The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 10

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 10

–**–**–

 

اداسی کے بادلوں کے دور ہونے کا وقت آچکا ھے
ظہان حیدر شاہ کے بچپن کا خواب حقیقت کا روپ دھاڑنے والا ھے
چوٹ کی رات اسکے خوابوں کی ملکہ حقیقت میں اسکے سامنے ھے ۔
خوبصورت لمبے بال کھولے کھڑکی میں کھڑی وہ اپنا پسندیدہ منظر دیکھنے میں محو ہوتی ھے کہ اسکے خیالوں میں خلل کسی کے گرنے کی آواز سے پیدا ہوتا ھے
ظہان بس دیوانہ وار کھڑکی کی طرف دیکھ رہا ہوتا ھے وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کتنا زخمی ھے اسے تو بس اپنے بچپن سے لےکر اب تک کہ خواب یاد آرہے ہوتے ہیں اسے یقین نہیں آرہا ہوتا ھے کہ اسکے خوابوں کی ملکہ حقیقت میں اسکے سامنے ھے

وہ ابھی تک ھے۔۔۔۔۔۔۔ روبرو اپنے

ہم ابھی تک حصار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب میں ہیں

حورا انتہائی غصے کی حالت میں کھڑکی سے جھانکتی ھے کہ آیا کیا چیز گری ھے جسکی وجہ سے وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آتی ھے پھر وہ اپنے روم سے نیچے سیڑھیوں کی طرف آتی ھے ۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ ظہان جو کہ حورا کو حیرت سے دیکھ رہا ہوتا ھے اسکے کھڑکی سے ہٹنے پر وہ بھی ہوش میں آتا ھے اور اسے تلاشنا شروع کرتا ہے
تب ظہان کی نظر سیڑھیوں کی جانب جاتی ہے جہاں سے حورا زینہ در زینہ چلتی اسکے قریب آرہی ہوتی ھے اور وہ بس اپنی اینجل کو قریب آتا ہوا دیکھ رہا ہوتا ہے
اسکے چہرے پر کچھ آوارہ لٹیں جھوم رہی ہوتی ہیں
سرخ قالین پر اسکے سفید پاوں اتنے خوبصورت لگ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بس دیکھتا رہ جاتا ھے
وہ چودھویں کی رات میں بلکل چاندنی لگ رہی ہوتی ہے

وہ سراپا سامنے ھے، استعارے مسترد
چاند، جگنو ، پھول، خوشبو اور ستارے مسترد
تذکرہ جن میں نہ ہو انکے لب و رخسار کا
ضبط وہ ساری کتابیں، وہ شمارے مسترد

بلاخر حورا اس جگہ پہنچ جاتی ھے جہاں ظہان موجود ہوتا ھے چونکہ ظہان اندھیرے والی سائڈ پہ کھڑا ہوتا ھے جسکی وجہ سے حورا کو نظر نہیں آتا اسے تو بس کسی کا سایہ دیکھ رہا ہوتا ھے ۔۔۔۔

کون ھے وہاں ؟
حورا بیچاری ڈری ہوتی ھے مگر ہمت کرکے پوچھتی ھے
کون ھے؟
ظہان تو حورا کی سریلی آواز میں کہیں کھو جاتا ہے
کافی دیر تک جب جواب نہیں ملتا تو حورا کو سچ میں گھبراہٹ ہوتی ھے وہ خود کہتی ھے
لگتا ھے کوئی چور ھے پاپا کو بلانا پڑے گا اور وہ اپنے پاپا کے پاس جاری ہوتی ھے
ظہان جو اسکی چور والی بات پہ مسکرا رہا ہوتا ھے حورا کہ پلٹنے پراسے اپنی طرف کھنچتا ھے وہ جو اس حملے کیلئے تیار نہیں ہوتی سیدھا ظہان کی پناہوں میں آجاتی ھے
ڈر کی وجہ سے حورا اپنی آنکھیں بند کردیتی ھے اور ظہان اتنے قریب سے بس اسکے چہرے کو دیوانہ وار دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
حورا ظہان کو دور کرنے کی کوشش کرتی ھے مگر وہ ایسا نہیں کرپاتی
اسکی نطر جیسے ہی ظہان پر جاتی ھے اور جیسے ہی حورا کی آنکھیں ظہان کی آنکھوں سے ملتی ہیں
وہ ان آنکھوں کے سحر میں جیسے جکڑ جاتی ہے اور بالکل ساکت ہوجاتی ہے
اب بس وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور چاند کی روشنیانکے چہروں پہ پڑ رہی ہوتی ہے اور ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہوتی ہے جو اس حسین لمحوں کو اور بھی خوبصورت بنا رہی ہوتی ہے
ظہان حیدر شاہ اپنے خوابوں کی تکمیل پر سرشار ہوتا ھے وہ بے انتہا خوش ہوتا ہے اور اردگرد سے بیگانہ ہوجاتا ھے

“خیال یار کا عکس ابھرا تھا ان دو آنکھوں میں
روبرو وہ چاند اپنی چاندنی سے ہوا ”

( از خود بیلا بخاری )

آس پاس ہر چیز جیسے انکے ملن پہ جھوم اٹھی تھی اور پورا ماحول کشی خواب کا منظر پیش کررہا ہوتا ھے

نہ جانے کتنے ہی پل ایسے گزر جاتے ہیں تب مکرم کی آواز ظہان کو ہوش کی دنیا میں لاتی ھے
ظہان حورا کہ چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتا ھے اور پھر جی بھر کہ دیکھنے کے بعد اسکے کان میں سرگوشی کرتا ہے
بہت جلد دوبارہ ملیں گے

My only mine Angel

پھر ظہان جیسے آتا ھے ویسے ہی مکرم کے ساتھ چلا جاتا ہے

□□□□□

جبکہ حورا ابھی بھی ظہان کے سحر میں قید کھڑی ہوتی ھےاور وہ فیروزے کے ہاتھ لگانے سے ہوش میں آتی ھے ۔

بجو ۔۔۔۔آپ یہاں اتنی رات کو کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔؟؟؟
فیروزے پانی پینے کے لیئے نیچے آتی ھے حورا کو ایسے دیکھ کر پریشان ہوجاتی ھے اور حورا سے پوچھتی ھے ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد حورا خودکو سنبھالتی ہے اور فیروزے کو جواب دیتی ہے ۔۔۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔
بس ایسے ہی آئی تھی فیروزے مجھے بہت نیند آرہی ہے میں سونے جارہیہو تم بھی اب سوجائوں ۔
فیروزے حیران تو ہوتی ھے مگر پھر خاموش ہوجاتی ھے ۔

___ 💞💞💞💞

مکرم جیسے ہی ظہان کو سیف سائڈ پہ لے کر آتا ھے تو فائرنگ کی آواز کم ہوجاتی ھے کیونکہ آبادی والی سائڈ پر فائرنگ نہیں کرسکتے ۔۔۔۔

واپس اس سائڈ پر جاتا ہے جہاں پر فائرنگ ہورہی ہوتی ھے اور ان کا مقابلہ کرکے دشمن کو واپس بھاگنے پر مجبور کردیتا ھے ۔۔۔
جب ماحول سازگار ہوجاتا ھے تو وہ ظہان کو واپس لینے آتا ھے کیونکہ ظہان بہت زخمی ہوتا ھے ۔۔۔مکرم اس گھر میں داخل ہوتا ھے اور اپنے چھوٹے سائیں کو وہاں سے لے کر جاتا ھے ۔

گاڑی میں بیٹھانے کے بعد وہ فل سپیڈ پر گاڑی چلاتا ہے تاکہ ظہان کو جلدی ہاسپٹل لے جائے اور انکی ٹریٹمنٹ شروع کر اسکے ۔۔۔۔

ظہان اتنی تکلیف میں بھی اپنے حواس پر قابو رکھتا ھے اور درد کو برداشت کررہا ہوتا ہے ۔۔۔۔اس حالت میں بھی وہ اپنی اینجل کے بارے سوچ رہا ھے ایک پرسکون سانس خارج کرتا ہے فائنلی اسے اسکی اینجل مل گئی ھے ۔بلآخر اسکے خوابوں کی تکمیل ہوئی جو اسے بچپن سے بے چین کرتے تھے ۔

بازو میں گولی لگنے کی وجہ سے ظہان کا بہت سارا خون ضائع ہوجاتا ہے اور مذید کام دیوار پھلانگنے نے کردیا اس چکر میں بہت سی چوٹیں آتی ہیں ۔۔۔جسکی وجہ سے درد پورے جسم میں پھیل گیا تھا ۔

چھوٹے سائیں ۔۔۔!!!
آپ بس کچھ دیر اور برداشت کرلیں ہم بس ہاسپٹل پہنچنے والے ہیں ۔۔۔۔

ظہان سے اب مزید درد برداشت
نہیں ہورہا وہ درد کی دشت سے بےہوش ہوجاتا ھے ۔

ہاسپٹل پہنچنے کے بعد ظہان کو سپیشل ٹریٹمنٹ دی جاتی ھے اور اسے فوری طور پر ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا جاتا ہے ۔

___ ___ ___ ___

ظہان ۔۔۔۔۔
میرا بچہ ۔۔۔۔
ظہان کی ماما جو گہری نیند میں ہوتی ہیں وہ بہت برا خواب دیکھتی ہیں جس میں ظہان ان سے دور جارہاہوتا ہے ۔

وہ جلدی سے اٹھتی ہیں ۔۔۔۔

سکندر شاہ ۔۔۔۔اپنی بیگم کی آواز سن کر اٹھ بیٹھتے ہیں ۔۔۔

کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔۔؟؟؟
شاہ جی ۔۔۔۔!!!!
میرا بچہ ۔۔۔۔
میرا ظہان ٹھیک نہیں ہے وہ تکلیف میں ہے ۔۔۔۔

میں نے خواب میں دیکھا ھے

سکندر شاہ انکے قریب ہوکر انکے کندھے پر بازو رکھتے ہیں ۔۔۔

ریلیکس ۔۔۔۔بیگم
کچھ نہیں ہوا بس وہ ایک برا خواب تھا آپ پریشان نہ ہوں ۔

نہیں ۔۔۔۔شاہ جی
میرا بیٹا کسی بہت بڑی مصیبت میں ہے وہ انتہائی تکلیف میں ہے ۔
آپ ابھی کال کریں ظہان سے میری بات کروائیں ۔

اچھا اچھا ۔۔۔آپ حوصلہ رکھیں
میں ابھی کال کرتا ہوں ۔

سکندر شاہ ابھی اپنا سیل فون اٹھا رہے ہوتے ہیں تب مکرم کی کال آتی ھے ۔۔اور وہ اب وہ سچ میں پریشان ہوتے ہیں ۔
کال رسیو کرتے ہی دوسری طرف انہیں جو خبر دی جاتی ھے تب انکے پیروں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے آخر اس خبر میں ان کے اکلوتے بیٹے پر حملے کا بتایا جاتا ہے ۔

یہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔مکرم
میں نے تمہیں ذمہ داری سونپی تھی اور تمہارے ہوتے ہوئے ایسے کیسا ہوگیا ۔
تم نے یہ حفاظت کی ہے میرے بیٹے کی ۔۔۔۔؟؟؟؟؟
وہ انتہائی غصے کی حالت میں مکرم کو ڈانٹ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔

تب ظہان کی ماما کی آواز آتی ھے ۔۔۔۔
کیا ہوا شاہ جی ۔۔۔۔؟؟؟
ظہان ٹھیک تو ہے نہ میری بات کروائیں اس سے ۔۔۔

وہ جلدی سے کالبند کرتے ہیں
انہیں ظہان پر قاتلانہ حملے کا بتاتے ہیں ۔۔۔۔

کیا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں
اب ظہان کی طبعیت کیسی ہے ۔۔۔؟؟؟؟

پتہ نہیں یہ تو ہاسپٹل جاکر پتہ چلے گا ۔۔۔

دیکھا آپ نے میں نے کہا تھا نہ میرا بچہ تکلیف میں ہے رات سے ہی میرا دل بہت گھبرا ریا تھا
آپ مجھے جلدی سے اس کے پاس لے جائیں ۔

آپ گھر پہ ہی رہیں میں خود جارہا ہوں ۔
نہیں مجھے ظہان کے پاس جانا ہے آپ انکار مت کریں ۔۔۔

سکندر شاہ انہیں منع کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ظہان کی ماما کی حالت دیکھ کر ساتھ لے کر جانے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔

اسطرح سارا راستہ دعائیں مانگتے ہوئے ظہان کے والدین ہاسپٹل پہنچتےہیں ۔۔

سامنے ہی مکرم انہیں نظر آتا ھے اور وہ اس سائڈ پر جاتے ہیں وہ سب اب آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے ہوتے ہیں ۔۔۔
اب کیسی کنڈیشن ہے ظہان کی ۔۔۔۔۔؟؟؟؟۔۔
مکرم سے سکندر شاہ پوچھتے ہیں اس سے پہلے وہ جواب دیتا ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آتا ھے ۔

ڈاکڑ ۔۔۔کیسی طبعیت ہے اب میرے بیٹے کی ؟؟؟؟؟؟

پریشانی کی کوئی بات نہیں اب ظہان حیدر شاہ خطرے سے باہر ہیں ۔خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ کریٹیکل کنڈیشن میں تھے ۔
مگر اب وہ ٹھیک ہیں انکے بازو سے گولی نکال دی گئی ہے لیکن ان کے جسم پر بہت چوٹیں ہیں اور وہ آہستہ آہستہ رکور کرلیں گے ۔
انہیں تھوڑی دیر بعد پرائویٹ روم میں شفٹ کر دیا جائے گا پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔

بہت بہت آپ کا شکریہ ۔۔۔ڈاکٹر
سکندر شاہ انکا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

شاہ صاحب ۔۔۔شکریہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔

ظہان کی ماما جو ظہان کے پریشان ہوتی ہیں ڈاکٹر کی بات سن کر ان کے دل کو تسلی ملتی ہے ۔۔

مکرم ۔۔۔۔۔
جی سائیں ۔۔۔
میڈیا والوں کو ابھی اس بارے میں کوئی پتہ نہیں چلنا چاھیے اس بات کا خاص دھیان رکھو ۔اور مزید سیکیورٹی کا انتظام کرو ۔۔
دشمن ضرور ظہان پر دوبارہ حملہ کریں گے اور میں نہیں چاھتا ان دوبارہ ایسا کوئی موقع ملے ۔۔۔

جو حکم آپ کا ۔۔۔سائیں

مکرم ابھی جاکر تم یہ کام کر جو میں نے بتایا ہے ۔۔تم سے تمہاری غلطی پر بعد میں بات ہوگی ۔۔۔

پھر مکرم چلا جاتا ہے

ظہان کو جیسے ہی روم میں شفٹ کر دیا جاتا ھے وہ اس کو دیکھنے کے روم میں جاتے ہیں جہاں پر ظہان بیڈ پر بےہوش پڑا ہوتا ھے ۔۔۔

اسکی ماما ظہان کے ماتھے پر پیار کرتی ہیں اور قرآنی آیات پڑھ کر اس پر پھونک رہی ہوتی ہیں ۔
انہیں ظہان کے ہوش میں آنے کا انتظار ہے بس۔۔۔۔

___ ___ ___ ___ ___

دراب جو پہلے ہی رشتہ سے انکار کی وجہ سے غم و غصہ میں ہوتا ھے ظہان کے بچ جانے کی خبر جلتی پر تیل کا کام کرتی ھے اور وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔

نوید ۔۔۔۔
دعا مانگ رہا ہوتا ھے کہ آج کسی طرح دراب خان کے غصے سے بچ جائے مگر آج اسکی دعا قبول ہونے کا وقت نا تھا ۔

دراب خان خود نوید اور اسکے ساتھیوں کے پاس جاتا ہے اور انھیں انتہائی سخت سزائیں دیتا ہے ۔

تم سب کو میں نے کہا تھا کہ یہ کام انتہائی ہوشیاری سے کرنا ہےاور تم لوگوں سے ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوا ۔کتنا اچھا موقع ملا تھا مجھے ظہان حیدر شاہ کو راستے سے ہٹانے کا مگر تم سب کی غفلت سے یہ موقعہ بھی میرے ہاتھ سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔

اور میرا خاص آدمی بھی مارا گیا ۔

نوید ۔۔۔تم تو کہہ رہے تھے کہ آج رات آپ کو اچھی خبر ملے گے اب بتاو ۔۔۔۔کیا یہ اچھی خبر تھی ۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اب بولو ۔۔۔چپ کیوں ھو ۔۔۔۔

سر ہم نے پوری کوشش کی تھی ظہان حیدر شاہ کو گولی بھی لگ گئی تھی مگر سکندر شاہ کا خاص بندہ مکرم ۔۔۔۔۔۔ظہان کی ڈھال بن گیاتھا اور وہ اس وجہ سے بچ کر نکل گیا ۔

ہممم۔۔۔۔۔۔
اب یہ مکرم کہاں سے آگیا ۔۔۔؟

سر ظہان حیدر شاہ خودبھی بہت ذہین اور بہادر انسان ہے اس نے ہم سب کا بہت ڈٹ کر مقابلہ کیا میں تو اسکی بہادری،دلیری دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔۔

ابھی وہ مزید تعریفیں کرتا اس کو چپ دراب خان کی گولی نے کردیا ۔۔۔۔

نوید ۔۔۔
کیسے لوگ رکھے ہوئے تم نے جو میرے سامنے میرے دشمن کی تعریفیں کررہے ہیں ۔۔۔۔

بس ۔۔۔۔!! بہت ہوگیا
دراب خان غصہ میں اپنے ملازمین پر چیخ رہا ہوتا ہے اور اسکا غصہ کسی بھی صورت کم نہیں ہورہا ۔۔۔۔

مگر بہت جلد وہ خود پر قابو پاتا ہے اور آگے کا لائحہ عمل تیار کرتا ہے ۔۔۔اب آگے کیا کرنا ہے اس حملے کا الزام ان کی پارٹی پر نہ آئے ۔ یہ وقت ہوش سے کام لینے کا ہے جوش سے نہیں

___ ___ ___ ___ ___ ___

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: