Teri Muhabbat Se Phely Mashoor Thi Ana Meri by Alaya Rajpoot – Episode 6

0
تیری محبت سے پہلے مشہور تھی انا میری از علایہ راجپوت – قسط نمبر 6

–**–**–

زیشو چاۓ بنا کر کپ میں ڈال ہی رہی تھی کے عمر آ گیا موٹی بھینس اتنا ٹائم تو نہیں لگتا چاۓ بنانے میں جتنا تم لگا رہی ہو ۔
میں جتنا مرضی ٹائم لگاؤ ں تمہے کیا مسلہ ہے نوبیتا ہر وقت روتے ہی رہتے ہو یہ نہیں ہوا وو نہیں ہوا ہنننں زیشو نے جل بھن کر کہا ۔۔
ا ے موٹی بھینس خبر دار جو مجھے اس فضول کارٹون نوبیتا سے ملایا تو عمر نے چڑ کر کھا۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا تم ہو ہی نوبیتا رونی صورت زیشو نے عمر کے غصے سے محظوظ ہو کر کہا ۔۔۔۔اور تم ہو ہی موٹی بھینس چڑیل کہ کر عمر وہاں سے چلا گیا ۔
ادھر بڑوں نے منگنی کی بات کی ادھر گھر کی خواتین نے تیاری شرو ع کر دی ۔۔۔۔اف اک ہفتے میں کیسے ہوگی تیاری انمول کی امی پریشان سی تھیں اوہ ہو میں ہوں نا سب کچھ ہو جاۓ گا ٹائم پے تم پریشان نا ہو عمیر کی امی نے دیورانی کو حوصلہ دیا ۔۔۔جی بھابی شکریہ انمول کی امی نے کہا ۔۔
ادھر انمول خوشی سے تتلی بنی ادھر سے ادھر اڑتی پھر رہی تھی خوشی تھی کے سمبھالی ہی نہیں جا رہی تھی عروہ جو کچن میں پانی پینے آئ خوشی سے چہکتی انمول سے ٹکرا گیی ۔وہاٹ نون سینس عروہ نے چڑ کر کہا اوہ سوری میں نے آپکو دیکھا نہیں انمول نے گھبرا کر کہا ۔۔۔۔۔۔دیکھنا تو میں بھی نہیں چاہتی تمکو اور جلد ہی میری یہ خواہش بھی پوری ہو جاۓ گی عروہ نے سوچا ۔۔۔۔
میم عنایا آج ٹیسٹ چیک کرتے کرتے تھک گیی تھیں کالج سے باہر آ ین تو تیز بارش شرو ع ہو گیی افف اب تو رکشا بھی نہیں ملے گا میں گھر کیسے جاؤں گی وہ بہت گھبرا گیی وہ رکشا دیکھنے کے لئے تھوڑا آ گے چل کے آ گیں اچانک پیچھے سے بائیک پر 2 لڑکے آے اور اکیلی لڑکی کو دیکھ کر تنگ کرنے لگے ۔ا وہ ہیلو سوہنیو کدھر جا رہی ہو آ ؤ ہم چھوڑ آ تے ہیں ۔۔۔۔میم عنایا تو انکی اس حر کت سے بہت ڈر گیں اتنے میں اک لڑکا بائیک سے اترا اور عنایا کا ہاتھ پکڑ لیا اس سے پہلے کے کچھ اور ہوتا پیچھے سے اک بلیک کار آ کر رکی اور اس میں سے اک لڑکا نکلا اور ان لڑکوں پر چلایا ۔
وہ بائیک والے لڑکے اسے دیکھ کر بھاگ گیے ۔۔۔میم عنایا چکر ا کر گرنے ہی والی تھیں کے اس نے انکو سہارا دے کر کھڑا کیا۔ آپ ٹھیک تو ہیں نا اس لڑکے نے پوچھا جی جی میں ٹھیک ہوں میم عنایا نے کانپتی آواز سے کہا ۔چلیں میں آپکو گھر چھوڑ دوں ۔۔۔نہیں نہیں میں چلی جاؤں گی عنایا نے کھا ۔
پلیز آپ مجسے نا گھبرایںمیں علی ہوں انمول کا بھائی شاید آپنے مجھے پہچانا نہیں ۔چلیں میں آپکو چھوڑ دوں اس بار عنایا بھی چپ چاپ گھاڑی میں بیٹھ گیی علی نے میم عنایا سے انکا اڈریس پوچھا اور انکو کو اس پتے پر ڈراپ کر دیا ۔
آج انمول کی اور عمیر کی منگنی تھی سب گھر والے بہت خوش تھے ۔۔۔سواے عروہ کے ۔ ۔ ۔ رسم کا وقت ہوا عمیر نے انمول کو انگوٹھی پہنائ اور انمول نے عمیر کو ۔۔۔۔۔۔
دیکھو میرے پیار کی نشانی کو گم نا کر دینا یہ تمکو میری یاد دلا تی رہے گی ۔۔۔۔
انمول نے شرما کر اسکی بات پر سر جھکا لیا ۔
منان اپنے کمرے میں بیٹھا سگر ٹ پی رہا تھا کے عروہ اندر چلی آ آئ سنو بھائی تمسے اک کام تھا اگر میرا کام کرو گے تو پکا میری آدھی پاکٹ منی تمہاری ۔۔۔
آدھی نہیں پوری دو تو سوچوں گا منان نے کہا ۔۔۔اچھا بابا پوری لے لینا عروہ نے چڑ کر کہا ۔ہاں تو بتاؤ کرنا کیا ہے منان نے کھا ۔۔۔۔اور عروہ اسے اک شیطانی پلان بتانے لگی ۔
انمول ٹی وی دیکھ رہی تھی کے علی نے اسے باؤ کر کے ڈرا دیا کیا بھائی آ پنے تو مجھے ڈرا ہی دیاانمول نے کہا ۔۔۔۔کیا کر رہی ہے میری پیاری بہن علی نے پیار سے اس کے سر پے ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔۔کچھ نہیں ٹی وی دیکھ رہی تھی انمول نے کہا میرے مصروف بھائی کو آج میرے لئے ٹائم کیسے مل گیابس اب میری بہن مہمان ہے نا تو سوچا تھوڑا وقت اپنی بہن کے اب سے روز نکالوں گا ۔اچھا سنو میرا اک کام کر دو علی نے کھا ۔
کونسا کام بھائی انمول نے پوچھا وہی کام جو تمنے ارحم کا کیا تھا علی نے جھجھکتےہوئے کہا ۔۔۔
کیا مطلب اب آپکو بھی کوئی پسند آ گیا ۔ہاں یار ۔۔۔۔
کون ؟
تمہاری ٹیچر عنایا !!!!
افففف بھائی کیا بول رہے ہو آپ بہت مشکل ہے یہ ماہی تو میری فرینڈ تھی اور اسکی فیملی ب ہمکو جانتی تھی نا بابا نا مجھسے نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
اب تم اپنے بھائی ک لئے اتنا بھی نہیں کر سکتی علی نے رونی صورت بنا کر کہا ۔
اچھا چلیں اداس نا ہوں کرتی ہوں کچھ ۔
انمول نے امی سے بات کی اور انہوں نے گھر کے بڑوں سے علی کی قسمت نے ساتھ دیا اور گھر ک بڑوں نے بھی حامی بھر لی اگلے 3 دن بعد گھر کے بڑ ے عنایا ک گھر جانے کے لئے تیار تھے ۔
عنایا میم کو انکے پاپا کی چچا زاد بہن نے پالا تھا۔۔۔ انکے پیرنٹس کی اک کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہو گیی تھی تب عنایا کی عمر صرف 2 سال تھی ۔عنایا کی پھپھو بہت غریب تھیں پھر بھی انہوں نے عنایا کی اچھی پر و ر ش کی تھی انکی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی عنایا سے انھیں بہت پیار تھا شوہر کی پینشن اور سلائی کے پیسوں سے انہوں نے اسے پالا اور پڑھایا پر اب انکو کینسر کی لاسٹ اسٹیج تھی اور انہہیں اب عنایا کی شادی کے لئے جلد سے جلد کسی نیک گھر ا نے کی ضرورت تھی ۔
دن رات وو اس کے لئے دعا کرتی تھیں ۔علی کے کے گھر والے رشتا لے کے آے تو انھیں لگا کے اللّه نے انکی دعا سن لی ۔انہوں نے پہلی ملا قات میں ہاں اور دوسری میں نکاح کی تاریخ پکی کر دی عنایا بھی اس رشتے سے خوش تھی اسے علی کی کی روشن آنکھیں بار بار خیالوں میں آتی تو وو شرما سی جاتی ۔
اگلے ہفتے سادگی سے نکاح تھا سب گھر والے جانے کے لئے تیار بس اک انمول ہی پریشان تھی پتا نہیں کیسے اسکا سوٹ جل گیا تھا ۔علی نے انمول کے لئے نیا سوٹ آرڈ ر کیا پر اسکو آ نے میں کم سے کم 2 گھنٹے لگنے تھے ۔انمول نے کہا امی آپ لوگ لیٹ ہو رہے ہیں آپ جایں میں سوٹ ک اتے ہی ڈرائیور کے ساتھ آتی ہوں پہلے تو امی نہیں مان رہی تھیں پر انمول کے سمجھا نے پر مان کے چلے گیں ۔بارات جا چکی تھی ۔2 گھنٹے بعد انمول کی ڈریس آ آئ تو وو پہن کر اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کے جلدی سے آ کر کار میں بیٹھی ۔۔۔جلدی میں کار میں بیٹھی اور سامنے دیکھے بنا ہی بولی جلدی چلو ڈرائیور
انمول کو یاد آیا کے جلدی میں وہ اک کان میں ایر رنگ پہننا ہی بھول گیی ۔۔۔اس نے اپنا ہینڈ بیگ کھولا اور اپنا ایر رنگ ڈھونڈھنے لگی ۔۔۔کافی دیر بعد جب اسکو اسکا ایر رنگ ملا تو تو اس نے شکر کیا اور پہن لیا ۔ہینڈ بیگ بند کرنے کے بعد جب اسنے ریلکس ہونے کے لئے سائیڈ مر ر سے باہر دیکھا تو اس کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل اسکی گھاڑی جنگل نما سنسان راستے پر آ کر رک گیی ۔۔۔
عروہ نے نے منان سے کہا کے انمول کو جنگل نما کسی پھاڑى علاقے ميں لے جا کر كىسى كهائ ميں دهكا دے دے ۔
منان جو پہلے ہی انمول پر نظر رکھ کے بیٹھا تھا اسکی تو چاندی ہو گیی اور اس نے دل میں کچھ اور ہی پلان تیار کر لیا ادھر عروہ کو بھی یقین دلا یا کے اسکا کام ہو جاۓ گا ۔
ادھر عروہ نے علی کی شادی کے دن پلان کے مطابق انمول کا سوٹ جان بوجھ کر جلا دیا تا کے وو بارات کے ساتھ نا جا سکے ۔۔۔۔
عروہ ڈرائیور کو لے کر شاپنگ کے بہانے مال چلے گیی ۔ادھر انمول تیار ہو کر جب کار میں ا کر بیٹھی تو اسے اس لئے شک نہیں ہوا کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا انسان ڈرائیور کی یونیفارم میں تھا ۔
کون ہو تم ؟؟؟اور یہ کہا ں ا گیے ہو ؟؟؟ ہم تو شادی میں جا رہے تھے نا انمول نے چلا کر کہا !!!
ڈرائیور نے انمول کے چلا نے پر جب پیچھے مڑ کے دیکھا تو انمول کو جیسے آسمان اپنے اوپر گرتا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔۔و ہ منان تھا ۔
علی کا نکاح بھی ہو گیا رخصتی ہونے کے قریب ای پر ابھی تک انمول نہیں آ آئ تھی اسکا موبائل بھی بند جا رہا تھا ۔انمول کی امی بہت پریشان تھیں ۔ماہی بیٹا پھر سے کال ملاؤ شاید اب مل جاۓ انمول کی امی نے پریشانی سے کہا !!!
آنٹی نہیں مل رہا اوف ہے اسکا نمبر اور گھر کے نمبر پر بھی کوئی نہیں اٹھا رہا کال ماہی نے کہا ۔
یا اللّه خیر ہو بس انمول کی امی کا دل گھبرا رہا تھا ۔
آنٹی آپ پریشان نا ہوں ہو سکتا ہے اسکا سوٹ نا آیا ہو اب تک ماہی نے کہا ۔
بیٹا سوٹ نا انا اک الگ بات وہ ہماری کال تو اٹینڈ کرے وو کیوں نہیں کر رہی
یہ بات تو سوچنے کی ہے اب کی بار ماہی بھی پریشان ہو گیی ۔
رخصتی کا وقت ہوا عنایا رخصت ہو کر سسرال آ گیی ۔
عمر جاؤ جا کے انمول کو اسکے کمرے سے بلا لاؤ میں اس سے پوچھوں کال کیوں نہیں سن رہی تھی ہماری انمول کی امی نے کہا !!!
جی امی جاتا ہوں عمر جلدی سے انمول کے کمرے میں آیا پر اسے کہیں نظر نہیں ای ۔عمر اسکے کمرے سے نکلا تو ہر اک کے کمرے لاؤ نج لان گیسٹ روم کچن پورے گھر میں دیکھ آیا پر انمول اسکو کہیں نہیں ملی۔
عمر پریشانی کے عالم میں امی کے پاس آیا امی آپی کہیں نہیں ہے میں نے پورے گھر میں دیکھ لیا ۔
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انمول کی امی کو سن کے چکر آیا اور وو بیہوش ہو گیں ۔تھوڑی دیر بعد پورے گھر میں یہ خبر پھیل گیی کے انمول گھر پر نہیں سارا گھر تو جیسے یہ سن کے سکتے میں آ گیا ۔
انمول کبھی پوچھے بنا گھر سے باہر نہیں نکلی تھی اور آج وو گھر سے غاءب تھی اسکا نمبر بھی بند تھا رات ہونے کو آ ی تھی پر انمول کا اب تک کچھ پتا نا تھا ۔
منان انمول کو دیکھ بہت مکر و ہ ہنسی ہنس رہا تھا اور انمول کا مارے خوف کے برا حال تھا ۔۔۔منان بھائی آپ ڈرائیو کر رہے ہیں ؟؟؟ ڈرائیور کہاں ہے؟؟؟ اور آپ نے ڈرائیور کی یونیفارم کیو ں پہنی ہوئی ہے ؟؟؟۔۔۔ میں نے تو عنایا بھابی کے گھر جانا ہے پلیز مجھے وہاں ڈراپ کر دیں انمول نے کانپتی آواز سے کہا ۔
چھوڑ دوں گا گھر بھی پہلے میرے ساتھ تو چلو منان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اسے کار سے باہر نکال کر اک چھو ٹے سے کھنڈ ر نما گھر میں لے گیا ۔۔۔ انمول پہلے ہی خوف زدہ تھی اور اب وو منان سے مکر و ارادے کو بھی سمجھ گیی ۔
منان نے اسے لا کر اک اک ٹو ٹے سے صوفے پر پھینک دیا۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی منان اس کے قریب آنے لگا انمول نے اپنے ہینڈ بیگ میں ہاتھ ڈالا اور اپنی میک اپ کٹ رکھ کے منان کے منہ پر ماری ۔۔۔۔
منان کے ناک اور منہ سے خون ابل پڑا۔ خون نکلنے سے تھوڑی دیر کے لئے اسکی آنکھیں دھندلا گیئی ۔
انمول نے اسی بات کا فائدہ اٹھایا اور تیزیسے اسکو دھکا دے کر کمرے سے باہر نکلی اور باہر کی کنڈی لگا کر بھا گ کھڑی ہوئی ۔منان تیزی سے اسکے پیچھے لپکا اور زور زور سے دروازہ پیٹنے لگا ۔
اب کیا کریں رات کے 11 بج رہے ہیں ایسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے اب تو پولیس کو خبر کرنی ہی پرے گی بشیر صاحب نے پریشانی سے کہا ۔
نہیں پولیس نہیں پولیس کو رپورٹ کرنے سے ہماری بہت بدنامی ہوگی لوگ ہماری عزت کی مثال دیتے ہیں ہماری بہت جگ ہنسا ی ہوگی رشید صاحب کے بولتے بولتے آنکھوں سے آنسو آ گے ۔
انمول بھاگتی ہوئی پتا نہیں کس طرف جا رہی تھی اسے کچھ پتا نہیں تھا ۔بس وو بھاگتی جا رہی تھی اسے اپنی جان سے زیادہ اپنی عزت پیاری تھی ۔
انمول بھاگتی بھاگتی درختوں کے بیچو بیچ بنی اک چھوٹی سی سڑک پر پوھنچی تو اک تیز رفتار کار سے ٹکرا کر بری طرح زخمی ہو کر بیہوش ہو گیی
کار میںبیٹھی لڑکی اور لڑکا تیزی سے باہر آے اور اسے اٹھا کر کار میں بٹھایا اور اپنے ساتھ اپنے گھر لے آے ۔
تھوڑی دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو اک کمرے میں پایا ۔کیسی ہو اب اسکو اپنے پیچھے سے آواز ای اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے اسکی اسکول فیلو رابعہ کھڑی تھی ۔رابعہ رابعہ رابعہ کہتی انمول بھاگ کر اسکے گلے لگ گیی ۔
رابعہ تمنے مجھے بچا لیا میں تمہارا احسان کبھی نہیں بهول سکتی ۔رابعہ پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ او میرے گھر والے بہت پریشان ہوں گے میرے لئے میں کبھی بنا بتاۓ گھر سے باہر نہیں نکلی پلیز جلدی چھوڑ آؤ ۔
وو تو سب ٹھیک ہے پر بتاؤ تو سہی تم كس سے بچ كے بهاگ رهى تهى .
بس تم وه سب چهو ڑو هاں پر اتنا ياد ركهنا تمهارا احسان ميں كبهى نهيں بهول سكتى تم ميرے لۓ فرشته بن كے آئ هو.
بس پليز اب مجهے جلدى گهر چهوڑ آؤ ميرے.انمول نے كها.
ٹهيک هے ميں اپنے مياں سے كهتى هوں وه گاڑى نكالتے هيں چلو ميرے ساتھ…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: