The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 30

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 30

–**–**–

 

ایک سال بعد :

سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوگئیے تھے مگر حورا اور ظہان کی کمی ایسا خلا تھا جو کوئی بھی بھر نہیں سکتا تھا ۔۔۔

زوہیب صاحب اور رخسانہ بیگم وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہوچکے تھے وہ گھر جہاں ہر وقت خوشیاں تھی وہاں اب اداسی نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا ۔۔۔۔

فیروزے سب کچھ پہلے کی طرح کرنے کی کوشش کرتی تھی مگر وہ ہر بار ناکام ہوجاتی تھی ۔۔۔

وہ رخسانہ بیگم کو پہلے کی طرح تنگ کرتی تھی ہرکام
جان بوجھ کر غلط کرتی تھی مگر اسکی ممی اسے ڈانٹنے کی بجائے خود وہ کام کر لیتی تھی ۔۔۔

بظاہر تو فیروزے خوش ہونے کی ایکٹنگ کرتی تھی مگر اکیلے میں چھپ چھپ کر روتی تھی اور سٹرینجر سے اسکی حالت نہیں دیکھی جاتی تھی وہ اسے وقت دے رہا تھا کہ وہ سنبھل جائے اس لیئے وہ اسکے سامنے نہیں آرہاتھا ۔۔۔

لیکن وہ ہر وقت ہر لمحہ اپنی بےبی گرل کے آس پاس رہتا تھا بس وہ اپنی بیوٹی کے سامنے آنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا کیونکہ فیروزے کے آنسو اسکی حالت خراب کرنے لگتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

💔💔💔💔

پاپا ۔۔۔۔
حورا میری جان میری پرنسز
فیروزے جب بھی انہیں بلاتی تھی انہیں ایسے لگتا تھا کہ حورا آگئی ھے ۔۔

پاپا ۔۔۔۔
او سوری بیٹا ۔۔۔
مجھے لگا چلو چھوڑو تم ادھر آو میرے پاس ۔۔۔۔
پاپا وہ ممی مجھے اب کچھ بھی نہیں کہتی وہ مجھے ڈانٹتی نہیں ہیں ۔

اب تو وہ ڈارلنگ کہنے پر بھی غصہ نہیں کرتی ۔۔۔

آ۔۔۔آپ ممی کو سمجھائے نا پاپا وہ چھپ چھپ کر بجو کے لئیے روتی رہتی ہیں اور مجھ سے انکی اور آپ کی حالت دیکھی نہیں جاتی ۔۔۔

فیروزے وہ اسے پیار سے گلے لگاتے ہیں ۔۔۔

پاپا ۔۔۔
بجو نے اچھا نہیں کیا ہمارے ساتھ میں انہیں بہت مس کر رہی ہوں بجو کے ساتھ میں نے ظہان بھائی کو بھی کھودیا آپ کہیں نا بجو کو وہ واپس آجائیں ۔۔۔

وہ بےتحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔
پورے سال بعد اسے اپنا غم بتانے کا موقع ملا تھا ۔۔

پاپا مجھ سے بجو کی دوری برداشت نہیں ہورہی ۔۔۔

فیروزے تم تو میری بہادر بیٹی ہوں نا ۔۔۔

رخسانہ بیگم جو کسی کام سے لاؤنچ میں آئی تھی فیروزے کی باتیں سن لی تھی ۔۔۔

حد ھے فیروزے آپ یہاں اپنے پاپا کے ساتھ بیٹھی ہیں اور میں پورے گھر میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی ۔۔

ممی وہ بھاگ کر انکے گلے لگتی ہیں ۔۔۔

ممی آپ مجھے ڈانٹ رہی ہیں آپ کوپتا ھے میں نے کتنا مس کیا آپ کا ڈانٹنا ۔۔۔

پاگل ہوں تم لڑکی ۔۔۔
دیکھ رہے ہیں آپ زوہیب صاحب اپنی بیٹی کو ۔۔۔

چلو شاباش اب رونا بند کرو آج میں تمہاری فیورٹ ڈش بنائی ھے چلو ڈنر کرتے ہیں ۔۔۔

اوکے ممی میں فریش ہوکر آتی ہوں ۔۔

مٹن کڑھائی ۔۔۔۔
واو ممی میری فیورٹ ۔۔۔
بجو ۔۔۔۔
دیکھیں آپ نے نہیں بناکر دی ممی نے بنا دی ھے ۔۔۔

ممی بجو کی بھی تو فیورٹ تھی ۔۔۔

فیروزے ایکسائٹمنگ میں حورا کا ذکر کر بیٹھی تھی اور رخسانہ بیگم نے خود کومشکل سے سنبھالا ہوا تھا فیروزے کی بات پر پھر سے رونا شروع کردیتی ھے ۔۔

ممی بجو کے بغیر کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا فیروزے روتی ہوئی روم میں چلی جاتی ھے ۔

ہم حورا کے غم میں فیروزے کو اگنور کر رہے جو کہ ٹھیک نہیں ھے اسکے پرنسپل نے آج کال کی تھی کہ وہ پڑھائی پر توجہ نہیں دے رہی اور اسکے پاس ہونے کے چانسز بہت کم ہیں
رخسانہ بیگم اب ہمیں نارمل ہونا پڑے گا ۔۔۔

جی آپ صحیح کہہ رہے ہیں اب میں خود اس پر توجہ دوں گی آپ فکر نا کریں ۔۔

فیروزے روتے روتے وہی پر سو جاتی ھے ابھی اسے سوئے ہوئے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اسے چہرے پر کسی کا لمس محسوس ہوتا ھے وہ ڈر کی وجہ سے آنکھیں زور سے بند کرتی ھے اور بے آواز روتی رہتی ھے ۔۔

Kizlarim

فیروزے کوئی رسپانس نہیں دیتی ۔۔

اسے جن پر غصہ تھا اب کیا کرنے آیا ھے یہ جن جب مجھے اسکی سب سے ذیادہ ضرورت تھی تب یہ کہاں تھا اب مجھے کسی کی بھی ضروت نہیں اب میں خود کو سنبھال سکتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ دل میں کہتی ھے

سٹرینجر کتنی دیر تک انتظار کرتا رہتا ھے مگر خاموشی چھائی رہتی ھے وہ سب سمجھ رہا تھا کہ اسکی بیوٹی اس سے ناراض ھے مگر وہ اس سے اسکی بھلائی کے لئیے دور رہا تھا کیونکہ وہ اسے روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا اور نا ہی اسکے لبوں سے دوبارہ مرنے کا سن سکتا تھا بس اسکے مرنے والی بات پر وہ اپنا ضبط کھو دیتا تھا اور اسے نقصان نا پہنچائے تو دوری بنائے رکھی ۔۔

اس نے ہنوز اپنی آنکھیں بند رکھی تھی وہ اس کی سانسیں اپنے چہرے ہر محسوس کر رہی تھی اور اسکی نظروں کی تپش سے فیروزے کی پلکیں لرز رہی تھی ۔۔۔

فیروزے تھک ہار کر اپنی آنکھیں کھولتی ھے مگر تب تک وہ جا چکا تھا اور فیروزے نے آج اسکا چہرہ دیکھنے کا موقع کھودیا تھا ۔۔

آج سٹرینجر اپنے اصلی روپ میں آیا تھا وہ اب مزید اس سے دور نہیں رہ سکتا تھا مگر فیروزے کے آج کے رویے نے اسے دلبرداشتہ کر دیا تھا ۔
وہ آج فیروزے پر اپنی حقیقت آشکار کرنے آیا تھا پر ایسا نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

آیت ۔۔۔۔
آیت ۔۔۔۔
جی پاپا ۔۔۔

ادھر آو میرے پاس حسن صاحب اسے اپنے پاس بلاتے ہیں ۔

آپ آج اتنی جلدی آگئے سب ٹھیک تو ھے ناں۔۔۔۔؟؟؟

کیوں کیا میں جلدی نہیں آسکتا اپنے بچوں کی یاد آرہی تھی تو بس آج آگیا شیری کو بلاو آج ہم ڈنر ایک ساتھ ریسٹورنٹ میں کریں گے فارب سے میری بات ہوگئی ھے ۔۔

اوکے پاپا ۔۔۔
وہ شیری کے روم میں جاتی ھے ۔۔۔
شیری جلدی سے ریڈی ہو جاو آج ہم سب ایک ساتھ ڈنر کریں گے ۔۔۔

شیری میں تم سے بات کر رہی ہوں سن رہے ہوں ۔۔۔،؟

میرا دل نہیں چاہ رہا آپ لوگ چلیں جائے ۔۔۔

شیری یار یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔

شکر ھے فارب بھیا آپ آگئے دیکھیں میں کب سے اسکی منتیں کر رہی ہوں مگر مجال ھے جو یہ کوئی بات مانے ۔۔

آیت تم جاو تیار ہو ہم بس آرہے ہیں ۔۔

شیری یار کیا ہوگیا ھے تمہیں تم اب پہلے جیسے نہیں رہے ۔۔۔

بھائی پہلے جیسا تو کچھ بھی نہیں رہا حورا سس کے جانے کے بعد سب ختم ہوگیا ھے سب بدل گیا ھے ۔۔۔

آپ پاپا کو دیکھ لیں پہلے انکے پاس ہمارے لئیے وقت ہی نہیں ہوتا تھا مگر اب وہ ہمارے لئیے وقت نکالتے ہیں اور آیت وہ بھی اب ہر وقت اپنے کمرے میں بند رہتی ھے فیروزے میں ایک دن اس سے ملنے گیا تھا بھائی وہ بھی خوش ہونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی مگر اصل میں کوئی بھی خوش نہیں ھے اور آپ خود کو دیکھ لیں آپ بھی تو ماما کے لئیے پریشان رہتے ہیں اور ہمارے اور ظہان اور فیروزے کے گھر کے درمیان گھن چکر بنے ہوئے ہیں ۔

فارب بہت غور سے اسکی ایک ایک بات سن رہا تھا اس حادثے میں شیری سب سےذیادہ ایفیکٹ ہوا تھا وہ بہت حساس ہوگیا تھا ۔۔

شیری یار خود کو سنبھالو ایک سال ہوگیا ھے اتنا وقت کافی ھے خود کو سنبھالنے کے لئیے مگر تم دن بعدن کمزور ہوتے جارہے ہوں اور پڑھائی میں بھی تمہاری پرفارمنس کم ہوتی جارہی ھے حالانکہ تم برائٹ سٹوڈنٹ ہوں تم سن رہے ہوں میری بات ۔۔۔

برو میں کوشش کرو گا ۔۔

چلو اب فریش ہوجاو پھر ڈنر بھی کرنا ھے پاپا کب سے انتظار کر رہے ہیں ۔۔

پھر سب خوشگوار ماحول میں ڈنر کرتے ہیں اتفاق سے حنان بھی وہی آیا ہواتھا ۔ وہ آیت کو دیکھ رہا تھا ہنستے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی حنان چپکے سے اسکی تصویریں بناتا رہتا ھے ۔۔

آیت کو محسوس ہورہا تھا کہ کوئی مسلسل اسے دیکھ رہا ھے وہ جیسے ہی دیکھتی ھے تو اسکے چہرے پر ناگواریت آجاتی ھے ۔۔۔۔

کیونکہ وہ شخص حنان تھا جو کب سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

آیت کے چہرے پر اپنے لئیے ناگواریت دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ جاتا ھے مگر یہ کیفیت کچھ لمحوں کی تھی اب وہ غصہ سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ویٹر کو آیت کے پاس بھیجتا ھے جس میں ایک چٹ تھی ویٹر بڑی مہارت سے وہ چٹ اسکے موبائل کے نیچے رکھتا ھے شیری اور باقی اپنے سیل فون میں بزی تھے تو وہ نہیں دیکھ پاتے ۔۔۔

آیت چھپا کر چٹ کھولتی ھے جس میں تحریر پڑھ کر اسکا غصہ سے برا حال ہوگیا تھا حنان اسے دیکھ رہا تھا آیت بھی اسکی طرف دیکھ رہی تھی وہ اس چٹ کو اسکے سامنے نیچے پھینک دیتی ھے ۔

ہنی یہ بہت غلط کر دیا تم نے اب تیار ہوجاو سزا کے لیئے ۔۔۔

پاپا چلیں
آیت اتنی جلدی
کل میرا ٹیسٹ ھے وہ ابھی تیار کرنا ھے اوکے پھر چلتے ہیں ۔۔

حنان جو وہاں سے گزر رہا تھا فارب اسے دیکھ لیتا ھے ۔۔۔

حنان تم یہاں ۔۔۔

What a pleasant surprise

ڈنر کرنے آیا تھا
تویار ہمیں جوائن کر لیتے ۔۔

پاپا اس سےملے یہ حنان ھے بہت مشہور حنان انڈسٹریز کے مالک ۔۔۔

حسن صاحب سے وہ ملتا ھے بہت تعریفیں سنی تھی آپ کے بارے میں آج مل بھی لیا ۔۔

انکل اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں میرا تو بس چھوٹا سا کاروبار ھے ۔۔

ہاں تجھے دیکھ کر اندازہ ہورہا ھے کہ کتنا چھوٹا بزنس ھے

فارب اس پر طنز کرتا ھے اس دوران آیت غصہ سے اسے دیکھ رہی تھی اور پھر وہ ایکسکیوز کرکے گاڑی میں بیٹھ جاتی ھے ۔

اوکے بیٹا کبھی آئے گھر
جی انکل ضرور بہت جلد آئے گے ۔۔۔

اوکے اب اجازت فارب اس سے ملتا ھے پھر حنان چلا جاتا ھے ۔

آیت سیدھی اپنے کمرے میں آتی ھے وہ بار بار حنان کی حرکت کے بارے میں سوچ رہی تھی فضول انسان کیسے دھڑلے سے مجھے چٹ بھیج دی اگر کوئی دیکھ لیتا تو میری کیا عزت رہ جاتی ۔۔۔

بس بہت ہوگیا بہت ڈر لیا میں نے ابھی جاکر بھائی کو بتاتی ہوں ۔۔

آیت کو تب ہی کال آتی ھے ۔۔

نیا نمبر دیکھ کر وہ کال اٹینڈ نہیں کرتی کال خود ہی بند ہوجاتی ھے ۔

پھر کچھ دیر بعد اسے میسج آتا ھے وہ اوپن کرتی ھے ۔۔۔۔

ہنی تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ ہمارے بارے میں کسی کو بھی مت بتانا مگر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی اب آخری بار سمجھا رہا ہوں تم کسی کو بھی نہیں بتاو گی
اور ہاں کل اچھا سا تیار ہونا ماما پاپا آرہے ہیں ہمارے رشتہ کی بات کرنے ۔۔۔

اچھی بات ھے آنے دیں میں خود انکار کرو گی ۔۔۔

آیت میسج سینڈ کرکے سیل فون پاور آف کر دیتی ھے ۔

حنان آسکی دیدہ دلیری پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔

ہنی اب کل ہی تمہیں اندازہ ہوگا تم نے کس سے پنگا لیا ھے ۔۔

پاپا مجھے آپ سے بہت اہم بات کرنی تھی آپ بزی تو نہیں ہیں ۔۔

آو بیٹا ۔۔۔
وہ پاپا آج آپ جس لڑکے سے ملے تھے وہ آیت کو پسند کرتا ھے اور رشتہ کے لیئے آنا چاھتا ھے ۔۔

کون حنان ۔۔؟،،

جی پاپا ۔۔۔

ہہم لڑکا تو اچھا ھے
جی پاپا آپ کی اجازت ہوتو میں اسے ہاں کردو وہ سال سے میرے جواب کا انتظار کر رہا ھے آج میں ملا تو مجھے اسکا پرپوزل یاد آیا ۔۔۔

آپ کل شام کو انہیں انوائٹ کر لیں اور آیت سے بھی پوچھ لیب کیونکہ ساری زندگی کا سوال ھے اور میں نہیں چاھتا کہ میری بیٹی کو کوئی مسئلہ ہوں اگر اسے رشتہ پسند آیا تو ہی میں ہاں کرو گا ۔۔

آیت کی آپ فکر نا کریں اس سے ماما بات کرلیں گی ۔۔

اوکے گڈنائٹ پاپا ۔۔۔

پھر فارب چلا جاتا ھے ۔۔

اگلی صبح حسن صاحب بھی زوہیب صاحب کو کال کرتے ہیں اور فارب اور فیروزے کے نکاح کی بات کرتے ہیں ۔

جس پر زوہیب صاحب ان سے تھوڑا وقت لیتے ہیں اور حسن بھی انکار نہیں کرپاتے ۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

آیت کالج جا رہی تھی آج وہ خود ڈرائیو کر رہی تھی کالج سے کچھ فاصلے پر اسکی کار رکتی ھے کیونکہ سامنے سے آنے والہ کار اتنی تیز رفتار میں تھی کہ ٹکر لگنے سے بچ گئی ۔۔۔

آیت ڈر سے کانپ رہی تھی تب ہی حنان اپنی گاڑی سے نکلتا ھے اور اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اپنی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر پھینکتا ھے ۔۔

اس افتاد کے دوران آیت کے پاوں پر چوٹ لگی تھی ۔مگر حنان کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی ۔

یہ کیا بدتمیزی ھے ۔۔۔۔

چپ ۔۔۔۔
ہنی ایک دم چپ اب اگر تمہاری آواز آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔

ہونہہ آپ سے برا کوئی ھے بھی نہیں ۔۔۔

ہنی کوئی بکواس نہیں ۔۔۔

آ ۔۔ آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں مجھے کالج جانا ھے ۔۔

پلیز گاڑی روکیں ۔۔۔

میں آپ سے بات کر رہی ہوں روکیں ۔۔۔

حنان جھٹکے سے گاڑی روکتا ھے اور آیت کا سر زور سے ڈیش بورڈ پر لگتا حنان بچا لیتا ھے ۔۔

وہ آیت کے ہاتھ باندھتا ھے
ی ۔۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟؟،

میرے ہاتھ کھولیں ۔۔

حنان تسی سے اسکے ہاتھ باندھتا حے اور اسکے منہ پر ٹیپ لگا دیتا ھے ۔۔

آیت بولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ بول نہیں شکتی اپنی بے بسی پر آسکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔۔

ہنی تم کیوں مجھے مجبور کرتی ہوں میں نے پہلے کہہ دیا تھا چپ بیٹھی رہو مگر تم نے میری بات نہیں مانی اب بھگتو ۔۔۔۔

پھر گاڑی ایک فارم ہاوس کے سامنے روکتی ھے حنان اسے گاڑی سے باہر نکالتا ھے آیت باہر نہیں نکلتی وہ نا میں سر ہلا رہی تھی ۔

ہنی تم مجھے کیوں مجبور کرتی ہوں خیر اب مجھے بلیم مت کرنا ۔۔۔

وہ آیت کو باہوں میں اٹھانے کے لئیے جیسے ہی اسکے قریب جاتا ھے وہ جلدی سے اپنے پاوں گاڑی سے باہر نکالتی ھے حنان کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ھے ۔

آیت چل رہی تھی مگر اسکے پاوں زخمی ہونے کی وجہ سے بہت درد کر رہے تھے وہ مزید نہیں چل پاتی ۔۔۔

حنان اسکے رکنے کی وجہ سے رک جاتا ھے ہنی کیا ہوا رک کیوں گئی چلو ۔۔۔

وہ اسکی طرف دیکھتی ھے اور جیسے ہی قدم اٹھاتی ھے وہ نیچے گرنے والی تھی مگر حنان اسے بچا لیتا ھے اور اسے باہوں میں اٹھاتا ھے ۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں داخل ہوتاھے اور اسے بیڈ پر بیٹھتا ھے ۔۔

اسکے منہ سے ٹیپ ہٹاتا ھے اور اسکے ہاتھ بھی کھول دیتا ھے
نیچے بیٹھ کر اس کے زخم کو دیکھ رہا تھا اسکے غصے کی وجہ سے اسکی ہنی کو بہت گہری چوٹ لگی تھی ۔۔۔

Honey
I m sooo sorry

مجھے گھر جانا ھے پلیز مجھے جانے دیں ۔

ہنی پہلے مجھے مرحم لگانے دو پھر اس بارے میں بات کریں گے

نہیں مجھے کوئی مرحم نہیں لگوانا آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہا مجھے گھر جانا ھے ابھی ۔۔۔

آیت غصہ میں چیخ رہی تھی ۔۔۔

ہنی ریلیکس ۔۔۔

پہلے میری بات تو سن لوں۔۔۔۔

نہیں مجھے کوئی بھی بات نہیں سننی آپ مجھے زبردستی یہاں لے آئے ہیں مجھے ڈر لگ رہا ھے ۔۔۔

ہنی تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ھے تمہیں کیا لگ رہا ھے میں تمہارے ساتھ کچھ غلط کرو گا

ای۔۔۔ایسا تم سوچ بھی کیسے سکتی ہوں ۔۔

میں تو بس تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا تمہیں پریشان کرنا نہیں چاھتا تھا ۔۔۔

مگر تم مجھے اتنا گرا ہوا سوچتی ہوں میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔

اگر تم ایسا سوچتی ہوں تو ایسے ہی سہی حنان اسکے قریب آرہا تھا آیت دور ہو رہی تھی مگر وہ ایک ہی جست میں اسے اپنے پاس کرلیتا ھے ۔۔

نہیں پلیز مجھے جانے دوں ۔۔۔
میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔

ہنی تم نے میری محبت کا مذاق اڑایا ھے اور کوئی میری محبت کی توہین کرے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔

آیت اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر ڈر گئی تھی ۔۔

ح۔حنان ۔۔۔

نہیں مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔۔

پھر وہ آیت کو پرے دھکیلتا ھے ۔۔

سب ختم ہوگیا ہنی ۔۔۔

سب ختم ہوگیا ۔۔۔

اب میں تم سے نفرت کرو گا تم سن رہی ہوں نا ۔۔۔۔
نفرت ۔۔۔۔

اٹھو ۔۔۔۔

کالج چھوڑ آو ۔۔۔۔
پھر وہ اسے اسکی کار کے پاس چھوڑتا ھے اور وہ جب تک کالج نہیں داخل ہوتی دیکھتا رہتا ھے اور پھر وہاں سے چلا جاتا ھے ۔۔

♡♡♡♡♡♡

اب آیت اور حنان کی قسمت میں کیا لکھا ھے کیا حنان اسے معاف کرے گا ۔۔۔؟،؟؟

فیروزے کا کیا جواب ہوگا کیا وہ فارب سے نکاح کر لے گی اور سٹرینجر ایسا ہونے دے گا ۔۔۔؟؟؟؟

So guy’s kisi lgi epi must give ur opinion and don’t forget to like and share my page….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: