھی نقاب ميں۔
ضامن سب سے مل کر جانے لگا تو ہالہ آنسو صاف کرنے لگی کہ نجانے کيسے ہالہ کا نقاب نيچے گر گيا۔ اس نے گھبرا کر جلدی سے نقاب اوپر کرنا چاہا کہ تب تک دير ہو چکی تھی اور اويس شاہ جس کی نظر غير اختياری طور پر ہالہ پر پڑھی تھی اسکے بغير نقاب کے چہرے کو ششدر کھڑا ديکھتا رہا۔وہ بھی اسی فلائٹ سے لاہور جا رہا تھا۔يہ وہی ايس ايچ او تھا جس نے ہالہ کے قاتلہ ہونے کی خبر اخبار ميں چھپوائ تھی اور يہ رحمان شاہ کا بيٹا بھی تھا
“ڈيڈی آئ ہيو فاؤنڈ ديٹ بچ” زمان شاہ نے اپنے باپ کو ميسج ٹائپ کيا۔
ساتھ ہی باپ کی کال آگئ۔ اس نے ساری تفصيل اسے بتائ۔
عاصم ملک کو وہ اچھی طرح جانتے تھے۔ مگر يہ نہيں جانتے تھے کے وہ سرفراز کے بيسٹ فرينڈ بھی تھے۔اور نہ ہی يہ جانتے تھے کے ضامن ان کا بيٹا ہے۔
اتفاق سے دونوں جہاز ميں بزنس کلاس ميں تھے۔ ضامن آگے بيٹھا تھا اور زمان شاہ کو پچھلی سيٹس پر جانا تھا۔ جاتے جاتے اس نے بہت طريقے سے ضامن کی پکچرز اپنے موبا‏ئل ميں ليں۔اپنے کارندوں کو سينڈ کي۔
“آئ نيڈ آل دا انفارميشن ريگارڈنگ دس گا‌ۓ ارجنٹلی”
اور ساتھ ہی ايک اور بندے کو کال کی جو کہ اسلام آباد ميں تھا اسے عاصم ملک کے گھر کی نگرانی پر لگايا۔
ضامن ہالہ کو سوچتے ہوۓ بے حد اداس تھا مگر خوشی بھی تھی کہ اب ان کے ايک ہونے ميں صرف ايک ہفتے کی دوری تھی۔
ہالہ کا کل کی ہنسی اور آج کی اداسی ہر ہر روپ اسکی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔ کانوں ميں ہينڈ فری لگاۓ سے سيٹ کی پشت سے ٹکاۓ وہ دشمن جاں اسے بے حد ياد آرہی تھی۔
پھر اس نے آنکھيں کھول کرہالہ کے نمبر پر
Bryan Rice
کا سونگ شئير کيا
ہالہ نے حيسے ہی واٹس ايپ ميسج اوپن کيا ضامن کے ش‏ئيرڈ سانگ کو ديکھا۔ اس نے ہينڈ فری بيگ سے نکال کر کانوں ميں لگائ۔وہ لوگ گھر واپس جارہے تھے۔ سب اپنی اپنی جگہ ضامن کے لئيے اداس تھے۔
ہالہ کو بہت اچھا لگتا تھا جب ضامن اپنی فيلرگز کے اظہار کے لئيے ہالہ سے سونگز شئير کرتا تھا۔
اب بھی
Bryan Rice
کی آواز نے ہالہ کا دل کھينچ ليا
Hey baby, when we are together, doing things that we love
Every time you’re near I feel like I’m in heaven, feeling high
I don’t want to let go, girl
I just need you to know girl
I don’t wanna run away, baby you’re the one I need tonight
No promises
Baby, now I need to hold you tight, I just wanna die in your arms
Here tonight
Hey baby, when we are together, doing things that we love
Every time you’re near I feel like I’m in heaven, feeling high
I don’t want to let go, girl
I just need you to know girl
I don’t wanna run away, baby you’re the one I need tonight
No promises
Baby, now I need to hold you tight, I just wanna die in your arms…
I don’t want to run away, I want to stay forever, thru time and time
No promises
I don’t wanna run away, I don’t wanna be alone
No Promises
Baby, now I need to hold you tight, now and forever my love
No promises
ہالہ نے سونگ سنتے ضامن کا ايک اور ميسج ريسيو کيا۔
مسنگ دا لاسٹ نائٹ وائل لسنگ ٹو دس سانگ
“مسنگ يو ٹو ہبی”ہالہ نے بمشکل اپنے آنسو روکتے ہوۓ کہا۔ اسے ايسا لگ رہا تھا جيسے وہ پھر سے تپتی دھوپ ميں کھڑی ہوگئ ہو۔ ضامن کی موجودگی کسی ٹھنڈی چھاؤں سے کم نہيں تھی۔ مگر يہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ ايک ہفتے کی ہو تو بات ہے۔ پھر کوئ دوری انکے درمياں نہيں آۓ گی۔
___________________
لاہور سے آگے ايک گاؤں ميں رحمان شاہ نے اپنا اڈا بنايا ہوا تھاجہاں سب غلط کام وہ کرتا تھا۔ آج بھی وہ وہيں موجود تھا۔ زمان شاہ سيدھا اس اڈے پر پہنچا۔
جہاں رحمان بے چينی سے اسکا انتظار کر رہا تھا۔ زمان شاہ لاؤنج ميں داخل ہوا۔ باپ سے بغلگير ہونے کے بعد اس نے ساری تفصيل پھر سے بتائ اور يہ بھی کہ اس نے عاصم کے گھر کی نگرانی شروع کروا دی ہے۔ پھر اس نے ضامن کی تصوير بھی انہيں دکھائ۔
رحمان شاہ نے اسکے کندھے پر خوش ہو کر تھپکی دی۔ ہالہ کی طرف تو بہت سے بدلے نکلتے تھے۔ ناصرف وہ ثبوت جو ہالہ کے پاس تھے وہ نکلوانے تھے بلکہ وہ تمام ثبوت بھی انہيں چاہئيے تھے جن کا علم صرف ہالہ کو تھا۔
کيونکہ سرفراز کی موت کے بعد اس نے بہت کوشش کی کہ اسے وہ ثبوت مل جائيں جو کہ اگر آئ ايس آئ کے ہاتھ لگ جاتے تو اسے پھانسی کے پھندے سے کوئ نہيں بچا سکتا تھا۔
ہالہ سے يہ غلطی ہوئ کہ جب رحمان شاہ نے اسے کڈنيپ کيا تو وہ اس نے غصے ميں کہہ ديا کہ وہ سرفراز کی بيٹی ہے اور اسکے پاس وہ تمام ثبوت ہيں جو وہ پوليے کو دکھا کر انہيں جيل کرواۓ گی۔
ان ثبوتوں کا علم صرف تنوير کو تھا اور اس نے ہالہ کے بڑے ہونے کے بعد اسے بھی بتاديا تھا۔
مگر يہ نہيں پتہ تھا کہ وہ اتنی بڑی بے وقوفی کر جاۓ گی اسی لئيے اس نے ہالہ کو وہاں سے اس رات بھگا ديا تھا۔ اور انہی ثبوتوں کی وجہ سے رحمان شاہ اس کے خون کا پياسا ہوگيا تھا۔
شام تک ضامن کے بارے ميں زمان شاہ کو ساری انفارميشن مل چکی تھی سوا‌ۓ اس کے کہ ہالہ اسکے نکاح ميں ہے۔
“زمان اب اس لڑکی پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہيں۔ عاصم ملک جن ہے آئ ايس آئ کا۔” رحمان شاہ نے فکر مندی سے کہا۔
“آپ فکر نہ کريں ايسا جال پھينکوں گا کہ مچھلی باآسانی ميرے قابو ميں آجاۓ گی۔اس کمينی کا وہ بيگ ديں جو اس رات يہيں رہ گيا تھا” اپنی شاطر مسکراہٹ سے اس نے باپ کو تسلی دی۔
دو دن بعد زمان شاہ ضامن کے آفس ميں پہنچ چکا تھا جہاں وہ اپنے آرمی کے يونيفارم ميں تھا۔
“سر ايس ايچ او زمان شاہ آپ سے ملنا چاہتے ہيں” ضامن اسکا نام سن کر ٹھٹھکا۔
“اندر بھيج دو” اس نے لمحے کے توقف کے بعد کہا۔
تھوڑی دير بعد زمان شاہ اندر داخل ہوا۔
دونوں نے مصافحہ کيا۔
“جی فرمائيے کيا خدمت کر سکتا ہوں آپکی”ضامن نے اس سے اپنے پروفيشنل انداز ميں پوچھا۔
“خدمت تو نہيں بس ايک ہماری قيمتی چيز آپکی تحويل ميں ہے وہ چاہئيے” زمان شاہ نے اپنی کرخت مسکراہٹ سے ضامن سے کہا۔ ضامن يکدم الرٹ ہوا۔
“ميں سمجھا نہيں”
“ميری کزن ہالہ اسے کچھ دن پہلے ميں نے اسلام آباد ائير پورٹ پر آپکی فيملی کے ساتھ ديکھا ہے۔”
“تو” ضامن نے اپنی بے تاثر آنکھوں سے اسے ديکھا۔
“تو يہ کہ آپ اسے ہميں واپس کريں اور يہ بھی کے ايک معصوم کی وہ جان لے کر وہ بھاگی ہے۔ ميں چونکہ ايک ذمہ دار آفيسر ہوں اور ميں رشتہ داروں کو بھی سزا دينے سے گريز نہيں کرتا اور آپ کيسے آرمی آفيسر ہيں جس نے ايک قاتلہ کو پناہ دی ہوئ ہے۔”
“ہاہاہا!ذمہ دار جو اپنی ہی کزن کی عزت پر اپنے ماتحتوں سے ڈاکہ ڈلواۓ” ضامن کے کہنے پر اس نے قہقہہ لگايا۔
“وہ ميری منکوحہ ہے سر، ميں مر کر بھی ايسا نہيں کرسکتا”
يہ کيا بکواس ہے” زمان کی بات نے اسکا دماغ بھک سے اڑا ديا
بکواس نہيں سچ ہے” زمان کی بات پر اس نے مٹھياں بھينچی۔
“ثبوت؟؟؟” ضامن نے چيلينجنگ نظروں سے اسے ديکھا۔
ضرور” خباثت سے مسکراتے اس نے اپنی جيب سے ايک پيپر نکال کر اسکی جانب بڑھايا۔
ضامن نے غصے سے وہ پيپر اسکے ہاتھ سے ليا اور اسے پڑھ کر اسے لگا اسکے آفس کی چھت اس پر گرگئ ہو۔
“اتنا بڑا دھوکہ۔” وہ نکاح نامہ تھا جس پر ہالہ کے ہی سائن تھے۔ وہ ان سگنيچرز کو کيسے بھول سکتا تھا۔
“اميد کرتا ہوں جلد ہی اسے ہمارے حوالے کروگے نہيں تو بندہ نکلوانے کے اور بھی بہت سے طريقے مجھے آتے ہيں” زمان شاہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا دھمکی دے کر اسے حيران پريشان چھوڑ کر چلا گيا۔
_____________________
زمان شاہ کے چلے جانے کے بعد ضامن نے اپنا نکاح نامہ نکالا۔ وہ گرنے کے سے انداز سے اس پر بيٹھا اور سر دونوں ہاتھوں ميں تھام ليا۔ يہ قسمت نے کيسا مذاق کيا تھا۔جسے وہ اپنا سب کچھ مان چکا تھا وہ اس طرح اسکے جذبوں کا استحصال کرے گی وہ سوچ بھی نہيں سکتا تھا۔
اس نے فون اٹھا کر کوئ نمبر ملايا۔
“اسلام آباد کی ويری نيکسٹ فلائٹ کب کی ہے اور اس ميں ايک سيٹ اويليبل ہو گی۔ نہيں بھی ہے تو کسی طرح ارينج کروا کر مجھے کال کرو۔”
پانچ منٹ بعد ہی اسکے ماتحت کی کال آئ۔
“ہيلو، اوکے چار بجے ٹھيک ہے۔”
اس نے گھڑی پر ٹا‏ئم ديکھا تو تين بج رہے تھے۔ وہ اپنے آفس ميں بنی الماری کی جانب بڑھا۔ وہاں سے جينز اور ٹی شرٹ نکالی۔ وہ آفس ميں کچھ کپڑے ضرور رکھتا تھا کہ کبھی کبھار اسے وہيں سے آؤٹ آف سٹی جانا پڑھ جاتا تھا۔
وہ تيزی سے واش روم کی جانب بڑھا۔
__________________
شام چھ بجے کا وقت تھا ہالہ اس وقت گھر ميں اکيلی تھی۔ رمشا اور ضامن کی ممی اسی کے لئيے شاپنگ کرنے گئيں تھيں۔ جبکہ عاصم صاحب بھی کسی دوست سے ملنے گۓ ہوۓ تھے۔
وہ لان ميں رکھی کرسيوں پر بيٹھی شام کا منظر انجواۓ کر رہی تھا کہ مين گيٹ سے ضامن کو آتے ديکھ کر وہ حيرت اور خوشی سے يکدم اپنی جگہ سے اٹھی۔
ضامن سيدھا اسی کی جانب آيا۔
“ممی کہاں ہيں”
نہ سلام دعا نہ کوئ گرم جوشی۔ہالہ يکدم ٹھٹکی۔
“اسلام عليکم کيسے ہيں آپ، آپ نے بتايا ہی نہيں اپنے آنے کا” ہالہ نے خفگی سے کہا۔
“جتنا پوچھا ہے اتنا جواب دو” ضامن کے سخت لہجے پر وہ ہکا بکا رہ گئ۔
“ممی اور رمشا شاپنگ کے لئيے گئ ہيں اور ڈيڈی بھی نہيں ہيں” وہ بھی اب ان دونوں کو ممی اور ڈيڈی ہی کہتی تھی کہ يہ تاکيد انہوں نے ہی کی تھی۔
“پانی کا گلاس لے کر ميرے روم ميں آؤ” ضامن غصے سے اسے حکم ديتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر چلا گيا۔
ہالہ پريشان ہوتی پانی کا گلاس لے کر زينہ طے کرنے لگی۔
اسے تو ضامن کا اجنبی لہجہ پريشان کر رہا تھا۔
ناک کر کے وہ کمرے ميں آئ تو نظر سامنے بيڈ پر ٹانگين لٹکا کر بيٹھے ضامن پر پڑی۔
وہ ڈرتے ہوۓ اسکے پاس آئ اور پانی کا گلاس ديا جسے وہ ايک سانس ميں خالی کر گيا۔ پھر غصے سے پاس کھڑی ہالہ کو ديکھا جو اسکی کے غصے کو سمجھنے سے قاصر تھی۔
“ضامن کيا بات ہےکيا ہوا ہے” اس نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا اور يہی پوچھناغضب ہو گيا۔
ضامن نے پوری قوت سے گلاس سامنے ديوار پر دے مارا جو چناکے سے ٹوٹ کر گرا اور ہالہ کے حلق سے چيخ نکل گئ۔
“کيا ہوا ہے۔۔۔۔کيا ہوا ہے مجھے۔۔۔يہ پوچھو کيا قيامت گزری ہے مجھ پر۔” ضامن بيڈ سے اٹھتے زور سے چلايا۔
“يہ ديکھو۔۔۔ديکھو اسے کيا ہے يہ” ضامن نے غصے سے اسکے سامنے وہ نکاح نامہ لہرايا جو زمان شاہ اسے ديکھ کر گيا تھا۔
ہالہ نے لرزتے ہاتھوں سے اسے پکڑا اور اسکی آنکھيں پھٹی کی پھٹی رہ گ‏ئيں۔
“يہ يہ۔۔۔۔جھوٹ ہے” بے اختيار آنسو اس کے گالوں پر پھسلے روتی ہوئ آواز ميں اس نے اپنی بے گناہی کا ثبوت دينا چاہا کہ ضامن کے زور دار تھپڑ سے وہ الٹ کر نيچے گری۔
ضامن نے کوئ پرواہ نہ کرتے اسکے پاس بيٹھتے بالوں سے پکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کيا اور اپنا نکاح نامہ اسکے آگے کيا۔
مجھےا‎اب اسکو اور اسکو ديکھو کہاں کوئ فرق ہے بتاؤ ۔”
ضامن نے غصے سے دانت پيستے اسکے آگے زمين پر دونوں نکاح نامے رکھے اور اسکے بال جھٹکے سے چھوڑے۔
ہالہ دونوں کو ديکھ کر سر پکڑ کر بيٹھ گئ۔
اسے نہيں ياد پڑتا تھا کہ اس رات ايسا کچھ ہوا تھا۔تو پھر کيسے اسکے سا‏ئن انہيں پتہ چلے۔
پھر سپارک ہوا کہ اس رات اسکا بيگ وہيں رہ گيا تھا اور اسکی چيک بک۔۔۔ بس پھر وہ سب سمجھ گئ۔
مگر اس نے ضامن کو کوئ وضاحت نہ دينے کا فيصلہ کر ليا۔
“يہ سب جھوٹ ہے مگر پھر بھی ميں اب آپکو کوئ وضاح نہيں دوں گی۔” ايک عزم سے اٹھتے وہ ضامن کے مقابل آکر کھڑی ہوئ۔
“کسی خوش فہمی ميں مت رہنا تم اگر ميری نہيں ہوئيں تو کسی کی بھی نہيں ہوگی ميں زندہ تمہيں زمين ميں گاڑھ دوں گا مگر کسی اور کے حوالے نہيں کروں گا۔”
ضامن نے اسکے بازو کو سختی سے پکڑتے ہوۓ کہا اور جھٹکے سے چھوڑ کر چلا گيا۔
جبکہ وہ قسمت کی اس ستم ظريفی پر سوا‌ۓ ماتم کے اور کچھ نہيں کر سکتی تھی۔
___________________-
ابھی وہ گھر سے باہر ہی نکلا تھا کہ اسے اويس عالم کی کال آگئ۔
“کہاں ہو فوراّّ ميرے پاس پی سی ميں پہنچو” اويس عالم کسی کيس کے سلسلے ميں راولپنڈی ہی آۓ ہوۓ تھے۔ اور پی سی ميں ٹہرے تھے۔ انہيں تنوير کے تھرو اس نقلی نکاح نامے کا پتہ چلا تھا۔انہوں نے ضامن کے آفس کال کی وہاں سے پتہ چلا کہ وہ اسلام آباد آيا ہوا ہے۔ انہوں نے کال کر کے اسے فوراّّ بلايا۔
ضامن کا دماغ اس وقت کھول رہا تھا۔
اس نے گاڑی کا رخ ہوٹل کی جانب کيا۔ پارکںگ ميں گاڑی کھڑی کرکے اس نے دوبارہ انہيں کال کی اور کمرہ نمبر پوچھا۔پھر سيدھا انکے کمرے کی جانب بڑھا۔
“زمان آج تمہارے پاس آيا تھا” اس نے انہيں ساری کہانی کہہ سنائ۔
“تمہارے خيال ميں يہ صحيح ہے يا غلط” انہوں نے اسے جانچتی نظروں سے ديکھا۔
“سر وہ سائنز ہالہ کے ہی ہيں۔ اور بالفرض نہيں ہيں تو انکے پاس کہاں سے اسکے اتنے اگزٹ سائنز آۓ” ضامن کی بات پر وہ مسکراۓ اور پھر اسکی تنوير سے بات کروائ جس نے اس چيک بک کا راز کھولا اور انکے ايک ماہر بندے کا بتايا جس نے ہالہ کے سائن کی کاپی کی تھی۔
ضامن تو ششدر رہ گيا۔۔يہ کيا ہوگيا۔
اس نے کال بند کرکے فون اويس صاحب کو پکڑايا۔
اسکی حالت ديکھ کر انہيں يہ اندازہ لگانے ميں دير نہيں لگی کہ وہ ہالہ کے ساتھ کچھ غلط کر بيٹھا ہے۔
“ضامن غلط فہمی ميں کس حد تک نقصان کر چکے ہو، کيا واپسی کا کوئ راستہ کھلا چھوڑ کر آۓ ہو” انہيں سب سے پہلے شک يہی ہوا کہ کہيں ضامن ہالہ کو طلاق نہ دے آيا ہو۔
“بہت برا کيا ہے پھر بھی شکر ہے کہ انتہائ حد تک نہيں پہنچا” ضامن انکی بات کا مفہوم سمجھتے ہو‎ۓ بولا۔
“ضامن جذبات کو عقل پر کبھی بھی حاوی مت آنے دينا آئندہ اور ياد رکھنا غلطياں ہر کوئ کرتا ہے مگر ان سے ہميشہ سبق سيکھنا دوہرانا مت۔ اللہ تم دونوں کے لئيے بہتر کرے۔وہ سب راز جو ہم نے سرفراز کو دئيے تھے اس نے بينک کے لاکر ميں رکھواۓ تھے اور اب تنوير مجھے وہ سب دے چکا ہے۔ ہالہ کو بھی پتہ تھا اور اس نے غلطی سے انکو بتا کر اپنے لئيے مزيد خطرہ مول لے ليا۔ اب اس کی اور بھی زيادہ پروٹيکشن کی ضرورت ہے۔کيونکہ رحمان کسی بھی وقت اب کچھ بھی کر سکتا ہے۔
اسکے اريسٹ وارنٹ ميں بنوا رہا ہوں اور چيف آف آرمی سٹاف کو انوالو کر رہا ہوں تاکہ اسکی بچنے کی کوئ صورت نہ ہو۔ اميد ہے کل تک کام ہوجاۓ گا اور پھر ہی ہم اس پہ ہاتھ ڈال سکيں گے۔ تب تک تمہيں بہت الرٹ رہنا ہے۔”
ابھی وہ بات کر ہی رہے تھے کہ ضامن کے موبائل پر انجان نمبر سے کال آئ۔
“ہيلو” “ميں نے کہا تھا نہ سيدھی طرح اسے ميرے حوالے کردو مگر تمہيں شايد بات سمجھ نہيں آئ۔ اپنی چڑيا ميں تمہاری قيد سے نکال لايا ہوں مگر تم نے اسے جو پروٹيکشن پروائيڈ کرنے کی غلطی کی اسکی سزا جلد ہی تمہيں ملے گی۔”
“کيا بکواس کر رہے ہو تم۔۔ہيلو ہيلو۔۔” صحيح معنوں ميں تو قيامت اب ٹوٹی تھی ضامن پر۔ زمان شاہ کی آواز نے گويا صور پھونکا تھا اسکے کانوں ميں۔
“کيا ہوا ہے” اويس عالم نے سر پکڑے ضامن کو جھنجھوڑا۔
“اس باسٹرڈ نے ہالہ کو کڈنيپ کر ليا ہے۔” اسکے منہ سے بمشکل يہ الفاظ نکلے۔
“فوراّ گھر چلو” وہ دونوں تيزی سے ضامن کے گھر کے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: