Teri Muhabbat Se Phely Mashoor Thi Ana Meri by Alaya Rajpoot – Episode 5

0
تیری محبت سے پہلے مشہور تھی انا میری از علایہ راجپوت – قسط نمبر 5

–**–**–

انمول لاؤنج میں بیٹھی چاۓ پی رہی تھی کہ اس کے پاس اسکا تایا زاد ارحم ا کر بیٹھ گیا ۔
اور سناؤ موٹی بہن کیسی ہو ارحم نے شرا ر تن کہا ۔۔۔۔۔کیا بھائی موٹی نا کہا کریں انمول نے چڑ کے کہا ۔۔۔اوکے اوکے نہیں کہتا اچھا بات سنو میں بہت دن سے تمسے اک بات کرنا چاہ رہا ہوں پر کر نہیں پا رہا موٹی بات کے ا ینڈ میں ارحم کو پھر شرارت سوجی ۔
بھائی میں نہیں بولتی آپسے بس اس بار انمول بری طرح چڑ گیی ۔۔۔۔اچھا اچھا اچھا سوری پکا اب نہیں کہتا ۔۔۔۔اچھا بتایں آپکو کیا کہنا تھا انمول نے پوچھا ۔
یار وہ تمہاری فرینڈ ماہی ہے نا وہ مجھے بہت پسند ہے ۔
ہاں تو اس میں کیا بڑی بات ہے مجھے بی وہ بہت پسند ہے میری بیسٹ فرینڈ جو ہوئی انمول نے معصومیت سے کہا !اففف پگلی وہ والا پسند نہیں دوسرا پسند۔ اب یہ دوسرا پسند کیا ہوتا ۔۔۔۔
چپ کر کے صرف میری بات سنو اور اب بات کے بیچ میں نا بولنا سمجی ۔۔میں تمہاری فرینڈ ماہی کو پسند کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں اب تم گھر والوں کو مناؤ اور رشتہ لے کر انکے گھر جاؤ سمجی ارحم ۔ انمول کی بے وقو فیو ں سے تنگ آ کر ساری بات اک ھی سانس میں بول گیا ۔
ہووو ہاے بھائی آپ تو بڑ ے چھپے رستم نکلے پہلے کیوں نہیں بتایا انمول نے حیران ہو کر کہا ۔۔۔۔اچھا اب یہ باتیں چھوڑو اور گھر والو سے بات کرو ۔۔۔
نہیں پہلے آپ بتایں کے ماہی بی آپکو پسند کرتی ہے انمول نے خوش ہو کے پوچھا ۔
پتا نہیں یار بس جب کبی تمکو ملنے آتی تھی تو ہیلو ہائی ہو جاتی بس میں ھی پسند کرتا ہوں اسے یار اسکا نہیں پتا اب تم یہ باتیں چھوڑو جو کھا ہے وہ کرو ۔
اوکے بھائی کہتی انمول خوشی سے اپنے کمرے کی طرف چل دی ۔اور ارحم نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کے آنکھیں موند لیں ۔
ارحم نذیر صاحب کی اکلو تی اولاد تھا اسکی ماں اسکی پیداءش کے وقت ھی انتقال کر گیئی تھیں اسی لئے وہ گھر بھر کا لاڈلا تھا اسکی تای اور چچی نے کبی اسکو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔
یہی وجہ تھی کے انمول کی بات کرنے کی دیر تھی سب گھر والے نا صرف مان گیے بلکے رشتہ لے کر ماہی کے گھر چلے گیے ۔ماہی انمول کی بچپن کی دوست تھی !!ماہی کے گھر والے نذیر صاحب کی فیملی کو بہت اچھے سے جانتے تھے اس لئے انہوں نے بی ہاں کر دی ۔ارحم کی قسمت نے ساتھ دیا جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ والی بات ہوئی ۔
آج ارحم اور ماہی کا ولیمہ کی تقریب تھی ماہی نے اپنی کچھ ٹیچرز کو بی انوائٹ کیا تھا جن میں میم عنایا بھی تھیں ۔آج سے پہلے کبھی میم عنایا یوں کسی انجان لوگوں کی تقریب میں نہیں گیی تھیں پر ماہی انکی فیورٹ سٹوڈنٹ تھی اس لئے اس کی بات مان لی ۔
میم عنایا تھوڑا ہچکچاتے ہوئے میر ج حال میں داخل ہوئیں ابھی مشکل سے 2 قدم بھی نا چل پائیں تھی کے انکا پیر پھسل گیا اس سے پہلے کے میم عنایا گر جاتیں کسی نے انکا ہاتھ پکڑ کر بچا لیا میم عنایا تھوڑا سمبلی تو بچانے والے کی پر شوق نگاہیں دیکھ کر گھبرا گیں ۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں نا بچانے والا جیسے انکا ہاتھ پکڑ کر چھوڑنا ھی بهول گیا !!جی میں ٹھیک ہوں عنایا نے گھبرا کر خود ھی اپنا ہاتھ چھڑ ا یا ۔۔۔۔جی مجھے علی کہتے ہیں انمول کا بڑا بھائی اور آپ ؟؟؟
جی میرا نام عنایا ہے انمول اور مہیما کی ٹیچر ۔
اوو ریلی علی نے حیران ہو کر پوچھا !!! کیوں آپکو کوئی شک ہے عنایا نے غصے سے کہا ۔
ار ے نہیں نہیں ایسی بات نہیں آپ پلیز برا نا مانے میں تو اس لئے پوچھ رہا تھا کے آپ بہت ینگ اور خوبصورت ہیں نا اس لئے علی نے کہا ۔
عنایا اسکی بات سے بلش ہو گیی اور تیزی سے آگے بڑھ گیی ۔
ماہی دلہن کے روپ میں بہت حسین لگ رہی تھی ارحم کی تو اس سے نظر ھی نہیں ہٹ رہی تھی ۔انمول اور زیشو ارحم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہیں تھیں ۔
عمیر نے علی کے ولیمہ کے دن بلیو پینٹ کوٹ پہنا تھا ہر لڑکی اسکو دیوا نوں کی طرح دیکھ رہی تھی وہ لگ ھی اتنا حسین رہا تھا انمول اسٹیج سے نیچے آنے کے لئے پیچھے موڑی تو سامنے دوشمنے جاں کو دیکھ کر سٹپٹا گیی ۔عمیر اسے ھی دیکھ رہا تھا بہت پیار بھری نگاہوں سے ۔
اففف یہ کھڑوس مجھے اتنے پیار سے کیو ں دیکھ رہے ہیں انمول نے سوچا۔عمیر کی پر شوق نگاہوں سے بچنے کے لئے وہ واپس ارحم اور ماہی کی طرف رخ موڑ گیی ۔
جب میں اس پگلی سے چڑ تا تھا تو ہر وقت سامنے ھی رہتی تھی اب میں دیکھنے کو ترستا ہوں تو نظر نہیں ملاتی عمیر دل میں سوچ کے رہ گیا ۔
عمیر کو رشید چچا نے کسی کام سے بلایا واپسی پر وہ اک بچے سے ٹکرا گیا بچے کے ہاتھ میں پکڑی آئس کریم عمیر کے کپڑوں پر لگ گیی اوہ یہ کیا کیا آپنے عمیر نے کہا ۔۔۔۔
سوری انکل بچا عمیر کی رعب دار پرسنیلٹی دیکھ کے گھبرا گیا ۔
اچھا چلو کوئی بات نہیں آپ جا کر کھیلو عمیر نے بچے کی گھبرا ہٹ دیکھ کے کہا اور خود اپنے کپڑے صاف کرنے واشروم چل دیا ۔جیسے ھی عمیر اپنے کپڑے صاف کر کے واپس مڑا پیچھے کھڑی عروہ کو دیکھ کے ٹھٹھک گیا۔ ۔۔
ایسکیوزمی مس عروہ یہ جینٹس واشروم ہے تم یہاں کیا کر رہی ہو تم سے بات کرنے آ ئ ہوں ڈیر ۔۔۔۔یہ کونسی جگہ ہوئی بات کرنے کی عمیر نے غصے سے پوچھا ۔اک تو تم ناراض بہت جلدی ہوتے ہو ہینڈ سم عروہ بات کرتے کرتے عمیر کے نزدیک آ گیی اور ہاتھ بڑھا کر اسکے بال سنوار لگی ۔
عمیر جو اسکے کردار اور عادت سے بلکل واقف نہیں جھٹکے سے پیچھے ہٹا یہ کیا کر رہی ہو تم عمیر نے غصے سے لال ہوتے ہوے اسکو پیچھے دھکا دیا ۔ عروہ سیدھی دروازے میں جاکے بجی اسکو کافی چوٹ بھی لگی بد تمیز لڑکی تمہے شرم نہیں آ تی یوں کسی گیر مرد کے ساتھ فری ہوتے دفع ہو جاؤ یہاں سے یہ نا ہو کے میں اپنے آ پے سے سے باہر ہو کر تمہا رے تھپڑ مار دوں جاؤ عمیر کی رگیں غصے سے تن گیی ۔
امیر زادی عروہ جس کو کبھی کسی نے اف تک نہیں کہا آج اک لڑکے نے اسکی اتنی بزتی کر دی و ہ جو پچھلی بار عمیر کا نظر انداز کرنا سہ گیی اس بار اپنی بزتی پر آ پے سے باہر ہو گیی اک بات تم کان کھول کے سن لو مسٹر تم صرف میرے ہو صرف میرے آئ سمجھ عروہ کو جو چیز اک بار پسند آ جاۓ وہ صرف اسکی ہوتی ہے سمجھے اگر وہ چیز مجھے نا ملے تو میں کسی اور کے قابل بھی نہیں رہنے دیتی ۔یاد رکھنا مسٹر عمیر ھننھ ۔۔۔۔۔۔۔عروہ یہ کہ کر تن تنا تی ہوئی باہر چلی گیی ۔
عمیر نے کبھی سوچا بھی نا تھا کے اسکی چچا زاد اتنی گری ہوئی سوچ کی مالک ہوگی یہ کیسی لڑکی ہے سلمیٰ چچی نے کیسی تر بییت کی ہے اسکی اف میرے اللّه اس لڑکی کو ہدایت دے عمیر دل میں سوچتا ہوا ہا ل میں چلا گیا ۔۔۔۔
انمول جو ارحم اور ماہی کی شادی پر سب سے زیادہ بڑھ چڑ ھ کے حصہ لے رہی تھی سب سے زیادہ تھک بھی اب وھ ھی گیی تھی آرام کرنے کی غرض ابھی اپنے کمرے میں آئ ھی تھی کے امی کی آ و از سے واپس نیچے آ گیی جی امی!! بیٹا سب سو رہے ہیں اور میں بھی بہت تھک گیی ہوں ہو سکے تو یہ شرٹ پریس کر دو
اوکے امی آپ سو جایں میں کر دوں گی ۔
تھنکس بیٹا کہتی امی اپنے کمرے کی طرف چلے گیں ۔
انمول تھکی تھکی سی استری اسٹینڈ تک آئ اور سو یچ ا ون کیا شرٹ پریس کر کے رکھ دی تو یاد آ یا کے امی سے یہ تو پوچھا ھی نہیں کے یہ کس کی شرٹ ہے اور پریس کر کے کس کو دینی ہے کچھ سمجھ نھی آیا تو شرٹ کو استری اسٹینڈ پر ھی چھوڑ کر اپنے کمرے میں چل دی ۔
ابھی کمرے میں آ کر کمر ھی سیدھی کی تھی دروازے پر ناک کی آواز پر پھر اٹھنا پڑا دروازہ کھولا تو سامنے منان کھڑا تھا ۔۔۔انمول اسکو دیکھ کے گھبرا گیی جججی بھائی آپ اس وقت انمول کے چہرے کا رنگ ھی اڑ گیا ا وہ سویٹی بار بار بھائی کہ کے چڑ ا یا نا کرو مجھے میں تو اس شرٹ کے تھنکس بولنے آیا ایکچولی مجھے اک پارٹی میں جانا تھا ویسے تم آج پنک فراک میں بہت حسین لگ رہی تھی منان نے انمول کو بڑ ی غور سے دیکھ کر کہا انمول کو منان کی آنکھوں سے خوف انے لگا تو اس نے بنا کچھ بولے کھٹ سے دروازہ بند کر لیا ۔اور اپنی رکی ہوئی سانس بھال کی ۔اف خدا کتنا بے ہودہ ہے یہ انسان تمیز تو چھو کر نہیں گزری انمول نے سوچ تے ہوئے قکلمہطیبہ پڑھا اور سو گیی ۔
اگلے دن سب نیے دولہا دلہن کے ساتھ چپکے بیٹھے تھے مذاق ۔ مستی چل رہی تھی عمیر بار بار انمول کو پر شوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔انمول کا تو مارے شرم کے برا حال تھا چھپنے کی جگہ ملتی تو و ہ کہیں چھپ جاتی عمیر کی نظروں سے پر اب سب گھر والوں کے سامنے اٹھ کے جانا بھی عجیب لگنا تھا اسی لئے چپ چاپ بیٹھی رہی ۔۔۔زیشو بیٹا سب کے لئے چاۓ لاؤ بشیرصا حب نے کہا ۔
جی بابا کہتی زیشو کچن کی طرف چل دی ۔
ارحم کا تو بس نہیں چل رہا تھا کے ماہی کے قربان ہی ہو جاۓ ماہی بھی اپنے دولہا کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی سب بڑے آپس میں گپ شپ کر رہے شبیر صاحب کی طبیت بھی اب بہت بہتر تھی ۔
زی شو ای نہیں ابھی تک میں دیکھتی ہوں انمول نے کہا ۔۔۔نہیں رو کو آپی میں دیکھتا ہوں انمول سے چھوٹے عمر نے کہا ۔
آج سب اک ساتھ بیٹھے ہیں تو میں نے سوچا اک خوش خبری دے دوں بشیر صاحب نے کہا ہمنے فیصلہ کیا ہے کے انمول اور عمیر کی اگلے ہفتے منگنی کر دیں اور انشاءلله 2 ماہ تک شادی ویسے بھی اگلے ماہ انمول کے پیپر ز ہیں پھر انمول فری ہے ۔
انمول ک لئے یہ بات کسی سرپرائز سے کم نہیں تھی وو حیران ہو کر سبکو دیکھ رہی تھی اور عمیر اسےدیکھ کے شرارت سے مسکرا رہا تھا ۔
پر عروہ کے لئے یہ خبر کسی قیامت سے کم نہیں تھی ۔اس نے وہا ں بیٹھے بیٹھے سوچ لیا کے عمیر کو پانے کے لئے اب وہ ہر حد سے گزر جاۓ گی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: