Teri Muhabbat Se Phely Mashoor Thi Ana Meri by Alaya Rajpoot – Episode 1

0
تیری محبت سے پہلے مشہور تھی انا میری از علایہ راجپوت – قسط نمبر 1

–**–**–

انمول کی انکھ امی کی آواز سے کھلی تو اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو 8 بجا رہی تھی اف میں تو لیٹ ہو گئ جلدی سے اٹھ کر شاور لیا بھاگم بھاگ میں اپنے کمرے سے نیچے آئ۔امی بابا کہاں ہیں میں لیٹ ہو گئ
بیٹا وہ تو کب کے دفتر چلے گۓ تم ہی لیٹ اٹھی ہو اوہ امی کیا کرتی دیر رات تک پڑھنے کی وجھ سے انکھ نھی کھلی۔ بیٹا اب تو آپ کے تایا جان اور چاچو بھی جا چکے
اف امی اب کیا کروں آج تو میرا ٹیسٹ ہے اور لیٹ بھی ہوں میم عنایا بہت غصھ ہونگی مجھ پر
ھمممم اچھا بیٹا کچھ کرتی ہوں ۔ارے یاد آیا عمیر رات کو بتا رہا تھا کے وہ دفتر لیٹ جاۓ گا۔اسکو بولو چھوڑ آۓ گا تمھے۔ اف میرے خدا اب پھر اس کھڑوس کے پاس جانا پڑے گا
نخھرے بھی ایسے کرتا ہے جیسے نئ نویلی دلہن ہو کھڑوووس
امی کے کہنے پر وہ عمیر کو کہنے آئ کے اسے کالج چھوڑ آۓ اس نے اسکے کمرے کے باہر پھنچ کر ناک کیا پر کوئ جواب نہیں ملا تو وہ دروازہ کھول کر خود ہی اندر آگئ اندر اسے کہیں بھی عمیر نظر نہی آیا اور وہ اسکے انتظار میں صوفے پر بیٹھ گئ دیر رات تک پڑھائ کر کے انمول کو سستی سی محسوس ہو رہی تھی اس لیے اس نے سوچا جب تک عمیر آتا ہے میں ایک بار منھ دھو لیتی ہوں جیسے ہی وہ واشروم جانے کے لیے مڑی زور سے کسی بھاری چیز سے ٹکرا گئ دیر رات پڑھائ سے پہلے ہی سر گھم رہا تھا اب اور گھوم گیا جب اس نے انکھ کھول کر دیکھا تو وہ پلک جھپکنا ہی بھول گئ سامنے عمیر کندوں پر تولیا رکھے کھڑا تھا دھلے دھلے چھرے اور گیلے گیلے بال جو ماتھے پر آۓ تھے ان سے وہ سیدھا دل میں اتر رہا تھا
انمول تو کسی اور ہی دنیا میں کھو گئ
عمیر نے انمول کو کندوں سے پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا تو انمول کو ہوش آیا اوہ میڈم کس دنیا میں کھو گئ ہیں آپ اور کس کی اجازت سے میرے کمرے میں آئ ہو حد ہے تمھے کسی نے بتایا نہی کے اجازت کے بغیر کسی کے کمرے مے نہی جاتے حد ہے جدھر دل کرتا ہے منھ اٹھا کے گھس جاتی ہو عمیر أسکو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور بیچاری انمول جس کا دل ابھی ٹھیک سے ہواؤں میں اڑا بھی نہی تھا واپس آکے سوکھی شاخ پر بیٹھ گیا معصوم خواہش دل میں ہی تڑپ کر رہ گئ اس سے پہلے کے کھڑوس اسکی اور عزت افزائ کرتا انمول کی امی بھی آگئ عمیر کے کمرے میں….ارے بیٹا انمول آج کالج سے لیٹ ہو گئ ہے آپکے چاچو بھی آج جلدی چلے گۓ آفس تم چھوڑ آؤ گے اسے….جی زرور چچی جان مجھے انمول نے بتایا ہی نہی اگر پہلے بول دیتی تو میں پہلے ہی چھوڑ آتا ہے نا انمووول عمیر نے کہا
جھوٹے انسان امی کے سامنے اچھا بن رہا ہے ابھی مجھے اتنی باتیں سنائ انمول نے دل میں سوچا
امی کے کہنے پر انمول نیچھے چلی آئ اپنی بکس اٹھا رہی تھی کے عمیر کے قدموں کی اواز پر مڑی اور ایک بار پھر پلک جھپکنا بھول گئ۔امی کی آواز سے انمول سپنوں کی دنیا سے باہر آئ اور جلدی سے عمیر کے پیچھے بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئ سارا راستہ خاموشی سے کٹ گیا جیسے ہی کالج آیا انمول جلدی سے گاڑی سے اتر کر چلی گئ….دیکھو ذرا عقل تو چھو کر نہی گزری اس لڑکی کو تھنکس تک نہی بولا…عمیر سوچتا ہوا آفس کی طرف چل دیا ….انمول تقریبن بھاگتی ہوی کلاس تک پہنچھی اسے یاد ایا کے اسکی بیسٹ فرینڈ ماہی نے بتایا تھا کے میم عنایا نئ ٹیچر بہت سخت ہیں وہ پچھلے 2 دن کالج نہی جا پائ بخار کی وجہ سے……
ڈرتےڈرتے اسنے کلاس میں قدم رکھا کلاس میں ٹیسٹ شروع ہو چکا تھا پر میم عنایا کہیں نظر نہیں آرئ تھیں
انمول اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئ پیچھے سے کسی نے اسکے کندے پر ہاتھ رکھا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکی دبلی پتلی سفید رنگت موٹی موٹی آنکھیں دیکھنے میں بہت پیاری تھی پر ایک عجیب چیز تھی اس نے ناک پر موٹے شیشوں والا چشمہ لگا رکھا تھا گھور گھور کر انمول کو دیکھ رہی تھی اوپر سے جب وہ بولی تو انمول کا ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا اسکو لگا کوئ مانو بلی میاؤں میاؤں کر رہی ہے …..اس لڑکی نے انمول کو غصے سے بولا کے ایک تو لیٹ آئ ہو اوپر سے استاد پر ہنستی ہو نکلو کلاس سے باہر ابھی…..اف تو یہ ہیں میم عنایا بس تم تو گئ انمول آج تو۔ انمول ڈر گئ سوری میم سوری انمول نے کہا…. کچھ نہی سننا مجھے نکلو میری کلاس سے میم عنایا نے کہا….انمول کر بھی کیا سکتی تھی رونی صورت لے کر کلاس سے باہر آگئ…..اف تو یہ ہیں میم عنایا میں تو سمجھ دہی تھی کہ کوئ بڑی ایج کی ٹیچر ہونگی پر یہ تو بہت ینگ اور پیاری ہیں پر اف انکا چشمہ اور مانو بلی جیسی آواز ھاھاھا پر میں لائق سٹوڈنٹ کلاس سے باہر اف کتنا ہنسے گی مجھ پر چڑیل عفرا وہ تو چاہتی ہی ہے میری انسلٹ ہو انمول اب پریشان سی ہو گئ کیونکہ عفرا اسکے مقابلے کی تھی ہمیشہ انمول کو نیچھا دیکھانے کےلیے ٹیچرز کے سامنے اچھی بنتی تھی…..خیر کلاس ختم ہوئ تو ماہی باہر آئ انمول جو رونے والی تھی اسکو حوصلہ دیا دونوں کینٹین گئیں اور گپ شپ کرنے لگی یار تم کو بولا تھا نا میم عنایا بہت سخت ہیں خیر چھوڑو اور سناؤ طبیعت کیسی ہے ماہی نے پوچھا سب ٹھک ہےگھر میں ۔ یار بس میرا دن ہی خراب ہے پہلے وہ کھڑوس کی باتیں سنی اب میم عنایا کی انمول نے کہا….چھوڑو یار کچھ کھاتے ہیں ویسے تیرا کزن ہے بڑا ہینڈسم ماہی نے کہا اور انمول کی تو جیسے جان ہینکل گئ أہ ہ ہ… انمول آہ بھر کر رہہ گئ چھٹی کے وقت انمول کالج سے باہر آئ تو بابا اسے لینے نہی آۓ تھے بلکہ وہ دشمن جان آیا تھا۔۔۔
انمول ڈرتے ڈرے عمیر کی گاڑی تک آئ اب سوچ میں تھی کہ گاڑی میں بیٹھے یا نہی یہ نا ہو کہ میں گاڑی میں بیٹھوں اور کھڑوس مجھے ڈانٹ دے کہ میں تمہے لینے نہی آیا اپنے کسی کام سے أیا ہوں اس ڈر سے انمول باہر ہی کھڑی رہی عمیر گاڑی میں بیٹھا بیٹھا چڑ گیا تو غصے میں حارن بجانے لگا انمول بھی ڈھیٹ بن کر وہیں کھڑی رہی تنگ آکر عمیر گاڑی سے نکل آیا ہر انمول کو گھورنے لگا انمول جو پہلی ہی اس سے خوفزدہ تھی اور ڈر گئ اور گھبرا کر دوسری طرف دیکھنے لگی اوہ میڈم لیڈی ڈیانا کس دنیا میں گم رہتی ہیں آپ حد ہے میں کب سے ہارن بجا رہا ہوں دیکھ کر اندیکھا کر دیا تم نے…سمجھتی کیا ہو خود کو کوئ پری ہو تم تو بھوتوں کی نانی لگتی ہوں اور نخرے دیکھو زرا جیسے محترمہ کسی سلطنت کی شہزادی ہو ھھھھ
اوھیلو مجھے کوئی شوق نہیں تم کو لینے آنے کا وہ تو چاچو کی کال آئی تھی کہ آج وہ چاچو شبیر سے ملنے لاہور جا رہے ہیں تو تمکو میں لے آؤں بس ان کے کہنے پر آیا ہوں اور ادھر میڈم کے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے اب چلنا ہے کہ میں جاؤں انمول جو عزت افزائی سے رونے والی ہو گئی تھی بنا کچھ بولے گاڑی میں بیٹھ گئے عمیر بھی جل بھن کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور ڈرائیو کرنے لگا تھوڑا سا راستہ ہی کٹا تھا کے ایک اور مصیبت آگئی عمیر کی گاڑی جھٹکے سے رک گئ اف اوہ اب اسے کیا ہو گیا عمیر منہ میں بڑبڑاتا باہر نکلا ابھی گاڑی کو چیک کرنے ہی لگا تھا کے زوردار بارش شروع ہوگئی انمول کو بارش بہت پسند تھی بادش دیکھ کر وہ بچوں کی طرح اچھلنے لگی بارش دیکھ کر انمول کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور گاڑی سے باہر آ کر بچوں کی طرح چلنے لگی عمیر جو پہلے گھڑی کی خرابی اور اب موسم سے پریشان تھا انمول کی اس حرکت پر جل بھن ہی تو گیا اردگرد کے لوگ انمول کو دیکھ کر ہنس رہے تھے پر انمول کو تو کسی کی پروا نہ تھی وہ تو بس بارش میں بچوں کی طرح کھیل رہی تھی
عمیر غصے میں آگے بڑھا یہ سوچ کر کہ اس بیوقوف لڑکی کو کار میں بٹھائے ابھی دو قدم ہی چلا تھا کے کیچڑ سے پھسل گیا اور خود کو سنبھالنے کے چکر میں انمول سے ٹکرایا اور انمول پیچھے گاڑی سے ٹکرا گئی اف امی انمول کے منہ سے نکلا عمیر جو فل غصے میں انمول کو ہمیشہ کی طرح طرح ڈانٹنے آیا تھا انمول کا بھیگا بھیگا چہرہ ادھ کھلے گیلے بال دیکھ کر پتا نہیں کس دنیا میں کھو سا گیا معصوم چہرہ ہمیشہ ڈانٹنے جانے کے قابل تو نہ تھا عمیر کے دل نے کہا ادھر انمول جو اس اچانک حملے تیار نہ تھی عمیر کی کار سے اس کی کوہنی بری طرح ٹکرا گئی تھی اپنی کوہنی کو دباتے ہوئے اس نے عمیر کی طرف دیکھا تو عمیر اسے اتنی محبت سے دیکھ رہا تھا کہ ایک منٹ کے لیے تو انمول کی سانس بھی رُکھ گی اوپر سے وہ اتنی قریب تھا کہ وہ تیز بارش میں بھی اسکی دھڑکن سن ستکی تھی عمیر کو دیکھ کار انمول گھبرا گی اور عمیر بھی گڑ بڑ سا گیا اردگرد کے لوگ انہیں ہی دیکھ رہے تھے عمیر نے جلدی سے رکشہ لیا اور دونوں اس میں بیٹھے اور گھر کی راہ لی
گھر پہنچتے ہی انمول تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی اور عمیر نے بھی اپنے کمرے کا رخ کیا۔انمول کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھی ایک عجیب سا احساس تھا عمیر کی گہری براؤن آنکھیں اور وو سین اسے بھولاءے نہیں بھول رہا تھا اف خدا یہ کیسا احساس ہے اس نے دل ہی دل میں خود کو ڈانٹا اور خود کو۔ نارمل کرنے کیلئے فرش ہونے واش روم میں چل دی شاور لینے کے بعد وو فرش فیل کر رہی تھی کمرے کا دروازہ کھلا اور امی اندر آئیں انمول۔ کے لئے کھانا لے کے یہ لو بیٹا کھانا جی امی تھنکس کیا ہوا امی آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں ہاں بیٹا بات ہی ایسی ہے اف کیا ہوا امی بولیں نا مجھے پریشانی ہو رہی ہے
بیٹا وو تمھارے چاچو کو بزنس میں کافی نقصان ہوا ہے ٹینشن سے انکو ہارٹ اٹیک آیا ہے بہت مشکل سے جان بچی ہے آج صبح ہی ہسپتال سے کال آئ تو آپکے بابا لاہور گئے ہیں امی۔کچھ نہیں ہوگا شبیر چاچو کو آپ پریشان نا ہوں پلز انمول ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ زیشو عمیر کی بہن بھاگتی بھاگتی آئ اور بولی کے رشید چاچو آءے ہیں بشیر چاچو اور انکی فیملی کو لے کر…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: