Teri Muhabbat Se Phely Mashoor Thi Ana Meri by Alaya Rajpoot – Episode 4

0
تیری محبت سے پہلے مشہور تھی انا میری از علایہ راجپوت – قسط نمبر 4

–**–**–

انمول جو عمير كو بچپن سے كهڑوس كهتى آئ تهى عمير كے پيار بهرے انداز سے پو رے گهر ميں شرمائ شرمائ پهر رهى تهى .جسے زيشو نوٹ كركے محظوظ هو رهى تهى .
زيشو شروع سے هى انمول كو اپنى بهابهى كے روپ ميں ديكهنا چاهتى تهى .زيشو بهى اکلوتى تهى بيٹى اور انمول بهى 2 هى تو کزنز تهى دونوں كا آپس ميں بهت پيار تها .گو كهزيشو انمول سے 4 سال چهوٹى تهى پر آپس ميں بهت دوستى تهى دونوں كى .
عروه سے تو بچپن ميں هى اک آدھ ملاقات هوئ تهى عروه تب بهى بدتميز تهى اب تو زيشو كو عروه زهر هى لگى تهى .اسكى عادت بلكل بهى انمول اور زيشو جيسى نهيں تهى.
رشيد صاحب كے دن رات كے خيال ركهنے سے اب بشير صاحب كى حالت ميں بهترى آ رهى تهى .شبير صاحب بهى بهائ كى كے ساتھ سے بهت خوش تهے.
بهائ جان شبير صاحب نے رشيد صاحب كو مخاطب كركے كها ،هاں بولو چهوٹے رشيد صاحب نے پيار سے چهو ٹے بهائ كو ديكھ كر كها.آ پ كب تک ميرا اور ميرے بچوں كا بوجھ اٹهاؤ گے ميرے بچے بهت فضول خرچ هيں. ميں نے اپنى مرضى سے شادى كى سارى زندگى بيوى كى باتيں مانتا رها پهر بهى اسكے دل ميں اپنى جگه نه بنا پايا بچوں كو بهى سلمه نے اپنے جيسا بنا ديا. نه بيوى كى توجه حاصل كر پايا نه اولاد كو ميرى پرواه هے.
انكے لۓ تو ميں اک پيسے كمانے كى مشين سے زياده كچھ نهيں تها آپ نه آتے تو شايد هاسپىٹل ميں پڑا پڑا مر جاتا.5 دن هونے كو آۓ اک بار بهى نا تو بيوى كو فرصت ملى شوهر كا حال پوچهنے كى نا اولاد كو .
اوه هو كيوں فضول باتيں سوچ كے اپنا دل دكهاتے هو ميں هوں نه تمهارے ساتھ اور خرچے كى فكر كى بهى تمكو كوئ ضرورت نهيں عروه اور منان بهى اپنے هى بچے هيں رشيد صاحب نے مهبت سے كها .
بهائ بشير اور نزير حال تو پوچهتے هيں اكثر پر انكے چهروں سے خفگى ظاهر هوتى هے .
ميں نے اپنى مرضى سے شادى كى بيوى كى خاطر بهاءيوں كو چهوڑ گيا اسكى سزا اب تک بهگت رها هوں، رشيد بهائ خدا كے لۓ بشير بهائ اور نزير بهائ سے كهيں مجهے معاف كرديں بوتے بولتے شبير صاحب كى آواز رند گئ ،اور روتے هوۓ رشيد صاحب كے گلے لگ گۓ.ميرے پيار ے بهائ هم سب تم سے بهت پيار كرتے هيں كوئ تم سے ناراض نهيں اب چپ هو جاؤ كوئ ٹينشن مت لو ڈاكٹر نے خوش رهنے كو كها بس اب خبردار جو اداس هوۓ تو رشيد صاحب نے كها .
ابهى دونوں بهائ باتيں كر هى رهے تهے كه انمول اور زيشو سوپ لے كر آ گئں .
يه ليں جى پيارے چاچو كا سوپ تيار هے انمول نے كها .اور رشيد چاچو كى چاۓ زيشو نے كها .اب دونوں شبير چاچو كے پاس بيٹھ كے پيار سے انكے كندھے دبانے لگيں.
كاش عروه بهى اتنى فرمانبردار هوتى شبير صاحب نے حسرت سے زيشو اور انمول كو ديكھ كه سوچا …
عروہ کو عمیر کی ایک جھلک نے دیوانہ بنا دیا تھا وہ چاہ کر بھی اسکا حسین چہرہ بهول نہیں پا رہی تھی عمیر میرا ہے عروہ کے موں سے بے اختیار نکلا ۔وہ بچپن سے ایسی ہی تو تھی جوچیز اسے پسند آ جاۓ وو اسکو حاصل کر کے رہتی تھی اور اگر حاصل نا کر پاے تو کسی کے پاس بھی نہیں رہنے دیتی تھی خراب کر دیتی تھی توڑ دیتی تھی اس چیز کو ۔۔۔
بچپن میں ایک بار اسے ایک گڑیا پسند آ گیی اس سے پہلے کے وہ شبیر صاحب سے کہتی کسی اور نے خرید لی وہ گڑیا عروہ سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے اس گڑیا کو کھینچ ک توڑ دیا ۔
یسک اس عمل سے شبیر صاحب بہت پریشان ہوے تھے پر چاہ کر بھی کچھ کر نہیں پاے کیوں کے سلمیٰ بیگم انکو بچوں کی معاملات لم ان بولنے ہی نہیں دیتی تھیں ۔
اسی ڈھیل کا نتیجہ تھا کے آج وہ اتنا بگڑ گیی تھی اس نے دل میں سوچ لیا تھا عمیر کو حاصل کر کے رہے گی ۔
عمیر کمرے میں بیٹھا آ فس کا کام کر رہا تھا کے اچانک دروازہ کھلا ۔۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے عروہ کھڑی تھی ہاے ہینڈ سم عروہ نے بلا ججک کہا ۔
عمیر جو ہمیشہ لڑکیوں سے دور بھاگتا آیا تھا اور انمول جیسی معصوم لڑکی کو بھی بنا بات کے ڈ انت دیتا تھا اس کو عروہ کا یوں فری ہونا بلکل اچھا نہیں لگا ۔
عمیر بنا جواب دئے پھر اپنے کام میں لگ گیا ۔
عروہ کو اپنا یوں اگنور ہونا برا تو بہت لگا اس بگڑی ہوئی امیر زادی کو کہاں عادت کی کسی کے نخرے سہنے کی ۔پر عمیر تو جیسے اس کے دل و دماغ پر چھآ ہی گیا تھا
اس لئے زندگی میں پہلی بار اپنا یوں اگنور ہونا سہ گیی ۔
اور خود ہی عمیر کے پاس آ کے بیٹھ گیی بڑ ے عجیب ہو تم تمہاری باقی فیملی تو بڑی چپکو ہے اور تم تو جواب تک نہیں دیتے ۔
محترمہ اگر آپ سلام کرتی مھز ب انداز میں تو میں ضرور جواب دیتا پر آپکا یہ بے باک انداز مجھے بلکل پسند نہیں آیا آپ یہاں سے جا سکتی ہیں گوڈ باے کہ کر عمیر غصے میں اٹھ کر واش روم میں گھس گیا ۔ عروہ جسے آج تک کسی لڑکے نے ڈیر سویٹی ڈارلنگ کے علاوہ کچھ نہیں بولا آج پہلی بار کسی لڑکے کے منہ سے اپنے لئے یہ سب سن کر تو اسے جیسے آگ ہی لگ گیی ۔اور وہ غصے میں اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
عمیر شاور لے کر واش روم سے نکلا تو سامنے اسکی امی بیٹھی تھیں ۔ار ے امی آپ مجھے بلا لیتی آپ اتنی سیڑھیاں چڑ ھ کے اوپر آ یں تھک گیی ہوں گی پہلے ہی آپکو جوڑوں کا درد رہتا ہے عمیر نے کہا ۔
کوئی بات نہیں بیٹا اب اتنی بھی بیمار نہیں کے اپنے بیٹے کے کمرے تک نا آ سکوں ۔
عمیر کی امی نے مسکرا کر جواب دیا ۔
ٹھیک ہے میری پیاری امی جان بتایں خیر سے بیٹے کی یاد آئ عمیر نے کہا ۔
ہاں وہ ایک ضروری بات کرنی تھی بیٹا تم سے ۔۔۔
جی بولیں امی میں سن رہا ہوں ۔
بیٹا تم اب خیر سے بڑ ے ہو گیے ہو پڑھائی پوری ہو گیی اب اچھا کما نے بھی لگے ہو تو میں اور تمھارے بابا یہ چاھتے ہیں اب تمہاری شادی کر دیں بیٹا ہم نے
تمہا رے لئے ایک لڑکی بھی پسند کی ہے اگر تم ہاں کرو تو میں بات آگے چلاؤ ں عمیر کی امی نے کہا ۔
امی کس لڑکی کی بات کر رہی آ پ عمیر نے پوچھا ۔
بیٹا اپنی انمول اور کون امی نے مسکراتے ہویے کہا ۔
عمیر حیرا نی اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ امی کی طرف دیکھ رہا تھا
بیٹا گھر کی ہی بچی ہے نیک سیرت اور دیکھی بھالی بھی تم کیا کہتے ہو اس بارے میں عمیر کی امی نے پوچھا ۔
امی جو آپکو اور بابا کو ٹھیک لگے میں بھی اسی میں خوش ہوں عمیر نے مسکرا کر کہا ۔
مطلب میں تمہاری ہاں سمجو ں امی نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا ۔
عمیر نے مسکرا کر سر ہلا دیا وہ انکار کرتا بھی کیسے امی اس کی دلی مرا د جو پوری کر رہیں تھیں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: