Teri Muhabbat Se Phely Mashoor Thi Ana Meri by Alaya Rajpoot – Episode 2

0
تیری محبت سے پہلے مشہور تھی انا میری از علایہ راجپوت – قسط نمبر 2

–**–**–

ماضی ***
حور کی بری سے شکل دیکھ کر فہد کو ترس آ گیا __
” اچھا بابا __ نہیں هنستا __ اب خوش __ ” فہد نے ہنسی دبا کر کہا __
” نہیں __ ایک شرط پر مانوں گی __” حور نے کہا _
” آپ کی شرط سر آنکھوں پر __” فہد نے جھک کر حور کی شہد آنکھوں میں جھانکا __اور بس آنکھوں کا ھی ہو کر رہ گیا __
کچھ تو تھا ، جو فہد جیسا خاموش بندہ آج اتنا کھل کر ہنس رہا تھا __ هنسنا تو جیسے وہ بھول گیا تھا ، جب سے اس کے ماما پاپا کی ڈیتھ ہوئی تھی __
اور اب زندگی پھر سے شاید اس کا امتحان لینے آ رہی تھی __ یا پھر اسے اس کے حصّے کی خوشیاں ___
حور کو فہد کی آنکھیں بہت پسند تھی __ کچھ پل یوں ھی ایک دوسرے کو دیکھنے میں گزر گے __
فہد کا آج پہلی بار دل دھڑکا تھا __
اور حور کے لیے یہ سب کچھ بہت نیا تھا __ لیکن دل بغاوت پر بھی اتر رہا تھا __
” مجھے آپ کی آنکھیں بہت پسند ہیں __پتا ہے کیوں؟” حور نے بےخودی میں کہا __
” کیوں ؟” فہد تو جیسے آج بس حور کو پورے دل و جان سے سن رہا تھا __
” کیونکہ ، جب میں چھوٹی تھی تو میں نے ایک بلا پالا تھا __ بہت سمارٹ تھا اور پیا را بھی __ بلکل تمہاری طرح ___ اور اس کی آنکھیں تمہاری طرح تھیں ، ” حور نے معصوم بچوں کی طرح فہد کی آنکھوں کو دیکھ کر کہا ___
حور کی اتنی معصومیت پر فہد تو دل و جان سے قربان ہو گیا __
‘” اتنا معصوم اور بھولا کوئی ہو سکتا ہے ؟؟ یقینا نہیں __” فہد نے حور کو دیکھ کر سوچا __
” میرے بس میں ہو تو کبھی اس کی معصومیت پر انچ نا انے دوں __ کانچ کی گڑیا ہے یہ تو ___” فہد نے دل ھی دل میں کوئی فیصلہ کیا __
پھر سارا دن فہد نے حور کو یونی دكهایی__
پھر دوپہر میں کینٹین سے لنچ کروایا __
اور پھر حور کو گھر سے کال آ گی اور پھر فہد نے حور کو گاری تک چھوڑ دیا __
جاتے ہوئے فہد کا دل اداس ہو گیا __
لیکن ابھی وہ حور کو اپنے ساتھ نہیں روک سکتا تھا اور نا ھی کوئی جواز تھا __،
••••••••••♪••••••••••
” جاؤ بیٹا _
فہد کی مدد کر دو _” بی جان نے حور سے کہا __
حور سر ہلا کر اٹھ گی __
” میں آپ کی کچھ مدد کر سکتی _؟_” حور نے ڈرتے ہوے پوچھا __
کہ کہیں اب پھر سے کوئی طوفان نا کھڑا کر دے __
” ابھی میرے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں __ اپنا کام کر سکتا __ تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں __ جاؤ جا کر اپنا کام کرو تم __ دماغ خراب نا کرو __” فہد نے ناگوارا انداز سے کہا __
حور خاموشی سے باہر کو چل دی __
ابھی دروازے پر پہنچی تھی کہ چکرا کر گر گر گئی ___
فہد کا منہ دوسری طرف تھا __
جب گرنے کی آواز آئی تو حور کو ایسے دیکھ کر فہد جلدی سے بھاگا ،،__
” حور !!
حور !!
آنکھیں کھولو __” فہد نے پریشان ہو کر کہا __
مگر حور بےہوش ہو چکی تھی __
فہد کی حالت خرآب ہو رہی تھی حور کو ایسے دیکھ کر ،_
فہد نے جلدی سے حور کو اٹھایا ، اور بیڈ پر لٹايا __ _
اور پانی کے چھنٹے ڈالے ، مگر بے سود __
” حور !!
پلیز یار تنگ نہیں کرو __
حور !!
اٹھو !!
حور !!
آنکھیں کھولو __” فہد نے حور کا منہ تهپتهپآیا __
جب حور ٹس سے مس نا ہوئی تو فہد نے حور کو اپنے بازوں میں لے لیا __
” حور !!
دیکھو مذاق نہیں __
یار پلیز اٹھ جاؤ __” فہد نے نم انکھوں سے حور کا سر اپنے سینے سے لگا کر کہا __
•••••♪•••••••••
” حور !
حور ! ” حور کو اپنے نام کی آوازیں آ رہی تھی __ جیسے بہت دوڑ سے اسے کوئی پکار رہا ہو __
حور نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی ، تو خود کو کسی کے بازوں کے حصا ر میں موجود پایا __
غور کرنے پر پتا چلآ خ فہد نے اسے اپنی آغوش میں لیا ہوا ہے __ اور ساتھ ساتھ اس کے ہوش میں انے کی دعا بھی کر رہا تھا __
یا سب دیکھ کر حور کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا __ وہ شخص جو حور سے اتنی خار کھاتا ہے ، وه اس طرح اپنی پناہ میں بھی لے سکتا ہے ___
حور نے دل سے دعا کی کاش یہ وقت ، یہ پل یہی تھم جایں __
حور کو ہوش میں اتا دیکھ کر فہد نے حور کے گرد بازوں کا گھیرا اور تنگ کر دیا __
” thank God ..
تم ٹھیک ہو __ پتا ہے میں کتنا ڈر گیا تھا __” فہد نے حور کے چہرے کو آنکھوں میں لیے پریشان لہجے میں کہا __
اور پھر فرط جذبات میں حور کے چہرے کآ ایک ایک نقش چوم رہا تھا ___
جبکہ حور فہد کی حالت اور حرکت پر شرمآ اور حیران ہو رہی تھی __
سب نفرت کو بھول چکا تھا __ یاد تھا تو بس اتنا کہ حور کا وجود اس کی زندگی میں بہت قیمتی ہے ___ لاکھ دشمنی سہی مگر حور کو وہ آج بھی دکھ میں نہیں دیکھ سکتا تھا ___
فہد کے سینے پر سر رکھ کر حور نے خاموشی سے آنکھیں موند لیں __
شاید دونوں ھی ایک دوسرے کو محسوس کرنا چاھتے تھے __
دونوں ھی ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے __
ابھی کچھ پل گزرے تھے کہ اس سے پہلے فہد اپنے جذبات پر قابو کھو لیتا ، حور سے الگ ہو گیا __
اور جلدی سے واشروم گھس گیا __
جبکہ حور فہد کی گئی جسارتوں پر شرمآ رہی تھی ___
••••••♠♪♪•••••••
” مجھے خود پر کنٹرول ركهنا ہو گا __ سب نفرت کو کیسے بھول سکتا ہوں میں __ لیکن کیا کروں ___ میرا خود پر بس نہیں چل رہا __ اسے تھوڑی سے تکلیف ہو تو میں تڑپ اٹھتا ہوں ___” شاور نیچے کھڑا ہو کر فہد نے خود کلامی کی __
” فہد تمهیں اس سے دور رہنا ہو گا __ بے حس ہونا پڑے گا __ مط بھولو آج جو کچھ بھی ہو اس کی وجہ سے ہو جو سب اس کے تھے ___ ” فہد نے ایک دفعہ پھر سے خود کو تیار لیا نفرت کے لیے __
” لیکن ایسی نفرت سے کیا حاصل ؟؟ فاصلے بڑھا کر کیا ملے گا ؟؟ دکھ درد اور تڑپ آج بھی ویسی کی ویسی ھی ہے ___ کچھ بھی تو نہیں بدلہ __” فہد نے سوچا __
آخر نا ختم ہونے والی سوچوں سے چھٹکارا پآنے کے لیے فہد نے شاور کھول دیا ___
تا کہ اپنے اندر اٹھنے والے اس طوفان کو روک سکے ____
بے شک حور سے دوری اختیار کرنا فہد کے بس میں نہیں تھا __ مگر وہ جان کر بھی انجآن بن رہا تھا ___
•••••♪•••••••••••••
حور کے چہرے کی لالی اس کی خوشی کا پتا دے رہی تھی __
حور نے فہد کے کمرے میں انے سے پہلے ھی جلدی سے نکل گئی __ کیونکہ شرم کے مارے برا حال ہو رہآ تھا ،__
حور نے فہد کے لیے ناشتہ تیار کیآ ___ اور اسی دوران ہزاروں خواب بن لیے __
فہد جب ناشتہ کرنے آیا تو اپنی صبح والی حرکت پر شرمندہ ہوآ ___
” sorry for that …
That’s all suddenly happened “
فہد نے سخت لہجہ اپنا کر کہا __
اور ناشتہ کر کے بی جان کو اللہ‎ حافظ بول کر چلا گیآ __
اور حور خوشگوار یادوں اور خوابوں میں کھو گئی ____

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: