The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 14

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 14

–**–**–

 

سکندر شاہ پریس کانفرنس میں جاتے ہیں جہاں پر صحافیوں کے مختلف سوالات سنتے ہیں اور انکے جوابات بھی دیتے ہیں ۔
سر آپ نے بتایا نہیں کہ مسٹر ظہان حیدر شاہ پر قاتلانہ حملہ کس نے کروایا ھے ۔۔۔۔؟؟؟؟
ہر کوئی یہ جاننے کیلئے بے تاب ہیں ۔۔۔۔
سکندر شاہ تمام صحافیوں کی طرف سے اہک ہی سوال کو سن کر ہاتھ کے اشارے سے انہیں خاموش ہونے کا اشارہ کرتے ہیں ۔۔ اب سب انکے جواب کو سننے کیلئے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔
ظہان پر جس کسی نے بھی قاتلانہ حملہ کروایا ھے وہ تو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا ۔۔۔
پھر ایک اور صحافی سوال کرتا ہے:
سر ہم نے سنا ہے بلکہ ہمارے ذرائع سے معلوم ہوا ھے کہ مسٹر ظہان حیدر شاہ پر قاتلانہ حملہ دراب خان نے کروایا ھے کیونکہ وہ انھیں راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں اور خود منسٹر بننا چاہتے ہیں ۔
سر آپ اب بتانا نہیں چاہتے تو یہ اور بات ھے ۔۔۔؟؟
دیکھیں ظہان حیدر شاہ پر قاتلانہ حملہ جس نے بھی کروایا ہے
اسکا نام مجھے معلوم ہے لیکن اسکا فیصلہ میری عوام کرے گی لیکن میں نے اور میرے بیٹے نے اسے معاف کرنے کا سوچا ھے کیونکہ سب سے اہم بات میرے بیٹے کی زندگی ھے اسکی جان بچنے کے صدقے میں نے اسے معاف کرنے کا سوچا ھے
اور مجھے یقین ھے ہمارے لوگ بھی میرے اس فیصلے میں میرا ساتھ دیں گے ۔۔۔۔۔۔
اسی بات کے ساتھ ہی کانفرنس ختم کرکے سکندر صاحب چلے جاتے ہیں ۔۔

______________

مکرم ۔۔۔
جی چھوٹے شاہ سائیں ۔۔۔؟
اس رات ہم نے جس گھر میں تھوڑی دیر کیلئے پناہ لی تھی مجھے اس گھر بائیو ڈیٹا چاہیے اور اس کام کو جلد سے جلد کرو ۔۔۔۔
جو حکم آپ کا سائیں ۔۔۔!!

مکرم کے جانے کے بعد ظہان اپنی اینجل کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ھے جس کی وجہ سے اسکے چہرے پر مسکراہٹ رقسعاں ہوتی ھے کہ
ابھی وہ اپنی اینجل کا ہاتھ پکڑنے والا ہوتا ہے
کہ اسکا جگری دوست دھیرے دھیرے کچھوے کی سی چال چلتا ظہان کے پاس جاتا ہے اور بہت زور سے اسکے کان میں زور سے
Buddddddyyyyy..
کہتا ھے جس کی وجہ سے ظہان بیچارہ ہربڑا کہ حورا کے خیالوں سے واپس آتا ھے اور ناراض سی نظر اپنے جان سے عزیز دوست پر ڈال کے چہرا موڑ لیتا ھے ۔
واہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔
واہ کیا نخرے ہیں نواب کے ۔۔۔
جسے ناراض ہونا چاہیے وہ تو نہیں ھے الٹا لاڈ صاحب ناراض ہورہے ہیں وہ بھی مجھے غریب سے ۔۔۔
Well done bro
Well done………..
وہ اپنے ہاتھوں سے کلیپ کرتا ہے ۔۔
ظہان پھر بھی کوئئ بات نہیں کرتا ۔۔
O helo BrO I’m talking with you..??
Hey
BrO are you listening ¿¿¿

جب کافی دیر تک ظہان خاموش رہتا ھے تو وہ جانے لگتا ھے
ٹھیک ھے بھائی اب میں جارہا ہوں درست کہتے ہیں اپنا خون اپنا ہوتا ھے ویسے بھی میں کونسا تیرا سگا بھائی ہوں جو میری اہمیت ہوگی میں غریب سا بندہ اتنی ی ی ی ی دور سے صرف تجھ سے ملنے آیا ہوں یہاں تو جناب کے مزاج ہی نہیں مل رہے ۔۔۔
وہ لمبی سانس لیتا ھے جیسے بہت دکھی ہو پھر توقف کے بعد دوبارہ شروع ہوتا ھے
ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔¿
اس سے پہلے وہ دوبارہ شروع ہوتا ظہان بیچارہ بول پڑتا ھے
فارب ۔۔۔
یار بس کر اب بہت ہوگئی تیری نوٹنکی
اب بس بھی کر دے میرے بھائی کیوں ایموشنل بلیک میل کرتا ہے ۔
اور ایک بات تو بتا ۔۔۔؟
کیوں ۔۔۔۔
نہ کیوں بتاو تجھے اور تو ھے کون میں تو اپنی موم کے پاس جارہا ہوں وہاں جاکر تیری بے وفائی کی کہانی سناوں گا اور تو دیکھنا ظہان تمہاری مما جانی یعنی کہ میری موم تمہاری کیسی خبر لیتی ھے ۔۔
کیونکہ جب فارب آجاتا ھے تو ظہان کی مما جانی فارب فارب کرتی رہتی ہیں اور پھر ظہان کی کوئی ویلیو ہی نہیں ہوتی ھے ۔۔۔
ابھی وہ دروازے کے پاس جاتا کہ ظہان کی آواز آتی ھے ۔۔
اوئے ڈرامےبازیاں بند کر
رک جا ۔۔۔
فارب مڑ کے دیکھتا ھے کیونکہ ظہان کی شکل دیکھنے والی ہوتی ھے اور پھر وہ جو ہنستا ھے رکنے کا نام نہیں لیتا تو ظہان خاموش رہتا ہے لیکن پھر وہ بھی ہنسنا شروع کردیتا ھے اور پھر روم میں ان دونوں کے قہقے گونج رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
فارب کے بچے تو کبھی نارمل انداز میں نہیں آسکتا کیا یہ لازم ھے ہر بار تو دھماکے دار انٹری دے ۔۔۔۔¿¿¿¿
بچے ے ے ے ۔۔۔۔۔۔۔
میرے بچے ۔۔
ظہان کہاں ہیں میرے بچے ۔۔
اور ظہان بیچارہ اپنا سر پکڑ لیتا ھے فارب ڈرامے بازیاں بند کردے یار لے دیکھ میں تیرے آگے ہاتھ جورتا ہوں بس کردے میرے یار ۔۔۔۔۔۔۔
یار ابھی تو نے خود ہی کہا میرے بچے میں تو بس انکا پوچھ رہا تھا کیا کچھ غلط کہہ دیا میں نے ۔۔۔؟؟؟
فارب معصوم سی شکل بنا کہ کہتا ھے ۔۔۔
یار فارب پھر ظہان اسے آنکھیں دیکھاتا ھے
اور اٹھنے کی کوشش کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکے بازو میں درد ہوتا ہے اور وہ کڑاہ جاتا ہے فارب بھاگ کر اسکے پاس آتا ھے
کیا ہوا برو
یو اوکے ۔۔۔۔۔۔؟
تجھے کس نے اٹھنے کا کہا ڈاکٹر کو بلاو درد تو نہیں ہورہا ھے ۔۔؟
ایک منٹ میں فارب شرارت ختم ہوجاتی ہے اور اسکی جگہ اسکی کئرنیس لے لیتی ھے ۔۔۔
فارب بہت پریشان ہوجاتا ھے
اسکے چہرے پر سنجیدگی اور فکر نظر آرہی ہوتی ہے۔۔۔
اس سے پہلے فارب مزید پریشان ہوتا ظہان بول پڑتا ھے ۔
Hi hiii Farib I’m fine I’m oky don’t worry about me my jigar…….
See I’m fit bro so don’t be bother….°°°°°°°
فارب ظہان کے بالکل قریب بیٹھتا ھے اور اسے دیکھنا شروع کردیتا ھے کیونکہ اس حادثے کی وجہ سے ظہان کافی کمزور ہوجاتا ھے
ظہان جب مجھے تمہارے بارے میں معلوم ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میں اس دنیا میں پھر سے اکیلا ہو گیا ہوں مجھے بالکل ویسا محسوس ہورہا تھا جیسا مما کی ڈیتھ پر ہوا تھا میں ایک بار پھر کسی دکھ کو نہیں جھیل سکتا ۔۔ مما کی ڈیتھ پر میں پاگل ہوجاتا اگر تو مجھے نہ سنبھالتا یہ تو ہی تھا ظہان جس نے نہ صرف مجھے سنبھالا بلکہ میری فیملی کوبھی سنبھالا ۔۔۔
یار تمہیں پتہ تو ہے تمہیں کھونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔
بات کرتے ہوئے فارب کے آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور ظہان اسکا ہاتھ تھپتھپا رہا تھا ۔۔۔۔

اس انسان کو تو سزا ملےگی جس نے میرے جگر، میرے یار پر حملہ کروایا ۔۔۔۔

فارب ۔۔۔
کیا تم نے پریس کانفرنس نہیں سنی ۔بابا سائیں اور میں اسے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مجھے یقین تم اس فیصلے میں میرا ساتھ دوں گے ۔

مگر ظہان ۔۔۔۔۔

No more arguments Farab…..!!

ظہان کے کہنے پر وہ خاموش تو ہوجاتا ھے مگر دل میں عہد کرتا ہے اس شخص سے بدلہ لینے کا ۔

دراب خان نے حملہ کروایا تھا نا ظہان ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

ظہان ہاں میں سر ہلاتا ہے
اور ہنس رہا ہوتا ہے ۔۔۔

تجھے ہنسی کس بات پہ آرہی ہے ۔۔۔؟؟؟جب میں آیا تھا تب بھی آنکھیں بند کرکے مسکرایا جارہا تھا ۔۔۔۔اور اب بھی یہی حال ہے ۔۔۔
آخر ماجرا کیا ہے ۔۔۔؟؟؟

دراب خان کے اس حملے کی بدولت میں بہت خاص انسان سے ملا ہوں اس لحاظ سے تو میں اسکا احسان مند ہوں ۔۔۔

یار ۔۔۔۔ظہان
اب پہیلیوں میں بات نہ کر سیدھا بتا ہواکیا ہے ۔۔؟
اووووئے ۔۔۔۔
رک ۔۔۔۔
تو نہ بتا میں خود بتاتا ہوں
کہیں ۔۔۔۔۔۔
کہیں تجھے

” تجھے میری بھابی تو نہیں مل گئیں ہیں ”

جبھی تو مسکرائے جارہا ھے
ہاں
Oh God someone is in l💗v
Oooops
What a surprise buddy
Mind blowing
Amazing yar you pleased me alot after this sweet news “””””””””””

اس بات پہ ظہان کی آنکھوں میں چمک آجاتی ھے ۔۔

” ہاں ۔۔۔!!!
مجھے میری” اینجل ” مل گئی ہے اور جیسے ہی میں ٹھیک ہورہا ہوں فورا مما جانی سے کہہ کر رشتہ بھیجوں گا ۔۔۔”

ہمم ۔۔۔۔۔
مطلب فیوچر پلینگ بھی کر لی ہے جگر نے ۔۔۔۔
مبارکاں ۔۔۔۔
مبارکاں
بھائی خوش رہو آباد رہو ۔۔۔۔۔۔

فارب یہ بات میں نے تمہیں اس لیئے بتائ ہے تاکہ تم دراب خان سے بدلہ نہ لوں ۔۔
تم سے زیادہ میں تمہیں جانتا ہوں ۔۔۔۔

وہ خاموش ہوجاتا ہے انکار کرکے وہ ظہان کو ناراض نہیں کرسکتا ۔۔۔۔

💞💞💞💞💞💞

ظہان کی قسمت میں حورا ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔۔۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

Ab btaen kisi lgi epi bht acha sa response din

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: