The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 3

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 3

–**–**–

 

رخسانہ بیگم اپنے کمرے میں آرام فرما رہی ہوتی ہیں تب ہی حورا ڈور کو دھیرے سے کھولتی ہوئی اندر جھانکتی ھے اور
پھر رخسانہ بیگم شاید نیند میں ہوتی ہیں تب ہی حورا واپس جانے لگتی ھے کہ رخسانہ بیگم شاید جاگ گئی تھیں تبھی وہ حورا کو بلاتی ہیں ۔
حورا میری جان ادھر آئو کوئی بات کرنی ھے میرا بچہ ۔ حورا انکے پاس آتی ہے اور انھیں ہگ کرتے ہوئے کہتی ھے
کہ
ممی!
I’m so worried

آپ دعا کریں آج میرا رزلٹ ھے اور مجھے اتنی ٹینشن ھے آپ تو جانتی ہیں ممی کیمیسٹری میں ماسٹر کرنا میرا کتنا بڑا خواب ھے،،،،،،،،،،

بیٹا آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں مجھے یقین ھے ہر سال کی طرح اس سال بھی تم پوزیشن ہولڈر بنو گی ( انشاءاللہ )

آپ کو پتا ھے ممی!

میں نے فیروزے کو اپنے رزلٹ کے بارے میں اسلیئے نہیں بتایا کہ وہ کالج نہ جاتی پھر سارا دن مجھے تنگ کرتی صیح کیا نہ میں نے ممی؟

بلکل صیح کیا تم نے ورنہ وہ افلاطون پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی °°°°°°°

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ممی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ “”””””
اچھا ممی میں اب ریسٹ کر لوں تھوڑا ‘
ٹھیک ھے میرا بچہ جاو ۔

♡♡♡♡♡♡

دوسری طرف سکندر شاہ اپنے لاڈلے اور اکلوتے بیٹے کو introduce کرنے کیلۓ بڑے پیمانے پر پارٹی کا انتظام کرواتے ہیں ___ آخر اپنے بیٹے کو سیاسی رہنماؤں سے متعارف جو کروانا تھا ۔

پارٹی میں سب لوگ سیاسی موضوع پہ باتیں کر رھے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تب ہی ظہان حیدر شاہ اپنے گارڈز کے ہمراہ شاہانہ چال چلتے ہوئے پارٹی میں داخل ہوتا ھے ••••••••••••
ظہان حیدر شاہ کے آنے کی وجہ سے پارٹی میں سکوت سا چھا جاتا ہے ہر نفوس اسے دیکھنے میں محو ہوتا ہے

اور وہ مغرور انسان مجال ھے کسی کی طرف نظر کرم بھی کردے
خیر ظہان حیدر شاہ اپنے بابا سائیں کے پاس جاتے ہیں “””” تب ہی سکندر شاہ کی آواز گونجتی ھے اور وہ اپنے بیٹے کا تعارف کرواتے ہیں اور آنےوالے الیکشن میں پارٹی کا نیا صدر بنانے کا اعلان کرتے ہیں ~~~~`اسطرح ظہان حیدر شاہ اپنے لوگوں اور میڈیا سے مختصر مگر جامع الفاظ میں اپنا موئقف بیان کرتے ہیں

میڈیا کے نمائندے ظہان حیدر شاہ کی گفتگو ہر ایک چینل پر بریکنگ نیوز کہ طور پر دیکھا رھے ہوتے ہیں ‘ بلاآخر اس خوبصورت شام کا اختتام ہوتا ہے !
☆☆☆☆

ممی!
ممی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔
بجو کہا ہیں مجھے انکو کچھ بتانا ھے
بجو!
بجو وووووووو۔۔۔۔

فیروزے!
رک جاو تھوڑا سانس لو لڑکی کالج سے آتے ہی شور شرابہ شروع کردیا
نہ جانے کب عقل آئیگی تمہیں

اف ہو مما مائی لولی ون “”” کبھی تو پیار سے بات کرلیا کریں مجھ معصوم سے ارے سنو بچو، بڑوں، بوڑھوں،جوانوں، پرندوں، جانوروں، کبھی کہیں ایسی ماں دیکھی ہوگی جو اپنی انی چھوٹی سی کڑی پہ کیا کیا مظالم ڈھاتی ہیں 😭😭😭

رخسانہ بیگم منہ کھولے پریشان سی اپنی ڈرامے باز بیٹی کی کارستانیاں ملحائظہ فرما رہی ہوتی ہیں ‘” کیونکہ اس نے انسانوں کو کیا ساتھ میں پرندوں، جانوروں کو بھی شامل کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے مادر ماں ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ساتھ ہی فیروزے کو تھوڑی ہنسی بھی آتی ہے اپنی ماں کی حالت دیکھتے ہوئے
بس جی پھر کیا فیروزے اور رخسانہ بیگم کی چپل جس سےفیروزے بڑی مشکل سے بچتی ھے^^^^

اب شور بند کرو اپنا حورا سو رہی ھے خبردار اسکے روم میں گئی تو وہ آرام کر رہی ھے ۔
مگر ممی ۔۔۔۔۔
تب ہی زوہیب صاحب کی کال اتی ھے
ہیلو پاپا!
کیا اااااا
آپ سچ کہہ رہے ہیں؟ میں ابھی بجو کو بتاتی ہوں ۔ نہیں رک جاو بیٹا حورا کو ہم سرپرائز دیں گے ۔ اپنی ممی کو فون دو بات کرنی ھے کچھ ۔ اوکے یہ لیں ‘ موم
آپکے انکی کال ھے ہاہاہاہاہاہا
فیروزے ےےے ۔۔۔۔
اچھا نہ سوری یہ لیں بات کریں پاپا سے ۔
جی سلام علیکم!
وسلام!

بیگم آپکو بہت بہت مبارک ہو آپ کی بیٹی نے پورے کالج میں ٹاپ کیا ھے ۔۔۔
خیر مبارک!
آپ کو بھی مبارک ہو ۔۔۔
کل تمام پوزیشن ہولڈر کیلئے تقریب کا انعقاد کیا گیا ھے ۔ حورا کو بلکل بھی پتا نہیں لگنا چاہیے میری ابھی میٹنگ ھے رات کو اپنی پرنسز کو سرپرائز دیں گے ۔۔۔ٹھیک ھے بیگم!

جی ٹھیک جیسے آپ کہیں!
♡♡♡♡♡

یہ ھے ایک نہایت ہی نفیس خوبصورت کمرے کا منظر جسکی ہر ایک چیز اپنی مثال آپ ھے ۔ جسکے بیڈ پر موجود نفوس شائد کوئی خواب دیکھنے میں محو ھے____
چاند کی کرنیں کھڑکی سے اپنا راستہ بناتی ہوئی بیڈ پر موجود اس شخص کے چہرے کو ایک لمحے کیلئے منور کرتی ہیں ۔ تب ہی ہوا چلتی ھے اور چاند اور اس نفوس کہ درمیان پردہ ھائل ہوتا ہے جیسے چاند آنکھمچولی کھیلتے ہوئے بادل میں چھپ جاتا ھے!

اور یہ بات شائداس نفوس کو بھی ناگوار گزرتی ھے ۔ چاند اور بادلوں کہ کھیل کے ساتھ ساتھ اس شخص کے چہرے کے زاویے بھی بدلتے رہتے ہیں وہ جو خواب دیکھنے میں مگن ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور کیا دیکھتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلابوں کے پھولوں سے بنے ہوئے راستے میں وہ اپسرا کالی ذلفیں کھولے اردگرد سے بےنیاز چاندنی رات میں چودھویں کا چاند لگ رہی تھی اسکے اردگرد بہت سے جگنو منڈلا رہے ہوتے ہیں “““` تب ہی وہ کشش کے تحتاسکے قریب جارہا تھا ۔ تاکہ یہ معلوم کرسکے کہ آیا یہ اسکا خواب ھے یا کوئی تخیل ۔۔۔۔ دور سے اسے ہوا میں اسکی زلفیں لہراتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر اتنا دلکش تھا کہ وہ خود کو روک نہ پایا اور اسکے قریب جانے لگا جونہی وہ اس پری کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ھے ۔۔

تب ہی اسکی آنکھ کھل جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ انتہائی مضطرب ھالت میں اٹھتا ھے اور بالکنی کی طرف جاتا ہے اور فل مون کو دیکھ کہ اسے بس ایک ہی بات یاد آتی ہے ۔۔

پھر سے اس چودھویں کی رات میں

وہی خواب ،
وہی لڑکی،
وہی مکمل چاند ۔۔۔۔۔۔

آخر کون ہو تم؟ کون ¿

کیوں ہر چودھویں کی رات کو میرے خوابوں میں آکے میری نیندیں اڑا دینے والی ۔۔۔۔۔۔۔

آخر کون ہو تم؟
کون ہو ¿
اور
پھر وہ اپنی اینجل کیلئےچاند کو دیکھ نظم گنگناتا ھے ““`

“Poem Name ”

“The Moon Of Lunar Night ”

” ( قمری رات کا چاند )”

میرے چاند کے گرد پھولوں کا دائرہ تھا ۔۔۔
کچھ ٹمٹماتے جگنو تھے ‘
بکھری کالی ذلفیں تھیں’
کتنا دلکش منظر تھا ‘
چاند میرا تنہا تھا ‘
چند لمحوں کا تھا یہ کھیل ‘
پھر نہ کوئی جگنو تھے ‘
نہ ہی کوئی چاند تھا ‘
کالی آدھی رات تھی ‘
اورمیری تنہائی ساتھ تھی ‘

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: