Tere Rang Main Rang Gaya by Arwa Malik – Episode 1

تیرے رنگ میں رنگ گیا از ارویٰ ملک قسط نمبر 1

آیت بیٹی جلدی کر جانا بھی ہے __ دادی کچن نے میں کھڑی کھڑی آیت کو ہانک لگائی
آرہیں ہوں دادی ___ شیشے کے سامنے کھڑی آیت اپنی آنکھوں کو کاجل سے لبرز کرتی خود کو دیکھ رہی تھی
دادی ابھی کالج جانے میں پورا آدھا گھنٹہ ہے اور آپ صبح ساڑھے چھ بجے ہی ہانک لگا دیتی ہو بھئی میرے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں __ آیت پراٹھا کا لقمہ منہ میں ڈالتی ہوئی بولی
تو کیا فجر تیرے فرشتے ادا کرے گے ؟؟ دادی مصنوعی غصہ سے بولی
مگر دادی میں ابھی اپنے خوابوں کو رنگ ہی رہی ہوتی ہوں کہ آپ کی آواز میرے سارے رنگ پھیکاے کر دیتے ہیں ____ آیت منہ بسورتی ہوئی بولی
بس کر کتنا پراٹھا کھائے گی موٹی ہوگئی تو حدید بھی شادی نہیں کرے گا اب اٹھ جا تیری بس بھی آتی ہوگی __ دادی برتن اٹھاتے ہوئی بولی
آیت حدید کا نام سنتے ہی شرما گئی
آیت کے ماں باپ بچپن میں ہی گزر گے تھے جس کی وجہ سے اس کی دیکھ بھال اور اپنے نواسے حدید سے آیت کا رشتہ پکا کیا دادی نے ہمیشہ آیت کو ہتھيلي کا پھپھولا بنا کر رکھا بس اب ان کو انتظار تھا حدید کی نوکری لگے اور لگے ہاتھ آیت کے ہاتھ پیلے کر دیں آخر بوڑھی ہڈیاں کب تک جوان لڑکی کو سنبھالے گئیی
دادی ہمیشہ آیت کو بس اسٹاپ پر چھوڑنے جاتی تھی واپس پر سارے کام مکمل کرتی تھیں
آیت کینٹین میں بیٹھ نوشی سے گپ شپ میں محویت تھی جب صبا لہرتی ہوئی آئی __ تم لوگوں نے سنا پرسوں آرٹ کمپیٹیشن ہے
یکدم آیت کے کان کھڑے ہو گے
اور پتا ہے جس کی پینٹنگ سب سے اچھی ہوگی اس کو فتح حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی آرٹس انٹرنیشنل گیلری میں لگی جائے گی ساتھ ساتھ دو لکھ انعام بھی اس سے اچھا گولڈن موقع نہیں ملنا
آیت تو خوشی سے نہال ہونے لگی کیوں نکہ آیت کا عشق ء جنون ہے پینٹنگ کرنا جب سے بڑی ہوئی کبھی کسی جذبے سے آشنا نہ ہوئی صرف ایک حدید تھا جس کی قربت کے سحر ہوئی تب سے ہر رشتے کا اظہار آیت اپنی آرٹ کی صورت میں بیان کرتی
مگر حدید کو کبھی نہ پسند تھا آیت کا یوں رنگوں سے کھیلنا مگر عشق ء جنون کہاں چوڑا جاتا ہے
صبا یہ آرٹ کمپیٹیشن کہاں ہو رہا ہے __ آیت معصومیت سے پوچھتے ہوۓ نوٹ بک نکل رہی تھی
صبا جو جو بتاتی رہی وہ لکھتی رہی
تم جاؤ گی ؟؟؟ صبا اپنا بیگ اٹھا کر بولی
آیت اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی
کیا تمہاری دادی تمہیں اتنا دور بھیجے گئیں ؟؟ صبا چونکی
اگر کچھ حاصل کرنے کی چاہ ہو تو اللّه ضرور راستہ بنا دیتا ہے میں تم لوگوں سے کل ملوں گی __ آیت اپنا بیگ سنبھالتی باہر آ گئی
دادی صبح سے ہی کام میں لگی ہوئی تھی آج بیٹی نے آنا تھا اس لیے ہی دادی صبح سے کھانے میں جوڑ چکی تھی
دادی !!!! آیت گھر میں داخل ہوتے ہوۓ بولی
اررے ایسے کیوں چیخ رہی ہے ؟؟؟ چور پر گے ہیں یا پولیس پیچھے لگ گئی کبھی اللّه رسول ؐ کا بھی نام لیا کر ___ دادی سپاٹ لہجے میں بولی
دادی ؟؟؟ آیت یکدم چونکی دادی کو اتنا سارا کام کرتے دیکھ کر
آپ جائیں آرام کریں یہ سب میں کر لوں گی __ آیت دادی کے ہاتھ سے ٹرے تھام کر بولی
دہن سے کرنا آج ذمیم آرہی ہے اچانک ہی اس نے بتایا آج آنے کا بس اسی کی دعوت کے لیے صبح سے لگی ہوئی ہوں ___ دادی پانی کا گھوٹ لیتے ہوئی بولی
پھوپھو آرہیں ہیں ؟؟؟ آیت اور زیادہ خوش ہو گئی واہ آج تو لگتا ہے میری قسمت کے چار چاند ایک ساتھ جاگ اٹھے __ آیت منہ ہی منہ میں ﮨﮍﺑﮍﺍئی
رات آٹھ بجے پھوپھو کی آمد ہو ہی گئی سب کچھ تیار تھا بس میٹھا تھا جو سیٹ ہونے کے لیے رکھا تھا __
زمیم پھوپھو رحیم پھوپھا آئے ___ آیت مسکراتی ہوئی ملی جس کہ انتظار میں تھی وہ کہیں نہ تھا نظر تو بس اسی کی تلاش میں تھی نہ جانے وہ کیوں نہ آیا جبکہ آج میٹھا بھی اسی کی پسند کا ہے ___ آیت دل ہی دل میں کڑ کر رہ گئی
پھوپھو رباب نہیں آئی ؟؟؟ آیت کچن کی طرف جاتے ہوئی بولی
آئی گی اب شادی پر ہی پتا تو ہے اس کے بچے اس بیچاری کی جان کہاں چھوڑتے ہیں __ پھوپھو محبت سے بولتی ہوئی دادی کو ملنے لگی
شادی ؟؟؟؟ آیت چونکی
آیت سارا کھانا نکل کر باہر لینا شروع ہوگی تھی جبھی اس کی نظر سامنے بیٹھے مسکراتے چہرے پر گئی ___
حدید !!!!! آیت اپنے ہی لب کٹ گئی
وہ دادی مجھے نئی جاب ملی ہے اور کمپنی نے ہی گاڑی دی ہے وہی پارکنگ کر رہا تھا اسی لیے اوپر آتے دیر ہو گئی ___ اصل میں یہ لفظ وہ آیت تک پہنچ رہا تھا جس کے چہرے پر خفگی طاری ہو چکی تھی
کھانا بہت مزے کا بنا ہے ___ پھوپھو پہلا نوالہ لیتی ہوئی بولی ___ پھوپھا بھی مزے لیے کھا رہے تھے مگر حدید کے ہاتھ تھام چکے تھے وہ ایک نوالہ تک نہیں منہ میں ڈال رہا تھا
بیٹا کیا ہوا کھانا نہیں پسند آیا ؟؟؟ کہو تو آیت سے کچھ اور بنوا دوں ؟؟؟ دادی محبت سے بولی اور کچھ حیران ہوتے ہوۓ بھی
نہیں دادی ابھی بھوک نہیں جب بھوک ہو گئی میں آیت سے بول دوں گا __ حدید سرسری سے بولا
آیت ویسے ہی کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی مگر کسی چیز کی کمی ہوتی فورا کچن سے جا کر لے آتی
کھانا ختم ہونے کے بعد آیت چائے کی تیاری میں لگ گئی ساتھ ساتھ میٹھا بھی دیکھ رہی تھی جو سیٹ ہونے رکھا تھا
اپنے کام میں محو اسے پتا ہی نہ چلا کب حدید دروازے میں کھڑا اسی کو یک ٹک دیکھ رہا تھا
چینی چائے میں ڈالوں یا الگ سے رکھوں ؟؟ یا اللّه یہ چھوٹی چھوٹی باتیں کتنا پرشان کر دیتی ہیں __ اس کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا __ ایک کام کرتی ہوں دادی سے پوچھتی ہوں __ آیت جیسے ہی پیچھے مڑی حدید کو مسکراتا دیکھ کر خفا ہوئی
آپ یہاں ؟؟؟ آپکو تو آنا نہیں تھا اب کیوں آئے ہیں آپ ؟؟؟ خفگی سے بولتی ہوئی حدید کی سائیڈ سے دروازہ عبور کرنا چاہا
حدید نے فوراً کلائی موڑتے ہوۓ آیت کو اپنے سامنے کیا __ میں یہاں تمہارے لیے کھڑا ہوں اور تم باہر جانا چاہتی ہو ؟؟؟ حدید بھوئیں اُچکاتے ہوۓ بولا
آپکو مجھے سے کیا میرے ہاتھ سے بنا کھانا تک نہیں کھایا اپنے تو اب یہاں کیوں آئے ہیں __ آیت بھی منہ بنا کر بولی
“جن کے ہاتھ سے بنا ہے کھانا ان کے ہی ہاتھ سے کھانے کا لطف آتا ہے ،، حدید آیت کے ہاتھ چوم کر بولا ___چلو اب پرانی فلموں کی ہیروئن کی طرح مت شرموں مجھے کھانا دو ___ حدید کرسی کھیچ کر بیٹھ چکا تھا
آیت ایک نظر حدید کو دیکھتی اور دوسری نظر باہر بیٹھے خوش گپی میں محو پھوپھو اور دادی کو جو چائے کے انتظار میں تھے
اب کھڑی کیا ہو کھانا دو اور ان لوگوں کی فکر نہ کرو بڑے لوگوں کی باتوں میں ہم دو چھوٹوں کا کوئی کام نہیں __ حدید اپنی ہنسی ڈوبا کر بولا
ٹیبل پر کھانا رکھتی آیت چونکی __ کیا مطلب آپکا
اچھا بتاتا ہوں __ حدید اپنی کرسی آیت کے قریب کر چکا تھا اور منہ کھول کر نوالہ کا انتظار کرنے لگا
آیت نوالہ بنا بنا کر حدید کو کھیلاتی رہی _
یار کھانا بہت اچھا ہے کہاں تھا نہ ” جن کے ہاتھ سے بنا ہے کھانا ان کے ہی ہاتھ سے کھانے کا لطف آتا ہے ،، ساتھ ہی آیت کے ہاتھوں کا بوسہ لینے لگا
حدید کیا کر رہیں ہیں پلیز کوئی دیکھ لے گا __ آیت کی شکل رونے والی ہو گئی
اب تو سب یہ ساری ہی زندگی دیکھے گئیے ” میں تو ہر روز تمہارے ہی ہاتھوں سے کھانا کھاؤں گا ،،
حدید اب کی بار نوالہ آیت کو کھیلانے لگا
حدید آپکو کیا ہوگیا ہے ___ آیت آنسو رک کر بولی
آیت کی معصومیت پر حدید کو مزید پیار آیا
آیت !!! حدید آیت کا ایک ہاتھ اپنے دل سے لگا چکا تھا اور دوسرا ہاتھ اس کے چہرے سے بوسہ لیتی زلفوں کو چھونے لگا ___ آیت شرم سے منہ جھکا گئی
جب میرے پاس کچھ نہ تھا تبھی بھی تم تھی تمہاری بے لوث محبت جبکہ دنیا پہلے جیب دیکھتی پھر محبت کرتی ___ مگر میں خوش نصیب ہوں تم صرف میری ہو صرف میری تمہاری محبت تبھی میری تھی آج بھی ،، میں نانو کو اور انتظار نہیں کروا سکتا اور نہ ہی خود میں اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہوں آج ہماری شادی کی تاریخ رکھی جا رہی ہے
” آیت میری زندگی کو اپنی محبتوں کے رنگ سے رنگ دو ،، حدید مزید آیت کے نزدیک ہوا
آیت کو حدید کی آواز بلکل اس کے دل سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی آیت کا دل حلق کو چھونے لگا وہ خوش بھی تھی حدید کے اظہار پر اور ڈر بھی رہی تھی کوئی دیکھ نہ لے
بولو آیت ؟؟؟ حدید ہاتھ سے آیت کی ٹهوڑی اوپر کرتے ہوۓ بولا __ جہاں آیت کی آنکھوں میں آنسو اپنی جگہ سنبھال چکے تھے
آیت نے فوراً اپنی آنکھیں بند کر لی جیسے ابھی وہ خواب میں اور یہ خواب کہیں ٹوٹ نہ جائے
آیت ___ حدید مزید آیت پر جھکا
آیت نے اثبات میں سر ہلایا ___ حدید اب بھی اس کی قربت میں رہنا چاہتا تھا مگر یوں اس کو ستا کر نہیں

Read More:   Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 25

امی جان میں شادی کی تاریخ چاہتی ہو اللّه کے کرم سے کماؤ پھوت ہوگیا ہے اب آیت کی ذمداری سنبھالے گا ویسے بھی بھائی جان اپنی بیٹی مجھے ہی دے گے تھے میں بہو نہیں بیٹی بیا کر لے جاؤں گی
دادی کا چہرہ مسکرایا __ تیری امانت ہے جب چاہے لے جا بس میری آیت کو خوش رکھی بن ماں باپ کے بیٹی ہے رشتوں کی ڈوری ابھی اس نے دیکھی نہیں مگر محبت اور خلوص کی کوئی کمی نہیں
امی جان میں جانتی ہوں اور یہ میری ہی بیٹی ہے جیسے رباب میری بیٹی ہے بس اب اگلے ماہ کی تاریخ رکھیے

حدید آپ سے ایک بات بولوں آپ برا تو نہیں مانوں گے ___
حدید جو اس کے ہاتھ تھامے بیٹھا تھا ہولے سے مسکرایا ” تم جو بولنا چاہتی ہو بولا کرو تمہیں اجازت کی ضرورت نہیں ،،
حدید آرٹ کمپیٹیشن ہو رہا ہے میں حصہ لینا چاہتی ہوں ___ آیت نے نظر اٹھا کر دیکھا حدید کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے
تم یہ اپنا شوق فروگزاشت کر دو ” مجھے نہیں پسند تم جو رنگ بھرو لوگ اس کی قیمت لگے یہ رنگ میری زندگی کو سجانے کے لیے بنئے ہیں عورت اپنے مرد کی زندگی کو رنگتی اپنے رنگوں سے دوسروں کی دلجوئی نہیں کرتی ،، حدید کا لہجہ تلخ ہو گیا
آپ جانتے ہو میرا ایک ہی شوق ہے پلیز حدید ایک بار میں شادی کے بعد کبھی نہیں بولوں گی نیکسٹ ویک کمپیٹیشن ہے میں بس حصہ لینا چاہتی ہو اگر اللّه کی رضا ہوئی میں سلیکٹ ہو گئی ورنہ دوبارہ کبھی نام بھی نہیں لوں گی ___ آیت مسحور لہجے میں بولی حدید ہمیشہ اس کے لہجے کا سحر ہو جاتا تھا
ٹھیک ہے مگر یہ آخر بار اس کے بعد یہ ہاتھ صرف اور صرف میری زندگی کے رونگوں کو سوارے گیں
آیت کی آنکھیں چمک اٹھی وہ آج سے پہلے کبھی اتنا خوش نہیں ہوئی اجازت بھی مل گئی اور اب تو پیا جی کے سنگ ہو جانا
سب کے جانے کے بعد آیت دادی کے پاس لیٹی اپنے بالوں میں انگلیاں چلئ ہوئی کسی گہری سوچ میں مگن تھی
تو پرسوں اپنا ناپ دے دی تیرے سسرال والے مانگ کر گیں ہیں ___ دادی کپڑے الماری میں رکھتے ہوئی بولی
دادی اگر میں آرٹ کمپیٹیشن جیت گئی تو انعام کی رقم سے آپکو عمرہ کرواؤں گی ___ جانے کیا سوچ رہی تھی
ہیں ؟؟؟ لڑکی کون سا آرٹو۔کومپ۔سٹیشن اے کیا بولی ؟؟؟ میرے تو پلے نہیں پڑا ؟؟ دادی گھور کر بولی
دادی مجھے تصویروں میں رنگ ڈالنا پسند ہے بس وہی موقع مل رہا ایسے لوگوں کو اور جو جیتے گا اسکو دو لکھ انعام ملے گا پھر اپنی پیاری دادی کو عمرہ کرواؤں گی ___ آیت محبت سے دادی کی گود میں سر رکھتے ہوۓ بولی
تو جائے گی کس کے ساتھ ؟؟؟ دادی جھنجھوہٹ سے پوچھا
دادی نوشی کے ساتھ جاؤں گی __ آپ فکر نہیں کریں اس بات کی اجازت مجھے حدید دے چکے ہیں
⭐⭐⭐⭐⭐
حدید بیٹا ناشتہ تو کرتے جاؤ __ زمیم نے بیٹے کو دروازے کے پاس بھاگتے ہوۓ روکا
امی جان آج جلدی پہنچنا ہے میٹنگ ہے باس ناراض ہوگیا تو یہ جاب ہاتھ سے چلئ جائی گی __ حدید اپنی بات مکمل کرتے ہوۓ باہر بھاگا
میٹنگ تو کافی اچھی تھی __ حدید کا دوست اسے سراھتے ہوۓ بولا
شکریہ ___ اچھا مجھے ابھی جانا ہے تم یہ کام دیکھ لو ذرا __ حدید اپنا کام سمجھتے ہوۓ باہر کی طرف لپکا
کیوں نہ آج آیت کے آرٹ کمپیٹیشن پر جا کر اسے اپنے آنے کا سرپرائز دوں پھر وہی سے اس کو شادی کی شاپنگ کے لیے لے جاؤں گا ___ حدید ڈرائیو کرتے ہوۓ مان ہی مان میں خود سے ہی باتیں کرتا رہا
⭐⭐⭐⭐⭐
نوشی یار یہ صبا کہاں ہے آج اس نے ہمیں آرٹ کمپیٹیشن پر لے کر جانا تھا اب خود کہاں مر گئی یہ ___ آیت جھنجھلائی ہوئی بولی
وہ دیکھو آرہی سامنے سے __ صبا ہاتھ میں کتاب تھامے ان ہی لوگوں کی طرف آرہی تھی
یار بہت دیر کر دی اب چلو ___ آیت صبا کا ہاتھ تھامے باہر کی طرف ہوئی مگر نوشی وہی کھڑی رہی
تم بھی چلو یا گود میں اٹھا کر لے جاؤں پہلے ہی دیر ہو رہی دادی نے بہت مشکل سے اجازت دی ہے __ آیت وہی کھڑی دانت پس کر بولی
یار میری امی کی طبیت نہیں ٹھیک تم لوگ جاؤ __ نوشی وہی سے ہی مڑ گئی آیت اور صبا نے ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا
کچھ ہی دیر میں دونوں بہت بڑی بلڈنگ کے سامنے کھڑی تھی ___ نہ جانے کیوں آیت کا دل ڈرا
ہولے ہولے قدم رکھتی اندر چلئ گئی
تم یہاں روکو میں آتی ہوں ___ صبا دوسری طرف چلئ گئی ___ آیت کچن میں ہی یہ لوکیشن بتا چکی تھی حدید کو __ دل ہی دل سوچ رہی تھی کاش حدید یہاں ہوتے تو کتنا خوش ہو جاتے آج اس نے حدید ہی کی تصویر کو رنگوں سے رنگنہ ہے
معاف کیجیے گا کیا آپ بھی یہاں آرٹ کمپیٹیشن میں حصہ لینے آئیں ہیں ؟؟؟ ایک لڑکا گلہ کھنکھارتے ہوۓ بولا
آیت کبھی یوں کسی مرد کے سامنے نہیں جاتی تھی نہ کبھی دادی نے جانے دیا اسے ہمیشہ پردے میں رہنا اور لوگوں سے دور رہنا پسند تھا
جی ؟؟؟؟ آیت نے سوالیہ نظروں سے دیکھا دوسرے ہی پل اس کی نظر صبا کو ڈھونڈنے لگی
میں آپ کو چھیڑ سکتا ہوں ؟؟؟ لڑکا مزید آیت کے قریب آیا
یکدم آیت دور ہوئی جس دروازے سے آئی تھی وہ دروازے بھی باہر سے لاک ہو چکا تھا __ آیت کو اس کی جان فنا ہوتی ہوئی محسوس ہوئی
صبا !!!! صبا دروازہ کھولو خدا کا واسطہ ہے __ آیت بلک بلک کر رونے لگی
میری جان صبا نہیں سبق سیکھنا ہے تمہیں __ لڑکا واپس سے آیت کے قریب ہوا
آیت نے بہت زور ڈالا دماغ پر مگر اس کو کچھ یاد نہ آیا __ بار بار سوچنے پر بھی اس کو ناامیدی ہی ہوئی __ آیت بے هنگم آوازں نکلنے لگی
یار تم چیختی بہت ہو پہلے تمہارا علاج کرتا ہوں __ زناٹے دار تھپڑ گلہ پر رسید کرتے ہوۓ بولا
آیت کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ دھُندلانے لگا اس کی سمجھ سے سب کچھ باہر ہونے لگا
وہ لڑکا کسی کال پر بات کر رہا تھا __ آیت کا ماوف پڑتا جسم صرف ایک ہی چیز کو تھامے تھا ” دروازہ ” وہ بار بار کھولنا چاہ رہی تھی
لڑکا آگے ہوا دروازہ کھول کر سائیڈ پر کھڑا ہوگیا
آیت اپنے ہوش سنبھالتی ہوئی باہر کی طرف بھاگی
حدید گاڑی کھڑی کرتے ہوۓ اسی پتے پر جا رہا تھا اچانک اس کی نظر آیت پر پری __حدید چونکا
کیا ہوا آیت تم ٹھیک ہو یہ تمہاری ناک سے خون کیوں رس رہا ہے ؟؟؟ حدید اس کے ٹھنڈے پڑتا جسم چھو کر ڈرنے لگا
وہ وہ ___ آیت کی آواز ٹک چکی تھی
حدید آیت کو گاڑی میں بیٹھا کر جانے لگا جب اس کی نظر اندر سے آتے لڑکے پر پڑی جو حدید کو ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا جانے کیوں حدید کے دماغ میں شک کے امبار لگ چکا تھے آیت ویسے بھی نیم بیہوش ہو چکی تھی ___ حدید اپنی گاڑی ہسپتال کی طرف کر چکا تھا __ کچھ ہی دیر میں ہر رپورٹ حدید کے ہاتھ میں تھی جس میں کچھ بھی غلط نہیں تھا __ حدید نے سکھ کا سانس لیا
آیت کے ہوش میں آچکی تھی مگر اب بھی ڈری سمی بیٹھی تھی حدید نے سوچا بعد میں پوچھ لوں گا
آیت رات بھی صرف یہی بات سوچ رہی تھی آخر کون انسان تھا وہ آخر کیوں وہ یہ سب کر رہا تھا اور صبا وہ کہاں چلئ گئی تھی ؟؟؟
⭐⭐⭐⭐⭐

Read More:   Woh Larki by Umair Rajpoot – Last Episode 6

پیلے پھولوں میں سجاہی بیٹھی آیت بہت پیاری لگ رہی تھی خود بھی وہ پھول سے کام نہ تھی __ ہر نظر ہی اس پر تھی __ رسم چل رہی تھی حدید کے بار بار میسیجز آ رہے تھے
ذرا چھت پر آؤ __ ساتھ میں اداس شکل والا یمو تھا
اگر میں نہ آؤں تو ؟؟ آیت نے شرارت سے رپلائ بیجھا
اگر نہ آئی تو سب کے سامنے اٹھا کر لے جاؤں گا __ حدید دھمکی دیتے ہوۓ بولا
ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی آپ مجھے سب کے سامنے ہی لے کے جاؤ __ آیت نے آنکھ مارتے ہوۓ یمو بیجھا
حدید چھت سے ہی آیت کو دیکھا رہا __ اوہ تو میڈم چاہتی ہیں سب کے سامنے اس کو لے کے جاؤں ٹھیک ہے ___ حدید کندھے اُچکائے ہوۓ نیچے اترا
حدید بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ آیت کے سامنے کھڑا ہوگیا __ آیت کا حلق خشک ہونے لگا
اے لڑکے چل جا یہاں سے یہ لڑکیوں کی محفل ہے __ دادی خفا ہوتے ہوئی بولیں
نانو جان ” ہم شرافت سے چاہتے تھے مذاکرات تہہ ہو جائے مگر کیا ہے دوسری پارٹی کو شرافت نہیں پسند اب ہم اپنی بدمعاشی سے کام لے گئیں ،، حدید بولتا ہوا آیت کی طرف لپکا
ھای اللّه __ آیت ڈر گئی کہیں وہ اس کو اٹھا کر نہ لے جائے وہ بھی سب کے سامنے __ آیت نے اندر کی طرف دوڑ لگائی
ادھر آ تجھے میں بدمعاشی سیکھوں __ دادی نے حدید کا کان مرور دیا
آے نانی جان مر گیا ___ حدید کان پکڑتے ہوۓ بولا
تو میری پوتی کو تنگ کرے گا اور میں کچھ نہیں بولوں گی __ دادی آنکھ دیکھ کر بولی
نانو میں معصوم بھی تو آپکا نواسا ہوں میرا سے محبت نہیں ہے کیا ؟؟ حدید کان چھڑواتے ہوۓ بولا
ابھی تو تیری بدمعاشی نکلنی ہے __ دادی کا ہاتھ پھر سے حدید کے کان کی طرف ہوا
حدید فوراً کان بچتے ہوۓ اندر بھاگا __ اس آیت کو چھوڑوں گا نہیں میرا کان توڑوا دیا لو بھلا میرا قصور کیا تھا
آیت ٹھنڈا پانی پیتی ہوئی واپس اپنے کمرے کی طرف مڑی سامنے ہی ٹیبل پر بیٹھا حدید سیب چباتے نظر آیت پر یک ٹک لگائے دیکھتا رہا
آیت ڈر کر پیچھے ہوئی حدید چلتے ہوۓ آیت تک آیا آیت پھر پیچھے ہوئی اب کی بار سلپ سے لگ چکی تھی __
یار اور کتنا پیچھے جاؤ گی اب جگہ نہیں رہی __ حدید مزید قریب ہوتے ہوۓ بولا
وہ میں ___ آیت کے الفاظ رک رہے تھے
سسہہہسس !!!! حدید اپنی انگلی آیت کے لبوں پر رکھ چکا تھا __ ہاں تو ہم کہاں تھے __ حدید مدھم لہجے میں بولا
ہم باہر بیٹھے تھے __ آیت آنکھ ٹمٹماتے ہوئی بولی
حدید کو اس کی بات پر ہنسی آئی __ اس کی معصومیت ہی ہمیشہ حدید کا دل پگھلا دیتی
” محبت اتنی کر بیٹھا ہوں اب اپنے سایہ میں بھی تیری پرچھاہی دیکھتا ہوں ،، حدید محبت سے آیت کے رخسار پر انگلی پھیرنے لگا
آیت ___
حدید کی آواز اُبھرنے پر آیت کی آنکھ اشکبار ہونے لگی
میں جانتا ہوں تم ہمیشہ زندگی میں اکیلی رہی ہو صرف ایک دادی نے تمہارا ہاتھ تھاما اور میرے نام نے تمہیں اپنی محبت کے حصار رکھا مگر میں وعدہ کرتا ہوں میں تمہیں کبھی نہیں دکھ دوں گا __ حدید آیت کے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا حدید خوشی میں کبھی اتنے وعدے نہیں کرنے چاہیے یہ ٹوٹ جاتے ہیں __ آیت نظر چرا کر بولی
اچھا !!! حدید انگلی سے آیت کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوۓ بولا __ پھر مگر ایسا ہوا تو تم مجھے جو سزا دو گی مجھے قبول ہوگی
اب جائے ___ آیت حدید کو دھکا دیتے ہوئی بولی
حدید نے بھوئیں چڑھاتے ہوۓ دیکھا__ اچھا اب دھکا دے کر دیکھوں __ حدید آیت کو اپنے حصار کے چوگرد میں لے چکا تھا __ اب کتنا دھکا دوگی اٹھنا ہی یہ حصار تنگ ہوگا
حدید پلیز __ آیت کے رونے میں رفتار زیادہ ہونے لگی
یار مجھے مجبور نہ کیا کرو یہ آنسو دیکھا کر __ حدید ٹیبل پر بیٹھتے ہوۓ بولا __ آیت کو ساتھ اشارہ کیا بیٹھنے کا
حدید اپنی انگلیاں آیت کی انگلیوں میں پھنس چکا تھا ___ اس دن اتنی ڈری ہوئی کیوں تھی ؟؟
حدید کے سوال پر آیت چونکی
وہ میں ڈر گئی تھی اتنے لوگوں کو وہاں دیکھ کر __ آیت نظر چرا کر بولی
اور جو تمہارے ناک سے خون رس رہا تھا اس کا کیا ؟؟ وہ کیسے نکالا ؟؟ حدید کی نظر یک ٹک آیت کو ہی دیکھ رہی تھی
وہ میں بدحواسی میں چل رہی تھی دروازہ میری ناک سے جا لگا اور خون رسنے لگا ایک دم میرا دل گھبرایا میں باہر کی طرف بھاگی __ آیت بنا نظر ملا کر بولی
اچھا !! حدید صرف اتنا بول کر اٹھ کھڑا ہوا __ آیت میں اب چلتا ہوں کل آؤں گا برات لے کر مسکراتے ہوۓ آیت کو ایک نظر دیکھتے ہوۓ حدید باہر چلا گیا __ آیت کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا جو ابھی تک اتنی محبت نیچوار کر رہا تھا یکدم خاموش تماشائی کیوں بن گیا
آیت نہیں بتانا چاہتی تھی کیوں نکہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ انسان کون تھا ؟؟ کہاں سے آیا ؟؟ کیوں آیت کو ایسے تنگ کر رہا تھا ؟؟ آخر کیوں اور صبا کہاں تھی ؟؟؟ آیت کے دماغ میں سوال لاوے کی طرح پھوٹنے لگے

Read More:   Tery Ishq Nachaya by Hoor e Shumail – Episode 1

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply