The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 16

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 16

–**–**–

 

جیسے ہی پریس کانفرنس ختم ہوتی ہے دونوں کا برا حال ہوتا ہے ___
دراب خان مضطرب ہوتا ہے اور یہی حال دلاور خان کا ہوتا ھے ۔
سکندر شاہ کے معاف کرنے پر جہاں وہ خوش ہوتے ہیں وہی ان کے چہروں پہ پریشانی کے بادل ہوتے ہیں ۔ اب الیکشن جیتنا ناممکن لگ رہا ہوتا ھے ۔

“سکندر شاہ کس قدر شاطر انسان ہے اسکا تو مجھے اندازہ تھا مگر دراب وہ ایسی چال چلے گا یہتو میرے وہم و گمان میں نہیں تھا آج زندگی میں پہلی بار دلاور خان اپنے ہی علاقے میں ہار جائے گا دراب تمہاری وجہ سے کاش تم ایسا نہ کرتے ۔۔۔۔”

بابا جان ۔۔۔۔!!
اپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے صرف ایک پریس کانفرنس سے آپ یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے ۔۔۔
کہ ہم ہار گئے ۔

ہم جیت بھی تو سکتے ہیں ۔۔۔

اچھا ۔۔۔۔
ذرا مجھے بھی بتاو ہم کیسے جیتے گے ۔۔۔۔؟؟؟

آپ کو پہلے بھی بتایا تھا اور اب بھی بتا رہا ہوں ۔۔۔۔
سکندر شاہ اور ظہان کی اچھائی سے ٹھیک ھے یہ سب متاثر ہوگے مگر تمام لوگ اس وقت تک انکا ساتھ دیں گے جب تک انکا مفاد ہوگا اور ہر صورت اپنا فائدہ دیکھیں گے ۔۔۔اور بس ہمیں ان لوگوں کے جہاں تک ممکن ہوسکے ان کے مفادات کو پورا کرنا ہوگا اور آپ دیکھئے گا آخر میں سب سے زیادہ ووٹ ہمیں ملے گے ۔۔۔

مگر دراب ۔۔۔
ظہان حیدر شاہ کے خلاف جتنے بھی پارٹی سربراہ ہمارے ساتھ تھے تمہاری اس بے وقوفی کے بعد سب واپس جارہے ہیں ۔۔اور یہی بات پریشانی کا باعث بن رہی ہے ۔۔۔

تو کیا ہوا بابا جان ۔۔۔جیسے گئے ہیں ویسے ہی واپس آجائے گے آخر وہ اپنے راز فاش تو نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔

ہمم ۔۔۔بہت خوب دراب
آپ میری بات پر ایک بار عمل کرکے تو دیکھیں ۔۔۔

ٹھیک ھے دراب ۔۔۔
یہ بھی آزما کر دیکھتے ہیں

۔۔

اپنے نئے منصوبے پر عمل کرکے کسی حد تک دراب خان کامیاب ہوجاتا ہے مگر ۔۔۔۔
وہ صرف اچھائی کا ناٹک کررہے تاکہ الیکشن میں کامیاب ہو سکے تو یہ غلط ہے وہ بھی ان کی عوام ہے کب کس وقت نقصان پہنچا دے کوئی پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

دو دن بعد ظہان کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے وہ اپنے ہائی سیکیورٹی کے ساتھ حویلی کی طرف روانہ ہوتا ھے سکندر شاہ بھی ساتھ ہوتے ہیں ۔

تمام ملازم اپنے چھوٹے سائیں کو حویلی دیکھ کر بہت خوش ہوجاتے ہیں ۔

ظہان کو اسکے کمرے کی طرف سکندر شاہ لے کر جا رہے ہوتے ہیں تو اسے عجیب سی خاموشی محسوس ہوتی ھے نہ ہی اسے اپنی مما جانی کہیں نظر نہیں آتی اور نہ ہی فارب جس نے وعدہ کیا تھا حویلی ساتھ جائیں گے ۔۔۔وہ بھی صبح سے غائب ہے ۔
وہ ابھی اپنے کمرے کے دروازے پہ پہنچتا ہے کہ سکندر شاہ کو کال آجاتی ھے وہ ظہان کو اکیلا چھوڑ کر بات کرنے چلے جاتے ہیں ۔

واہ ظہان ۔۔۔۔۔واہ ۔۔۔ کیا قسمت ہے تیری ۔۔۔۔کسی نے تمہیں ویلکم نہیں کیا لگتا ہے میرے ٹھیک ہونے پر کوئی خوش نہیں ہے ۔اور تو مما جانی پتا نہیں وہ کہاں ہیں ویسے تو دن میں کئی بار کال کرکے طبعیت کا پوچھتی ہیں اور اب نہ جانے کہاں ہیں ۔۔؟
لگتا ھے فارب نے اپنی دکھی کہانی مما جانی کے گوش گزار کر دی ہے تب ہی تو وہ مجھے اگنور کر رہی ہیں ۔۔۔

ظہان جیسے ہی اپنے روم میں داخل ہوتا ھے ہے اسے آواز آتی ہے ۔۔۔

Surprise….
Welcome bro in home…
💞💞💞💞

سب سے پہلے فارب آکر اسے گلے ملتا ہے پھر ظہان کی مما جانی اسکے ماتھے پر پیار کرتی ہیں ۔۔

ظہان میرا بچہ میں خود تجھے لینے کے لیئے آنی والی تھی مگر فارب نے مجھے روک دیا ۔۔۔
آیت اور شیری اسے ملتے ہیں ۔۔۔

آپ سب ایسے باتیں ہی کرتے رہے گے یا کوئی میرے کیوٹ سے بھائی کو بٹھائے گا ۔۔۔۔؟؟؟
ایت اور شیری سب کی توجہ خود کی طرف توجہ دلواتے ہیں ان دونوں کو سب اپنی باتوں میں بھول گئے تھے ۔وہ دونوں فارب کو ہٹا کر خود ظہان کو بیڈ پر لے کر جاتے ہیں ۔

فارب اور ظہان کی مما جانی حیران ہوکر انہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے ظہان کی بس ان دونوں کو فکر ہے ۔۔

اب آپ کی کسی طبعیت ہے ظہان بھائی ۔۔۔۔؟؟؟؟
میں ٹھیک ہوں لٹل فیری ۔۔۔

آپ کو پتا ہے ظہان بھائی یہ جو انسان ماما کے ساتھ کھڑا ہے ۔۔فارب کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ۔۔۔

کیا میں ۔۔۔۔؟؟؟؟
(فارب ہوچھتا ہے )
جی ۔۔۔۔

جب ہم نے ان سے کہا ہمیں آپ سے ملنے جانا ہاسپٹل لے جائیں تو ہمیں انکار کردیا ۔۔۔صاف انکار

ہہم تو یہ ظلم کیاھے اس ظالم انسان نے میرے چھوٹے سے شیری اور لٹل فیری پر۔۔۔۔
Not fair….farab.

فارب بھیا سے شیری کو اور مجھے بہت سی اور بھی شکایات ہیں ۔۔۔۔

لو جی ۔۔۔۔۔
ظہان کو دیکھتے ہی دونوں شروع ہوگئے فارب کی شکایات لگانے اور بات کرتے ہوئے ایسی معصوم سی شکلیں بنا رہے تھے کچھ الزامات پر تو فارب کو بھی سچ کا گمان ہوتاہے کہ اس نے واقعی ان دونوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں ۔۔۔ ساتھ میں ماما کی گھوری بھی شامل ہوگئی ۔۔۔۔

ماما ناراض ہو فارب سے۔۔۔۔
یہ کہاں برداشت ہوسکتا ھے ۔

اس لیئے یہ کیا فارب نے ایک ہی تیر سے ظہان کو شکار ۔۔۔

بیچارہ ظہان اب ہوگیا خاموش ۔۔۔۔

Budddy
اگر تونے کچھ بھی برا بھلا کہا یا مجھے ڈانٹا تو یاد رکھ ماما کو تیری بےوفائی کی پوری داستان سناو گا اور بیٹا پھر تو بچ کر دیکھانا ۔۔۔۔

مگر فارب یہ بھول گیا تھا کہ طوطا مینا نے کان لگائے ہوئے تھے اور وہ کہاں برداشت کرسکتے ہیں کہ کوئی بھی ان کے کیوٹ سے بھائی کو پریشان کرے ۔اس لیئے طوطا مینا مطلب آیت شیری آگئے میدان میں ۔۔۔۔

فارب برو اگر آپ نے ظہان بھائی کو کو کچھ بھی کہا یا کوئی دھمکی دینے کی کوشش کی تو آپ یاد رکھیے گا میں آپ سے کبھی بات نہیں کرو گی ۔۔۔۔
اور یہی بھائی کے پاس رہوں گی اور ظاہر ہے شیری بھی میرے ساتھ رہے گا ۔
اس لیئے آپ سوچ سمجھ کر بھائی کو دھمکایا کرییں ۔
سکندر شاہ بھی آیت کی فارب کو دی گئی وارننگ سن لیتے ہیں اور اپنا ووٹ آیت کو دیتے ہیں ۔

ظہان پھر سے شیر بن جاتا ھے ۔۔۔
فارب کو آنکھوں سے اشارہ کرتا ہے اب بتائو کیا کروگے ۔۔۔؟

باقی رہ گئے فارب اور اسکی ماما یعنی حیات بیگم ۔۔۔

ارے ۔۔۔۔
ارے ۔۔۔۔
دیکھو تو ظہان کے آتے ہی کیسے پارٹی بدل لی تم دونوں جیسا مطلبی بہن بھائی اللہ دشمنوں کو بھی نہ دے ۔۔۔۔

ماما دیکھ رہی ہیں آپ
کیسے سب میرے ساتھ برتاو کررہے ہیں ۔
وہ رونی شکل بنا کر ماما کی سائیڈ پر چلا جاتا ہے اور ساتھ میں تینوں کو آنکھ مارتا ہے اب ماما جان سے ذرا بچ کر دیکھاو ۔۔۔۔

آیت ۔۔۔
شیری۔۔۔۔۔
ظہان ۔۔۔۔
خبردار جو تم تینوں نے میرے معصوم سے بیٹے کو پریشان کرنے یا تنگ کرنے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔

وہ تو کوئی ہے بھی نہیں ۔۔۔

(سکندر شاہ مدھم آواز میں دہائی دیتے ہیں جو کہ حیات بیگم کے کانوں تک پہنچ جاتی ہے )

وہ ناراض سی نظر ان پہ ڈالتی ہیں ۔۔۔۔

اور وہ تینوں سکندر شاہ کی وجہ سے مشکل میں آجاتے ہیں ایک وہی تو سہارا تھے ان سب کا مگر اب سزا کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔۔۔

ماما آپ سن رہی ہیں آپ کے شوہر کیا رائے رکھتے ہیں آپ کے بارے میں ۔۔۔
فارب اب سچ میں ماما کو بڑھکا رہا ہے تاکہ اسکی جیت پکی ہو جائیں ۔۔۔

بیگم سنے تو۔۔۔۔
میں کیا کہہ رہا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اپنی بات پوری کرتے حیات بیگم بول اٹھتی ہیں ۔

بس ۔۔۔شاہ جی
آپ تو رہنے دے ۔۔۔

ہاں ۔۔تو میں کیا کہہ رہی تھی ۔۔؟؟؟

فارب اپنی دکھ بھری آواز میں کہتا ھے ۔۔
ماما آپ ان تینوں کو پنش کررہی تھی ۔۔۔۔

ہہم ۔۔
فارب میرے پیارے بیٹے تم تو رونا بند کرو ۔۔۔

ظہان، آیت اور شیری تینوں بس حیران ہوکر فارب کی کارستانیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں اور کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کر رہے ہیں ۔

مگر ماما آپ نے سنا نہیں یہ سب کیسے مجھے دھمکا رہے تھے اور اب آپ کہہ رہی ہیں میں رونا بند کروں ۔۔۔اور ساتھ میں وہ ہچکی لیتا ہے کیونکہ بیچارہ فارب بہت رو رہا ہے ۔

” تم تینوں ابھی کہ ابھی فارب کو سوری بولو ۔۔۔۔”

مگر ۔۔۔۔مما جانی

اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتے حیات بیگم دوبارہ بولتی ہیں ۔

ابھی سوری بولو ۔۔
ورنہ میں اور فارب یہاں سے چلے جائے گے جہاں میرے بیٹے کی اور میری کوئی ویلیو ہی نہیں وہاں رہنے کا کیا فائدہ ۔۔۔

(بات کرتے ہوئے وہ خاص طور پر سکندر شاہ کو دیکھتی ہیں )

چلو فارب ہم ابھی اور اسی وقت یہاں سے چلتے ہیں ۔

حیات بیگم باھر چلی جاتی ہیں اور ساتھ سکندر شاہ بھی انہیں منانے کے لیئے پیچھے جاتے ہیں ۔

برو آپ بہت برے ہیں ۔۔۔
ہم آپ سے کبھی بات نہیں کرے گے آپ کی وجہ سے ماما بھی ہم سے ناراض ہوگئی ہیں ۔۔۔

شیری اور آیت ایک ساتھ بولتے ہیں ۔

اب فارب جیتی ہوئی بازی ہارنے والا ہے ۔۔۔

فارب ذیادہ سنجیدہ ماحول دیکھ کر خود ہی ماما کو منانے جاتا ہے ۔۔۔

شیری ۔۔۔بولتا ہے ۔۔

دیکھا ظہان بھائی آپ نے بڑے اداکار بن رہے تھے ہمارے آگے ۔
آیت کی ایک دھمکی سے اب ماما کو منائے گے اور ساتھ ہی ہمیں سوری بھی کریں گے ۔۔

جب کافی دیر تک فارب ماما کو لے کر نہیں آتا تو ظہان ۔۔۔شیری کو نیچے بھیجتا ہے تاکہ صورتحال کا پتا لگے ۔۔۔

شیری جیسے ہی نیچے جاھنکتا ہے تو کیا دیکھتا ھے ۔۔۔۔

فارب کو ماما جان اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا رہی ہوتی ہیں ۔

وہ بھاگ کر ظہان کے پاس آتا ہے سب کچھ بتاتا ہے ۔

ٹھیک ھے بچوں ۔۔۔
اب تم دیکھو ایسا پتا پھینکو گا کہ بھاگتے ہوئے آئے گے سب ۔۔۔
Just wait and watch..

ماما ۔۔۔۔
بھیا کہاں ہیں آپ ۔۔۔۔
آیت سیڑھیاں اتر رہی ہے اور ساتھ میں ان کو بلا رہیں ہے ۔
اسکا لہجہ نہایت پریشان کن ہوتا ھے ۔۔۔فارب بھاگ کر اسکے پاس جاتا ھے ۔۔۔
پاس جانے پر پتہ چلتا ھے آیت رو رہی ہوتی ہے ۔۔۔

کیا ہوا ہے ۔ ۔گڑیا ۔۔۔۔

ماما ۔۔۔
بھائی ۔۔۔
وہ ۔۔ وہ ظہان ۔۔۔۔بھائی
آگے بھی بولوں آیت ۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔

ظہان بھائی کے بازو سے خون نکل رہا ہے اور انہیں بہت درد بھی ہورہا ہے وہ وہ ۔۔۔ڈریسنگ بھی نہیں کرنے دے رہے اور جوس بھی نہیں پی رہے ۔۔۔
شیری کو کہہ رہے ہیں فارب اور مما جانی جب تک خود میرے پاس نہیں آئے گے تب تک ڈریسنگ نہیں کرواوں گا اور نہ ہی کچھ کھاو گا ۔

فارب اور حیات بیگم جلدی سے روم میں جاتے ہیں ۔۔۔

Budddy….
کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔؟؟؟
زخم تو دیکھنے دوں ۔۔۔

نہیں ۔۔۔
فارب دور رہو
جب تک تم اور مما جانی گھر چھوڑ کر جانے کا فیصلہ نہیں بدلو گے ۔تب تک نہیں دیکھاو گا ۔

اف۔۔۔۔
یار وہ تو ہم بس مذاق کررہے تھے کیوں ماما میں صحیح کہہ رہا ہوں ۔۔۔
۔ہاں بیٹے تم اب فارب کو دیکھنے دوں ۔۔۔؟،

نو ۔۔۔
ماما
آپ فارب سے کہے پہلے ہمیں سوری بولے۔۔۔اور وعدہ کرے آئندہ ہمیں دھمکیا نہیں کرے گا ۔۔۔

اوووہو ۔۔۔
میرے باپ ۔۔۔
سوری ۔۔۔۔۔
اور وعدہ ۔۔۔۔
بس اب خوش اب تو دیکھنے دوں ۔۔۔

اوکے ۔۔۔
میں تو بلکل ٹھیک ہوں مجھے کچھ نہیں ہوا یہ تو بس چھوٹا سا مذاق تھا بس ۔۔۔۔

فارب گھورتا ہے
اور پھر سب ہنستے ہیں ۔۔۔۔

یوں ایک خوشگوار دن کا اختتام ہوتا ھے ۔

So here the epi for my lovely readers ab acha sa response din ……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: