The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 21

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 21

–**–**–

 

دراب ساری رات غم اور غصے میں گزارتا ھے ۔ مگر حورا کو کھونے کا غم کسی صورت کم نا ہورہا تھا اسکی آنکھیں ساری رات جاگنے کی وجہ سے سرغ انگارہ ہوگئی تھی ۔

کہ اچانک دراب کے دماغ میں آئیڈیا آتا ھے جسے نہ صرف حورا اسکی ہوگی بلکہ الیکشن بھی وہ جیتے گا ۔
اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی وہ کہیں سے بھی اجڑا ہوا پریشان دراب نہ لگ رہا تھا ۔

ظہان حیدر شاہ تیار ہوجاو اب آنے والی ہر مصیبت تمہیں ناکامی کی طرف دھکیلے گی ۔

دراب پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا ۔۔۔

فریش ہوکر وہ ناشتے کے لیئے جاتا ھے جہاں اسکے بابا جان بےچینی سے اسکی راہ دیکھ رہے تھے ۔

دراب آج کی نیوز سنی تم نے ظہان کا نکاح ہوچکا ھے اور اسکے باپ نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے یہ خبر اناونس کی ھے ۔ اور اسکی ہونے والی بیوی وہی لڑکی ھے جس تم پسند کرتے تھے ۔۔۔

بابا جان ۔۔۔
پسند کرتا تھا نہیں پسند کرتا ہوں اور ویسے بھی نکاح ہوا ھے تو اس میں کونسی بڑی بات ھے وہ ختم بھی تو ہوسکتا ھے ۔

دراب یہ کیا کہہ رہے ہو تم اب وہ کسی کی بیوی بن چکی تم بھول جاو اسے اور بھی بہت سی لڑکیاں ہیں تم ان میں سے کسی کو پسند کرلو۔۔
مجھے تمہاری یہ بات بلکل بھی پسند نہیں آئی ویسے بھی وہ لڑکی کسی اور کی ہوچکی ھے ہمارے ہاں کسی اور سے منسوب چیز ہو یا انسان اس کو پھر نہیں دیکھتے تم اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لو وہ اب ہمارے خاندان کی بہو کبھی نہیں بن سکتی ۔۔۔

بابا جان آپ فلحال اس بات کو بھول جائے ۔۔۔۔
مجھے بتائیں کیسی پروگرس ھے اپنے تمام پولیٹیکل پارٹیز سے رابطہ کیا ۔۔۔کیا جواب دیا
کیا وہ آمادہ ہوئے آپ کی بات پر ۔۔۔؟؟؟؟
دیکھیں بابا جان اب مزید میں کسی کو بھی ڈھیل نہیں دے سکتا اب انکے ویک پوائنٹ پر ہٹ کرنا پڑے گا ۔۔۔ تب ہی وہ منہ کے بل بھاگتے ہوئے آئیں گے ۔۔۔
جب گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو انگلی ٹھیری کرنی پڑتی ھے ۔۔۔

وہ دراب کے اس عجیب و غریب رویے پر حیران تھے وہ اسکی ضدی طبعیت سے واقف تھے اسکی خاموشی کسی آنے والے طوفان کو چھپائے بیٹھی تھی جس سے کوئی نہیں بچ سکتا تھا ۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

نکاح کا فنکشن بہت لیٹ ختم ہوا تھا اور حورا ابھی تک نیند کے مزے لے رہی تھی ۔ چند راتوں سے وہ بہت بے سکون تھی ۔یہی وجہ تھی وہ ابھی تک پرسکون سورہی تھی ۔

اسکی نیند میں خلل مسلسل آنے والی کال سے پڑا ۔ وہ کال نہیں اٹھانا چاہتیں تھی مگر مخالف بھی اپنے نام کا تھا وہ کال کیے جارہا تھا ۔۔۔

وہ سوئی جاگی کیفیت میں کال اٹینڈ کرتی ھے ۔۔۔۔

ہیلو ۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔۔
گڈ مارننگ ۔۔۔۔

ظہان آپ ۔۔۔۔۔
وہ ہربڑا کر اٹھتی ھے اور اسکا سر بیڈ کو لگتا ھے ۔۔۔

آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔
چوٹ تو نہیں لگی ۔۔۔

وہ اپنا سر دبا رہی تھی

لگی ھے چوٹ بہت زور کی ۔۔۔

اوکے میں ابھی آرہا ہوں تمہارے پاس ۔۔۔۔

ظہان بات تو سنیں نہیں میں بس آرہا ہوں

نہیں لگی چوٹ میں بلکل ٹھیک ہوں آپ پریشان نہ ہوں ۔۔

Are you sure Hurrra…؟

وہ ظہان کے لہجے میں اپنے لیئے فکرمندی محسوس کرتی ھے جسکی وجہ سے اسکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔۔۔

جی ۔۔۔

اینجل ۔۔۔
میری تو جان نکال دی تم نے تمہیں کچھ ہو میں یہ برداشت نہیں کرسکتا ۔۔۔۔

ظہان ۔۔۔۔
کیا آپ ہمیشہ مجھ سے ایسی ہی محبت کریں گے ۔۔۔؟؟؟

اس سوال کا جواب میں آج رات کو دوں گا جب تم میرے پاس میرے قریب ہوگی ۔۔۔

آج رات ۔۔۔۔
ہہم ۔۔۔
سرپرائز ہے تمارے لیئے
اینجل اس لیئے کال کی ھے ۔۔

مگر ظہان ممی تو مجھے کہیں جانے نہیں دیتی میں نہیں آسکتی دو دن بعد ویسے بھی فنکشن شروع ہو جائے گے ۔۔

اینجل ۔۔۔۔
میں نے انکل آنٹی سے بات کرلی ھے تم ریڈی رہنا ۔۔۔

مگر ۔۔۔۔
اوکے بائے اینجل
میں ابھی بزی ہوں اب رات کو بات ہوگی ۔۔۔

حورا بند فون کو دیکھ رہی تھی
وہ پھر سے سو جاتی ھے ۔

ممی ۔۔۔۔۔
مجھے ابھی شاپنگ پر جانا ھے پرسوں بجو کی ابٹن ھے ابھی تو میں نے حمنا اور میرا کو بھی انوائٹ کرنا ھے اور۔۔۔۔۔

فیروزے بس کرو کتنا بولتی ہو تم سر میں درد کر دیا ۔۔۔۔

ممی ۔۔۔۔۔

آج تو کہیں نہیں جاسکتی تم ایسا کرو اپنی فرینڈز کو پہلے انویٹیشن دو پھر انکے ساتھ ہی شاپنگ پر جانا ۔۔

ہہم گڈ آئیڈیا ڈارلنگ ۔۔۔

فیروزے ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا میری کیوٹ سی ممی

بجو کہاں ہیں میں ذرا انکی خبر لے لوں ۔۔۔۔

بجو ۔۔۔۔
بجو ۔۔۔
اٹھیں بھی اور کتنا سوئے گی ۔۔۔

فیروزے کیا ھے مجھے سونے دو پلیز ۔۔۔۔

اف بجو اور کتنا سوئے گی شام ہورہی ھے ۔۔۔

کیا ۔۔۔۔
شام ہوگئی اور تم مجھے ابھی جگا رہی ہو ۔۔۔۔
فیروزے تم سے یہ امید نہ تھی

بجو میں نے کیا کیا ھے شام ہی تو ہوئی ھے آپ سو رہی تو جگانا صیح نہیں لگا ۔۔۔

حورا جلدی سے بیڈ سے اٹھتی ھے تب دروازے پر دستک ہوتی ھے اور اجازت ملنے پر ملازمہ اندر آتی ھے ۔۔۔

حورا بی بی آپ کے لئیے گفٹ آیا ھے بڑی بیگم صاحبہ نے کہا ھے آپ کو دے آو ۔۔۔۔
ٹھیک ھے ۔۔۔

حورا گفٹ لے کر بیڈ پر بیٹھتی اور جلدی سے کھولتی ھے فیروزے بھی ساتھ ایکسایٹڈ سی بیٹھ جاتی ھے ۔۔۔۔

حورا کے سیل فون پر میسج آتا ھے جسے پڑھ کر وہ مسکرا رہی تھی ۔

اوووہو ۔۔۔۔

Someone is smiling..

ظہان بھائی کا ٹیکسٹ تھا نا بجو ۔۔۔

وہ سرہلاتی ھے

یہ ڈریس بھی انہوں نے بھجا ھے ۔۔۔

چلیں اب جلدی سے پوری بات بتائیں ۔۔۔۔

وہ کوئی سرپرائز دے رہے ہیں اور آج رات یہ ڈریس پہن کر آنے کا کہا ھے ۔

Sooooooo
Romantic Bajo ۔۔۔۔۔۔۔

ابھی تو صرف نکاح ہوا اور سرپرائز دیے جارہے ہیں ماننا پڑے گا بھائی تو بہت رومینٹک ہیں ۔

آپ بلش کررہی ہیں ہیں اف سو سوئیٹ ۔۔۔

انکے ذکر پر یہ حال ھے جب وہ سامنے ہوگے تو پھر کیا ہوگا ۔۔

کتنے بجے جانا ھے ۔۔۔،؟،

آٹھ بجے ۔۔۔۔

بجو پھر تو بہت کم وقت ھے ہمارے پاس آپ جلدی سے جاو فریش ہوکر آو میں آپ کو ریڈی کرو گی ۔

دیکھ لیں بجو صرف اور صرف آپ کی وجہ سے میں حمنا اور میرا کے پاس نہیں جاو گی اور شاپنگ بھی نہیں کروں گی میری قربانی یاد رکھیے گا ۔۔

ہاں ۔۔۔۔
فیروزے
تمہاری آج کے دن کی یہ قربانی سنہری لفظوں میں لکھی جائے گی ۔۔۔۔

اب اگر میڈم کی اجازت ہو تو میں جاو ۔۔۔

شیور بجو پہلے ہی آپ نے باتوں میں کافی وقت ضائع کردیا ھے ۔۔۔۔

ایک تو فیروزے کی ہمیشہ اپنی غلطی دوسروں پر ڈالنے کی عادت کبھی نہیں بدلے گی ۔۔۔

سر ۔۔۔۔
وہ آج ظہان حیدر شاہ اپنی وائف ۔۔۔

نوید کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔

حورا اسکی بیوی نہیں ہے وہ صرف منکوحہ ھے وہ بھی چند دنوں کے لیئے پھر وہ میری ہوگی ۔۔۔

آیندہ خیال رکھنا ۔

ج۔۔۔جی سر

وہ حورا میم کو کوئی سرپرائز دیں گے ۔۔۔

کہاں ۔۔۔۔؟
یہ تو نہیں معلوم ۔۔۔

تو معلوم کرو۔۔۔

پوری انفارمیشن لے کر ہی میرے پاس آنا ۔۔۔۔

اوکے سر ۔۔۔

ظہان آج رات تمہیں ایسا سرپرائز دوں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گے ۔۔۔۔

Just wait

_______ _______ _______

Waooooo bajo
Looking PREETY in this beautiful dress…

بجو ویسے آپ ایسے ہی بہت۔۔۔۔
پیاری لگ رہی ہیں اگر لپسٹیک لگا لیں تو ۔۔۔۔ اور بھی خوبصورت لگے گی ۔۔۔

اوکے لگاتی ہوں ۔۔۔۔

ہہم
پرفیکٹ ۔۔۔

بجو ۔۔۔
یہ لیں جیجو کی کال آرہی ھے آپ بات کریں میں جارہی ہوں ۔۔

اینجل ۔۔۔۔

ڈرائیور آپ کا نیچے انتظار کررہا ھے تو جلدی سے جائیں ۔۔۔

وہ ڈرائیور کے ساتھ روانہ ہوجاتی ھے وہ بے انتہا خوش تھی مگر حورا اس بات سے انجان تھی کی کسی کی کالی نظر انکی خوشیوں پر ھے ۔
یہ خوشی صرف چند پل کی تھی ۔۔۔۔

ظہان بے صبری سے اپنی اینجل کا انتظار کررہا تھا ۔۔۔

حورا کو کسی ان نون نمر سے کال آتی ھے وہ کال اٹینڈ کرتی ھے ۔۔۔

اگر ظہان کی زندگی پیاری ھے تو کچھ فاصلے پر جو کار ٹھہری ھے اس میں بیٹھ جاو ۔۔۔

یہ کیا بکواس ھے اور آپ کون بات کررہے ہیں ۔۔۔۔؟؟؟

ارے ارے یہ تو بہت غلط بات ھے تم نے مجھے نہیں پہچانا اتنی کمزور یاداشت ھے مس حورا ۔۔۔۔۔

تب ہی اسکے دماغ میں کچھ دن پہلے دراب سے ملاقات یاد آتی ھے ۔

آپ ۔۔۔۔۔
جی مس حورا ۔۔۔
میں دراب خان

تو مسٹر دراب خان آپ ذرا بتانا پسند کریں گے میں آپ کی بات کیوں مانو ۔۔۔۔

بات تو ماننی پڑے گی ۔۔۔

میں ابھی ظہان کو کال کرتی ہوں آپ خود انہیں یہ دھمکی دیں ۔۔۔

نہیں حورا ڈیئر یہ غلطی مت کرنا ورنہ اسکی موت کی
ذمہ دار تم خود ہوگی ۔

تمہیں یاد تو ہوگا ظہان پر جو قاتلانہ حملہ ہوا تھا وہ میں نے کروایا تھا وہ تو ٹریلر تھا ۔۔۔

کیا وہ ۔۔۔۔وہ آپ نے کیا تھا ۔۔۔

پھر تم آرہی ہو ۔ ۔۔؟؟

ٹھیک ھے پھر میرا بندہ ظہان کا کام تمام کردے گا ۔۔۔

ن ۔۔۔نہیں پلیز ایسا مت کرو ۔۔۔

تو ٹھیک ھے تم میری بات مانو میں بھی سوچوں گاکہ اسکا کیا کرنا ھے ۔۔۔

ابھی تو تم کار میں بیٹھو ۔۔۔

وہ باہر کی طرف دیکھتی ھے تو ایک کار کھڑی ہوتی ھے ۔۔۔

ڈرائیور ۔۔۔۔
آپ یہاں گاڑی روک دیں ۔۔۔

حورا بے بسی کی انتہا پر تھی وہ ظہان کے پاس جانا چاہتی تھی مگر دراب کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکتی تھی ۔۔

آپ میرا یہی پر ویٹ کریں میں کچھ دیر میں یہی ملوں گی ۔

وہ جلدی سے باہر نکلتی ھے اور اس کار کے پاس جاتی ہے وہاں ڈرائیور پہلے سے باہر موجود تھا وہ غور سے اسکے جھکے ہوئے سر کو دیکھتی ھے اور پھر بیٹھ جاتی ھے ۔

اسے صرف اور صرف ظہان کی فکر تھی وہ کسی قیمت پر بھی اسے کھونا نہیں چاھتی تھی

کار خوبصورت سے بینگلو کے سامنے رکتی ھے ۔۔۔
ڈرائیور کار کا دروازہ کھولتا ھے
میم پلیز اندر چلیں ۔۔۔۔
سر آپ کا ویٹ کررہے ہیں ۔

آپ اپنے سر سے کہیں جو بھی بات کرنی ھے یہی آکر کریں ۔۔۔

وہ دراب کے پاس جاتا ھے اور ساری بات بتاتا ھے ۔

ہمم ۔۔۔
تم جاو
اوکے سر ۔۔۔

دراب خود اسکے پاس جاتا ھے اور کار کا دروازہ کھول کر اسے باہر آنے کا اشارہ کرتا ھے ۔

میں نہیں آرہی جو بھی بات کرنی ھے یہی کرو ۔۔۔۔

حورا ڈیئر اب تم مجھے غصہ دلا رہی ہو تم جتنا نخرے دیکھاو گی اتنا ہی لیٹ ظہان کے پاس جاو گی
۔
اور تم اسے انتظار نہیں کروانا چاہوں گی ایم آئی رائیٹ؟ ۔۔۔۔

باہر آو ۔۔۔۔

وہ باہر آتی ھے اور اسکے ساتھ بینگلو میں داخل ہوتی ھے وہ دراب کیسا تقلید میں جارہی تھی کہ اسکے اچانک رکنےسے وہ دراب سے ٹکراتی ھے اس سے پہلے وہ گرتی دراب اسے گرنے سے بچا لیتا ھے ۔

حورا اسے پرے دھکیلتی ھے اور اس سے دور ہوکر ٹھرتی ھے
وہاں پر اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے کچھ دیکھائی نا دے رہا تھا ۔

کہ اچانک وہ جگہ روشنی میں نہا جاتی ھے اور ہر طرف گلاب کے پھول بکھرے پڑے تھے وہ بس حیران ہوکر سجاوٹ دیکھ رہی تھی

دراب اسکا ہاتھ پکڑ کر ٹیبل کی طرف جاتا ھے وہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی ھے مگر اسکی گرفت سخت تھی تو وہ ایسا نہیں کرسکتی ۔

تمہیں پتا ھے حورا میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں میں اپنی زندگی میں بہت سے حسین چہرے دیکھے ہیں مگر جو کشش تمہارے چہرے میں ھے وہ کسی اور کے پاس نا تھی
جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا اپنا دل ہار بیٹھا تھا اور پہلی فرصت میں رشتہ لے کر آیا تھا مگر تمہارے باپ نے صاف انکار کردیا مجھے تکلیف تو ہوئی تھی مگر ضبط کر گیا میں تمہیں ہر صورت اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا ۔
پہلے تم میری محبت تھی مگر رشتہ سے انکار کے بعد ضد بن گئی اور اب ظہان کے ساتھ نکاح کے بعد تم میرا جنون بن گئی ہو ۔۔۔

آج اس لیئے تمہیں بلایا ھے تاکہ اپنی محبت کا اظہار کرسکو ۔۔

مجھے معلوم ھے تم بھی مجھ سے پیار کرو گی وہ ظہان تو تمہاری چاہت نہیں ھے ۔۔۔۔

تمہیں کس نے کہا کہ ظہان کو میں نہیں چاھتی ہاں؟ ۔۔۔۔
وہ چیخ کر دراب سے کہتی ھے

“ظہان تو میرا عشق ھے ”

رہی بات انکار کرنے کی تو پاپا کے فیصلے پر مجھے فخر ھے انہوں نے تمہارے ساتھ میرا رشتہ نہیں کیا ۔۔۔

مسٹر دراب آپ کی بکواس ختم ہوگئی ہو تو میں جاو ۔۔۔۔ حورا اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالتی ھے ۔

وہ بہت ضبط کا مظاہرہ کررہا تھا مگر ظہان کے لیئے اسکی محبت دیکھ کر وہ غصے سے پاگل ہوجاتا ھے

وہ حورا کو اپنی طرف کھنچتا ھے اور اسکے بازو کمر کے پیچھے لے کر جاتا ھے۔۔تکلیف سے اسکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں

چھوڑو مجھے ذلیل گھٹیا انسان ۔۔۔۔

حورا ڈیئر مجھے لگ رہا تھا تم سمجھدار ہو مگر تم بھی اپنے باپ کی طرح بے وقوف نکلی ۔۔۔

ظہان کو تو تمہیں ہر حال میں بھولنا ہوگا ۔۔۔۔ اور آج سے بلکہ ابھی سے تم صرف اور صرف میرے بارے میں سوچوں گی صرف مجھ سے محبت کرو گی ۔۔۔۔۔

ابھی جاکر تم ظہان سے طلاق کا مطالبہ کرو گی ۔۔۔۔

میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والی مسڑ دراب خان ۔۔۔۔۔

دراب جو حورا کے چہرے پر ڈر دیکھنا چاھتا تھا وہ کہیں نہیں تھا وہ تو اسکی قید میں بھپری ہوئی شیرنی کی طرح کھڑی تھی ۔۔۔
وہ مدہوش سا حورا کو دیکھ رہا تھا اسے حورا کا یہ روپ بھی پسند آیا تھا جیسے ہی حورا پر اسکی گرفت ہلکی ہوتی ھے وہ اپنے آپ کو چھڑا کر اسے دھکا دیتی ھے اور غصہ میں واپسی کی طرف قدم بڑھاتی ھے مگر اسکے قدم دراب کی آواز پر روک جاتے ہیں ۔۔۔

ڈیئر حورا میں نے جو بھی کہا ھے تمہیں ویسا کرنا ہوگا ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم خود ہوگی
دراب پھول لے کر اسکے قریب آتا ھے اور اسکے بالوں میں لگا دیتا ھے ۔

حورا بہت گھبرا جاتی ھے مگر اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتی ھے اور دراب کو دیکھتی ھے ۔

کیا حورا اور ظہان ایک ہونے سے پہلے ہی جدا ہوجائے گے ؟؟؟؟۔۔۔

دراب کیا کرے گا ۔۔۔۔۔؟؟

○○○○○○

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: