The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 17

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 17

–**–**–

 

ممی ۔۔۔۔
ممی ۔۔۔۔
کہاں ہیں آپ ۔۔۔۔؟؟؟
حورا اپنے کمرے سے باہر آئی تھی انہیں بلاتی ہے ۔۔۔
رخسانہ بیگم کچن سے باہر آتی ہیں ۔۔۔۔

کیا بات ہے ۔۔۔۔حورا
وہ ممی میں یونیورسٹی جارہی ہوں ۔۔۔
ابھی ۔۔۔۔؟؟؟
جی ممی ۔۔۔۔۔
آج بہت اہم پریکٹیکل ہے میرا اور میں نے آپ کو یہ بتانے کے لیئے بلایا ہے شام کو لیٹ آو گی ۔
اتنا لیٹ ۔۔۔بیٹا
جی ممی ۔۔۔۔بس آپ دعا کریںآج کا پیپر بہت اچھا ہوجائے
۔۔ ۔۔۔
وہ انہیں گلے ملتی ہے اور جلدی سے چلی جاتی ھے ۔

ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے وہ کلاس کے لیئے لیٹ ہوگئ تھی ۔
اللہ تعالی پلیز آج مجھے بچا لیں سر بہت سٹریکٹ ہیں ۔۔۔۔
وہ کلاس روم میں داخل ہوتی ھے ۔۔۔
May i come in sir…..

No….

Miss Hurra you are late…

حورا کے ساتھ پوری کلاس اسکے لیئے دعا کررہی تھی کہ سر آج حورا کو بخش دیں ۔۔
حورا چونکہ پہلی بار لیٹ ہوئی تھی تو سر اسے آنے کی اجازت دیتے ہیں ۔

Ok…come in
But this is last time miss Hurra…
Got it.

Thank you sir….

حورا سیدھا اپنی سیٹ کی طرف جاتی ھے جہاں پر اسکا گروپ بھی بیٹھا تھا ۔سب فلحال خاموش تھے کوئی بھی سر سرمد کے سامنے بولنے کا رسک نہیں لے سکتے تھے ۔۔

تمام سٹوڈنٹس میری بات غور سے سنیں ۔۔۔
آج کا پیپر بہت اہم ہے اور ہمارے بہت ہی خاص پروفیسر مہمان بن کر آئے گے اور مجھے امید آپ سب سارے سوال اور ری ایکشنز درست کرے گے ۔۔۔

Yes sir….

Ok students good luck…

آپ کے پاس دس منٹ ہیں سب کیمسٹری لیب میں مجھے ملیں ۔

سر کے جانے کے بعد نتاشا شروع ہوتی ہے ۔۔۔
حورا آج اتنی لیٹ کیوں ہوگئی ؟
بس یار کیا بتائو ۔۔۔
ٹھیک ہے نا بتاو ۔۔۔جیسے ہی نتاشا کہتی ھے پورا گروپ ہنسنے لگا تھا ۔

ٹھیک ہے مرو تم ۔۔۔اب مجھ سے بات بھی مت کرنا ۔اور حورا ناراض ہوکر غصے میں چلنا شروع ہوگئی تھی ۔۔

نتاشا بھاگ کر اسکے ہمقدم ہوتی ھے ۔۔۔۔

حورا ۔۔۔۔
حورا ۔۔۔۔میری بات تو سنو

مجھے نہیں سننی تمہاری کوئی فضول بات۔۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔نہ سنو
میں تو اپنی معصوم سی پری سے بات کررہی ہوں ۔۔۔

حورا کے چہرے پر مسکراہٹ آکر چھپ جاتی ہے ۔

ہونہہ ۔۔۔پری بھی تم سے ناراض ہے ۔۔۔

اف۔۔۔۔۔
نتاشا ۔۔۔
اب کیا کرو یہ تو سچ میں ناراض ہوگئی ہے ۔
اب یہی آخری راستہ بچا ہے ۔

بس جی نتاشا دھرنا دیتی ہے اور حورا کا راستہ بند کر دیتی ہے ۔۔۔

“”نہیں چلے گی ۔۔۔نہیں چلے گی حورا کی ناراضگی نہیں چلے گی ۔۔۔””

آس پاس سارے سٹوڈنٹس جمع ہونا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔وہ پریشان ہوکر نتاشا کے پاس جاتی ہے ۔۔۔

یہ کیا کررہی ہو پاگل ۔۔۔
اٹھو ۔۔۔۔

نہیں میں نہیں اٹھو گی جب تک تم مجھ سے بات نہیں کرو گی میں یہاں سے ہلو گی بھی نہیں ۔۔۔۔

وہ گھڑی پہ ٹائم دیکھتی ھے اور کچھ منٹ رہے تھے ۔۔۔

اوو ۔۔۔میرے خدا ۔۔۔!!!
کس پاگل سے میرا پالا پڑا ہے ۔

اچھا میری بہن اٹھ جا میں ناراض نہیں ہوتم سے ۔۔۔

اوکے اٹھتی ہوں پر میری ایک شرط ہے ۔۔۔۔

بکو ۔۔۔اپنی شرط
ان لمحوں میں وہ کسطرح اپنا غصہ قابو کرتی ہے یہ بس وہی جانتی تھی ۔۔۔

آج کے پیپر میں میری ہلپ کرنا تمہیں تو پتہ یہ ری ایکشنز مجھے بھول جاتے ہیں ۔۔۔

کیا ۔۔۔۔مطلب نتاشا
کوئی تو پیپر خود بھی کرلیا کرو ۔۔۔۔

ٹھیک ہے نہ کرو میں نہیں اٹھ رہی ۔۔۔۔

اف ۔۔۔۔
سب دیکھ رہے ہیں ۔پلیز اب اٹھو ۔۔۔
نو ۔۔۔۔

اچھا میں پوری کوشش کرو گی ۔۔۔

یاہو ۔۔○
یہ ہوئی نہ بات ۔ ۔۔۔
مجھے پتا تھا تم میری سب سے اچھی دوست ہو ۔۔۔

چلو جلدی کرو سر پہنچ چکے ہونگے تمہارے چکر میں ہم کتنا لیٹ ہوگئے ہیں ۔۔۔۔

حورا بیچاری اب خود سے سوال کررہی تھی میں نے لیٹ کروایا ہے ۔۔۔۔ سٹرینج

سر سرمد کے مہمان دوست پوری کلاس کو ایسا سوال دیتے ہیں جو تمام سٹوڈنٹس کے سر کے اوپر سے گزر جاتا ھے اور وہ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے ۔
کیونکہ انہیں ایسے ری ایکشن سے محلول تیار کرنا ہوتا ہے جو انہوں نے کبھی پڑھا بھی نہیں ۔۔۔

یار حورا ۔۔۔۔
سر کیا کم تھے ان کے دوست تو ان سے بھی دس ہاتھ آگے ہیں ۔

چپ کرو تم ۔۔۔
سر ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ۔۔۔

مس حورا کوئی پرابلم ہے ۔۔۔
نو سر ۔۔۔

آپ کا ٹائم شروع ہو گیا ہے اور جو بھی سٹوڈنٹ سب پہلے اس سوال کو حل کرے گا اسے میرے ساتھ میرے “کیمسٹری ریسرچ سنٹر ” میں کام کرنے کا موقع ملے گا ۔۔۔

یہ بات سنتے ہی تمام سٹوڈنٹس سنجیدہ ہوجاتے ہیں ۔۔

سوال چونکہ کونسیپٹ کے لحاظ کا تھا تو حورا کو کافی حد تک سمجھ آگیا تھا ۔

وہ سب سے پہلے ایکو ایشن بناتی ہے ساتھ ساتھ دعا مانگ رہی تھی ۔محلول تقریبا تیار تھا

اور پروفیسر بھی تمام سٹوڈنٹس کے پاس جاکر انہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
OK LEAVE your’s paper right now.

سر سرمد کو حورا پہ یقین ہوتا ہے کی وہ کرلے گی ۔

سب باری باری اپنا پیپر چیک کرواتے ہیں آخر میں حورا کی باری آتی ہے ۔

وہ اسکی بنائی گئی ایکو ایشن اور محلول دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں ۔کیوں کی وہ واحد تھی جسکا پیپر بلکل ٹھیک تھا ۔

Congratulations
Miss Hurra you passed this test. 😊

حورا بہت ذیادہ خوش تھی اور پوری کلاس اسکے لیئے تالیاں بجا رہی تھی ۔

سر سرمد اور انکے دوست آفس میں حورا کو ڈسکس کررہےتھے ۔
دیکھا آپ نے میں نے کہا تھا یہاں پر آپ کو بہت ذہین سٹوڈنٹ ملے گی۔
حورا وہ بچی تھی جسےمیں نے پہلی بار جب اپنی کلاس میں دیکھا تھا تو اسکی آنکھوں میں ہر چیز کو فتح کرنے کا جنون تھا ۔
بلکل ۔۔۔۔
اس لڑکی کی ذہانت سے میں بہت متاثر ہوا ہوں ۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

حورا جیسے ہی کار میں بیٹھتی ھے وہ سب سے پہلے اپنے پاپا کو کال کرکے بتاتی ہے ۔۔
وہ بے انتہا خوش تھے حورا کی کامیابی کا سن کر ۔۔
اوکے پاپا ۔۔۔
باقی باتیں آپ کو گھر آکر بتائو گی ۔ اور فون رکھ دیتی ہے ۔

کار اچانک رکتی ہے
کیا ہوا ڈرائیور انکل ۔۔۔؟؟،
پتا نہیں بیٹیا ۔۔میں دیکھتا ہوں
باہر جاکر دیکھتےہیں کار کا ٹائر پنکچر تھا ۔
وہ بھی پریشانہوکر باہرآتی ہے ۔
جہاں پر کار خراب ہوتی ھے وہ بہت سنسان جگہ تھی اور شام کی وجہ سے اور بھی زیادہ ڈر لگ رہا تھا ۔

تب ہی وہاں سے بلٹ پروف گاڑی گزرتی ہے اور کچھ آگے جانے کے بعد وہ واپس حورا کی کار کی طرف آتی ھے ۔

دراب خان گاڑی سے نکلتا ہے کیونکہ لڑکی کھڑی تھی اور علاقہ سنسان تھا تو وہ مدد کرنے کے لیئےانکی طرف جاتا ھے ۔

Excuse me….Miss

Yes
جیسے ہی وہ لڑکی پلٹتی ہے ۔

دراب خان کی دھڑکن رک جاتی ھے وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ حورا تھی ۔وہ بس اسے دیکھتا رہتا ھے ۔نوید کے ہاتھ لگانے پر ہوش میں آتا ھے ۔

وہ ڈیسینٹ سا بندہ حورا کو اچھا لگتا ھے مگر جب وہ اسے گھور رہا تھا تو اسکی آنکھوں میں ناگواری آجاتی ھے ۔وہ اسے مکمل طور پر نظرانداز کر دیتی ہے ۔

اور کتنا ٹائم لگے گا اسے ٹھیک ہونے میں ۔۔۔؟؟؟

مس حورا ۔۔۔۔

آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں ۔۔؟

شاید آپ مجھے نہیں جانتی مگر میں آپ کو اور انکل زوہیب کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں ۔
ڈرائیور بھی دراب خان کو پہچان چکا تھا وہ بولتا ہے ۔

بیٹیا ۔۔آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ وہی ہیں جب آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو انہوں آپ کو بچایا تھا ۔

حورا پرسکون ہوجاتی ہے ۔۔

اوو ۔۔اچھا تو آپ نے اس دن مجھے بچایا تھا ۔شکریہ

 

نوید ذرا دیکھو کیا مسلئہ ہے کار کو جلدی سے ٹھیک کرو ۔
سر کار کا ٹائر پنکچر ہے اور آس پاس کوئی مکینک کی شاپ بھی نہیں ہے ۔۔

تو پھر ٹھیک ہے مس حورا میں آپ کو گھ ڈراپ کردیتا ہوں ۔

جی نہیں ۔۔۔
بہت شکریہ آپ کا میں ابھی پاپا کو کال کرتی ہوں وہ ہمیں لے جائے گے ۔۔

پلیز ۔۔۔
آپ ضد نہ کریں انکل سے میں خود بات کرلیتاہوں زوہیب صاحب سے بات کرنے کے بعد وہ فون حورا کی طرف بڑھاتا ہے۔

جی پاپا ۔۔۔۔
مگر میں کیسے کسی کے ساتھ چلی جاو ۔۔۔؟؟؟
وہ اچھا لڑکا ہے اور جب میں کہہ رہا ہوں تو آپ کو بات ماننی پڑے گی ۔۔۔۔
اوکے پاپا ۔۔۔
وہ غصہ میں دراب کی طرف فون پھینکتی ہے جسے وہ بروقت کیچ کرلیتا ہے ۔

(غصہ میں کتنی کیوٹ لگ رہی ہے )

ڈرائیور انکل میں تو جارہی ہوں آپ کیسے آئے گے ۔۔۔؟؟؟

آپ پریشان نہ ہوں نوید کار ٹھیک کرکے انہیں ساتھ لے کر آئے گا ۔
چلیں ۔۔۔۔

حورا اپنا پرس اٹھاتی ہے اور دراب خان خود اس کے لیئے فرنٹ ڈور کھولتا ہے ۔
وہ حورا کے گھر کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔

حورا اپنی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ رہی تھی وہ نروس تھی ۔دراب اسکی حالت دیکھ کر اسے پانی دیتا ہے جسے وہ پی لیتی ہے ۔۔۔تھینکنس

اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کچھ پوچھ سکتا ہوں ۔۔۔؟؟؟

نو۔۔۔۔۔

(عجیب بندہ ہے جب میرا بات کرنے کا موڈ نہیں ہے تو کیوں سوال پہ سوال کر رہا ہے ۔)

اوکے آپ کا بات کرنے کا نہیں تو نہیں کرتے بات ۔۔

اسے کیسے پتہ چلا ۔۔۔۔میں کیا سوچ رہی تھی وہ غصہ دے اسکی طرف دیکھتی ھے ۔۔۔

دراب کو اسے دیکھ کر ہنسی آجاتی ھے ۔

کس بات پہ اتنی ہنسی آرہی ہے ۔۔۔؟؟؟؟

سوری ۔۔۔بس ایسے ہی

ہونہہ ۔۔۔جاھل انسان

سارا راستہ خاموشی سے کٹا تھا
وہ بس حورا کو دیکھتا رہتا ھے ۔

جیسے ہی گاڑی گھر کے سامنے روکی تھی حورا جلدی سے دروازہ کھول کر باہر جارہی تھی دراب اسے بازو سے کھنچتا ھے ۔

مس حورا ۔۔۔۔
یہ تو ٹھیک نہیں ہے ہم آپ کو آپ کے گھر چھوڑنے آئیں ہیں شکریہ تو کریں کم از کم ۔۔۔
دراب کا چہرہ اسکے چہرے کے قریب ہوتا ہے ۔
اچانک کھینچنے پر حورا کہ آنکھوں میں جو خوف آتا ھے وہ دراب کو بہت بھلا لگ رہا تھا ۔
وہ حورا کے چہرے پر خوف دیکھ کر کہتا ہے
Beautiful….

چھوڑو مجھے ۔۔۔۔
جب وہ اسکا بازو نہیں چھوڑتا تو حورا کو آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں وہ پورا زور لگا کر اپنا بازو چھڑاتی ہے اور گاڑی سے باہر نکل گھر میں داخل ہوتی ھے ۔

دراب بس بہت زیادہ خوش تھا
حورا اب تمہیں حاصل کرنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے ۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

ظہان ۔۔۔۔
میں جا رہا ہوں آج بہت اہم شوٹنگ ہے پھر رات کو ملاقات ہو گی ۔
آیت ، شیری تم لوگوں نے گھر نہیں جانا ۔۔۔؟؟؟

فارب ابھی پوچھ رہا تھا تب ظہان کی مما جانی روم میں آتی ہیں ۔

نہیں فارب یہ کہیں نہیں جارہے میرے بچے کچھ دن میرے ساتھ رہے گے ۔
اوکے ماما ۔۔۔
جیسے آپ کا حکم ۔۔۔۔
میں تو ابھی جارہا ہوں ۔

میں تمہارے لیئے تمھارے فیورٹ ڈشز آج بناو گی اور تم کہیں جارہے ہوں ۔۔۔

اوو ۔۔۔میری کیوٹ سی ماما
آپ پریشان نہ ہو رات کو ہم دونوں اکٹھے ڈنر کریں گے
وعدہ ۔۔۔
پکا وعدہ ماما

جبکہ دوسری طرف شیری ، آیت اور ظہان جیلس ہوکر فارب کو دیکھ رہے تھے ۔

ماما مجھے لگتا ھے مجھے کسی نظر لگ گئی ہے نیچے چلیں اور میری نظر اتاریں ۔۔

فارب ان سب کو آنکھ مارتا ہے ۔

حیات بیگم بھی معصوم سی ماں تھی وہ فارب کی فوری نظر اتارتی ہیں ۔

فارب جیسے ہی لوکیشن پر پہنچتا ھے اسکا موڈ جو بہت اچھا تھا وہ وہاں کی ڈیکوریشن دیکھ کر غصہ میں آجاتا ھے ۔

یہ کیا بکواس ڈیکوریشن کی ہے تم لوگوں نے۔۔۔۔۔؟؟
چینج کرو سب ابھی ۔۔۔۔۔

ڈیم اٹ سارا ٹائم تو یہی ویسٹ کردیا ھے جلدی کرو سب تب ہی زوئی ریڈی ہو کہ فارب کے پاس آتی ھے ۔۔۔
فارب ڈئیر جسٹ ریلیکس سب ٹھیک ہوجاتا ھے ابھی ڈونٹ وری ۔
یہ لو جوس پیو
نہیں چاہیے مجھے اپنے پاس رکھو ۔۔۔۔۔*
فارب ڈئیر پی لو نہ غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوجائے گا ۔
Zoey….
Just leave

But Faraib _…

Zoey I said leave now °°°

Ok….
K…..
JUST relax I’m going
Relax dear

ایک مصیبت ختم ہوتی نہیں کہ دوسری آجاتی ھے
زوئی جو واپس جارہی تھی فارب کے یہ الفاظ سن کر اسے غصہ تو بہت آتا ہے لیکن ضبط کرجاتی ھے
اوہ فارب چ چ چ تم مجھے مصیبت کہہ رہے ہو اب دیکھنا مصیبت کیا ہوتی ہے پہلے میرا کھیل تو خراب ہو گیا پر اب نہیں ہوگا اب کی دفعہ وہ پتہ پھینکو گی کہ تم چاہ کے بھی بچ نہیں پاو گے ۔۔۔۔

تقریبا“ آدھے گھنٹے میں سیٹ ریڈی ہوتا اور پھر زوئی اور فارب کا کپل فوٹو شوٹ ہوتا ھے انکے پوز ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کہ بے حد قریب ہوتے ہیں زوئی تو ان لمحوں کو خوش ہوکے گزار رہی ہوتی ہے مگر فارب بس اپنا رول ادا کررہا ہوتا ہے اور پھر جلد ہی فوٹو شوٹ ختم ہوجاتا ھے ۔
زوئی جیسے ہی چینج کرکے آتی ہے کہ اسکا پاوں مڑتا ھے اس سے پہلے وہ گرتی فارب اسے گرنے سے بچا لیتا ھے
Uffff Farib thnk u soooòooòo MUCH u save me …..
اٹس اوکے پھر جیسے ہی فارب اسےسیدھا کرکے چھوڑتا ھے تو اسکی چیخ نکلتی ھے
اف فارب پلیز پکڑے رکھو پلیز میں چل نہیں پارہی لگتا ھے پاوں میں موچ آگئی ھے
اوکے پھر مجھے پکڑے رکھو پھر زوئی تھوڑا چلتی ھے کہ پھر رونے لگتی ھے فارب میں نہیں چل پاو گی تم مجھے ڈاکٹرکے پاس لے جاو
اوکے پھر فارب نہ چاہتے ہوئے بھی زوئی کو اپنی بانہوں میں اٹھاتا ھے اور گاڑی میں لے جاتا ھے وہ تو ہمدردی کررہا ہوتا ہے ھے
مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اسکے لیئے مصیبت بنے گی ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر کو چیک کروانے کے بعد وہ زوئی کو اسکے گھر لے جاتا ھے اور کیونکہ وہ چل نہیں سکتی اسلیئے وہ اسے بانہوں میں اٹھا کے اسکے روم میں لے کر جاتا ہے اور زوئی کی تو خوشی کی انتہا نہیں رہتی وہ فارب کے گلے لگی آنکھیں بند کرکے اسکے مزید قریب ہوجاتی ھے فارب اسکے اس عمل پر ٹھٹھکتا ھے اور جلدی سے اسے بیڈ پر بیٹھا کر اس سے دور ہٹتا ھے ۔۔۔۔۔۔
Ok zoey then I’m going back to home so here is your medicines & take them on time..
So
Byeeee
اور ہاں کچھ دن تم ریسٹ کر لوں پھر شوٹ پر اجانا
ابھی زوئی کچھ بولتی فارب جلدی سے روم سے باہر جاتا ہے

تھینک گاڈ اس آفت سے جان تو چھوٹی وہ کار میں جیسے ہی بیٹھتا ھے تو ماما کی کال اتی ھے
فارب بیٹے کہاں ہو میں کب سے تمہارا ویٹ کررہی ہوں
مما میں بس پہنچنے والا ہوں راستے میں ہوں اور پھر فارب کو پہنچتے ہوئے دس بج جاتےہیں اور ادھر حیات بیگم فارب کے انتظار میں ٹہل رہی ہوتی ہیں اور فارب آہستہ سے انکے پاس آتا ہے اور گلے سے لگاتا ہے
فارب میری جان شکر ہے تم آگئے میں کتنا پریشان ہوگئی تھی یہ سن کر فارب کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کیونکہ اسے اپنی پیاری موم یاد آجاتی ھے وہ بھی بلکل حیات بیگم کی طرح اسکا ویٹ کرتی تھیں

فارب بچے ادھر میری طرف دیکھو وہ جیسے ہی حیات بیگم کی طرف دیکھتا ھے تو اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہوتے ہیں
فارب کیا ہوا میری جان تم رو کیوں رہے ہو کچھ نہیں بس موم یاد آگئی
یہ کہتے ہوئے وہ فارب کو پھر سے گلے لگاتی ہیں بیٹے ایسے مت رو تمہاری موم کو تکلیف ہوگی چلو شاباش چپ کرجاو اور میں بھی تو تمہاری موم ہوں
تمہیں پتا ھے وہ تینوں ایسے جل رہے تھے جب میں نے کہا میں تو کھانا اپنے بیٹے کے ساتھ کھاو گی
ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔
یہ تو آپ نے بلکل ٹھیک کیا مما وہ جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتا ہے اور حیات بیگم اسکے ماتھے پر پیار کرتی ہیں چلو اب جلدی سے کھانا کھاتے ہیں مجھے بہت بھوک لگی ھے
Ok mama just give me 2 minutes
یہ کہہ کہ وہ فریش ہونے چلا جاتا ہے پھر دونوں ملکر کھانا کھاتے ہیں اور باتیں کرتے کرتے بارہ بج جاتےہیں تب ہی سکندر شاہ خود اتے ہیں اور فارب سے کہتے ہیں
بیٹا میری بیگم کو بخش دو اگر اجازت ہوتو انھیں روم میں لے جاو
ویسے بیگم جب بھی فارب آتا ھے آپ تو جیسے ہمیں بھول ہی جاتی ہیں
ہونہہ دیکھ رہے ہو فارب ویسے تو میں انھیں بری لگتی ہوں اور اب آگئے ہیں مجھے بلانے ۔۔ جائیں میں آپ سے ناراض ہوں ۔۔
اوکے مما میں زرا ظہان کو دیکھ لوں یہ کہتے ہی فارب سکندر شاہ کے کان میں سرگوشی کرتا ہے اب آپ منائیں مما کو میں تو چلا
اور پھر ۔۔
سکندر شاہ بڑی مشکل سے اپنی روٹھی بیگم کو مناتے ہیں ۔۔۔

♡♡♡

ظہان اپنے روم میں بےچینی سے ٹہل رہا تھا وہ سب کے سونے کا انتظار کررہا تھا ۔ جیسے ہی بارہ بجتے وہ اپنے روم سے باہر آتاھے اور سب کے سونے کی تسلی کرنے کرکے خاموشی سے اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھتا ھے ۔

مکرم جو اپنے چھوٹے سائیں کی حفاظت پر مامور تھا وہ بھی ظہان کے پیچھے جاتا ہے اور ظہان اس بات سے بے خبر تھا ۔

کافی ذیادہ سفر کرنے کے بعد بالآخر وہ حورا کے گھر پہنچا تھا ۔چاروں طرف گہرا سناٹا تھا ۔

جیسے کیسے وہ حورا کے روم میں داخل ھوتا ہے ۔وہ روم میں موجود نہیں تھی تب ہی ظہان اندھیرے والی سائڈ پہ کھڑا ہوتا ہے ۔
حورا باتھ روم سے باہر آتی ھےاور دراب خان کی آج کی حرکت کی وجہ سے کافی غصہ میں تھی ۔
کتنا بدتمیز تھا وہ ۔۔۔
اف کیا مصیبت ہے پاپا کو بھی نہیں بتا سکتی اس نے جو آج حرکت کی ھے ۔
وہ مرر کے سامنے ہی باتیں کررہی تھی اور اپنی دنیا میں گم تھی ۔۔۔

ظہان جو پردے کے پیچھے سے اسے دیکھ رہا تھا حورا کی باتیں سن کر اسکا غصے سے دماغ خراب ہونے لگتا ھے وہ اس کے پاس جاتا ہے تب حورا کی نظر شیشے میں نظر آنے والے چہرے پر پڑتی ھے غصہ میں ہونے کے باوجود اس چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
یہ مجھےہر جگہ کیوں نظر آرہے ہیں وہم ہے شاید میرا ۔۔۔۔
تو اتنے قریب کیوں آرہے ہیں وہ ابھی خود سے باتیں کررہی تھی تب ہی ظہان اچانک اسے کھینچتا ہے اور اسے دیوار کے ساتھ لگا دیتا ہے ۔بازو اردگرد رکھ کر حورا کے گرد حصار بنا دیتا ہے ۔

وہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی اس سے پہلے وہ چیخ مارتی تب اسکے منہ پر کسی کا ہاتھ آتا ھے اور چیخ کہیں دب جاتی ھے ۔

اینجل ۔۔۔۔۔
یہ وہ لہجہ تھا جسے حورا مرکر بھی نہیں بھول سکتی تھی ۔

اپنی آنکھوں کھولو ۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے ٹھہری رہتی ہے ۔
ظہان اسکی ادا کو بہت پیار سے دیکھ رہا تھا ۔وہ دوبارہ بولتا ہے

Angel
Open your eyes ۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔
میں نہیں کھولوگی ۔۔۔
وہ بڑبڑاتی ہے ۔

زیادہ دیر ایک ہی پوزیشن میں کھڑے رہنے کی وجہ سے اسکے بازو درد ہورہا تھا اور وہ بس برداشت کررہا تھا ۔اور خون نکلنا شروع ہو جاتا ھے ۔

خون کی چند بوندیں حورا کے ہاتھوں اور چہرے پر پڑتی ہیں تب وہ آہستہ سے آنکھیں کھولتی ہے وہ ظہان کی آنکھوں میں دیکھتی ھے جہاں اسے صرف محبت نظر آرہی تھی اور پھر نہ جانے کتنے پل ایک دوسرے کو دکھتے گزر جاتے ہیں۔

“””میں نے آنکھوں میں جھانکنا چاہا
اس نے دل میں اتار دی آنکھیں “””

خون کی بوندیں پھر سے اسکے ہاتھوں پہ پڑتی ہیں اور نظروں کا ارتکاز ٹوٹتا ہے وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی ھے اور خون دیکھ کر گھبرا جاتی ہے ۔
حورا پہلی بار اسکا نام لیتی ہے ۔۔

ظہان ۔۔۔۔۔۔
وہ جو ایک ٹرانس میں ہوتا ہے اسکے لبوں سے اپنا نام سن کر مزید اسکے قریب ہوگیا تھا ۔

اینجل ۔۔۔۔

وہ ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔۔
ظہان آپکے بازو سے خون نکل رہا ۔۔۔۔

وہ چونکہ خون دیکھ کر ڈر جاتی تھی ۔۔۔
اب بھی خون دیکھ کر جلدی بے ہوش ہوگئی تھی ۔۔۔

وہ جو گرنے والی تھی ظہان اسے گرنے سے بچا لیتا ھے ۔۔۔
اینجل ۔۔۔۔

اور اپنی بانہوں میں اٹھا کے اسکے بیڈ تک لے جاتا ھے ۔

تکیے پر اسکا سر آہستہ سے رکھتا ھے ۔
اور پھر جیسے آیا تھا ویسے چلا جاتا ھے ۔

So how was the epi …?
Give ur reviews & don’t forget to like and share my page…….

 

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: