The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 25

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 25

–**–**–

فیروزے کو ڈریسز دینے کے بعد حورا اپنے کمرے میں جاتی ھے ۔۔۔

ظہان کی بار بار کال آرہی تھی اور وہ اگنور کر رہی تھی کیونکہ وہ اس سے ناراض تھی ۔

کل رات میں نے کتنا انتظار کیا تھا مگر ڈنر کے لیے نہیں آئے ہونہہ اب کرتے رہیں کال میں نہیں کرو گی بات ۔۔۔۔

یار کس کو کال کر رہا ھے تمہاری بھابھی پلس بہن کو کال کر رہا ہوں مگر مجال ھے جو کال اٹھائے ۔۔۔۔

ظاہر تم نے میری معصوم سی بہن کو تنگ کیا ہوگا ورنہ وہ ایسی نہیں ہے ۔۔۔

ہاں کیوں نہیں دا گریٹ فارب کی معصوم سی بہن ۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔

ظہان پھر کال کرتا ھے مگر وہ نہیں اٹھاتی ۔۔۔۔۔

بتاو تو آخر کس بات پر ناراض ھے ۔۔۔۔؟؟؟؟

کل رات اینجل نے جو ڈنر بنایا تھا بس مصروفیت کی وجہ سے آ نہیں سکا بس پھر کیا اب اس وقت سے ناراض ھے ۔۔۔۔

ہہم یہ تو تم نے ٹھیک نہیں کیا کل رات حورا سس نے ڈنر ٹھیک سے نہیں کیا تھا اور وہ بار بار باہر کی طرف دیکھتی رہی ۔۔۔

اف یار مطلب اینجل نے کھانا نہیں کھایا اور مجھے یقین ھے ابھی بھی ناشتہ نہیں کیا ہوگا۔۔۔

کال بھی نہیں اٹھا رہی اب کیا کرو وہ پریشان سا ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا ۔۔۔

جگر تو رک میں کال کرکے پتا کرتا ہوں ۔۔۔

جلدی کر فارب اور سپیکر پر ڈال کل رات سے اینجل کی آواز نہیں سنی ۔۔۔۔

وہ بنا دیکھے کال اٹینڈ کرتی ھے ۔۔۔

ظہان مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی آپ پھر کیوں بار بار کال کر رہے ہیں ۔اور میں آپ سے بہت ذیادہ ناراض ہوں ۔۔۔اور وہ کال بند کرتی فارب جلدی سے بولتا ھے ۔۔۔۔

حورا سس میں بات کر رہا ہوں ۔۔۔

فارب بھائی آپ ۔۔۔۔
ایم سو سوری ۔۔۔۔

اٹس اوکے ۔۔۔

جی آپ نے کال کی خیریت ۔۔۔۔

اپنی بہن سے بات کرنے کا دل کر رہا تھا تو اس لیئے کال کی ۔۔۔

بہت اچھا کیا فارب بھائی ۔۔۔۔

اچھا سس تم نے ناشتہ کر لیا ۔۔۔؟؟؟
میں سوچ رہا تھا ہم دونوں آج اکٹھے ناشتہ کریں ۔۔۔

وہ بھائی ابھی تو میں یونی جا رہی ہوں آج لاسٹ اسائنمنٹ سبمٹ کروانی ھے اگر آپ کو برا نا لگے تو پھر کبھی ناشتہ کریں گے ۔۔۔۔۔

نو اٹس اوکے ۔۔۔۔

پھر ظہان بولتا ہے

اینجل ۔۔۔۔۔۔

آپ ۔۔۔۔۔
یار پلیز ناراضگی ختم کرو ۔۔۔

ظہان مجھے دیر ہو رہی ھے اوکے بائے ۔۔۔۔

دراوازے پہ دستک ہوتی ھے ۔۔۔۔

مکرم آتا ھے ۔۔۔

وہ چھوٹے سائیں جلسہ شروع ہونے والا اور آپ کا انتظار کیا جا رہا ۔۔۔

آپ چلیں میں آرہا ہوں ۔۔۔

ابھی تو میں جارہا ہوں فارب پھر سوچتا ہوں اینجل کو کیسے منانا ھے ۔

اوکے گڈ لک ظہان ۔۔۔

اور وہ جلسے کے لئیے چلا جاتا ھے ۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

ممی میں جا رہی ہوں یونی ۔۔۔

مگر ڈرائیور تو کسی کام سے باہر گیا ہوا ھے ۔۔۔۔

اب کیا ہوگا ممی مجھے آج لازمی جانا تھا ۔۔۔۔

اف ہو ۔۔۔۔
بجو اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ھے میں ہوں نا میں آپ کو یونی لے چلتی ہوں ۔۔۔۔

نو فیروزے مجھے اپنی زندگی بہت پیاری لاسٹ ٹائم تو میں بچ گئی تھی اب کیا بھروسہ بچو یا نا تو تم اپنی خدمات اپنے پاس رکھو ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔
بجو چھوٹا سا تو ایکسیڈنٹ ہوا تھا آپکا اور صرف ایک بازو میں فریکچر آیا تھا آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔

وہی تو اب میرا دوسرا بازو ٹوٹے میں یہ رسک نہیں لے سکتی ۔۔۔

اوکے ممی میں خود ڈرائیور کر لوں گی ۔۔

بائے بجو ۔۔۔۔

وہ جیسے ہی یونیورسٹی پہنچتی ھے نتاشا سامنے ہی اسکے انتظار میں ٹہل رہی تھی ۔

حورا حد ہے یار اتنا ٹائم لگا دیا اگر ابھی تم نا آتی تو میں چلی جاتی ۔۔۔

سوری یار وہ بس لیٹ ہوگئی
اب چلو بعد میں ناراض ہو لینا ۔۔۔

وہ دونوں سر کے آفس میں اسائنمنٹ جمع کرواتی ہیں ۔

یار بہت مبارک ہو ۔۔۔۔
کس بات کی ۔۔۔؟؟؟

تم کیاسمجھتی ہوں تمہارا نکاح ہواور تمہاری اکلوتی دوست کو پتا نا چلے ۔۔۔۔۔

تم تو آوٹ آف کنٹری تھی نا نتاشا ۔۔۔۔۔

ہاں اسی بات کا تو افسوس ھے تمہارے نکاح پہ نہیں آسکی ۔۔۔

اچھا تو اداس کیوں ہورہی ہوں باقی کے فنکشنز تو ہیں نا ۔۔۔

ہہم
تو آج آرہی ہوں ۔۔۔

بلکل ویسے تم دنیا کی انوکھی لڑکی ہوں جو اپنی ابٹن والے دن بھی یونی آگئی میں تو ایسا ہرگز نا کرتی ۔۔۔

حورا مسکراتی ھے

تمہیں پتا فیروزے نے بھی یہی بات کی ھے ۔۔۔

فیروزے میری طرح عقلمند ھے ۔۔۔

ہاں کیوں نہیں نتاشا جتنی تم عقلمند ہو اسکا مجھے اندازہ ھے
پھر دونوں ہی ہنستی ہیں ۔۔۔

یار آج یونی خالی خالی لگ رہی ھے ۔۔۔۔

وہ پیپرز ہونے والے ہیں تو اس لیئے ۔۔۔

پھر نتاشا کو کال آتی ھے اور چلی جاتی ہے ۔

حورا بھی واپس جارہی تھی کہ اسے پیچھے سے کوئی کھینچتا ہے اور وہ سیدھا اسے ٹکڑا جاتی ھے اس سے پہلے وہ اس سے کچھ کہتا حورا بولنے لگ جاتی ھے

چھوڑے مجھے ظہان مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔۔

حورا ڈیئر ۔۔۔۔

د۔۔۔۔دراب ۔۔۔۔۔

ت ۔۔۔تم یہاں کیا کررہے ہوں ۔۔۔؟؟؟

اوہ تو میڈم ظہان سے ناراض ہیں اور توقع کی جارہی تھی کہ وہ آکر تمہیں منائے گا اپنا اتنا اہم جلسہ چھوڑ کر ۔۔۔۔۔

چچ ۔۔چچ ۔۔۔۔

ویسے افسوس ہورہا مجھے ۔۔۔

چھوڑو مجھے ۔۔۔۔

چھوڑ ہی تو نہیں سکتا ۔۔۔

وہ اسکے گال کو سہلاتا ھے ۔

حورا کو اسکا چھونا ناگوار لگ رہا تھا ۔

وہ اپنا ہاتھ آٹھاتی ھے اور زور سے دراب کو تھپڑ مارتی ھے ۔۔

اچانک پڑنے والے تھپڑ سے دراب ہوش میں آتا ھے ۔

تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی ۔۔۔

وہ غصہ میں چیختی ھے ۔

دراب اسکا وہی ہاتھ اتنے زور سے پکڑتا ھے کہ درد کی وجہ سے حورا کی چیخ نکلتی ھے ۔۔۔

تمہیں پیار کی زبان سمجھ آتی ہی نہیں ۔۔ اسی ہاتھ سے تم نے تھپڑ مارا ھے نا دل تو چاہ رہا تمہارا ہاتھ توڑ دوں ۔۔

مگر وہ کیا ھے حورا ڈیئر تمہاری بہادری سے ہی تو میں امپرس ہوا تھا اس لیئے اسکی چھوٹی سی سزا تمہیں دے رہا ہوں ۔۔

جبکہ دوسری طرف ظہان جلدی سے جسلے سے فارغ ہوتے ہی حورا کی یونیورسٹی پہنچتا ھے ابھی وہ گاڑی پارکنگ میں پارک کرتا ہے اور یونی کی طرف بڑھتا ھے

اور ادھر

دراب اسکے ہاتھ پر مزید پکڑ سخت کرتا ھے حورا کا درد سے برا حال ہورہا تھا اسے ایسے لگ رہا تھا کہ ہاتھ ٹوٹ گیا ھے ۔

دراب ۔۔۔۔

جی جان دراب ۔۔۔

پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دو ۔۔۔

کیوں درد ہورہا ھے وہ فکر مند ہوکر پوچھتا ھے ۔۔

حورا ہاں میں سر ہلاتی ہے ۔۔

تو پھر ایسی حرکت کیوں کرتی ہو ۔۔۔؟؟؟؟

دراب اسکے ہاتھ پر نرم گرفت کرتا ھے اور اسکے سرخ ہاتھ کو سہلاتا ھے ۔

وہ اپنا ہاتھ چھوڑانے کی کوشش کرتی ھے مگر دراب کو غصہ آتا اور وہ پھر زور سے ہاتھ پکڑتا ھے

تم نے بات کی تھی ظہان سے ۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔

کیا تم اپنے عشق کو زندہ نہیں دیکھنا چاھتی ۔۔۔؟؟؟

ٹھیک ہے تمہیں میں نے ایک موقع دیا تھا مگر اب تم گنوا چکی ہوں ۔۔اب جو بھی ہوگا مجھ سے شکایت مت کرنا ۔

وہ کسی کو کال کرتا ھے

ہاں ظہان حیدر شاہ کا کام آج تمام کردو ۔۔۔

وہ جونہی یونی کا گیٹ عبور کرتا ہے اسے سائیڈ سے حورا کی آواز سنائی دیتی ھے جسے سن کر وہ ٹھٹک جاتا ھے ۔۔۔

نہیں ۔۔۔
دراب آپ ایسا نہیں کرسکتے۔۔

میں ایسا ہی کرو گا وہ مرے گا تب ہی تم میری بنو گی ۔

پلیز ایسا مت کرو میں ظہان کے بغیر زندہ نہیں رہ پاوگی ۔۔۔

پلیز ۔۔۔۔

ظہان کا ضبط جواب دے جاتا ھے اور وہ جلدی سے اس طرف جاتا ہے جہاں سے حورا کی آواز سنائی دیتی ھے اور مکرم کو بھی کال کرکے اس طرف جاتاھے جہاں حورا تھی ۔۔

دراب اپنا چہرہ اس کے قریب کرتا ھے کاش تم مجھے بھی اتنا ہی چاہتی ۔۔۔
کاش ۔۔۔۔

پیچھے سے اسے کوئی کھنچتا ھے اور اس پر تھپڑوں کی بارش کر دیتا ھے ۔۔۔۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح اسے مار رہا تھا حورا اسکا یہ روپ دیکھ کر ڈر جاتی ھے

ظ۔۔ظہان

وہ جو دراب کو مار رہا تھا حورا کے پکارنے پر اسکی طرف دیکھتا ھے کہ حورا کا دل ڈر جاتا ھے کیونکہ اس نظر میں غصہ ، ناراضگی ہر چیز تھی مگر وہ پیار اسے کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔

حورا وہی دیوار کے ساتھ نیچے بیٹھ جاتی ھے ۔۔۔

تم دراب خان اب تمہیں میرے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔۔

وہ دراب کو بہت مارتا ھے اور دراب بے ہوش ہو جاتا ھے ۔

مکرم ۔۔۔۔

مکرم ۔۔۔۔

جی چھوٹے سائیں ۔۔۔

انہیں لے جاو آج رات یہ ہمارے خاص مہمان ہیں اور تم خوب جانتے ہوں مہمان کو کہاں لے جانا ھے ۔۔

جو حکم آپ کا چھوٹے سائیں ۔۔۔

وہ بے ہوش دراب خان کو لے جاتا ھے ۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

ظہان کا رخ اب حورا کی طرف ہوتا ھے وہ غصہ میں اس کی طرف بڑھتا ھے ۔۔

حورا تو پہلے ہی اسکے نئے روپ کو دیکھ کر ڈری ہوئی تھی رہی سہی کسر اسکے قریب آنے سے ختم ہوگئی تھی اور وہ ڈر سے کپکپا رہی تھی

اینجل ۔۔۔۔

آخر کیوں کیا تم نے ایسا ۔۔۔

کیوں کیا ۔۔۔۔

وہ اسکے قریب غصہ میں چیخ رہا تھا ۔۔۔۔

ظہان میری بات تو سنیں ۔۔۔۔

مجھے کچھ نہیں سننا جو سننا تھا میں سن چکا ہوں

آخر کیسے تم نے اتنی بڑی بات چھپائی ۔۔۔

ظہان دیوار پر زور سے ہاتھ مارتا ھے

ڈر سے حورا کی چیخ نکلتی ھے ۔۔۔

وہ کب سے بلیک میل کر رہا تھا تمہیں ۔۔۔۔

حورا خاموش رہتی ھے

اور تم نے مجھے بتانابھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔۔

ظہان اسکا جب ہاتھ پکڑتا ھے تو درد سے اسکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔۔

وہ اسکا ہاتھ چھوڑ دیتا ھے اورفارب کو کال کرتا ھے یونی پہنچنے کا کہتا ھے اور پھر وہاں سے چلا جاتا ھے ۔

حورا تو بس رو رہی تھی کیونکہ ظہان اس سے ناراض ہوکر جو چلا جاتا ھے ۔۔۔

سب ختم ہوگیا ۔۔۔۔

ظہان نے میری طرف دیکھا بھی نہیں ۔۔۔میں اعتبار کھو چکی ہوں اب کیا ہوگا ۔۔۔

وہ بے انتہا رو رہی تھی درد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔

فارب جلدی سے یونی پہنچتا ھے اور ظہان کو دیکھ کر اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوتا ھے ۔۔

ظہان جلدی سے بیٹھتا ھے اور اسے میسج پر حورا کو گھر پہنچانے کا کہتا ھے ساتھ جس طرف میں حورا تھی اس کا بھی بتاتا ھے۔

فارب بھاگ کر جاتا ھے جہاں پر حورا رو رہی تھی ۔۔

حورا میری پیاری بہن ۔۔۔۔

سب ختم ہوگیا ۔۔۔۔
فارب وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔

وہ رو رہی تھی ۔۔۔

فارب انہوں نے میری کوئی بات بھی نہیں سنی اور چلے گئے ۔۔

ادھرمیری طرف دیکھو ۔۔۔

بھائی میں انکے بغیر زندہ نہیں رہ پاوگی ان سے کہیں مجھ سے ناراض نا ہوں ۔۔

حورا مجھے بتاو کیا ہواھے ۔۔؟؟؟

وہ اسے ظہان کے سرپرائز سے لے کر آج والی دراب کی ہر ایک بات بتاتی ھے ۔۔۔

فارب کا تو غصے سے برا حال تھا
اسے ظہان سے ایسے رویے کی توقع نا تھی ۔۔۔

حورا میری پیاری بہن ادھر میری طرف دیکھو تمہیں اپنے بھائی پر بھروسہ ھے ناں میں سب کچھ ٹھیک کردوں گا ۔۔

بھائی آپ سچ کہہ رہے ہیں
وہ امید بھری نگاہوں سے اسکی طرف دیکھتی ھے ۔۔

ہاں بلکل سچ ۔۔۔۔

چلو اٹھو ۔۔۔

فارب جیسے ہی اسکا ہاتھ پکڑتا ھے درد کے مارے اسکی چیخ نکل جاتی ھے ۔۔۔۔

وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر دیکھتا ھے جو سرخ ہوگیا تھا ۔۔۔

چلو پہلے ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ۔۔۔۔

پھر فارب اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتاھے اور اسکی ٹریٹمنٹ ہوتی ھے ۔۔۔۔

ان کے ہاتھ میں فریکچر آیا ھے پریشانی کی بات نہیں یہ کچھ میڈیسن ہیں ریسٹ کریں گی تو جلدی ہاتھ ٹھیک ہوجائے گا ۔۔

اوکے ڈاکٹر تھینکو ۔۔۔
اور پھر وہ حورا کو گھر ڈراپ کرتا ہے ۔۔۔۔۔

□□□□□

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: