Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Episode 8

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – قسط نمبر 8

–**–**–

اگلے کچھ دنوں ميں رحمان کا سارا نہ صرف گينگ پکڑا جاچکا تھا اور ان کے توسط سے بہت سے اور شرپسند گروہوں کو پکڑا جاچکا تھا۔ جو پاکستان ميں مختلف جگہوں پر دہشتگردی کے واقعات ميں انوالو تھے۔
رحمان سے انہوں نے يہ بھی کنفيس کروا ليا تھا کہ سرےراز کو اس رات اسی نے مروايا تھا اور اس جرم ميں اسے پھانسی کی سزا سنائ گئ تھی۔
اسفند اور سميعہ کی شادی طے ہوگئ تھی۔ ہالہ کو عاصم صاحب اپنے گھر لے آۓ تھے۔ جبکہ ضامن کا سب نے بائيکاٹ کيا تھا کيونکہ ہالہ نے سب کو اس شام کی تھپڑ والی بات بتا کر رخصتی سے انکار کر ديا تھاجو ہالہ کے چہرے کے زخم ٹھيک ہونے کے ہفتے بعد رکھی تھی۔
مگر وہ سب جاننے کے بعد سب نے اسکا ساتھ ديا تھا اور اسکا اپنے ہی گھر ميں داخلہ ممنوں کر ديا تھا۔
ضامن کو دو ہفتے سے ڑيادہ ہوگۓ تھے۔ روز وہ ہالہ کو کالز کرتا اور ڈھيروں ميسجز مگر وہ کسی کا ريپلائ نہيں کر رہی تھی۔
ايک دن تنگ آکر اس نے بہن کو فون کيا۔
“کيوں فون کيا ہے آپ نے مجھے” وہ غصے سے بولی۔
“يار کيا ہوگيا ہے تم سب کو بس کردو اب۔ بھابھی بھائ سے زيادہ پياری ہوگئ ہے۔ ياد کرو وہ دن جب ميں تمہاری ايک بک ڈھونڈنے کے لئيے ٹريننگ سے تھکا ہوا آيا تھا اور پھر بھی سارا دن سڑکوں پر مارا مارا پھرتا تھا۔ وہ دن بھی ياد کرو جب بارش ميں گاڑی خراب ہوئ تھی اور سرديوں کی بارش ميں تمہيں بھيگنے سے بچانے کے لئيے ميں ورکشاپ تک گاڑی کو دھکا لگا کر لے گيا تھا۔ اور آج ميری ايک غلط فہمی کی تم سب اتنی کڑی سزا دے رہے ہو۔ ميں اپنی فيملی ہوتے ہوۓ تنہا ہوگيا ہوں” ضامن نے پوری طرح پلينگ کرکے رمشا کو گھيرا تھا اور اپنی جذباتی ايکٹنگ پر اسکا دل کيا خود کو آسکر دے دے۔
“اچھا بھائ بس کرو ميں تو کب کا تمہيں معاف کر چکی ہوں مگر بھابھی کچھ سننے کو تيار ہی نہيں”۔ آخر رمشا اسکی جذباتی باتوں کے زير اثر آ ہی گ‏ئ۔
“تمہاری بھابھی کی تو ايسی کی تيسی اب وہ ميری پلينرگ ديکھے” يہ سب وہ صرف وہ دل ميں ہی سوچ سکا۔
“تم بس ميری تھوڑی ہيلپ کردو جيسے جيسے ميں کہوں ويسے ہی کرنا اور ہاں پليز اسکی کوئ پکچر ہی سينڈ کردو۔وانا سی ہر” رمشا کو اپنے ساتھ ملاتے ہوۓ آخر ميں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے کہا۔
“اوکے وہ تو ميں ابھی کر ديتی ہوں۔ اوکے باۓ نا‎ؤ” رمشا خود بھی اپنے بھائ بھابھی کو اب اکٹھے ديکھنا چاہتی تھی۔
“بھابھی واو کتنی کيوٹ لگ رہی ہيں آپ اس کلر ميں چليں ايک سيلفی ہو جا‌ۓ” وہ جو لاؤنج ميں بيٹھی سميعہ کی شادی ميں پہننے کے لئيے کپڑوں کے ڈيزائن ديکھ رہی تھی رمشا کی اس معصوم سی فرمائش پر بے اختيار اس پر اسے بہت پيار آيا۔
“اگر بھابھی کو پتہ چل جاۓ کے کس مقصد سے يہ پکچر لے رہی ہوں تو يہ ہاتھ جو ميرے گرد پيار سے لپٹا ہے ميری گردن دبانے ميں ايک سيکنڈ کی دير نہ لگاۓ۔
ضامن بے چينی سے انتظار کر رہا تھا رمشا کے ميسج کا۔ کتنے دن ہو گۓ تھے اس دشمن جاں کو ديکھے ہوۓ۔
کچھ دير بعد اسے واٹس ايپ ميسج کی ٹون سنائ دی اس نے تيزی سے ميسج اوپن کيا تو رمشا اور ہالہ کی تصوير نظر آئ۔ لائٹ ليمن اور فيروزی ڈريس ميں وہ ہميشہ کی طرح اسکے دل کی دنيا تہہ و بالا کر گئ تھی۔
“ميسنگ يو سوئيٹ ہارٹ ٹيربلی۔” کتنے ہی اسکی سنگت ميں گزرے يادگار لمحے اسکی نظروں کے آگے سے گزرے۔
_________________________
“يار تجھ سے زيادہ بے مروت دوست نہ ديکھ نہ سنا” ضامن نے اسفند کو کال کی جو اپنی شادی کی چھٹياں لے کر گھر گيا ہوا تھا۔ ايک دن بعد مہندی تھی۔
“اگلی بکواس کر” اسفند کا دماغ بھی ہالہ والی بات پر تپا ہوا تھا۔
“يار بس کر اب کيا سب کے ساتھ ساتھ تجھ سے بھی معافی مانگوں۔وہ سب شديد محبت ميں ہو گيا تھا”
ضامن نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی۔
“بيٹا اگر محبت ميں ايسا کيا تھا تو پھر رخصتی کے بعد ہم ہالہ کو نيل و نيل ہی ديکھيں گے۔” اسفند کے طنز پر وہ بمشکل اپنا قہقہہ روک سکا۔
“اچھا يار تو بس ميرا اپنی شادی ميں آنے والا معاملہ بحال کروا ڈيڈی نے تو سختی سے مجھے منع کيا ہے کہ ميں تيری شادی ميں نظر نہ آؤں”
“خير تجھ سے پھڈے اپنی جگہ مگر تيرے بغير تو ميں نکاح کے پيپرز پر سائن نہيں کروں گا۔” اسفند کی محبت پر اسے فخر ہوا۔
“تھينکس بڈی، مگر علاقہ غير میں يہ خبر نہ پہنچے”
“ضامن تو کتنا ڈرتا ہے ہالہ سے۔۔۔ہاہاہاہا” اسفند کی ہنسی نے اسے تپايا۔
“بيٹا کچھ دن بعد تجھ سے پوچھوں گا”
___________________________-
“ہيلو يار ميں ايک ڈريس بھيج رہا ہوں پليز کسی بھی طرح ہالہ نے مہندی کی رات يہی پہنا ہو۔يہ تم پر ڈيپينڈ کرتا ہے کہ تم نے اسے کيسے منانا ہے”۔
ضامن کے ميسج نے سميعہ کو اچھا خاصا پريشان کيا۔
“بھائ خور تو مجنوں بنے ہو مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہو” رمشا نے بے چارگی سے سوچا۔
شام ميں رمشا نے ايک پارسل موصول کيا۔
“بھابھی آپ سے ايک ريکوئيسٹ کرنی ہے پليز مانيں گی”
سميعہ پارسل لے کر ہالہ کے پاس آئ۔
“ہاں سوئيٹی کيوں نہيں” ہالہ نے پيار سے اسے کہا۔ دونوں اس وقت رمشا کے ہی روم ميں تھيں۔
ميں نے نيٹ پر ايک ڈريس ديکھا تھا۔ مجھے بہت اچھا لگا اور ميں نے آپکے لئيے آرڈر دے ديا ميری وش ہے کہ آج آپ يہی پہنيں۔” رمشا نے محبت سے اسے کہا۔
” اوہ ڈئير تھينک يو۔ مگر اب اسک کيا کروں جو کل ہم لے کر آۓ تھے۔” اس نے بے چارگی سے کہا۔
“اچھا چلو دکھاؤ يہی پہنوں گی۔ خوش” اس نے محبت سے اسے کہا۔
“اوہ تھينک يو۔”
ہالہ نے پيکنگ کھولی تو اس ميں بہت ہی سٹا‏لش، اوليو گرين اور اوننح اور ريڈ کے رنگوں کے امتزاج کا غرارہ اور لانگ شرٹ پر نفيس مگر ہيوی کام ہوا تھا۔
“يہ تو برا‏يڈل ڈريس لگ رہا ہے” ہالہ نے الجھتے ہوۓ کہا۔
“پليز بھابھی”
“اوکے اوکے”
ہالہ کے مان جانے پر اس نے محبت سے اسے گلے لگايا۔ اور ضامن کو ڈن کے ساتھ وکٹری کا نشان بھيجا۔
_____________________
يہ اسفند کی مہندی کے فنکشن کی بات تھی۔ ہر جانب رنگ و بو کا سيلاب تھا۔
سواۓ ہالہ کے سب کو بتايا جاچکا تھا ضامن آرہا ہے اس فنکشن ميں۔
اسفند نے بڑی پس و پيش کے بعد بالاخر سب کو منا ليا تھا۔
ہالہ ضامن کے بھيجے ہو‎ۓ سوٹ ميں کسی رياست کی شہزادی سے کم نہيں لگ رہی تھی۔ لمبے گھنے بال کھلے ہوۓ، خوبصورتی سے کئيے گۓ ميک اپ ميں، نازک سی جيولری پہنے، ماتھے پر ايک سائيڈ پر جھومر لگاۓ يہاں سے وہاں پھر رہی تھی۔
سارا فنکشن اسفند کی گھر کے لان ميں ارينج کيا گيا تھا۔
پہلے لڑکی والوں نے مہندی لانی تھی پھر لڑکی والوں نے چونکہ کمبائن فنکشن تھا سو دونوں سائيڈز نے باری باری آنا ڈيسا‏ئيڈ کيا۔
عاصم صاحب اور ضامن کی مدر بڑے فخر سے ہالہ کا تعارف اپنی بہو کی حيثيت سے سب ميں کروا چکے تھے۔
ہالہ سميعہ کی بہن کے فرائض انجام دے رہی تھی۔ سو جب لڑکے والے تھال اٹھاۓ مہندی لے کر آۓ تو ہالہ انکو ريسيو کرنے ميں انٹرنس کے اينڈ پر سم‏يعہ کے گھر والوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ اسفند کی بہنيں اور کزنز مہدی کے تھال پکڑے آگے تھيں جبکہ لڑکے کو اسکے دوستوں نے لانا تھا۔
ہالہ پھولوں کے تھال پکڑے کھڑی تھی۔ جيسے ہی اسفند کی کزنز مہندی لے کر اندر آگئيں تو انکے پيچھے دس ہيوی بائيکس پہ اسفند کے کزنز نے پہلے انٹری دی۔
سب لڑکے وائٹ شلوار قميض پر ڈفرنٹ کلرز کی واسکٹس پہنے گاگلز لگاۓ ہوۓ تھے۔
سب نے اس منظر کو انجواۓ کيا اور چيخيں اور تالياں بجا کر لڑکے والوں کی ايسی انٹری کو ايپريشيٹ کيا۔
آخر ميں دو ہيوی بائکس تھيں جن ميں ايک پہ اسفند اور دوسری ہيوی بائيک پر بيٹھے شخص کو ديکھ کر ہالہ کو لگا اسکے چاروں جانب روشنياں بھر گئيں ہو‎ں۔
دل کے کسی کونے ميں بہت شديد خواہش تھی اس ستم گر کو آج ديکھنے کی۔
وائٹ شلوار قميض پر اليو گرين واسکٹ پہنے گاگلز لگاۓ وہ بھی کسی رياست کے شہزادے سے کم نہيں لگ رہاتھا۔
اس نے اپنی بائيک بالکل ہالہ کے پاس روکی اور پھر اس سے اتر کر اسے نظر بھر کر ديکھا۔
“ہا‎ۓ مائ ليڈی” ہلکے سے اسکے پاس سے گزرتے ہو‎‎ۓ وہ بولا۔
جبکہ ہالہ تو ابھی تک اس ساحر کی مسکراہٹ کے سحر سے نہيں نکل پائ تھی۔
جس قدر وہ ہرٹ ہوئ تھی ابھی اتنی جلدی وہ اسکو معاف کرنے کے حق ميں نہيں تھی۔
وہ اسٹيج کے پاس کھڑی مٹھائ کی چيزيں ارينج کرتی اسٹيج پر پہنچا رہی تھی کہ اسکے واٹس ايپ ميسج کی ٹون آئ۔ اس نے ميسج اوپن کيا تو ضامن کا ميسج تھا۔
” وانا ٹيک يو ٹو نائٹ ٹو آ پليس وير نو ون کڈ سی اس اينڈ آئ کڈ ٹيل يو ہاؤ مچ آؤ لو يو ” اور ساتھ ڈھير سارے ہارٹس اور کسنگ اموجی تھے۔ ہالہ کے گال دہک اٹھے اس نے غير اختياری طور پر جونہی نظر اٹھا کر سامنے ديکھا۔ تو اسٹيج پر اسفند کے ساتھ بيٹھے ضامن سے نظر ملی جو اسکے بلشنگ فيس کو ديکھ رہا تھا۔ اسے اپنی طرف ديکھتے پايا تو اپنی شرارتی مسکراہٹ سميت اسے آنکھ ماری۔ ہالہ نے بے اختيار رخ پھير کر اپنے دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: