Ana Ilyas Urdu Novels

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas – Last Episode 9

Tere Mere Darmiyan Novel by Ana Ilyas
Written by Peerzada M Mohin
تیرے میرے درمیان از انا الیاس – آخری قسط نمبر 9

–**–**–

مہندی کی رسم کے بعد جيسے ہی گروپ فوٹوز کا سلسلہ شروع ہوا اسفند نے عاصم صاحب اور انکی فيملی کو آنے کو کہا۔
عاصم صاحب اور انکی بيگم سم‏يعہ اور اسفند کے ساتھ صوفوں پر بيٹھ گۓ۔ جبکہ ہالہ اور رمشا صوفے کے پيچھے چلي گئيں۔ ہالا نے شکر کيا کہ ضامن نہيں تھا وہاں۔ مگر يہ شکر تھوڑی دير کا تھا۔
جيسے ہی فوٹو گرافر پکچر لينے لگا اسفند نے اسے روک کر ادھر ادھر ديکھا کہ دائيں طرف سے ضامن آتا دکھائ ديا۔
ہالہ جز بز ہوئ جب ضامن اسکے دا‏ئيں طرف آيا کيونکہ اسکے بائيں طرف رمشا کھڑی تھی۔
ابھی فوٹوگرافر تصوير لينے ہی والا تھا کہ ہالہ کو اپنی کمر پر ضامن کا ہاتھ سرسراتا محسوس ہوا۔ اسکی تو سانس سينے ميں اٹک گئ۔
“بھابھی پليز تھوڑا سا سمائل کريں۔” فوٹوگرافر بھی انکا جاننے والا تھا جس کو پتہ تھا کہ ہالہ ضامن کی منکوحہ ہے۔
“ہالہ نے ايک غصيلی نظر ضامن پر ڈالی جو سامنے ديکھتا شرارتی انداز ميں مسکرا رہا تھا۔
ہالہ نے ايک سيکنڈ ميں کچھ سوچا اور اپنا پاؤں اندازے سے آگے کرکے اپنی ہيل کے نيچے ضامن کا پاؤں زور سے دبايا۔
ضامن يکدم چيخا اور ہالہ نے فوراّّ پاؤں کھينچ کر منہ نيچے کرکے اپنی ہنسی کنٹرول کی۔
“کيا ہوا” سب نے يکدم پريشانی سے پوچھا۔
“نہيں وہ پاؤں پہ کچھ کاٹا ہے”
اسفند پريشانی سے کھڑا ہوا دکھا ؤ ‎ ”
“ارے کچھ نہيں ہوا بيٹھ تو”
اسے بٹھا کر اب کی مرتبہ ضامن نے تميز سے فيملی پکچر لی۔
________________
کھانے کے بعد رمشا ہالہ کے پاس آئ۔
“بھابھی وہ اويس انکل باہر گاڑی ميں بيٹھے ہيں کہ رہے ہيں آپ سے کچھ بات کرنی ہے”
“تو کيا وہ جا رہے ہيں” ہالہ نے حيران ہو کر پوچھا۔
“شايد، آپ جلدی سے جائيں” ہالہ تيزی سے اپنا لہنگا اٹھاۓ باہر آئ۔ ابھی وہ گلی ميں نکل کر انکی گاڑی ڈھونڈ رہی تھی کہ ايک ہاتھ نے اسکا ہاتھ تھاما اس نے ڈر کر ديکھا تو وہ ضامن تھا۔ جو اسے لئيے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“کيا کر رہے ہيں کہاں لے جا رہے ہيں چھوڑيں ميرا ہاتھ۔” وہ اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوۓ بولی۔
جو خاموشی سے اسے لئيۓ گاڑی ميں بٹھا کر تيزی سے ڈرائيونگ سيٹ کی جانب آيا مبادا کہ وہ لاک کھول کر اترتی۔
بيٹھتے سا تھ ہی وہ زن سے گاڑی بڑھا لے گيا۔
“آپ لاک کھول رہے ہيں ياميں شور مچاؤں۔” ہالہ کو سمجھ آگئ تھی کہ جب تک ضامن لاک نہيں کھولے گا اسکی سائيڈ کا دروازہ نہيں کھلے گا۔
وہ تھک ہار کر بيٹھ گئ۔ ضامن خاموشی سے کوئ نمبر ملا رہا تھا۔
“ہيلو! ميرے اماں ابا کو بتا دينا کہ ہالہ کی رخصتی ہوگئ ہے۔ اس وقت وہ اپنے مياں کے ساتھ اپنے گھر جا رہی ہے اور وہاں سے ڈائريکٹ اسکے بيڈ روم” ضامن کی بات سن کر اسکے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوۓ۔
“ہاہاہا! آفکورس ميں کيسے برداشت کر سکتا ہوں کے مجھ سے پہلے تو پيور شادی شدہ کہلاۓ۔ ايويں تو آج کا ڈريس نہيں بھجوايا تھا۔ دلہن بنا کر ہی اسے اپنے روم ميں لے کر جانا تھا نا” ضامن تو آج اسے شاکس پہ شاکس دينے پہ تلا ہوا تھا
اس نے کن اکھيوں سے ہالہ کے حيران چہرے کو ديکھا۔
“چل اب باقی سب کو تم سنبھال لينا۔”
کہتے ساتھ ہی اس نے فون بند کرکے ايک نظر ہالہ کے غصيلے چہرے پر ڈالی۔
پھر ہاتھ بڑھا کر اسکا جھومر ٹھيک کيا جو اسے گاڑی ميں زبردستی بٹھانے کے چکر ميں اپنی جگہ سے ہٹ گيا تھا۔
ہالہ نے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔
“دھيان سے گاڑی چلائيں جس گولڈن نائٹ کے چکر ميں يہ ساری پلينگ کی ہے نہ ايکسيڈنٹ کرا کر کہيں اس سے محروم نہ ہوجائيں۔”
ہاہاہا! اسکی جلی کٹی بات نے ضامن کو قہقہے لگانے پہ مجبور کيا۔
“کسی بھول ميں مت رہئيے گا۔میں اتنی آسانی سے آپکو اپنے ارادوں ميں کامياب نہيں ہونے دوں گی۔” اس نے غصے سے ضامن کو گھورا۔
“آہاں۔۔۔۔دشمنی کا کھلم کھلا اعلان” ضامن اسکے لہجے سے محظوظ ہوا۔
گھر آتے ہی گاڑی اندر لے جا کر اس نے ہالہ کی سائيڈ کا دروازہ کھولا اور ايک مرتبہ پھر آج اسے کوئ موقع دئيے بغير اپنے بازؤں ميں اٹھايا۔
“ضامن چھوڑيں ميں چلی جا‎ؤں گی” وہ اسکے سينے پر مکے مارتے ہوۓ چلائ۔ ضامن نے جھک کر اسکی غصے سے لال ہوتی پياری سی ناک کی ٹپ پر کس کيا۔ اور بس يہيں اسکی بولتی بند ہوگئ۔
کمرے ميں لا کر اسے بيڈ پر بٹھاتے ضامن نے پلٹ کر کمرے کے دروازے کو لاک کيا۔
ہالہ کی تو حالت غير ہو رہی تھی۔
وہ اسکے سامنے دوزانو بيڈ کے پاس بيٹھا اور اسکی گود ميں سر رکھ ديا۔
“آيم ايکسٹريملی سوری فار ايج اينڈ ايونی تھنگ۔ ميں نے آپ پے ہاتھ اپنی محبت کی انتہا میں اٹھاياتھا۔ ميرے لئيے يہ تصور ہی اتنا جان ليوا تھا کہ کوئ آپکا دعوے دار بن کر ميرے پاس آۓ اور وہ کہتے ہين نہ کہ محبت اندھی ہوتی ہے اور آپکو پتہ ہے عشق انسان کو اندھا کر ديتا ہے۔ اور آپ سے ميں نے عشق کيا تھا۔ پھر بھی ميں اس سب کے لئيے معافی مانگتا ہوں جتنا مارنا ہے مجھے مار ليں مگر مجھ سے يہ دوری والی بات مت کريں ميں نے يہ دن بہت تکليف ميں گزارے ہيں پليز ہالہ۔۔۔” ضامن ابھی بات کر ہی رہاتھا کہ ايک آنسو کا قطرہ اسکے بالوں پر گرا۔
يکدم اس نے سر اٹھايا تو دوسری طرف برسات شروع ہو چکی تھی۔
“ہالہ ميری جان” وہ بے اختيار اسکے پاس بيڈ پر بيٹھا اور اسے بانہوں ميں لينا چاہا کہ اس نے روتے ہوۓ غصے سے اسکے ہاتھ جھٹکے۔
“مت ہاتھ لگائيں مجھے۔” وہ روتے ہو‎ۓ بولی۔
ضامن نے زبردستی اسے کھينچ کر اپنے بازوؤں ميں بھينچا اور اسکے بالوں پر، ماتھے پر بوسے دئيے۔
“اتنی تکليف آپکے تھپڑ سے نہيں ہوئ تھی جتنی آپکی بے اعتباری نے دی تھی۔” اسکے سينے پر سر رکھے وہ روتے ہوۓ شکوے کر رہی تھی۔
“ويری سوری” “مجھے لگا ميں تپتی دھوپ ميں کھڑی ہو گئی ہوں۔ آپ تو ميری چھاؤں ہيں۔ ميرا سب سے قيمتی رشتہ اگر آپ ايسے کريں گے تو ميں کہاں جاؤں گی۔” رو رو کر وہ دل کی بھڑاس نکال رہی تھی اور ضامن کے لئيے اسے سميٹنا مشکل ہو رہا تھا۔
“آئندہ ايسے نہيں ہوگا۔” ضامن کے لفظوں پر وہ يفين لے آئ۔
پھر يکدم کچھ ياد آنے پر پيچھے ہوئ۔ ضامن نے حيرت سے اسے ديکھا۔
“آپ نے اس رات زما ن کے ساتھ ڈرل سے کيا کيا تھا”
“ہالہ پليز ڈونٹ ٹاک اباؤٹ اينی ون ايلس۔” ضامن نے اسکے بالوں ميں ہاتھ پھيرتے ہوۓ کہا۔
“پليز بتائيں نہ۔نہيں تو ميں ناراض ہو جاؤں گی۔” اس نے ضامن کو دھمکی دی۔
“يہ فرسٹ اور لاسٹ ٹا‏ئم بتا رہاہوں ادروائز ہم اپنے مشن اور پروفيشنل لائف سے متعلق باتيں اپنے گھر والوں کو بھی نہيں بتاتے۔”
“وہ مشن پرسنل بھی تھا اور اس سے بدلہ آپ نے اپنے پرسنل کنسرن کی وجہ سے ليا تھا۔”
“ہاں يہ صحيح ہے، جب ميں نے آپکا چہرہ ديکھا تو آئ کانٹ ٹيل يو مجھ پر کيا قيامت ٹوٹی تھی لہزا ميں نے ان ہاتھوں ميں اتنے سوراخ کئے تھے کہ وہ ہاتھ آئندہ اٹھنے کے قابل نہ رہيں”
اف ضامن آپ کتنے خوفناک ہيں” وہ حيرت سے پھٹی آنکھوں سے اسکی بات سنتی اس سے پيچھے سرکی۔
“ميں اس سے بھی دہشتناک ہوجاؤں گا اگر اب آپ مجھ سے دور ہوئ۔اسی لئيے نہيں بتا رہا تھا۔” اس نے ہالہ کو دھمکی دی۔
“اسکے تو مجھ پر اٹھنے والے ہاتھوں کے ساتھ تو يہ سلوک کيا اور آپ نے جو مجھ پر ہاتھ اٹھايا تھا اسکا کيا” ہالہ نے اسے جتايا۔
ضامن نے اسکے آگے اپنا وہی ہاتھ پھيلايا۔
“آپکی مرضی جو سلوک کرنا چاہيں کريں ميں اف تک نہيں کروں گا۔”
اپنی اسی جان ليوا مسکراہٹ سے اس نے ہالہ کو ديکھا۔
ہالہ نے ايک نظر اسکی آنکھوں ميں جھانکا جہاں ہر طرف بس وہی تھی۔
اس نے دھيرے سے اسکے ہاتھ کو تھام کر اس پہ اپنے لب رکھے پھر اپنے گال سے مس کرتے ہوۓ بولی/
” يہ ہاتھ تو ميرے نجات دہندہ ہيں” ضامن نے مسکراتے ہو ۓ اپنے ساتھ لگايا اور پھر اسے اپنی محبت کی بارش ميں بھگونے لگا

😍

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: