The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 22

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 22

–**–**–

 

Zuhan Hurrra
Special

وہ دراب کا لگایا گیا پھول اپنے بالوں سے نکال کر نیچے پھینکتی ھے ۔۔۔
نوید ۔۔۔۔۔
جی سر
جاو میم کو چھوڑ کر آو ۔۔۔
دراب اسے خود کار تک چھوڑ کر آتا ھے ۔۔۔
ڈیئر حورا میں نے جو کہا تھا وہ یاد رکھنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔

دیکھا جائے گا ۔۔۔۔مسٹر دراب خان

حورا تو چلی جاتی ھے مگر وہ ابھی تک اسکے سحر میں کھویا ہواتھا ۔

____ _____ ______ _____

حورا اس گاڑی میں جاتی ھے جہاں ظہان کا ڈرائیور اسکا انتظار کررہا تھا ۔
پھر وہ ظہان کے طرف روانہ ہوتی ھے ۔۔

سارا راستہ وہ دراب کی باتیں سوچ رہی تھی اگر وہ اسکی بات نہ مانے تو وہ کیا کرے گی اسکی بات نہیں مان سکتی تھی ایسا سوچتے ہی اسکا دل بند ہورہا تھا تو ظہان سے اس بارے میں بات کرنا ناممکن تھا ۔
اسی کشمکش میں راستہ کٹتا ھے تب ہی گاڑی خوبصورت سے فارم ہاوس میں داخل ہوتی ھے اور وہ بھی ہوش میں آتی ھے

حورا جیسے ہی باہر آتی ھے کوئی پیچھے سے اسکی آنکھوں پر پٹی باندھتا ھے وہ اس اچانک افتاد پر گھبرا جاتی ھے وہ آنکھوں سے پٹی ہٹانے کے لیئے ہاتھ بڑھاتی ھے تب ظہان اسکے کان میں بولتا ھے ۔

اینجل ۔۔۔۔۔

وہ گہرا سانس لیتی ھے

یہ آپ ہیں ظہان
میں ڈر گئی تھی ۔۔۔

وہ اسکا ہاتھ نرمی سے پکڑتا ھے اور پھر چلنا شروع کر دیتا ھے ۔

اور کتنا چلنا پڑے گا ظہان ۔۔۔۔؟؟؟
میں تھک گئی ہوں ۔۔۔

وہ اپنی نرم ونازک سی اینجل کو دیکھتا ھے بس تھوڑی دیر اور ۔۔۔۔

نو میں نہیں جارہی ۔۔۔۔
مجھ سے نہیں چلا جارہا اور میں یہ پٹی بھی اتار رہی ہوں ۔

وہ اپنے کہے پر عمل کرتی اس سے پہلے ظہان اسے اپنی بانہوں میں اٹھاتا ھے ۔۔۔

یہ کیا کررہے ہیں
مجھے اتاریں میں خود چلو گی ۔۔۔

اینجل ابھی تم ہی تو کہا میں نہیں چل سکتی تو میں تھوڑی سی مدد کررہا ہوں اور کچھ نہیں ۔۔۔۔

پلیز ظہان نیچے اتاریں ۔۔۔۔۔

سوری اینجل مگر اب میں ایسا نہیں کرسکتا ۔۔۔

وہ اسے مزید اپنے قریب کرتا ھے اور حورا کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اسکے دھڑکنوں کی آواز ظہان تک باخوبی پہنچ رہی تھی ۔۔
وہ بہت نروس ہوگئی تھی اور اسکے ہاتھ بھی ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔
حورا اپنے بازو اسکی گردن کے گرد حمائل کرتی ھے اور اسکے سینے میں اپنا چہرا چھپا لیتی ھے کیونکہ ظہان کی آنکھوں کی تپش اسے اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی ۔وہ اینجل کی اس ادا پر مسکراتا ھے ۔

ویسے اینجل آج بہت انتظار کروایا ھے تم نے ۔۔۔۔؟؟؟

حورا کو نا چاہتے ہوئے بھی دراب اور اسکی چیپ حرکت یاد آجاتی ھے ۔۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتی ھےاور جواب دیتی ھے۔

بس تیار ہونے میں وقت لگ گیا اس لیئے لیٹ ہوگئ ۔۔۔

ہہم ۔۔۔اٹس اوکے اینجل

وہ حورا کو نیچے اتارتا ھے اور آنکھوں سے پٹی کھول کر اس سے دور ہوجاتا ھے ۔

اچانک روشنی سے اسکی آنکھیں چھندیا جاتی ہیں وہ آنکھیں بند کرتیں ہے اور پھر کھولتی ھےاور سامنے کا منظر دیکھ کر سٹل ہوجاتی ھے ۔ ظہان نے بہت خوبصورت سرپرائز ڈیکوریٹ کیا تھا ۔

خوبصورت سے فاونٹین کے اردگرد رنگ برنگے پھول بکھرے پڑے تھے اس کے چاروں طرف دیے رکھے ہوگئے تھے جن کا عکس پانی میں اور بھی پیارا لگ رہا تھا ۔
ایک طرف جھولا تھا جسے صرف گلاب کے پھولوں سے کور کیا گیا تھا ۔

حورا تو اس جگہ کی خوبصورت میں کھو گئی تھی اس سحرانگیز جگہ کا حصہ لگ رہی تھی جسے ظہان کو قابو کررکھا تھا ۔۔۔

ظہان دور سے اسکے چہرے پر بکھرے خوشی کے رنگوں کو دیکھ رہا تھا پھر وہ چلا جاتا ھے ۔

حورا ادھر ادھر نگاہیں پھیرتی ھے مگر ظہان کہیں نہیں دکھتا وہ اسے ہر جگہ دیکھتی ھے پھر اندھیرے والی سائڈ پہ جاتی ھے
جہاں ظہان دیوں سے ڈیزائن کیے گئے ہارٹ میں کھڑا تھا ۔

وہ بھاگ کر اسکے پاس جاتی ھے اور اسے ہگ کرتی ھے ظہان بھئ اسی انتظار میں تھا وہ اینجل کے گرد اپنی گرفت سخت کرلیتا ھے اور وہ بس رو رہی تھی ۔

اینجل ۔۔۔۔۔

ظہان آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر کیوں گئے تھے میں کتنا ڈر گئی تھی مجھے لگ رہا تھا آپ پھر سے مجھ دور چلے گئے ہیں ۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا ہم ایک ساتھ پورے ہیں مگر آپ غائب ہوجاتے ہیں میں اکیلی رہ جاتی ہوں ۔۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔
بھول جاو اس خواب کو وہ بس برا سپنا تھا ۔
میں کبھی بھی تم سے دور نہیں جاو گا ۔۔۔۔

وعدہ کریں ظہان آپ ہمیشہ میرے پاس میرے ساتھ رہیں گے وہ آنکھوں میں آنسو لیئے اسے دیکھ رہی تھی ۔

پرامس ۔۔۔۔
اینجل ۔۔۔۔

اور کتنے لمحے ایسے گزر جاتے ہیں ۔

اینجل ۔۔۔۔
اس طرف دیکھو ۔۔۔۔
حورا اس طرف دیکھتی ھے اور بس دیکھتی رہتی ھے جہاں پر بہت ہی خوبصورتی سے لکھا ہوتا ھے

I LOVE YOU

اسکے ساتھ چائنیز لائٹین رکھے ہوتے ہیں ۔۔۔۔

Wow Zuhan its so beautiful…….
It’s so mesmerizing…...
It’s so loveable…….
It’s it’s so so sooooooooooooo beautiful 🤗
I really love ThiS…..

مگر تم سے زیادہ نہیں ۔۔۔۔

وہ حورا کے سامنے گھٹنوں کے
بل بیٹھتا ھے اور اسکی طرف رنگ پہنانے کے لیئے ہاتھ بڑھاتا ھے

Will you marry me

ظہان اسے اپنے پسندیدہ سرخ رنگ کے لباس میں ملبوس دیوانہ ہوکر دیکھ رہا تھا جس میں وہ گلاب کا پھول لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ خود وائٹ اینڈ بلیک تھری پیس ڈریس میں ڈیشنگ لگ رہا تھا ۔

وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی ھے جہاں محبت کا جہان آباد تھا ۔

حورا خود بھی گھٹنوں کے بل ظہان کے سامنے بیٹھتی ھےاور اسے ہگ کرکے ہاں بولتی ھے ۔۔۔

وہ اپنی اینجل کو رنگ پہناتا ھے اور اسکے ہاتھ پر کس کرتا ھے ۔

Thanx my life for accepting my perposal.
Thnx my love for being my life
My love my Angel my heartbeat
Thnx to make my life complete & lovable

وہ چائنیز لیمپ کو جلاتا ھے اور آسمان کی طرف چھوڑ دیتا ھے حورا بے انتہا خوش ہوکر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

کیا تمہیں پسند ہیں اینجل ۔۔۔؟؟؟

ہاں ظہان بہت ۔۔۔۔۔۔ذیادہ میرا تو دل چاھتا ھے انہیں روزانہ جلاو اور ایسے ہی آسمان کی طرف بھیج دوں ۔۔۔۔

ہہم تو ٹھیک ھے اینجل شادی کے بعد روزانہ تمہاری یہ وش پوری کریں گے ۔۔۔۔

سچ میں ظہان ۔۔۔۔
کیا ایسا ممکن ھے ۔۔۔۔
میری اینجل کی اتنی چھوٹی سی خواہش ھے تو پوری کرنا میرا فرض ھے ۔

Thanx my love

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ظہان اسے اسی فاونٹین والی سائڈ پر لے جاتا ھے ۔۔۔۔

ظہان آپ کو کیسے پتا چلا مجھے جھولا بہت پسند ھے حورا اسکا ہاتھ پکڑ کر اس جھولے کی طرف جاتی ھے ۔
وہ ظہان کے ساتھ جھولے پر بیٹھتی ھے ۔

یہ سب بہت خوبصورت ھے ۔۔۔

I just love it…

مجھے جھولا ، دیے ، پھول ، سبزہ اور تمام قدرتی مناظر بہت پسند ہیں بارش تو اتنی ذیادہ نہیں پسند مگر سنو فالنگ بہت پسند ھے اور سردیوں کا موسم میرا موسٹ فیورٹ ھے ۔۔۔

وہ دلچسبی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا وہ اپنے نام کی طرح معصوم تھی اور اسکی خواہشات بھی انوسنٹ اور کیوٹ سی تھی ۔

ظہان آپ میری بات سن رہے ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔

میں سن رہا ہوں اینجل ۔۔۔

لگ تو نہیں رہا۔۔۔۔
آپ بتائیں ۔۔۔

آپ کو کیا پسند ھے ظہان ۔۔۔۔

مجھے تو بس اپنی اینجل پسند ھے ۔۔۔

ویسے میں ناراض ہوں تم سے
وہ جھولے سے اتر جاتا ھے

کیوں ظہان مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ھے آپ کو اگر یہ سب نہیں پسند تو میں ان تمام وشز کو بھول جاو گی آپ پلیز ناراض تو مت ہوں ۔۔۔۔

میں اس بات پر نہیں بلکہ کسی اور بات پر ناراض ہوں ۔۔۔

تم نےاپنے تمام پسندیدہ چیزوں کا ذکر کیا ھے مگر میرا کوئی ذکر ہی نہیں ۔۔۔۔

اوووو تو آپ اس بات پہ ناراض ہیں ۔۔۔۔

حورا مسکرا کر اسکی طرف دیکھتی ھے۔۔۔۔

ظہان آپ ان سب میں کیسے شامل ہوسکتے ہیں ۔

اور ویسے بھی میں آپ کو پسند ۔۔۔۔اب آگے بھی بولوں

میں تو کسی اور کو پسند کرتی ہوں

وہ جو اسے تنگ کررہی تھی مگر اسے کیا پتا تھا کہ ظہان پر اسکا الٹا اثر ہوگا ۔۔۔۔

وہ اسے زور سے بازوں سے پکڑتا ھے اور جھولے سے اتارتا ھے

اینجل ۔۔۔۔
آئندہ میں کسی اور کا ذکر تمہارے منہ سے نا سنوں اگر دوبارہ تم نے ایسا کیا تو میں بری طرح پیش آوگا تم صرف میرا عشق ہو ۔۔۔۔
اسکی پکڑ بہت سخت ہوجاتی ھے حورا کے بازوں میں بہت درد ہورہا تھا کیونکہ دراب نے بھی زور سے اسکو پکڑا تھا اور اب ظہان اس سے درد برداشت نہیں ہورہا تھا ۔۔۔۔

آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔
ظہان چھوڑے مجھے درد ہورہا ھے۔

اس درد کا کیا جو تم نے مجھے دیا ھے ۔۔۔ہاں بولو جواب دو۔۔

میں بس آپ کو تنگ کررہی تھی پلیز چھوڑیں مجھے بہت درد ہورہا ھے ۔۔۔

وہ گرفت نرم کرتا ھے مگر چھوڑتا نہیں ۔۔۔۔

اینجل
آئندہ مذاق میں بھی ایسی بات مت کرنا میں یہ کبھی بھی برداشت نہیں کرسکوں گا ۔
تم میرے بچپن کے خوابوں کی ملکہ ہوں میں نے تمہیں پانے کے لیئے کتنی دعائیں،منتیں،مرادیں مانگی ہیں تمہیں اندازہ ہی نہیں ۔۔۔۔
تم میری پاکیزہ محبت میرا عشق ہو جو تا ابد ایسے ہی قائم رہے گا ۔۔۔۔

تم آج پوچھ رہی تھی کہ میں ہمیشہ ایسی محبت کرو گا تو یہی میرا جواب ھے ۔

🎀 تا ابد یہ سلسلہ عشق چلتا رہے گا ۔۔۔۔
کہ میں نے پیا ھے عشق کے نام آب حیات 🎀

(ازخود بیلا بخاری )

💝💝💝

حورا کو اپنی قسمت پہ ناز ہورہا تھا اور اسکی آنکھوں میں تشکر کے آنسو آگئے تھے ۔۔۔۔

سوری اینجل ۔۔۔
میں نے تمہیں ہرٹ کردیا وہ اسکے بازو پر جہاں سرخ نشان پڑ گئے تھے وہاں کس کرتا ھے
پتا نہیں یہ کیسے ہوگیا
سو سوری ۔۔۔۔

وہ اسکے آنسو صاف کرتا ھے اور اسکی دونوں آنکھوں پر کس کرتا ھے پھر ماتھے پر محبت بھرا لمس چھوڑتا ھے اور رخسار کو بھی اپنے لبوں سے چھوتا ھے اور پھر اس کے سرخ لبوں پر انگوٹھا پھیرتا ھے حورا کا تو اسکی قربت میں برا حال ہورہا تھا ۔ ظہان اسکے لبوں کی طرف جاتا اسکا ارادہ بھانپ کر وہ جلدی سے دور ہوتی ھے

ظہان مجھے بھوک لگی ھے ۔۔

اینجل میں تو بھول گیا چلو پہلے کھانا کھاتے ہیں وہ حورا کی حالت سے واقف تھا جو اسکی قربت میں شرما رہی تھی وہ اسے ریلیکس کرنے کے لیئے اسکی بات مانتا ھے ۔

پھر وہ ایک ساتھ ڈنر کرتے ہیں ڈنرتو اصل میں حورا کررہی تھی اور ظہان تو بس حورا کو دیکھنے میں محو تھا اور پھر ڈنر کرنے کے بعد ظہان حورا کو
باہر لان میں لے آتا ھے اور پھر وہ دونوں فوارے کے قریب بیٹھتے ہیں اور اس فوارے کے پانی میں ان دونوں کا عکس بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہا ہوتا ھے حورا جو اس سحر زدہ منظر میں محو تھی کہ اچانک ظہان حورا کا دھیان اپنی طرف کرنے کیلئے اسے کھینچتا ہے اور وہ سیدھا ظہان پر گرتی ھے

اور ظہان ریڈ روز حورا کے چہرے پر پھیررہا تھا اور حورا نروس سی ظہان کی تپش بھری نظروں سے بچنے کیلئے ادھر ادھر دیکھتی ھے

پھر ظہان حورا سے مخاطب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔ اس ریڈ کلر میں تم اس ریڈ روز کی طرح بے حد حسین لگ رہی ہو اور میں تمہیں ہمیشہ ہر وقت اس کلر میں دیکھنا چاھتا ہوں ۔۔

حورا ظہان کی اس بات پر کھلکھلا کے ہنستی ھے ۔۔۔۔۔ ظہان اب میں ہروقت یہ کلر تو نہیں پہن سکتی آپ بھی کیسی بات کررہے ہیں ۔۔۔۔

کیوں جب میں کہہ رہا ہوں تو آپ یہی کلر پہنیں گی

ہممم وہ تو ٹھیک ھے مگر دیکھیں اور بھی بہت سے پیارے سے کلر ہیں جیسے بلیک ۔۔۔۔۔
اور آپ خود کو دیکھیں آپ کتنا پیارے لگ رہے ہیں اس بلیک تھری پیس ڈریس میں تو میں بھی یہ کلر پہنوں گی ۔۔۔۔

ہممممم تو اینجل میری تعریف کے لبادے میں یہ کلر پہننیں کی اجازت لی جارہی ھے ہممم ناٹ بیڈ ۔۔۔

Ok you should wear this black colour but red is my favourite coz Angel in this red dress you are looking like a Red Rose so you should wear Red colour more than black……

اوکے ڈئیر ہبی جیسا آپ کہیں

پھر کافی دیر تک وہ دونوں ایسے باتیں کرتے رہتے ہیں جس میں ظہان حورا کو زیادہ تر اپنے خوابوں کے بارے میں بتاتا ھے اور اسطرح ظہان کی باتیں اسکے لونگ ڈریمز کے بارے میں سنتے اور ظہان کے بار بار اظہار محبت سن سن کر حورا کو نیند آجاتی ھے اور وہ مزے سے ظہان کے کندھے پر سر رکھ کر سو جاتی ہے اور اسکے بال اسکے رخسار پر بکھرے پڑے ہوتے ہیں اور ظہان اہستگی سے حورا کے چہرے پر سے بال ہٹاتا ھے اور پھر وہ ٹائم دیکھتا ھے تو ایک بج رہے ہوتے ہیں پھر وہ اینجل کو اسی حالت میں اپنی بانہوں میں اٹھاتا ھے وہ نیند میں تھوڑا کسمساتی ھے مگر پھر ظہان کی گردن میں منہ چھپا کر سو جاتی ہے

اینجل تمہاری یہی ادائیں میرے ضبط کا امتحان لیتی ہیں

اور پھر وہ حورا کو گاڑی میں بیٹھا کر سیٹ بیلٹ باندھتا ھے اور پھر گارڈز کے ہمراہ حورا کے گھر کی طرف روانہ ہوتا ہے جب گاڑی گیٹ کے سامنے رکتی حے تو وہ حورا کو جگاتا ھے لیکن وہ نہیں اٹھتی اور پھر ظہان اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کے لے جاتا ھے تو رخسانہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی ہوتی ہیں اور ظہان انھیں سلام کر کے حورا کو اسکے بیڈ روم میں لے جاتا ھے اسے تھوڑا ہچکچاہٹ تو ہوتی ھے حورا کی ممی کی وجہ سے مگر وہ حورا کو اسکے روم لے جاتا ھے اسے سلانے کے بعد اسکے پاوں سے سینڈل آزاد کرتا ھے اور کمفرٹر اوڑھا کر حورا کے ہیڈ پر کس کرکے چلا جاتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: