Tere Rang Main Rang Gaya by Arwa Malik – Last Episode 2

تیرے رنگ میں رنگ گیا از ارویٰ ملک آخری قسط نمبر 2

آج برات تھی آیت بار بار دادی کے ہاتھ چوم رہی تھی ___ دادی آپ بھی ساتھ آجاؤں __ آیت محبت سے دادی کا ہاتھ تھامے بولی
نہیں میری جان وہ میرے داماد کا گھر ہے اور ماں یوں بیٹیوں کے گھر نہیں جایا کرتی __ دادی محبت سے آیت کو اپنی نظروں کا کاجل بنا کر آنکھوں میں اتر رہی تھیں
نہیں دادی میں حدید کو بولوں گی آپ کو بھی وہی لے آئے ورنہ میں روٹھ جاؤں گی ان سے __ آیت محبت سے کہتے ہوۓ دادی کے گلے لگ گئی
بیٹی ” مرد سے کبھی نہیں روٹھی ورنہ فاصلہ آیے گا اور یہ فاصلہ فساد میں بدل جائے گا مرد کچھ بول لے صبر سے سن لی تو اگر پانی بن جائے گی تیری برداشت صبر سب کا دل جیت لے گا سب امید یقین اللّه پر رکھی ،، دادی محبت سے بولی ہوئی آیت کے ماتھے کا بوسہ لے رہی تھی
برات آ گئی __ یہ آواز آنے کی دیر تھی کہ آیت جھٹ سے گھونگھٹ ڈال کر بیٹھ گئی جیسے حدید سامنے ہی کھڑا ہو
براتی سب ہی ایک کے بعد ایک پکچر بنوا رہے تھے نکاح بھی خوبصورتی سے ہو چکا تھا __ کافی دیر گزر چکی تھی کتنی ہی بار حدید نے چاہا آیت کو دیکھنا مگر آیت گھونگھٹ مزید لمبا کر دیتی
آیت رخصت ہو کر پیاجی کے گھر آگئی
کمرہ لال پھولوں کی لڑریوں سے سجاہوا تھا مدھم مدھم آتی خوشبو آیت کو اپنی قربت میں لیے ڈوبی تھی __ ابھی وہ اس خوبصورت خواب کو اپنی سانسوں میں بھر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی __ حدید کھنکھارتا ہوا اندر گیا __ آیت کا حلق خشک ہونے لگا ___ حدید محبت سے آیت کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا
تم نے آج بہت ستایا جان بوجھ کر چہرہ نہیں دیکھایا اب میں ایک ایک بدلہ لوں گا __ حدید کی نظر آیت کے حنا سے رنگے ہاتھوں پر تھی جہاں وہ اپنا نام تلاش کر رہا تھا
گھونگھٹ لیے بیٹھے ہیں محبوب میرے
دل میرا تڑپ بیٹھا ہے ساجنا
تیرے ان نخروں پر وارہ جاؤں ساجنا
حنا میں ڈوبا میرا نام تیرے ہاتھوں پر
میرے نام کو کرتی ہیں موتی جیسا سہنرہ
میرا سر جو جھکا سجود میں
تو نے بھی کر لیے محبت کے لمبے سجدے
یہ رات جو آئی ہے ملن کی تو کیوں نہیں دیکھا رہے چہرے ء چاند سا
کیوں لیے بیٹھو ہو گھونگھٹ کیوں مجھے کو تڑپائے بیٹھے ہو ساجنا
حدید اپنی محبت اور چاہتوں کا اظہار کر رہا تھا آیت بھی شرمی بیٹھی
حدید کے ہاتھ آیت کے گھونگھٹ کی طرف گئے مگر آیت نے گھونگھٹ مظبوطی سے تھام لیے __
پلیز یار اب اور نہیں ترپاؤ __ حدید منہ بنتا ہوا بولا
پہلے میری منہ دیکھائی ؟؟؟ آیت نے ہاتھ آگے کیا
حدید نے ہاتھ تھام کر بوسہ سے نوازا __ حدید کی آنکھوں میں شرارت اتر آئی __ یہی تھی آپکی منہ دیکھائی
آیت نے نفی میں سرہلایا __
اررے یار تم لڑکیاں بھی نہ __ حدید اٹھا سامنے ٹیبل کے دراز سے باکس نکلنے لگا باکس تھامے پلٹا ہی تھا اس کی نظر ایک خط پر گئی جو نیلے رنگ میں لپٹا تھا __ حدید اس کو تھامے وہی کھولنے لگا
جسے جسے ایک ایک لفظ اس کے زبان پر آتے گے حدید کی کنپٹپاں سلگتی گئی
وہی خط ساتھ جو تصویر تھیں آیت کے منہ پر دے ماری __
تو یہ تھا تمہارا آرٹ کمپیٹیشن اس اسلئے اجازت چاہیے تھی تمہیں __ حدید دھاڑ رہا تھا آیت منجمند ہو چکی تھی
پڑھو اس خط کو ___ حدید چنگھاڑا کر بولا
آیت کپکپی انگلیوں میں خط تھامے لرزش کرتی آواز میں خط پڑھنے لگی
مر ۔۔ میری پھی ۔۔پیاری آیت
حدید آیت کا منہ اپنے ہاتھوں میں دبوچے پھنکارہ __ منہ میں زبان نہیں ہے کیا ٹھیک سے پڑھو
میری پیاری آیت !!!
شکریہ اس دن آنے کا مجھے بہت خوشی ہوئی تم آئی تمہاری محبت صرف اور صرف میرے لیے ہے تمہارا پیار تم پر میرا حق __ میں جانتا ہوں تم اس گھٹیا انسان سے شادی نہیں کرنا چاہتی جس کی وجہ سے تم نے خود خوشی کی کوشش کی اگر میں وہاں نہ ہوتا تو اپنی ” جان ،، کو کھو ہی دیتا مگر میں تمہیں جلدی یہاں سے لے جاؤں گا اور یہ ہماری محبت کی کچھ نشانیاں پکچر جو اس دن محبت کی قربت میں لی گئی ____ تمہارا پیار جلدی ملے گے اور آج کھڑکی کو سامنے آؤ تمہارا انتظار کر رہا
حدید فوراً کھڑکی کے پاس گیا وہاں ایک لڑکا کھڑا مسکرا رہا تھا __ حدید کو کچھ یاد آیا اس دن والا اس کی مسکراہٹ __ حدید فوراً اس کے پیچھے بھاگا
آیت حرات سے ایک کے بعد ایک تصویر دیکھ رہی تھی ___ جس میں آیت خود اپنا دوپٹہ اس لڑکے کو تھاما رہی ہو __ وہ لڑکا آیت پر جھکا ہوا تھا اور بھی بہت کچھ __ آیت کے دماغ میں دھمکا ہوا وہ جو اپنی عزت بچا رہی تھی پھر یہ سب کیوں
حدید واپس آیا پاوں پٹخ کر آیت تک پہنچا __ آیت کے بال اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر بولا
تمہارا عاشق آج تو بچ گیا مگر اگلی بار جان سے جائے گا چلو تم بھی اب نکالو یہاں سے __ حدید آیت کو دھکا مرتے ہوۓ کمرے سے نکل چکا تھا
حدید میری بات سنئے میں نے کچھ نہیں کیا میں اس لڑکے کو جانتی تک نہیں حدید پلیز ___ آیت روتی رہ گئی مگر اس کی سنے والا کوئی نہ تھا
صبح ہوئی پھوپھو آیت سے ملنے آئی مگر آیت کو دروازے پر روتا دیکھ اس کی جان ہی نکل گئی
آیت !! یہاں ایسے کیوں بیٹھی ہو کوئی بات ہوئی ہے ؟؟؟ حدید کہاں ہے ؟؟؟
اس نے مجھے نکل دیا ہے __ آیت پھوپھو کے سینے سے لگ کر رونے لگی
حدید دروازہ کھولو __ حدید سنا نہیں تم نے
حدید دروازہ کھولے سامنے ہی کھڑا تھا __ جی ماما ؟؟؟؟ حدید چڑچڑا ہو کر بولا
پھوپھو آیت کا ہاتھ تھامے اندر آئی
ماما یہ گھٹیا عورت اندر نہیں آئی گی __ حدید کرخت لہجہ میں بولا
بکواس نہیں کرو ورنہ ابھی میرا ہاتھ اٹھے گا __ پھوپھو اندر آکر دروازہ بند کر چکی تھی ___ حدید سے ساری آبیتی سن کر پرشان ہوئی
دیکھو حدید یہ خط یہ تصویر کتنی سچی یا جھوٹی میں نہیں جانتی نہ ہی یہ کچھ ثابت کرتی ہیں یہ تمہاری اب بیوی ہے اور نیچے مہمان ہے میں کوئی تماشا نہیں بنوانا چاہتی اگر تم نہیں نبھا سکتے تو میں اسی لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کر دوں گی فصیلہ تمہارے ہاتھ میں ہے __ پھوپھو اپنی بات کرتے ہوۓ باہر چلئ گئی
آیت کا دل سلگ اٹھا وہ تو صرف حدید کو چاہتی ہے ___ آیت کی شادی کا سن کر حدید کے دل کو بھی کچھ ہوا آنکھ لال ہونے لگی مگر مرد کی بدگمانی کہاں دور ہوتی ہے
میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا تم ساری زندگی ایسے ہی تڑپ کر مارو گی جو تکلیف مجھے ہوئی سود سمت واپس لوں گا __ حدید دھکا مارتا ہوا باتھروم چلا گیا آیت وہی صوفہ پر اوندھے منہ گر گئی
⭐⭐⭐⭐⭐
چلو نکالو گاڑی سے ___ حدید غصہ سے آیت کو گاڑی سے اتر رہا تھا
حدید مجھے پر یقین کیجیے __ آیت نے التجا کی
بکواس بند کرو اور نکالو یہاں سے___ حدید آیت کو کھینچا ہوا باہر نکل کر گاڑی فراٹے بھری چلئ گئی
شادی کے ایک ہفتہ بعد حدید آیت سے تنگ آ کر اس کی دادی کے پاس چھوڑ گیا
بوجھل قدم لیے دروازے پر کھڑی ہوگی دادی نہ جانے کیا سوچے گی اس عمر میں بھی میرا گم سینے سے لگ جائے گا نہیں نہیں میں دادی کو گم نہیں دے سکتی ___ آیت اپنی سوچ میں محویت تھی اس کو پتا ہی نہ چلا دادی کب کا دروازہ کھول چکی ہیں
آیت !!!! دادی محبت سے آیت کا چہرہ چومنے لگی
دادی __ آیت مسکرائی
اندر آ یہاں کیوں کھڑی ہے ؟؟؟ حدید کہاں ہے ؟؟ دادی پرشان ہوئی
دادی وہ حدید کو کچھ کام تھا تبھی وہ چلے گیے شام کو آئے گیے ___ آیت جھوٹ تسیلی دیتی اندر آئی
⭐⭐⭐⭐⭐
حدید تم کس سے پوچھ کر اسے وہاں چھوڑ آئے ؟؟ زمیم غصہ سے حدید کو دانت رہی تھی
حدید ڈھیٹ بن کر سنتا رہا __ بنا کچھ بولے واپس اپنے کمرے میں چلا گیا
رات سگریٹ پر سگریٹ سلگلتا رہا ” حدید میں نے ایسا کچھ نہیں کیا میرا یقین کیجیے ،، نہ جانے کہاں سے آیت کی التجا کرتی آواز حدید کے سمت سے ٹکرائی __ حدید چونک کر یہاں وہاں دیکھنے لگا
یہ میری نظر کے سامنے نہیں ہے کہیں وہاں جا کر اپنے عاشق سے ہی نہ ملے مجھے پتا رکھنا چاہیے __ حدید فون اٹھا کر آیت کا نمبر ملتا رہا مگر آیت نے نہ اٹھایا ___ حدید کا غصہ آسمان کو چھونے لگا
اب کی بار پھر نمبر ملایا__ آیت کا نمبر مصروف ملا __ اب حدید کی برداشت سے باہر ہو رہا تھا
غصہ سے پھنکارتے ہوۓ آیت کے گھر گیا __ دروازے کو ایسا پیٹا جیسے ابھی توڑ دے گا
بیٹا یہ لوگ گھر نہیں ہیں ابھی ایک لڑکا آیا تھا ان لوگوں کو لے گا __ پاس سے گزرتے آدمی نے حدید کو دروازہ پیٹے دیکھا اس سے رہ نہ گیا اس نے بتایا
حدید غصے سے پاگل ہونے لگا آنکھ سرخ ہو چکی تھی شاید ابھی آیت سامنے ہوتی اس کا قتل کر دیتا مگر اب کیا ہو سکتا تھا __ حدید واپس گھر آیا اپنے کمرے میں اس کو نیند نہ آئے یہ سوچتے ہوۓ کون لڑکا تھا جس کے ساتھ گے وہ لوگ اب کی بار میں آیت کو چھوڑوں کا نہیں
⭐⭐⭐⭐⭐
صبح صبح آیت کی کال حدید کے سیل پر بار بار آ رہی تھی ___ نیند سے بوجھل نظروں سے ہی سیل کان پر لگا لیا __
ہیلو !!__ دوسری طرف کی آواز نے حدید کو چونکا دیا
تم بدذات !!! حدید پہچان چکا تھا __ تم کو میں چھوڑوں گا نہیں بڑا شوق ہے اپنے عاشق کے ساتھ ساتھ بھاگنے کا ___
جی جان میں بھی آپکو بہت مس کر رہی ہوں جلدی آ جاؤں گی آپ کے پاس ___ آیت محبت سے بولی
حدید نے چونک کر موبائل فون دیکھا دوبارہ کان سے لگایا __ کیا بکواس کر رہی ہو تمہارا دماغ ٹھیک ہے __ تم آؤ تو سہی تمہارے جسم کے ٹکڑے کروں گا
آپ بھی نہ اچھا سنیئے ناراض مت ہویے میں آپ کے پاس جلدی آ جاؤں گی آپ ٹائم پر ناشتہ کر لیجیے گا اب میں کال رکھتی ہوں __آیت کال بند کر کے دادی کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی
یہ حدید بھی نہ __ میں نہ ہوں تو اپنا خیال نہیں رکھتے اسلئے مجھے بار بار کال کر کے پوچھنا ہوتا __ وہ دادی کو جھوٹی تسیلی دیتی رہی
⭐⭐⭐⭐⭐
حدید اٹھو بیٹا ___ زمیم حدید کے کمرے کے باہر کھڑی پرشان کن آواز میں بول رہی تھی
جی ماما آ جائیں ___ حدید دروازہ کھولتے ہوۓ سائیڈ پر ہوا
تم یہاں مزے کی نیند سو رہے ہو وہاں تمہاری دادی ہسپتال میں ہے رات ان کو دل کا اٹیک ہوا تھا وہ تو شکر ہے آیت نے تمہارے بابا کو بتایا بیچارے ساری رات وہی رہے تمہارا بھی کچھ فرض ہے جاؤ وہاں _ زمیم ایک ہی سانس میں سب بول گئی
ماما میں وہاں نہیں جاؤں گا __ حدید بےحس ہو کر بولا
وہاں تمہارے اچھے اچھے بھی جائیں گے __ آیت سے تم محبت کرتے ہو ورنہ یہ اس کا دوپٹہ لے کر تم __ زمیم کی بات پر حدید چونکا جس کے تکیہ کے پاس آیت کا دوپٹہ تھا
پورے راستے ڈرائیو کرتے ہوۓ حدید کو ایک ہی بات شرمندہ کر رہی تھی وہ لڑکا ؟؟؟؟ نہیں اس کے بابا تھے ،،، شک نے کتنا اندھا کر دیا ہے مجھے مگر وہ خط تصویر کیا وہ سچ نہیں ؟؟؟ یا اللّه مجھے کچھ تو راستہ دیکھا
آیت دادی کو میڈیسن کھلا رہی تھی جب حدید اندر آیا
دادی نے مسکرا کر حدید کو دیکھا
نانو آپ ٹھیک تو ہیں ؟؟؟ وہ نانو کے پاس بیٹھ چکا تھا ___
حدید تم نے میری بیٹی کا خیال نہیں رکھا ؟؟؟ دادی نے شکوہ کیا
حدید نے زہرکن نظر آیت پر ڈالی __ نہیں دادی ایسی کوئی بات نہیں میں نے اس کا پورا خیال رکھا ہے بس یہی بہت نخرہ کرتی ہے __ حدید کو سمجھ ہی نہ آیا کیا بولے
مگر یہ چہرے سے خوش کیوں نہیں ؟؟؟ دادی آیت کا چہرہ دیکھ کر بولی جو اس دن دروازے پر کھڑی پرشان آیت کو دیکھ چکی تھی
دادی آپ بھی نہ ہم بہت خوش ہیں آپ کو یقین کیوں نہیں آتا ___ آیت محبت سے دادی کا ہاتھ تھام کر بولی
اگر ایسی بات ہے تو تم دونوں خوش کیوں نہیں ؟؟؟ مجھے ان آنکھوں میں وہ خوشیاں کیوں نہیں نظر آتی ؟؟؟؟ دادی آیت کی آنکھوں میں آتے آنسو بھی دیکھ چکی تھیں
دادی آپ کو ایسا نہیں لگنا چاہیے میں تو آیت کو لینے آیا تھا ہم دونوں ہنیمون پرسوں مری جا رہے ہیں آپ بس جلدی سے ٹھیک ہو جائیں __ مسکراتے ہوۓ آیت کو دیکھا
⭐⭐⭐⭐⭐
دادی کو حدید اپنے ہی گھر لے آیا تھا ___ اور آج دونوں مری جانے کے لیے تیار تھے
یہ جو میں مری جا رہا ہوں صرف اور صرف اپنے میٹنگ کے لیے تم کسی خوش فہمی میں مت رہنا __ آیت کی کلائی موڑتے ہوۓ حدید غصے سے بولا
دادی اور سب کی دعا لے کر دونوں مری پہنچ گے
روم میں آتے حدید بیڈ پر لیٹ گیا آیت کو بیڈ پر بیٹھتے دیکھ کر دھکا دیا
اٹھو تم یہاں نہیں بیٹھو گی فرش پر جاؤ وہی سو تمہارے عش کے لیے نہیں کماتا میں __
آیت کی آنکھوں بھر اٹھی اتنی بيگانگی دشمن بھی نہیں کرتا چپ چاپ فرش پر ہی سو گئی
⭐⭐⭐⭐⭐
صبح جب آنکھ کھولی حدید کہیں نہ تھا آیت کا دل ڈوبنے لگا __ اس کو ایسے اکیلے رہنے کی عادت کبھی نہ تھی اور اکیلے رہنے سے ڈر بھی لگا
صبح سے دوپہر ہو گئی اب بھی حدید کا کچھ پتا نہ تھا کمرے سے باہر جاتے ہوۓ بھی ڈر لگتا __ جاء نماز ڈال کر آیت دعا کرنے لگی
اللّه جی میرے حدید کو سہی سلامت رکھنا میں ان کے بنا نہیں رہ سکتی میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں ان کی بدگمانی دور کر دے __ میری زندگی کا صرف وہی ایک انسان ہے جسے میں نے بہت چاہا ہے جس کے بنا میں نہیں رہ سکتی __ آپ جانتے ہو میرا دامن پاک ہے میری شوہر کے دل میں میری محبت ڈال دے ___ آیت بلک بلک کر رونے لگی ___ حدید کے قدم آیت کے پیچھے ہی روک گے مگر آیت کو حدید کی مجودگی کا احساس نہ ہوا
آیت اٹھا کر جاء نماز رکھ چکی تھی وقت دیکھا بارہ بج رہے تھے __ آیت فرش پر ہی لیٹ گئی
جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی جب حدید کے ہاتھ کے لمس محسوس ہونے پر کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی
خالی خالی نظروں سے حدید کو دیکھنے لگی __
اٹھو اور کھانا کھا لو ایسے ہی بھوک سے مر گئی یہ الزام بھی مجھے پر آئے گا
حدید ٹیبل کے پاس بیٹھ گیا __ یہاں ابھی ابھی اسنے گرما گرم کھانا رکھا تھا __ آیت بھی خاموشی سے نوالہ کھانے لگی
تم اللّه سے میری شکایت کر رہی تھی ؟؟؟ حدید بھوئیں چڑھاتے ہوۓ بولا
آیت نے نفی میں سر ہلایا __ میں اللّه سے اپنا حق مانگ رہی تھی __ ” مرد کی بدگمانی صرف وہی ذات دور کر سکتی میں تو عورت ہو ظلم برداشت کر کے بھی صرف اپنے مجازی خدا کو ہی مانگو گی جسے بچپن سے چاہا میری چاہت اتنی کمزور نہیں کچھ ہی ظلم آنے پر ختم ہو جائے ،، آیت اپنی بات مکمل کرتی واپس فرش پر لیٹ گئی
مگر آیت کے لفظ حدید کا سکون لے گے___ تو کیا میری محبت کمزور ہے ؟؟؟ کیا واقع وہ صرف ایک بدگمانی تھی ؟؟؟ لیکن جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ کیا تھا ؟؟؟ حدید خود میں ہی الجھ گیا
⭐⭐⭐⭐⭐
حدید میٹنگ کی وجہ سے صبح ہی صبح چلا گیا __ آیت پھر سے اکیلی ہو گئی __ کھڑکی سے باہر جھانکا آرٹ گیلری سجی ہوئی تھی آیت کے دل میں بھی آیا کیوں نہ برسوں کی خواہش پوری کی جائے __ فوراً دوپٹہ سنبھالے باہر کی طرف بھاگی اچانک حدید کا خیال آتے ہی رک گئی ___ کافی وقت گزر جانے کے بعد پھر سے آیت کے دل میں خواہش ہوئی اب کی بار آیت خود کو رک نہ سکی اور حصہ لے لیا ___ کافی دیر ایک ہی تصویر بنانے کے بعد واپس اپنے ہوٹل کی طرف ہوئی جہاں کشادہ راہداری میں صبا سے ٹکرائی
صبا تم ؟؟؟؟؟ آیت چونکی
ہاں میں اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہوں __ صبا بولتے ہوۓ اشارہ کیا جہاں اس کا شوہر کھڑا تھا
تم اس دن کہاں غرئب ہو گئی تھی ؟؟؟
آیت کے سوال پر صبا مسکرائی __
تم چلو میری شوہر کے پاس اس کو بتاؤ اس دن کچھ غلط نہیں ہوا __ ابھی آیت بول ہی رہی تھی دوسری طرف حدید کے قدم تھام چکے تھے
صبا چلو یار دیر ہو رہی ہے __ صبا کا شوہر صبا کی طرف متوجہ ہوا
آیت کو جھٹکا لگا یہ وہی شخص تھا جس کی وجہ سے آیت کو زندگی کا سکون برباد ہوا
یہ تمہارا شوہر ہے ؟؟؟؟ آیت کے پوچھنے پر صبا مسکرائی
اس نے میری زندگی خراب کر دی ہے ___ صبا یہ تمہارا شوہر ہے
اس نے صرف اپنا بدلہ لیا جو تم نے اس کے ساتھ کیا ___ صبا تلخ لہجے میں بولی
میں نے ؟؟؟ مگر میں اس کو نہیں جانتی ___ آیت حیران ہوئی
تم اس دن میرے برتھڈے پارٹی میں آئی تھی اور غلطی سے میرے کزن کا ہاتھ تمہیں لگا تھا اور تم نے سب کے سامنے اسے تھپڑ مارا ___ سوچو جو تکلیف تمہیں اب ہو رہی وہی تکلیف اسے سب کے سامنے ہوئی تھی ہم دونوں نے بس اپنا بدلہ لیا تمہارے شوہر کو گمراہ کیا ___ صبا یہ حقیقت بتاتے ہوۓ اپنے شوہر کا بازو تھامے باہر چلئ گئی ___
آیت وہی ماؤف ہو چکی تھی
⭐⭐⭐⭐⭐
میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تم کہاں تھی ؟؟؟؟ حدید مصنوعی غصہ دیکھتے ہوۓ بولا
آیت کی کچھ سمجھ ہی نہ آیا __ وہ میں !!!
بس کرو مجھے نیند آ رہی ہے سو جاؤ ___ حدید اندر ہی اندر شرمندہ تھا وہ کیا بولے اسے اور کیوں محبت تو اس کی کمزور ہوئی
” آیت کو فرش پر لیٹ دیکھ کر ،، حدید گلا کھنکھارا کر بولا تم اوپر آ کر لیٹ جاؤں
آیت نے جیسے سنا ہی نہ ہو اس کی اب بھی صبا والی باتیں اندر ہی اندر کاٹ رہی تھیں ___
آیت !!! حدید اب آیت کے پاس بیٹھ چکا تھا __ آیت چونکی
مجھے معاف کر دو حدید آیت کے ہاتھ تھامے اپنی غلطی کا مداوا کرنے لگا
دنیا سے لاکھ شکوے سہی مگر میں آج بھی خدا کے سجدہ میں ہوں اس نے مجھے جو دیا وہ میری زندگی ہے ___ میری بیوی میرا لباس !!!!____ جانے کیا تھا حدید کی آنکھوں میں ___،،،، خوشی سے چمک رہی تھی __ بادامی رنگ کی آنکھوں میں نمی اور خوشیوں کے رنگ بکھرے تھے _،،،،
آیت کو یقین ہی نہیں آیا کیا یہ اسی کا شوہر تھا جو اس کے ہر کام سے نفرت آتا تھا !!__،،، آج چاہت کے رنگ پرو رہا ہے
حدید نے آیت کے نازک نرم و ملائم ہاتھ تھام لیے اپنا سر ٹیک دیا آیت حدید کے آنسو محسوس کر رہی تھی اپنی آنکھیں بھی نمی سے تر ہو گئیں __
آیت تم میری زندگی کا ہر رنگ ہو ،،___ میری دھڑکنوں کا رقص ہو ،،، تمہارے قدموں نے میری چاہتی کے رنگ ساجد دیا میری آنکھیں ہر رنگ بھر دیا ___ تم ہی تو میری آرٹسٹ ہو !!!!!!! جو صفحوں میں نہیں اپنے شوہر کی زندگی میں رنگ بڑھتی وہی تو سچی آرٹسٹ ہے __ میں تیرے رنگ میں رنگ گیا ہوں __،،،،
میں آپ کو معاف کیوں کروں آپ کو کیا پتا میں کس کرب سے گزری میری زندگی آپ تھے مگر اپنے ___ آیت کے لفظ رک گے جب اس نے اپنے ارد گرد حدید کے حصار کا لمس محسوس کیا
چھوڑو مجھے میں نہیں آپ سے بات کروں گی __
نہیں میں اور اور تنگ کر دوں گا یہ حصار جب تک تم مانتی نہیں ___ حدید بچوں کی طرح بولا
آیت کی ہنسی چھوٹ گئی حدید بھی مسکرا دیا
تم کو ایک چیز دیکھنے ہے میری آرٹسٹ
حدید اٹھا اور الماری سے پینٹنگ نکالی جو آیت نے بنائی تھی اس کی فرسٹ پرائز ملا
دیکھو تم نے میری ہی پینٹنگ بنا دی ___ ویسے میں بہت ہینڈسم ہوں __ حدید بتاتے آیت کو دیکھنا لگا
نہیں آپ ہٹلر ہو __ آیت کہتے ہوۓ باتھروم کی طرف بھاگ گئی جب تک حدید آیت کی طرف بھاگا آیت دروازہ بند کر چکی تھی ___
تم باہر آو بتاتا ہوں میں کتنا ہٹلر ہوں __ حدید کھڑے کھڑے ہی اللّه کا شکر ادا کرنے لگا
اور سچ میں آیت کے رنگ میں رنگ گیا تھا __ بدگمانی کبھی زیادہ دیر نہیں رہتی اگر ہم ایسے چیزوں پر یقین کر لیں جن کا وجود ہی نہیں ایسے میں صرف اور صرف نفرت کو جگہ ملتی ہے مگر جو رشتہ اللّه جوڑ چکا ہو اس کو کوئی نہیں توڑ سکتا
ختم تھی۔

Read More:   Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 6

ختم شدہ
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply