The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 13

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 13

–**–**–

 

دراب ۔۔۔۔۔
دراب ۔۔۔۔۔۔
کہاں ہو تم ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
دلاور خان غصہ میں دراب کو بلا رہیں ہوتے ہیں ۔

اپنے باباجان کی غصہ بھری آواز سن کر دراب خان اپنے کمرے سے باہر آتا ھے ۔وہ سمجھ جاتا ھے کہ انہیں اسکے کارنامے کا پتہ چل گیا ھے ۔

جی ۔۔۔۔
باباجان ۔۔۔۔!!
آج کی نیوز سنی تم نے ۔۔۔؟
ظہان حیدر شاہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے ۔۔

سنی ہے نیوز اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے آئے دن کسی نہ کسی پولیٹیشن پر حملے ہوتے رہتے ہیں اب کیا میں ہر کی خبر رکھو حد کرتے آپ باباجان ۔

دراب لا پرواہ ہوکر جواب دیتا ہے ۔۔

جی ۔۔۔جی ہم سمجھ رہیں دراب آپکی باتیں ۔۔
اب آپ ہمیں وہ بات بتائیں جو ہم جاننا چاھتے ہیں بات کو گھمائیں مت ۔۔

اوکے باباجان ۔۔۔
پوچھیں ۔۔۔

کیا یہ حملہ آپ نے کروایا ھے ۔۔ ؟؟؟
آپ اتنا غلط قدم کیسے اٹھا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔دراب
جواب دیں ۔۔۔

کروایا ھے میں نے حملہ مگر اسکی قسمت اچھی تھی بچ گیا ہر بار ایسا نہیں ہوگا ۔

دراب انتہائی غصے میں چیخ کر جواب دیتا ہے ۔

آپ دیکھ رہے ہیں بابا جان ۔۔۔

کیسے وہ دن بعد دن لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا رہا ہے حتی کہ ہمارے اپنے گاؤں کے لوگ بھی اسکی تعریفیں کررہے ہیں ۔
مجھ سے یہ برداشت نہیں ہورہا آس لیئے ظہان حیدر شاہ کو راستے سے ہٹانا چاہا مگر۔۔۔ایسا نہ ہوسکا ۔

دلاور خان چپ کر کے اسکی باتیں سن رہے ہوتے ہیں جب وہ چپ ہوتا ہے تب وہ بولتے ہیں ۔۔۔

دراب بیٹا ۔۔۔
سیاست کی چالوں کو تم کب سمجھوں گے ۔ظہان پر قاتلانہ حملہ کرواکے تم نے اسے موقع دے دیا ہے کہ وہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرسکے اور عوام جو اسکی دیوانی ہے دھڑا دھڑ اسے ووٹ دے گی ۔ایسا کرنے سے پہلے کماازکم مجھ سے پوچھ تو لیتے ۔اب جو الیکشن جیتنے کی امید تھی وہ ختم ہوتی ہوئی دیکھ رہی ہے ۔
مجھے تم پہ بھروسہ نہیں کرنا چاھیے تھا ۔تم ابھی بچے ہو ۔۔۔

باباجان ۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ
میں کوئی بچہ نہیں ہوں ۔

دراب یہ حرکت کرکے تم نے ثابت کردیا ہے کہ تم سیاست کے میدان میں ابھی کچے کھلاڑی ہو اور اس لحاظ سے تم ابھی بچے ہوں ۔

دراب میری بات ہمیشہ یاد رکھنا
سیاست ہو یا زندگی کا کوئی بھی میدان ہو، کبھی بھی جوش سے کام نہیں لیا جاتا ہمیشہ ہوش سے لیا جاتا ہے۔غصہ میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔
کھلاڑی وہی عقلمند ہوتا ھے جو ہمیشہ اپنے جذبات کو اپنے کنٹرول میں رکھے ۔خود پر کبھی حاوی نہ ہونے دے ۔

جی بابا جان ۔۔۔
ہمیشہ یاد رکھوں گا ۔

تمہارے غصے کی وجہ سے جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا اب مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا ۔
تم تیار ہو جائو ہم ابھی ظہان حیدر شاہ کی عیادت کے لیئے ہاسپٹل جائے گے ۔

خبر ملی ہے کہ آج شام سکندر شاہ پریس کانفرنس کرے گا جس میں ظہان حیدر شاہ پر حملہ کرنے والے کا نام بتایا جائے گا ۔اس سے پہلے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں ۔ہمیں اپنی چال چلنی ہوگی تاکہ اگر وہ ہمارا نام بول بھی دے تو لوگ انکا ساتھ نہ دیں ۔

مگر ۔۔۔۔
باباجان ۔۔

دراب بس جو کہا ہے وہ کرو اور اپنے غصے کو ہو سکے تو قابو میں رکھو ۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

سکندر شاہ حویلی میں ظہان کو نئی زندگی مل جانے کی خوشی میں پورے گاؤں میں بہت بڑی دعوت کا انتظام کرواتے ہیں ___ جس میں ہر خاص و عام کو مدعو کیا جاتا ھے ۔

ظہان کی ماما جانی بھی لوگوں میں کپڑے، پیسے اور دیگر اشیاء بانٹ رہی ہوتی ہیں ۔
اللہ نے انکے بیٹے کی جان بچا لی اور اسے لمبی عمر عطا کی ۔

دن میں نا جانے کتنی بار وہ ظہان کو کال کرتی اور اسکی طبعیت کا پوچھتی ۔

شاہ جی ۔۔۔
مجھے اپنے بیٹے کو دیکھنے جانا ہے آپ آج رات مجھے لے جائے گے ۔۔۔؟؟؟

جی بیگم ۔۔۔
آپ ابھی حکم کریں بندہ حاظر ہے ۔۔۔۔
سکندر شاہ مذاق کرتے ہیں ۔

بس بس ۔۔۔
شاہ جی ۔۔۔
آپ ہماری بات مانتے یہ میں خوب جانتی ہوں ۔۔۔

بیگم آپ بھی نا ۔۔۔
ابھی تک ناراض ہیں ۔۔؟؟

نہیں ۔۔۔میں آپ سے ناراض نہیں ہوں ۔۔

اوکے ۔۔۔
ابھی تو میں جا رہا ہوں رات کو ڈرائیور آپ کو لینے آجائگا گا ۔۔ویسے ابھی میں آپ کو لے جاتا کیونکہ کچھ دیر بعد پریس کانفرنس ہے تو ابھی صرف مجھے جانا ہوگا ۔
مگر دعوت تو آپ سب کام اپنی نگرانی میں کروائیے گا تاکہ کسی چیز کی کمی نہ رہ جائے ۔۔

آپ بے فکر رہیں ۔۔شاہ جی

سکندر شاہ ابھی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھتے ہیں تب مکرم کی کال آتی ھے ۔
وہ کال اٹینڈ کرتے ہیں ۔

شاہ سائیں ۔۔۔
پریس کانفرنس کے لیئے سب نیوز چینل کے رپورٹرز تقریبا آچکے ہیں بس آپ کا انتظار ہے ۔

ٹھیک ہے ۔۔

سائیں خبر ملی ہے کہ دلاور خان اپنے بیٹے کے ساتھ چھوٹے سائیں کی عیادت کے لیئے ہاسپٹل آنے والا ہے ۔

ہمم ۔۔
اب باپ بیٹا دونوں نئی چال کے ساتھ آرہے ہیں بہت خوب چال چل رہے ہیں ۔
میں بس پہنچنے والا ہوں پھر دیکھتے ہیں ان دونوں کو بھی ۔۔۔

ہاسپٹل پہنچنے کے بعد سکندر شاہ سیدھا ظہان کے پاس جاتے ہیں ۔

اب کیسی طبعیت ہے میرے بیٹے کی ۔۔؟؟
بابا سائیں ۔۔ اب کافی بہتر ھے طبعیت

اچھا ظہان رات کو آپکی ماما جانی آئیں گی میں منع کرنا چاہتا تھا جب تک اپنی آنکھوں سے تمہیں ٹھیک نہیں دیکھ لیں گی ان کو تسلی نہیں ملے گی ۔۔اس لیئے رات کو آرہی ہیں ۔

❤️❤️❤️❤️❤️

ہاسپٹل کے باہر کا منظر ۔۔۔۔!!
دراب خان اپنے بابا جان کے ساتھ جیسے ہی ہاسپٹل پہنچتا ھے میڈیا والے انھیں گھیر لیتے ہیں اور مختلف سوالات شروع ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔
مسٹر دراب خان اپ یہاں ہاسپٹل میں کیوں آئے جب کہ آپ جانتے ہیں آپ کا حریف ظہان حیدر شاہ اسی ہاسپٹل میں ایڈمنٹ ہیں ۔۔۔۔؟؟؟
دراب ہنستے ہوئے جواب دیتا ہے ۔۔۔۔
مانا کے ظہان حیدر شاہ میرا حریف ھے مگر سیاست اپنی جگہ انسانیت بھی کوئی چیز ھے ہم ظہان حیدر شاہ کی عیادت کیلیے آئے ہیں

سر کیا آپ جانتے ہیں ظہان حیدر شاہ پر کس نے حملہ کروایا ۔۔۔۔؟،؟،
ایک رپورٹر دراب سے سوال کرتا ہے ۔۔
ہمممممم
یہ تو ہم جانتے ہیں کہ کس نے یہ اوچھی حرکت کی ھے ہم سکندر شاہ کے ساتھ ہیں
لیکن سر ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ ظہان حیدر شاہ پر قاتلانہ حملہ آپ نے کروایا ھے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اور اب کے وہ بچ گئے ہیں تو آپ اپنی غلطی چھپانے کیلئے انکی عیادت کرنے چلے آئے ہیں ۔۔۔۔

دراب خان غصے سے اس رپورٹر کی طرف دیکھتا ھے اس سے پہلے وہ غصے میں آکر اس کو جواب دیتا تو دلاور خان دراب کا ہاتھ دباتے ہیں اور وہ خود پر قابو پالیتا ھے ۔۔
خیر یہ تو الزام ھے ۔۔۔۔ اور ہم کیوں کسی پر حملہ کروائیں گے وہ بھی اس وقت جب الیکشن بہت قریب ھیں ۔۔۔۔۔
دلاور خان اس رپورٹر کو جواب دیتے ہیں ۔۔۔۔
سر ۔۔۔۔
سر ۔۔۔ ایک اور سوال اس سے پہلے اور سوالوں کی بوچھاڑ ہوتی نوید ان تمام کو پیچھے کرتا ہے اور دراب خان اپنے باباجان کے ساتھ ہاسپٹل کے اندر چلا جاتا ہے مگر جانے سے پہلے نوید کو اس رپورٹر کا بائیو ڈیٹا معلوم کرنے کا حکم دیتا ھے ۔۔۔

ظہان حیدر شاہ اپنے بابا سائیں کے ساتھ میڈیا والوں کے تمام سوالات اور دراب خان کے جوابات لائیو دیکھ رہا ہوتا ھے ۔

دیکھ رہیں آپ ظہان ہمارے حریفوں نے کیا خوب کھیلا ہے مگر وہ غلطی کر بیٹھے ہیں ۔۔۔

ڈور پہ دستک ہوتی ھے اور دراب خان اپنے باباجان کے ساتھ روم میں انٹر ہوتا ہے ۔

دونوں باپ بیٹا سلام کرتے ہیں اور دراب خان خود پھولوں کا گلدستہ ظہان کو پیش کرتا ہے ۔
جو ظہان لینے کے بعد مکرم کو پکڑا دیتا ہے ۔

بہت دکھ یوا سکندر شاہ آپ کے بیٹے پر حملے کا سن کر اس لیئے ہم خود اسکی عیادت کرنے آئے ہیں اختلافات اور دشمنی اپنی جگہ اور انسانیت اپنی جگہ ۔۔۔

جی جی ۔۔۔۔
وہ تو ہم دیکھ رہے ہیں ۔۔
آپ کی انسانیت ۔۔۔
خیر آپ آئیں اسکے لیئے شکریہ ۔۔۔

اللہ کا شکر ہے دشمن اپنے ارادوں میں ناکام ہوئے ہیں ۔۔

(ظہان حیدر شاہ سپیشلی دراب کو دیکھ یہ بات بولتا ہے )

دراب خان خاموش سا چہرے پر مسکراہٹ سجائے کھڑا ہوتا ھے ۔

کچھ پتہ چلا حملہ کس نے حملہ کروایا ھے ۔
دلاور خان پوچھتے ہیں ۔

پتہ تو چل گیا ھے اور پریس کانفرنس میں اسکا نام بتادیا جائے گا اور پھر عوام فیصلہ کرے گی کہ اس بندے کو کیا سزا دینی ھے ۔

سکندر شاہ کی بات سن کر دونوں باپ بیٹے کا رنگ اڑ جاتا ھے صرف پل بھر کے لیئے پھر وہ نارمل ہوجاتے ہیں ۔

کچھ دیر خاموشی چھا جاتی ھے ۔

دلاور خان بولتے ہیں ۔۔

بات تو درست ہے آپ کی کہ عوام فیصلہ کرے اس انسان کو کیا سزا ہے اس دوران ہماری مدد کی کوئی ضرورت ہو تو ہمیں ضرور بتائیں گا یہ ہماری خوش قسمتی ہے آپ کے کام آسکے ۔۔۔

اب ہمیں اجازت دیں ۔۔
ظہان کو ملنے کے بعد وہ دونوں چلے جاتے ہیں ۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

فیروزے جب اپنے روم میں آتی ھے تو اسکے بیڈ پر گفٹ رکھا ہوتا ھے وہ حیران و پریشان ہوکر اس طرف جاتی ہے ۔وہ گفٹ کو اٹھا کر دیکھتی ہے یہ کس نے میرے روم میں رکھا ۔۔۔؟؟؟؟

وہ جلدی سے اس گفٹ کو کھولتی ھے اس کھولنے پر اسے ایک لیٹر ملتا ہے ۔

Kizlarim….
(My girl)

فیروزے پہلا ورڈ پڑھ کر ہی گھبرا جاتی ھے ۔۔۔

یہ یہ ۔۔۔میرے گھر تک بھی پہنچ گیا ۔۔۔۔

Ufffffff…..

اب کیا ہوگا ۔۔۔
اسے میرے گھر کا کیسے پتہ چلا ۔۔۔

تو پھر وہ آگے پڑھتی ہے ۔ ۔

“یہ ڈریس میں نے تمہارے لیئے پسند کیا ہےاور پاڑٹی پر تم یہی ڈریس پہن کر جاو گی ۔”

اسے کیسے پتہ چلا کہ پاڑٹی پر جارہی ہوں ۔ ۔

مجھے لگتا ہے یہ کوئی” جن” ہے
جب ہی اسے ہر بات کا پہلے سے پتہ ہوتا ہے اب کسی عام انسان میں یہ کوالٹیز تو ہونے سے رہی ۔

ہاں ۔۔۔۔!!!!
پکا یہ کوئی ” جن ” ہے

اوو میرے خدا ۔۔۔۔!!!
اب کیا ہوگا ۔۔۔۔،؟،؟

فیروزے ۔۔۔۔
فیروزے ۔۔۔۔
اب بھگتو ۔۔۔
ممی کہتی تھی شام کو بال کھول کر ٹیرس پر مت جایا کرو ۔جن عاشق ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔

میں ہی بےوقوف تھی ۔۔
کاش انکی باتوں کو سیریس لیتی ۔۔۔

بھگتو ۔۔۔۔فیروزے

ایک “جن ” تم پر عاشق ہوگیا ہے ۔
ہا _ جن او میرے خدا اب میں کیا کرو؟

جب کہ کیمرے میں وہ شخص فیروزے کی بات سن کر ہنس رہا ہوتا ھے ۔

نہیں ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔وہ جن نہیں ہوسکتا اسکا تو وجود ہے ۔اسکے دل سے آواز آتی ہے

تم دل کی نہیں دماغ کی سنو
یہ پکا جن ہے
تم کیسے بھول گئی جنات وہ مخلوق ہے جو کسی بھی انسان کا روپ دھار سکتی ہے ۔۔۔

Oooooooh
GOD
Plz save me….

اب کیا ہوگا میں یہ ڈریس نہیں پہنوں گی ۔ ۔۔
وہ ڈریس کو پرے دھکیلتی ہے اور جلدی سے قرآنی آیات پڑھ کر سونے کی کوشش کرتی ھے ۔۔

فیروزے کی حرکتیں دیکھ کر اسکا ہنس ہنس کر برا حال ہوتا ہے ___

ma reine innocente

(My innocent Queen)

💞💞💞💞

So guy’s kisi lgi surprise epi must give reviews……..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: