The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 29

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 29

–**–**–

 

بجو ۔۔۔۔۔

فیروزے بھاگ کر اسکے پاس جاتی ھے ۔۔۔

بجو اٹھیں ۔۔۔۔
پاپا بجو بول کیوں نہیں رہی ۔۔۔

سب ہی بےتحاشہ رو رہے تھے ۔۔

بھائی ۔۔۔
دیکھیں سس کی نبض چل رہی ھے ۔۔۔

ظہان بھائی آپ دیکھیں ۔۔۔

اینجل ۔۔۔
میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔

ظہان جلدی سے اٹھتا ھے اور پھر اپنی کار کی طرف چلتا ھے ۔۔۔

فارب جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ھے اور ظہان اپنی اینجل کو اپنی گود میں رکھا ہوا تھا ۔۔۔

میں بھی چلوں گی پلیز فارب

اوکے فیروزے جلدی بیٹھو ۔۔۔

پھر وہ سب اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوتے ہیں اور سب ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔۔

ماما وہ بھابھی ٹھیک تو ہوجائیں گی ناں ۔۔۔

آیت بیٹا آپ دعا کریں وہ ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔

حنان بھی حورا کی فیملی کو لے کر ہاسپٹل کی طرف جاتا ھے کیونکہ زوہیب صاحب کی کنڈیشن ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔

فارب تیز چلاو ۔۔۔۔
ظہان چیخ رہا تھا۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔
آنکھیں کھولو ۔۔۔

مجھے معاف کردو میں تمہاری حفاظت نہیں کرسکا ۔۔۔

وہ اپنی اینجل کے چہرے کو تکے جا رہا تھا وہ آہستہ سے اسکے چہرے کے ہر نقش کو چھو رہا تھا ۔

سنو ۔۔
کیا تم جانتے ہو
سانس جب رک جائے تو کیسا محسوس ہوتا ھے ۔۔
ضروری نہیں آپ کی سانسیں بیماری کے دوران رکیں ۔۔۔
ہاں ایسا تب ہوتا ھے
جب
آپ کا جان سے پیارا تکلیف میں ہوں ۔۔۔
اور
اسکی تکلیف پر آپ کی سانسیں رک جائے ۔۔۔
تب اس تکلیف کو سہنا بہت ہی مشکل ہوتا ھے ۔۔۔
رب کسی کو بھی ایسی اذیت شے دوچار نا کریں ۔۔
آج میں بھی اسی اذیت میں مبتلا ہوں ۔۔۔
میری جان
میرا عشق
میرا دل
دل میں بسی میری اینجل
زندگیاں اور موت کی جنگ
لڑ رہی ھے ۔۔۔
حقیقتا
یہ جنگ اسکی نہیں اصل میں میری زندگی کی جنگ ھے
جب اس نے آنکھیں بند کی
تو اسکی بند آنکھوں کے ساتھ میری بینائی بھی چلی گئی ۔۔
اسکا وجود جب بے جان ہواتھا
تب میرے جسم سے بھی جان نکل گئی ۔۔۔
اگر میرے عشق کو خدانخواستہ کچھ بھی ہوا ۔۔۔
تو اس بار دو لاشیں اٹھیں گی
تو ۔۔۔۔
اب کرو دعا دوستوں
مجھے میری زندگی واپس مل جائے ۔۔۔۔۔۔
مجھے میری اینجل واپس مل جائے ۔۔۔
💔💔💔💔💔💔💔

وہ حورا کی طرف دیکھ رہا تھا جبکہ اسکی حالت دیکھ کر فارب کی حالت بری ہورہی تھی ۔۔۔

سب اپنے اپنے سوچوں میں گم تھے اور سب کے لبوں پر بس حورا کی زندگی کی دعا تھی ۔۔۔

وہ ہاسپٹل پہنچتے ہیں ظہان کی باہوں میں وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ چیخ رہا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔۔
ڈاکٹر جیسے ہی اسے دیکھتے ہیں جلدی سے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کرتے ہیں ۔۔

حورا نے اب تک اسکا ہاتھ تھام رکھا تھا اور ظہان نے بھی اسکا ہاتھوں خود سے الگ نہیں کیا تھا شاید ایسا کرنے سے اسے یہ تسلی ہو رہی تھی کہ اینجل اسکے پاس ھے ۔۔۔

سر آپ اندر نہیں جاسکتے ۔۔۔
نو میں اینجل کے ساتھ رہوں گا ۔۔۔
سر پلیز ۔۔۔۔
ڈاکٹر فارب کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔
پھر فارب اسکا ہاتھ حورا کے ہاتھ سے الگ کرتا ھے ۔۔۔۔

ف۔۔فارب یہ تم کیا کررہے ہوں
تم جانتے ہوں اینجل نے مجھے ساتھ رہنے کا کہا تھا ۔۔۔

اگر اینجل ناراض ہوگئیں اور مجھ سے دور چلی گئی تو میں کیا کرو گا۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔
مجھے اپنی اینجل کے پاس جانا ہوگا۔۔۔۔

جگر سنبھال خود کو ۔۔۔
وہ اسے گلے لگاتا ھے

وہ فارب کو زور سے گلے لگاتا ھے ۔۔۔۔

اینجل تکلیف میں ھے فارب اور دیکھوں میں ۔۔۔۔
میں کتنا بے بس ہوں میں کچھ بھی نہیں کر پارہا ۔۔۔

اگر ۔۔۔
اگر اسے کچھ بھی ہوا تو میں بھی زندہ نہیں رہ پاوں گا ۔۔

ظہان رو رہا تھا اور فارب بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتا ۔۔۔

وہ بھی بے تحاشا رو رہا تھا
فیروزے کا بھی برا حال تھا ۔۔۔

ظہان ادھر دیکھو میری طرف ۔۔۔

نہیں چھوڑو مجھے
اینجل تکلیف میں ھے وہ مجھے پکار رہی ھے دیکھو ۔۔۔۔

بھائی ۔۔۔۔
فیروزے ۔۔۔
ظہان اسکے پاس جاتا ھے
تم بات کرو اینجل سے کہو وہ ٹھیک ہوجائے ۔۔۔

بھائی ادھر بیٹھیں ۔۔۔
ظہان کو وہ بینچ پر بیٹھاتی ھے اورخود نیچے بیٹھ جاتی ھے ۔۔۔

بجو ۔۔۔۔
کو کچھ بھی نہیں ہوگا ۔۔۔

فیروزے تم تم سچ کہہ رہی ہوں نا ۔۔۔۔

آپ دعا کریں بھائی ۔۔۔
انہیں کچھ بھی نہیں ہوگا ۔۔

ظہان ۔۔۔۔
میرا بچہ ۔۔۔۔
مما جانی
حیات بیگم اسے گلے لگاتی ہیں ۔۔۔

مماجانی
وہ اینجل ۔۔۔۔
اسے کہیں وہ واپس آجائے میرے پاس ۔۔۔۔
مجھے مجھے سانس نہیں آرہی

ظہان میری جان خود کو سنبھالو تمہاری اینجل کو تمہاری بہت ضرورت ھے ۔۔۔

مماجانی میں کوشش کر رہا ہوں مگر نہیں ہورہا ۔۔۔۔

سکندر شاہ اپنے بیٹے کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔۔۔۔

بابا سائیں ۔۔۔
ظہان تم میرے بہادر بیٹے ہوں

نہیں ہوں میں بہادر ۔۔۔۔
آپ سب سمجھ کیوں نہیں رہے میرا دم گھٹ رہا ھے ۔۔۔

تب ہی ڈاکٹر باہر آتا ھے ۔۔۔
اب کیسی طبعیت ھے ۔۔۔۔

مسٹر ظہان مریض کا خون بہت بہہ گیا ھے اور انہیں دو گولیاں لگی ہیں فلحال کچھ بھی نہیں کہہ سکتے
میں جھوٹ امید نہیں دوں گا مریض کے بچنے کے چانسز بہت ہی کم ہیں آپ پلیز خون کا بندوبست کریں

آپ میں سے او بلڈ گروپ کس کا ھے ۔۔۔۔

میرا ھے زوہیب صاحب جلدی سے آگے آتے ہیں آپ میرا سارا کا سارا خون لے لیں مگر میری بیٹی کو بچا لیں ۔۔۔

سوری مگر ہم آپ کا خون نہیں لے سکتے ۔۔۔

ظہان کا اور فارب بھائی کا بلڈ گروپ او ھے ۔۔۔

جی ڈاکٹر ۔۔۔

نرس آپ کا خون ٹیسٹ کرے گی ۔۔۔

ظہان تم رہنے دو تمہاری کنڈیشن ٹھیک نہیں ھے تم یہی رہوں میں دوں گا خون ۔۔۔۔

چلیں ۔۔۔۔

فارب کا خون حورا کو لگایا جاتاھے ۔۔۔

فیروزے رخسانہ بیگم کے پاس بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔

یہی حال آیت اور شیری کا وہ دونوں حسن صاحب کے پہلو میں بیٹھے تھے ۔۔۔

سب حورا کے ساتھ گزرے ہوئے پلوں کو سوچ رہے تھے ۔۔۔۔

شیری کو بار بار حورا کا اسے کیوٹ سا ہیرو کہنا یاد آرہا تھا اور آیت کو پہلی بار حورا سے ملاقات اور اسے بہن بنانے پر فیروزے کے ساتھ لڑائی اور بھی بہت سے پل یاد آرہے تھے ۔۔

فارب خود کو کوس رہا تھا اسے بار بار حورا کا پریشان اور اداس چہرہ نظر آرہا تھا وہ اسے کچھ بتانا چاہ رہی تھی مگر موقع نا ملا ۔۔۔

سکندر شاہ اور باقی سب بھی بیتے ہوئے پل یاد آرہے تھے ۔۔۔

ساری رات گزر گئی مگر حورا کا آپریشن ابھی تک ختم نا ہوا تھا ۔۔۔

ظہان آپریشن تھیٹر کے سامنے کھڑا تھا وہ وہاں سے ہل نہیں رہا تھا ۔۔۔۔

ظہان بظاہر تو وہاں موجود تھا مگر اسکی روح کہیں اور تھی

وہ وہاں سے حورا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ظہان ۔۔۔۔

اسکی ہنسی گونجتی ھے ۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔

میرے پاس آو ۔۔۔

نو ظہان آپ مجھے ڈھونڈ کر دیکھائیں ۔۔۔

پھر وہ چھپ جاتی ھے ۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔
وہ اسے ڈھونڈ رہا تھا مگر حورا وہاں ہوتی تو اسے نظر آتی ۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔
پلیز واپس آجاو ۔۔۔

دیکھو میں تھک گیا ہوں ۔۔۔

وہ شیری کے ہاتھ لگانے سے ہوش میں آتا ھے ۔۔۔

بھائی ۔۔۔
شیری تم تو اینجل کے کیوٹ سے ہیرو ہوں ۔۔۔

تم کہوں نا اپنی سس سے وہ میری طرف نہیں دیکھ رہی ۔۔۔

بھائی آپ پریشان کیوں ہو رہے وہ ٹھیک ہیں بس اپنی اہمیت بتانا چاہ رہی ہیں ۔۔۔

سس کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ ہمارے لئیے کتنی اہم ہیں ۔۔۔

آیت سے اپنے بھائیوں کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی وہ وہاں سے باہر جاتی ھے ۔۔۔

اپنے آنسو جو اس نے کتنی دیر سے روکے ہوئے تھے اب مسلسل بہہ رہے تھے ۔۔۔

ہنی ۔۔۔۔
آیت اسکی طرف دیکھتی ھے اور وہ رونا بھول جاتی ھے اور حنان کا رویہ یاد آتا ھے اور وہ ڈر کر پیچھے ہوتی ھے ۔۔۔

ہنی تم مجھ سے کیوں ڈر رہی ہوں ۔۔۔۔

آ ۔۔۔آپ جائیں یہاں سے مجھے کسی سے کوئ بات نہیں کرنی ۔۔۔

تم سے پیار سے بات کر رہا ہوں تو اسکامطلب یہ نہیں کہ تم بدتمیزی کرو ۔۔۔

آیت کو زور سے دیوار سے لگاتا ھے کمر میں درد ہوتا ھے اسے مگر سامنے والے کو کہاں پرواہ تھی ۔۔۔

سب سے پہلے رونا بند کرو ۔۔۔

کیوں اب کیا رونے پر بھی پابندی ھے ۔۔۔

آیت کی بات سن کر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آتی ھے مگر وہ سنجیدہ ہوجاتا ھے ۔۔۔

ہاں پابندی ھے ۔۔۔
چلو جلدی سے آنسو صاف کرو۔۔

نہیں کرو گی ۔۔۔

ہنی جو کہہ رہا ہوں کرو مجھے ابھی تمہیں چھونے کی اجازت نہیں ھے ورنہ یہ کام میں باخوبی کر لیتا ۔۔۔

وہ جلدی سے آنسو صاف کرتی ھے ۔۔۔

اب دھیان سے میری بات سنو

تمہاری بہن حورا کو تمہارے آنسو کی نہیں بلکہ دعا کی ضرورت ھے اس لئیے اسکے لئیے دعا کرو ۔۔

پھر وہ ٹھیک ہوجائے گی ۔۔۔؟؟؟

انشااللہ۔۔۔۔

اوکے میں اب نہیں رو گی بس اللہ تعالی سے دعا مانگو گی

ہہم ۔۔۔
چلو اب اندر جاو میں جوس وغیرہ لے کرآتا ہوں ۔۔

اوکے ۔۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

میں اندھیرے سفر پر روانہ ہوچکا تھا ۔۔۔۔
نا امیدی نے چار سوں گھیر رکھا تھا ۔۔۔۔
صبح تو کب کی رات میں بدل چکی تھی ۔۔۔
رات بھی ایسی جس کا ایک لمحہ صدیوں پر محیط تھا ۔۔۔
مگر ۔۔۔
میں میں اسکی تلاش میں بھٹک رہا تھا ۔۔۔
مگر ابھی بھی آزمائش باقی تھی ۔۔۔۔

جب میں آخری سانس گن رہا تھا ۔۔۔
تب مجھے روشنی کی ہلکی سی لکیر نظر آتی ھے ۔۔۔
میں اٹھنے کی کوشش کرتا ہوں
اور
اس روشنی کی طرف جاتا ھے
وہ صرف روشنی کی لکیر نا تھی میرے لئیے تو
زندگی کی امید تھی ۔۔۔
تب ہی میرے ہاتھ دعا کے لئیے اٹھے ۔۔۔۔
دعا ہی تو سب کچھ بدل دیتی ھے ۔۔۔
تو میں بھی حالت دعا میں تھا

بعض اوقات دعا کے لئیے ہاتھ نہیں اٹھانے پڑتے ۔۔۔
آپ کی حالت ہی آپ کے اندر چھپے ہوئے غم کو ظاہر کر دیتی ھے
ظہان کی حالت بھی اسکے غم کو بیان کررہی تھی

وہ بھی دعا کر رہا تھا دیکھنے والوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ساکت اور بے جان کھڑا ھے مگر اصل میں وہ اپنے رب سے کسی کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا ۔۔۔

چار گھنٹے بعد آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتا ھے اور ڈاکٹر باہر آتے ہیں ۔۔۔

سب ڈاکٹر کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

میری وائف کیسی ہیں اب ۔۔۔؟
کیا میں اس سے مل سکتا ہوں ۔۔؟

آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے ۔۔۔

I m sorry
ہم نے بہت کوشش کی مگر ۔۔۔
ہم انہیں نہیں بچا سکے ۔۔

ن ۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔
اینجل مجھے چھوڑ کر نہیں
جا سکتی ۔۔۔

ظہان یہ صدمہ برداشت نہیں کرسکتا اور اسکا بے جان وجود زمین پر گرتا ھے ۔۔۔

ظہان ۔۔۔

💔 💔💔💔💔💔💔

کیا ظہان بھی حورا کے پاس چلا جائے گا ۔۔۔۔

کیا ایک بار پھر ہجر کا سایہ عشق کو اپنی لپیٹ میں لے گا ۔۔۔۔،؟،،

💔💔💔💔💔

جی تو پیارے ریڈرز کیسی تھی آج کی ایپی

اپنی رائے دیں اور میں اس ایپی کے حوالے سے آپکو بتانا چاہتی ہوں کہ

یہ ایپی لکھنا میرے لئیے بہت مشکل تھا مجھ سے کسی کا مرنا کسی کی جدائی برداشت نہیں ہوسکتی یہ ایپی لکھتے ہوئے مجھے بہت رونا آیا ۔۔💔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: