Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 7

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 7

–**–**–

ضامن کے چلے جانے کے بعد اسے لگا اس گھر ميں اسکا دم گھٹ جاۓ گا۔وہ کچھ دير کے لئيے يہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔ اس نے آنسو صاف کئيے۔ ضامن کے کمرے سے نکل کر وہ رمشا کے کمرے ميں آئ چادر اچھے سے لی منہ چھپايا نيچے آئ اور باہر کے گيٹ کی جانب بڑھی۔
ايک غلطی ضامن نے کی تھی اس پہ اعتبار نہ کرکے اب ايک غلطی ہالہ کر رہی تھی اس چار ديواری سے اکيلے نکلنے کی۔ اور پھر غلطيوں کا تاوان تو بھرنا پڑتا ہے۔
“چاچا پليز دروازہ کھول ديں ميں بس يہاں قريبی پارک تک جا رہی ہوں” اس نے چوکيدار کو کہا۔
“مگر بيٹا آپ کو اکيلے جانے کی اجازت نہيں”
انہيں عاصم صاحب نے سختی سے منع کيا تھا کہ ہالہ کو اکيلے نہ نکلنے ديں۔
“باہر انکل کے گارڈز ہيں نہ آپ انکو کہيں مجھے فالو کر ليں۔”
چاچا نے انہيں فون کيا اور يوں ہالہ قريبی پارک تک آگئ۔
اس وقت وہ کہيں بھاگ جانا چاہتی تھی۔ وہ گال ابھی بھی سنسنا رہا تھا جہاں ضامن نے تھپڑ مارا تھا۔ اس تھپڑ سے بڑھ کر ضامن کی بے اعتباری اسے مار ڈال رہی تھی۔
کيا وہ اس قابل بھی نہيں تھی کہ اسے ايک موقع بھی ضامن ديتا۔
انہی سوچوں ميں وہ آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ پارک ميں اس وقت اکا دکا لوگ موجود تھے۔
ہالہ يہ نہيں جانتی تھی کہ عاصم صاحب کے کارندوں کے علاوہ زمان کے بندے بھی اسے فالو کر رہے ہيں۔
زمان کے بندے ايک درخت کی اوٹ ميں عاصم صاحب کے بندوں کا نشانہ لئيے ہوۓ تھے۔ انہوں نے ايسی گولياں انکی جانب پھينکی جن کی پسٹل سے نکلنے کی کوئ آواز نہيں تھی اور انکے آگے ايسا لیکوڈ لگا تھا جو انسان کے جسم ميں گولی کے تھرو جاتے ہی اسے کچھ دير کے لئيے بے ہوش کر ديتا ہے۔
جيسے ہی عاصم صاحب کے کارندے بے ہوش ہوۓ زمان کے ايک شخص ہالہ کے پاس آيا۔
جو بينچ پر اردگرد سے بے گانہ بيٹھی تھی۔ اس نے پيچھے سے ايک رومال ہالہ کے چہرے پر رکھا اور آہستگی سے ہالہ کو اٹھا کر پارک کے پچھلے راستے سے نکل گيا جہاں زمان شاہ گاڑی ميں بيٹھا تھا۔
_________________________
ضامن اور اويس عالم جيسے ہی گھر پہنچے وہاں رمشا، ضامن کی ممی اور عاصم صاحب پہلے ہی موجود تھے جنہيں چوکيدار نے ہالہ کے گھر سے باہر پارک ميں جانے کا بتا دياتھا۔
انہوں نے اپنے مزيد بندے پارک کی جانب بھيج دئيے تھے۔
“کيا بکواس کر رہے ہو۔ ٹھيک ہے انہيں ہاسپٹل پہنچاؤ”
“کيا ہوا” اويس صاحب نے عاصم ملک سے پوچھا۔
“وہ دو لڑکے جو ہالہ کو فالو کر رہے تھے وہ پارک ميں بے ہوش ملے ہيں” انہوں نے تفصيل بتائ۔
“مجھے سر باقر کو کال کرنی پڑے گی اب انہيں کھلا چھوڑنا خطرے سے خالی نہيں”
اويس عالم نے چيف آف آرمی سٹاف کا ذکر کرتے انہيں کال کی۔
کچھ دير بعد انکے پی اے نے لائن تھرو کروائ۔
“ہيلو سر! کيسے ہيں آپ۔ سر آپ کو کل ايک فائل بھيجوائ تھی۔ جی۔۔جی رحمان شاہ کی۔ سر اسکے اڈوں پہ ريڈ کرنا مسٹ ہوگيا ہے کيونکہ اس نے ہميں پرسنل اٹيک کيا ہے اور عاصم ملک کی بہو کو کچھ دير پہلے کڈنيپ کيا ہے۔ سر وہ بس ابھی تو نکاح کيا تھا۔ سر آپ کی پرميشن ہو تو آج رات ہی۔۔۔تھينک يو سر، اللہ جافظ”
انکی گفتگو سے اتنا تو اندازہ ہو گيا تھا کہ سر باقر نے انہيں پرميشن دے دی ہے۔
“سر نے کہا ہے آپ ريڈ کی تياری کريں انکا ايک بندہ ابھی اسکے وارنٹ گرقتاری لے کر يہاں پہنچ رہا ہے۔”
انہوں نے ضامن کو ديکھتے ہوۓ کہا کہ اسی وقت تنوير کی کال آگئ۔
“ہاں تنوير کيا رپورٹ ہے۔” اويس صاحب نے پوچھا۔
“سر وہ ہالہ کو لے کر اپنے اڈے پر ہی ہيں۔ جلد آپ لوگ پہنچيں ميں يہاں کے کچھ راستے کلئير کرواتا ہوں۔ اب بے فکر ہو کر آ‏ئيں۔ ميں نے اپنی ايک الگ ٹيم اسکے خلاف بنائ ہوئ ہے۔ ہم آپکو اپ ڈيٹس ديتے رہيں گے۔”
يہ کہتے ساتھ ہی اس نے کال کاٹ دی۔
“لاہور کال کرکے سب کو الرٹ کرو ضامن۔” انہوں نے ضامن کو ہدايت دے کر سميعہ کو کال کی۔
“ہاں بيٹا ميں تمہيں نمبر سينڈ کر رہا ہوں يہ تنوير کا ہے تم اپنے سوفٹ وئير پر اسکی لوکيشن ابھی سرچ آؤٹ کرو، ہم آج رات ہی ريڈ کر رہے ہيں۔”
سميعہ کو ہدايت دے کر وہ فارغ ہو‎ۓ ہی تھے کہ باقر صاحب کا بندہ وارنٹ گرفتاری لے کر آگيا۔
انہوں نے پيپرز پکڑے۔ اور سيدھا آرمی ائير بيس پہنچے راستے ميں ہيلی کاپٹر ريڈی کرنے کا کہا۔
انکے پہنچتے ہی تمام انتظامات پورے تھے۔
وہ اور ضامن ہيلی کاپٹر ميں لاہور کی جانب روانہ ہوۓ۔
_____________________________-
“يو بلڈی بچ، ہمارے خلاف ثبوت دينے لگی تھی۔ بتا کدھر ہيں وہ پيپرز۔” زمان شاہ کچھ دير پہلے ہی اسے لے کر اپنے اڈے پر پہنچا تھا۔ اوپر والی سٹوری ميں ايک بيڈ روم ميں اسے لے کر پہنچا۔
اسکے منہ پر ايک زور دار تھپڑ مارتے ہوۓ غصے سے بولا۔
“مر جاؤں گی مگر کوئ ثبوت تمہارے حوالے نہيں کروں گی۔”
اتنا بھاری تھپڑ کھانے کے باوجود وہ نڈر لہجے ميں اسکی آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر بولی۔
تنوير بھی پاس کھڑا بمشکل خود پر قابو رکھے کھڑا تھا۔
بہر حال وہ انکے ريڈ سے پہلے زمان شاہ يا رحمان شاہ کو کسی قسم کا شک نہيں ہونے دينا چاہتا تھا کہ وہ ان کا بندہ نہيں۔
“کيا بکواس کی ہے” زمان شاہ تو بپھر گيا اور پھر تھپڑوں کی بارش اس نے ہالہ کے منہ پر کردی۔
اسکا ہونٹ پھٹ گيا اور منہ پر نيل پڑ گۓ۔
“باندھو اس بچ کو کل تک ايک دو اور اس سے بھی خطرناک خوراکيں مليں گين نہ تو سيدھی ہو جاۓ گی۔ اکڑتی ہے زمان شاہ کے آگے جس سے ايک زمانہ پناہ مانگتا ہے۔” زمان شاہ منہ سے کف اڑاتا تنوير کو کہا کر چلا گيا۔
وہ آہستہ سے اسکے قريب آيا۔ آہستہ سے اسے سيدھا کيا تو اسکا دل کٹ گيا ہالہ کا سوجا چہرہ ديکھ کر۔
اپنے جس دوست نما بھائ اور اسکی اولاد کے لئيے اس نے عمر تياگ دی آج اسکے سامنے اسکا کيا حال ہوا۔
اس نے بمشکل اپنے آنسو روکے کيونکہ اس وقت جذبات سے نہيں عقل سے کام لينے کا وقت تھا۔ ذرا سی بھی چوک ہوتی تو ہالہ ان سب کے ہاتھ سے نکل جاتی۔ لہذا اس نے اپنے جذ بات کو قابو کيا۔
___________________________–
ہيلی کاپٹر سے اتر کر وہ دونوں ہيڈ کوارٹر پہنچے جہاں انکی پوری ٹيم پہلے سے ہی تيار تھی۔
سميعہ نے جگہ ٹريس آؤٹ کرکے پورا ميپ انکے سامنے کھولا۔ ساتھ ساتھ تنوير کے ميسجز بھی آرہے تھے کہ کون کون سا ايريا انہوں نے خالی کروا ليا ہے۔
سواۓ سميعہ اور اسفند کے اور کسی کو نہيں پتہ تھا کہ اس ريڈ ميں ضامن کی بيوی کو بھی بازياب کروانا ہے۔
وہ سب اللہ کا نام لے کر گاڑيوں ميں نکلے۔ سم‏يعہ بھی ساتھ تھی اور وقتاّّ فوقتاّ ميپ سے وہی سارا راستہ بتا رہی تھی۔
اس ايريا سے کوئ سو گز کی زميں پر صرف اونچی اونچی گھاس اور درخت تھے۔ دور سے ديکھنے پر کوئ يہ اندازہ نہيں کر سکتا تھا کہ يہاں کچھ دور کوئ رہائش بھی ہو سکتی ہے۔
ضامن گاڑيوں سے اترتا اپنی ٹيم کو ليڈ کرتا زمين پر ليٹ کر آگے بڑھ رہا تھا۔
يہاں تک کہ وہ رہائشی ايريا کے پاس آگۓ۔
ضامن نے سب کو مختلف راستوں سے اندر جانے کو کہا۔
تنوير بتا چکا تھا کہ ہالہ کو اوپر کے پورشن ميں رکھا گيا ہے۔
ضامن اسفند کو اپنی ڈيوٹی ٹرانسفر کرکے خود اوپر کے پورشن کی طرف پانی کی پا‏ئپ سے چڑھا۔ کسی سانپ کی طرح وہ اس کمرے کی کھڑکی کے پاس پہنچا جہاں ہالہ تھی۔
ضامن نے کھڑکی سے ذرا سا جھانک کر ديکھا تو اسے زمان شاہ اور رحمان شاہ نظر آ‎‎ۓ۔
“کچھ منہ کھولا ہے اس نے يا نہيں” رحمان شاہ غصے سے اسے گھورتا ہوا بولا۔
“نہيں بہت ڈھيٹ ہے۔” زمان شاہ کی لال انگارہ آنکھين اس پر جميں تھيں۔
“بس پھر آج کی رات تم اس کمرے میں رہ کر اسے اپنی زبان ميں سمجھاؤ” ابھی رحمان شاہ کی بات پوری نہيں ہوئ تھی کہ نيچے سے فا‏ئرنگ کی آواز آئ۔
“يہ کيا ہوا ہے۔ تم اسکو نہيں چھوڑنا” رحمان شاہ گھبرا کر بھاگا۔
اسی لمحے ضامن شيشے کو توڑتا ہوا کمرے ميں آيا۔
“تم” زمان شاہ تو اسے ديکھ کر ششدر رہ گيا۔
اسکے وہم وگان ميں نہيں تھا کہ اتنی جلدی يہ لوگ کوئ ايکشن لے ليں گے۔
وہ اس وقت خالی ہاتھ تھا۔
ضامن نے گن کا رخ اسکی جانب کرکے اسے ہاتھ اٹھانے کا کہا۔
ہالہ کو جس کرسی سے باندھا گيا تھا اسکی پشت ضامن کی جانب تھی۔ اس نے ابھی ہالہ کو نہيں ديکھا تھا اور نہ ہالہ نے اسے۔ مگر اسے پتہ چل گيا تھا کہ اسکا نجات دہندہ آگيا ہے۔
“ہا‎ں ميں تمہارا باپ۔” ضامن نے دانت پيستے اسے کہا۔ اب نيچے سے فائرنگ کی آواز آنی بند ہو گئ تھی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ہالہ کی کرسی کا رخ اپنی جانب کيا اور جو چہرہ اسکے سامنے تھا اس نے اسکے اندر غصے کی شديد لہر پيدا کی۔
جگہ جگہ نيل اور پھٹا ہونٹ جس پر اب خون جم چکا تھا۔
ضامن کو ہالہ کی جانب متوجہ ديکھ کر زمان نے بھاگنے کی کوشش کی مگر ضامن کی گن سے نکلنے والی گولی نے اسکی ٹانگ زخمی کرکے اسکی کوشش ناکام بنا دی تھی۔
زمان يہ بھول گيا تھا کہ سيکرٹ ايجنٹس کی دو نہيں دس آنکھيں ہوتی ہيں۔
اسی وفت تنوير اندر آيا۔
“ضامن ہالہ کو لے کر چلو۔ سب کو ہم نے قابو کر ليا ہے۔”
زمان تو تنوير کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سن کر ششدر رہ گيا۔ اب اسے سمجھ آگيا کہ ضامن لوگ کيسے اتنی جلدی حرکت ميں آگۓ۔
“آستين کے سانپ” زمان تنوير پر پھنکارا مگر زخمی ٹانگ کی وجہ سے کچھ کرنے کی پوزيشن ميں نہين تھا۔
“آپ ہالہ کو لے کر جائيں۔ اس کمينے کو ميں اسکے انجام تک پہنچا کر آؤں گا۔جس نے ميری زندگی کو ختم کرنے کی کوشش کی اسے ميں اتنی آسانی سے معاف نہيں کرسکتا۔ڈرل مشين کہاں ہے” اس نے اپنی نظريں زمان پر جماتے ہوۓ کہا جن ميں سے چنگارياں نکل رہيں تھيں۔
ا۔تنوير نے اس کمرے کی ايک الماری سے ڈرل مشين نکال کر ضامن کو دی۔
“ضامن” ہالہ نے پريشان ہو کر اسے ديکھا۔
“انکل اسے لے جائيں” ضامن تو جيسے ہالہ کی آواز سن ہی نہيں رہا تھا
تنوير ہالہ کے ہاتھ پاؤں کھول کر اسے لے کر باہر نکل گي
“انکل ضامن کيا کرنے لگے ہيں اسکے ساتھ” ہالہ نے باہر آکردھشت سے تنوير کو ديکھتے ہوۓ کہا۔
ساتھ ہی اندر سے ڈرل کی اور کسی کی دلدوز چيخوں کی آواز آئ۔
“يہ ۔۔۔۔۔يہ۔۔۔ ہالہ تو دھشت سے کچھ بول بھی نہيں پائ۔
“اس نے ميری جس پياری بيٹی کا يہ حال کيا ہے تو ايک گولی اسکا بدلہ لينے کے لئيے کافی نہيں تھی۔ بس اب تم چلو يہاں سے” يہ کہتے ساتھ ہی وہ ششدر کھڑی ہالہ کو لے کر باہر آگۓ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: