Teri Muhabbat Se Phely Mashoor Thi Ana Meri by Alaya Rajpoot – Episode 3

0
تیری محبت سے پہلے مشہور تھی انا میری از علایہ راجپوت – قسط نمبر 3

–**–**–

شبیر چاچو کی فیملی کو آئے آج دو دن ہو گئے تھے ان دو دنوں میں نا تو چچی گھر پر ٹکی تھی نا ہی انکے بچے چچی اپنی فرینڈز کے ساتھ پارٹیز میں بیزی رہتیں انکے بچے کس طرح کی بر ی صحبت کا شکار تھے انکے پاس یہ سوچنے کا وقت ہی کہاں تھا عروہ جس کے دوست بھی اسکی طرح بگڑے ہوئے گھرانوں سے تھے دیر رات تک پارٹیز میں رہتی جہاں بےحیائی کو فیشن کا نام دیا جاتا جہاں امیر گھروں کی لڑکیوں کو اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کی کوئی پروا نا تھی عروہ کے لئے بوائے فرینڈ رکھنا اور آئےدن نت نئے امیر باپ کے بگڑے ہوئے بیٹوں کے ساتھ گھومنا معمول کی بات تھی دوسری طرف منان کا حلقہ احباب بھی کچھ اچھا نا تھا ہر طرح کا غلط کام اور نشے کا عادی تھا ڈرنک کرنا تو اس کیلئے عام سی بات تھی سلمہ بیگم اور شبیر صاحب کی لوو میرج ہوئی تھی دونوں ساتھ میں کالج پڑھتے تھے دوستی ہوئی محبّت میں بدلی اور۔ شبیر صاحب کی زد کے آگے گھر والوں نے دونوں کی شادی کر دی حالانکہ کوئی اس بے جوڑ شادی سے خوش نہیں تھا
سلمہ بیگم بہت ہی آزاد خیال اور امیر باپ کی بیٹی تھی شادی کے چند دن بعد اسے اپنا سسرال برا لگنے لگا اور انہوں نے زد شروع کر دی کے شبیر یا تو انکے ساتھ لاہور چلیں یا وo انکو چور کر ڈیڈی کے پاس چلی جائیں گی شبیر صاحب سلمہ بیگم کی محبّت میں دیوانے ہوئے تھے اس لئے اپنے بھایوں سے جھوٹ بول کر کہ وo اپنے اپنے سسر کا کاروبار سنبھالیں گے کیوںکے سلمہ سلمہ بیگم ایک لوتی تھی اس لئے انکو سسر کا کاروبار سنبھالنے میں مشکل ہوتی ہے تو وو چاھتے ہیں کے داماد صاحب کاروبار سنبھالے اور اس طرح وو لاہور شفٹ گئے بڑے بھایوں کا دل تو بہت دکھا لیکن چوٹھے بھائی کی خوشی کے لئے خاموش ہو گئےبیٹوں جیسا چھوٹا بھائی ایک بار لاہور گیا تو واپس کبھی جلدی آیا ہی نہیں بڑے بھائی تو اس سے سب تعلق توڑ چکے تھے بس ایک رشید صاحب ہی تھے جھنے چوے بھائی کی یاد اتی تو مل اتے چپکے سے شبیر صاحب جب کبھی سسرال آے تو نا کبھی قدر ملی نا کبھی عزت سسر نے بیٹی کے کہنے پر آفس لے جانا شروع کیا پر کبھی داماد کی عزت نہیں دی
وقت گزرتا گیا اور شبیر صاحب کے ہاں دو بچے ہوئے بڑا منان چھوٹی عروہ وقت کے ساتھ ساتھ سلمہ بیگم کی محبّت بھی کم ہوتی گئی اور وو شبیر صاحب کو تو جیسے اپنا اور اپنے بچوں کا غلام سمجھنے لگی سلمہ بیگم کے والد کے انتقال پر پتا چلا کے جس بزنس پر یہ خاندان اکڑتا تھا وہ تو قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اب بچارے شبیر صاحب اپنے سسر کے ختم ہوتے بزنس کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش میں لگ گئے شبیر صاحب کا دل بیوی کی۔ بےرخی سے اتنا ٹوٹا کے خود کو بس آفس تک محدود کر دیا کبھی بڑے بھایوں کا پیار یاد آتا تو شدت سے رو پڑھتے جس عورت کے لئے اس نے سب رشتے چھوڑے تھے وو تو اب اہمیت ہی نا دیتی تھی اپنے شوہر کو اب بس اپنے بچوں کے لئے جی رہے تھے شبیر صاحب بچوں کے لئے کما کر لاتے تھے انکی ہر طرح کی خواہش پوری کرتے تھے انکو یہ تو معلوم ہی نا تھا کہ انکے بچے ماں کی لا پرواہی سے بگاڑتے جا رہے ہیں
وقت کا کام تھا گزرنا اور وو گزر گیا بچے جوان ہو گئے شبیر صاحب دن رات اپنی ذات کو بھول کر کمانے میں ایسے گم ہوئے کہ بیمار رہنے لگے اور وقت سے پہلے بوڑے ہو گئے شبیر صاحب کو بزنس میں اتنا بڑا نقصان ہوا کہ وو اس پریشانی کو سہ نا پائے اور ہارٹ اٹیک آ گیا آفس کے لوگ ہی ہوسپیٹل لے کے گئے بہت مشکل سے جان بچی 5 دن ہوسپیٹل میں موت سے لڑتے رہے چٹھے دن سلمہ بیگم کو اپنی مصروفیات سے فرصت ملی شوہر کے پاس آنے کی حال تو پوچھا نہیں اپنی ضرورتوں کا سنانے لگیں مجھے شوپنگ کرنی ہے پیسے چاہئےکہ کر چلتی بنی ہوسپیٹل کے ایک ڈاکٹر رشید صاحب کے جاننے والے تھے ساتویں دن انہوں نے رشید صاحب کو کال کر کے شبیر صاحب کی حالت کا بتایا رشید صاحب سب کام چھوڑ کر بھائی کے پاس پھنچے اور انکی کوئی بات نا سنی اس وعدے کے ساتھ کے انکی بیوی بچوں کا سارا خرچہ خود اٹھائیں گے ساری فیملی کو ساتھ لے آئے وو اپنے بھائی کو مزید تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے رشید صاحب نےاپنی بھابی اور بھتیجے بھتیجی کا سارا خرچہ خود ہی اٹھا لیا وو بنا کہے بھابی کے اکاؤنٹ میں بھاری رکم ڈال دیتے تاکہ بھابی انکےبھائی کو پیسوں کے لئے تنگ نا کرے۔۔ ہے
عروه دن بهر کى شاپنگ کے بعد رشيد تايا کى دى هوئ کار ميں گهر لوٹى ابهى اس نے کار
کا دروازه کهولا هى تها که اس کى نظر لان ميں بيٹهے عمير پر پڑى وه ليپ ٹاپ پر اپنے آفس کا کام کر رها تها.عروه نے آج پهلى بار عمير کو ديکها تها.بليک کرتے ميں وه کسى سلطنت کا شهزاده لگ رها تها .عروه تو جيسے ديوانى هى هو گئ .
نظر تهى که هٹ هى نهىں رهى تهى عروه نے آج تک بهت سے بواۓ فرينڈز بناۓ تهے
پر آ ج تک اتنا حسين مردانه وجاهت سے بهرپور لڑکا نهيں ديکها تها.
عروه ارد گرد کى دنيا سے بے خبر بس ديوانوں کى طرح عمير کو هى ديکهے جا رهى تهى .
اچانک ڈراءيور کى آواز سے هوش ميں آئ بى بى جى سامان کهاں رکهوں .
ارے ميرے کمرے ميں رکهو اور کيا ميرے سر پر رکهنا هےعروا نے بدتميزى سے کها .عروه ڈراءيور کو ڈانٹتے هوۓ اندر چل دى .
انمول اور زيشو سب کے لۓ چا ۓ بنانے کى تيارى کر هى رهى تهيں که بارش شروع هوگئ توزيشو اور انمول نے سوچا کے کيوں نا سب کے لۓ پکوڑے بهى بناۓ جايں.پکوڑے اور چاۓ بنا کے انهوں نے سب کے لۓ نکالے . زيشو کو شرارت سوجهى .
انمول آپى ميں اندر سب کو ديتى هوں آپ باهر لان ميں ديکهو کوئ بيٹها هو تو اس کو دے آؤ زيشو نے کها .
اوکے انمول نے مسکرا کر کها .انمول چاۓ اور پکوڑے اٹها کر لان کى طرف چل دى .لان ميں پهنچى تو عمير اپنا ليپ ٹاپ اٹهاۓ اندر جا رها تها .اور هميشه کى طرح پهر دونوں ٹکرا گۓ.
چاۓ اور پکوڑے زمين پر گر گۓ .اوه تم کو لگى تو نهيں عمير نے فکر مندى سے پوچها .جى نهيں ميں ٹهيک هوں انمول نے گهبرا کر كها .
عمير انمول كا معصوم چهره ديكهتا هى ره گيا .انمول گهبرا كر جانے كے لۓ مڑى تو عمير كى آواز پر رک گئ سنو 2 چاۓ كے كپ لانا ادهر هى بيٹھ كه پيتے هيں.جى اچها جى كهتى انمول وهاں سے شرما كر بهاگ گئ اور عمير اس كى اس معصوم ادا پر هنس پڑا.
انمول دوباره چاۓ اور پكوڑے لائ اور دونوں بيٹھ كر چاۓ پينے لگے.
سنو عمير نے كها . جى انمول جو گهبرائ سى بيٹهى تهى جواب ديا .اتنا ڈر كيوں رهى كوئ جن تو نهيں عمير نے اس كى گهبراهٹ سے محظوظ هو كر كها .
جى ايسى تو كوئ بات نهيں نے اپنى گهبراهٹ پر قابو كرتے هوۓ كها. هممممم چاۓ تو مزے كى هے تهينكس عمير نے كها.جى ويلكم كهتے هوۓ انمول شرما گئ .اور اسكى اس ادا پے عمير كو جى بهر كے پيار آ يا .
عمير بچپن هى سے اپنے كام سے كام ركهنے والا بچه تها پڑهائ كے بعد اپنے بابا كا بزنس سنمبهال ليا لڑكيوں سے تو هميشه هى دور بهاگتا تها يه هى وجه تهى كه انمول كى بيوقوفيوں سے وه بچپن سے چڑتا تها .پر اب وه هى بيوقوف سى لڑكى كب اس كے دل ميں گهر كر گئ يه تو اسے بهى پته نه چلا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: