Teri Muhabbat Se Phely Mashoor Thi Ana Meri by Alaya Rajpoot – Last Episode 7

0
تیری محبت سے پہلے مشہور تھی انا میری از علایہ راجپوت – آخری قسط نمبر 7

–**–**–

انمول گھر ای تو امی کے گلے لگ کر بہت روئی سب گھر والے بار بار پوچھ رہے تھے تم کہاں تھی اب تک پر وہ کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی عمیر کن آنکھیوں سے انمول کو دیکھ رہا تھا انمول کو اپنا آپ بلا وجہ چور سا محسوس ہوا تو وو اٹھ کر اپنے کمرے میں مرے مرے قدموں سے چل دی رابعہ نے انمول کے گھر والوں کو ساری بات بتائی کے کیسے انمول گھبرا ی ہوئی اسے سنسان سڑک پے ملی رابعہ نے بتایا کے یو ں ہی شارٹ کٹ کا سوچ کے اس راستے سے ا گیے تو قسمت نے انمول سے ملا دیا ورنہ اس سنسان راستے پے جلدی کوئی نہیں جاتا رابعہ نے پھر انمول کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور چلی گیی ۔۔۔۔
عروہ نے جب انمول کو گھر میں دیکھا تو وو بہت ڈر گیی اب اسے پکڑے جانے کا خوف ستانے لگا ۔جب سب اٹھ کر اپنے کمروں میں جانے لگے تو عروہ نے اپنے کمرے سے اپنا ضروری سامان لیا اور چپکے سے گھر سے نکل گیی ۔
گھر میں کسی نے عروہ کی گیر موجودگی کو نوٹ نہیں کیا سواۓ عمیر کے
کیو ں کے وو اکثر گھر سے باہر ہی رہتی تھی جب سے ای تھی رات کو جب انمول کی امی اسکے کمرے میں دود ھ لے کر آ ین تو پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور پوچھا بتاؤ بیٹا کہاں گیی تھی کیو ں گم سم سی ہو ۔۔۔۔میں جانتی ہوں میری بیٹی کچھ غلط نہیں کر سکتی مجھے اپنی پرورش پر پورا یقین ہے ۔
انمول ماں کا قرب پا کر انکے سینے سے لگ کر خوب روئی پھر اک اک کر کے منان کے سارے کالے کار نا مے بتاتی گیی ۔
انمول کی امی نے ساری بات عمیر کی امی سے کی تو دونو ں نے فیصلہ کیا کے ابھی کوئی بات گھر کے مردوں کو نا بتائی جاۓ !!!کیو ں کے ابھی ابھی شبیر صاحب کی حالت کچھ سمبھلی تھی اگر انکو اس حالت میں اپنے بیٹے کی کالی کرتو توں کا پتا چلتا تو وھ یہ سب برداشت نا کر پاتے ۔
عمیر انمول کو سے دور دور رہنے لگا جہاں انمول ہوتی وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ۔۔۔۔عمیر کے اس رو یے سے انمول ٹوٹ سی گیی اور امی سے بات کی امی میں چین جانا چاہتی ہوں آ گے کی پڑھا ی کے لئے !وو تو ٹھیک ہے بیٹا پر آپکے بابا اکیلے جانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔
امی تو ٹھیک ہے نا عمر کو بھی تو اگے کی پڑھائی کے لئے چین جانا چاہتا ہے ہم دونو ں بہن بھائی ساتھ چلے جاتے ہیں پھر تو بابا اجازت دے دیں گے نا ۔۔۔۔
اچھا بیٹا میں آپکے بابا سے کرتی ہوں بات ۔انہو ں نے جب انمول کے بابا سے بات کی تو انہو ں نے دونو ں بہن بھائی کو اکٹھے جانے کی اجازت دے دی ۔
جس دن انمول کی فلا یٹ تھی انمول پورا دن عمیر کا انتظار کرتی رہی پر وو آفس سے ہی نہیں آیا ۔ٹو ٹے دل کے ساتھ انمول چین کے سفر پر عمر کے ساتھ چل دی ۔
2 سال کا وقت پر لگا کر ا ڑ گیا پر انمول کے لئے اک اک دن صد یوں جیسا تھا آج واپسی کا دن تھا اور انمول کو سمج ہی نہیں آ رہی تھی خوش ہو یا اداس ۔
عمیر آ فس سے گھر آیا تو امی سے پتا چلا کے انمول اور عمر چین چلے گیے ہیں
2 سال کے لئے!!!! عمیر کو یہ بات سن کے حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔اسے انمول سے اتنی بے وقو فی کی توقع نہیں تھی ۔انمول کو جو لگ رہا تھا اب کو اس سے پیار نہیں رہا یا اب وو اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا ایسا کچھ نہیں تھا بل کے وو انمول کے اغوا کے بعد سے ہی عروہ پر خاص نظر رکھنے لگا تھا ۔
جس وقت عروہ گھر سے اپنا سامان اٹھا کے بھاگی تھی تب بھی عمیر نے اسکا پیچھا کیا تھا اور پتا کر لیا تھا کے وو کہاں گیی ہے عمیر کا اک دوست
پولیس آ فیسر تھا و ھ اسکی پل پل کی رپورٹ دے رہا تھا ۔اسنے عروہ کو اریسٹ کر کے 2 دن میں hiہی سب اگلوالیا۔
عمیر کے دوست نے بتایا کے کیسے عروہ اور منان نے مل کے یہ گھناونا پلان بنایا منان نشے کی عادت کی وجہ سے تیز ڈرائیو کرتے ہوے اک بری طرح ایکسیڈنٹ حادثہ کا شکار ہوا اور جانبر نا ہو سکا عروہ کو جیل ہو گیی بشیر صاحب یہ صدمہ سہ نآ سکے اور اپنے خاندان کو روتا ہوا چھو ڑ کر دنیا سے چلے گیے ۔۔۔۔۔
سلمیٰ بیگم جن کے لئے گھر بچے شوہر کچھ اھمیت نہیں رکھتے تھے جب جوان بیٹے کی موت شوہر کی موت اور بیٹی کو جیل ہوتے دیکھی تو اپنے ہوش کھو بیٹھی انکو دور ے پڑنے لگے ۔وہ چیخ چیخ کر کھتیں میں اپنے شوہر کی نافرمان میں نے اپنے بچوں کو بیگاڑا میں سب سے بری عورت ھوں میں اپنے ھاتھ سے اپنی خوشیوں آگ لگای۔ عمیر کو سلمیٰ چچی کو دیکھ ترس بھی آتا اور دکھ بھی ہوتا کے کاش چچی آپ نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی ہوتی اپنے شوہر کی عزت کی ہوتی تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔۔
انمول واپس ای تو گھر میں اسکی شادی کی تیاری چل رہی تھی سب خوش تھے سواۓ انمول کے اسکو لگتا تھا خ اب عمیر کے دل میں اسکے لئے اب کچھ نہیں ۔
ماہی کا پیار ا سا اک بیٹا ہوا جسکا نام انہو ں نے اذان رکھا
اور عنایا کے ہاں ٹوئنز بیٹے ہوے جنکا نام شہروز اور مہروز رکھا ۔
شادی کا دن آیا اور انمول عروسی جوڑے میں سجی سنو ری کمرے میں بیٹھی عمیر کا انتظار کر رہی تھی ۔
دروازہ کھلنے کی آواز آ ی تو انمول سیدھی ہو کے بیٹھ گیی عمیر دھیرے دھیر ے چلتا ہوا انمول کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
کیسی ہو عمیر نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔جی میں ٹھیک انمول نے دھیر ے سے کہا !!!!
ناراض ہو عمیر نے پوچھا ۔۔۔
نہیں جی مجھے کیا حق آپسے ناراض ہونے کا انمول نے خفگی سے کہا
کیو ں نہیں تمکو حق اب ھر طرح کا حق ہے مجھ پر آپکا میڈم عمیر نے پیار سے کہا ۔۔۔۔
اچھا یہ بتاؤ مجھے چھوڑ کے کیو ں گیی تھی ؟؟؟
کیو ں کے آپکو مجھسے پیار نہیں اعتبار نہیں ۔۔۔۔۔
چپ پگلی اعتبار نہ ہوتا تو تم آج میری بیوی کے روپ میں میرے سامنے نہ ہوتی
جانتی ہو نہ اک بات عمیر نے خفگی سے پوچھا !!!!
انمول نے حیرانی سے پوچھا کیا ؟؟؟
اک تیری محبت سے پہلھے مہشور تھی انا میری !!!!!!! عمیر نے پیار سے جھک کے انمول کے کان میں کہا ۔
اور انمول عمیر کی اس بات پے شرما گیی ۔۔۔۔
جی جانتی ہوں انمول نے شرما کر کہا ۔۔۔پھر عمیر نے اسکے ہاتھ میں شادی پہلا تحفہ رنگ پہنا ی اور انمول نے اپنا سر اپنے مجازی خدا کے کاندھے پر رکھ دیا اور دونو ں اپنی انے والی زندگی کے حسین خواب دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: