The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 32

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 32

–**–**–

 

آیت بیٹا آپ تیار ہوجاو کچھ دیر میں آپ کے رشتہ کے لیئے حنان کی فیملی آنے والی ھے ۔۔

ماما میرے پاوں میں بہت پین ہورہا ھے ۔۔۔

دیکھاو ذرا ۔۔۔
ہہم یہ تو ابھی بھی سوجا ہوا ھے

ماما میں اس حالت میں کیسے تیار ہوں اور نیچے بھی کیسے آو گی ۔۔

فیروزے کو کال کرتی ہوں وہ آجائے گی اور ویسے بھی میں اسے بہت مس کر رہی ہوں ۔۔

بہت ہی پیاری بچی ھے فیروزے چلو اسی بہانے میں بھی مل لوں گی ۔۔

حیات بیگم کچن میں چلی جاتی ہیں ۔۔۔

آیت اپنی فرینڈ فیروزے کو کال کرکے بلاتی ھے ۔۔۔

فیروزے ۔۔۔۔
کیسی ہوں ۔۔؟؟

پتا نہیں ۔۔۔

تم بتاو تم کیسی ہوں اور آج کیسے کال کرلی ۔۔۔؟؟؟

فیروزے میں تو پھر بھی کال کرلی تم تو مجھے بھول گئی ہوں ۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ھے آجکل تو میں جیسے خود کو بھی بھول گئی ہوں ۔۔

آیت تمہیں پتا ھے بجو کی بہت یاد آتی ھے ۔۔۔

میری بےبسی تو دیکھو میں ان سے مل بھی نہیں سکتی ۔۔۔

حورا بھابھی تو ہر وقت یادوں میں رہتی ہیں ۔۔۔

اف میں تمیں بھی اداس کر دیا تم بتاو آیت کیا ہورہا ھے ۔۔۔؟؟؟

مجھے چوٹ لگی ھے اور مجھے اپنی پیاری فرینڈ کی بہت ضرورت ھے ۔۔

اووو ہو آیت تمہیں چوٹ لگی اور تم مجھے ابھی بتا رہی ہوں ۔۔۔

اف ۔۔۔۔
اب کیسی طبعیت ھے ذیادہ چوٹ تو نہیں آئی ۔۔۔

میں بس ابھی پہنچ رہی ہوں تمہارے پاس۔۔۔۔؟؟؟

فیروزے ۔۔۔۔

اوکے بائے اب گھر آکر تم سے بات ہوگی ۔۔۔

وہ آیت کی کوئی بھی بات سنے بغیر کال بند کردیتی ھے ۔۔

آیت اسکے فکر کرنے پر مسکرا رہی تھی ۔۔

آیت اب حنان کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔

اسے اپنی آخری ملاقات یاد آرہی تھی حنان اس سے کیسے ناراض ہوگیا تھا ۔

مجھے بھی پتا نہیں کیا ہوگیا تھا مجھے ان کے بارے میں ایسا نہیں کہنا چاھیے تھا ۔۔

آیت کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا مگر اب وقت نکل چکا تھا ۔۔

آیت اب رو رہی تھی ۔۔۔

تب ہی کال آتی ھے وہ بنا دیکھے ہی رسیو کرتی ھے ۔۔

ہیلو ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔

حنان اسکی آواز سننا چاھتا تھا اور اسکی آواز سن کر جان گیا تھا کہ وہ رو رہی تھی ۔

ح۔۔۔۔حنان

یہ آپ ہی ہیں ناں آپ کوئی بات کیوں نہیں کر رہے ۔۔۔

حنان آپ سن رہے ہیں ناں اگر سن رہے ہیں تو جواب کیوں نہیں دے رہے ۔۔۔

آیت کی سسکیاں گونجتی ہیں اور یہی پر اسکا ضبط جواب دے جاتا ھے ۔۔۔

ہنی اگر اب مزید ایک بھی آنسو تمہاری آنکھ سے نکلا تو پھر دیکھنا تم ۔۔۔

ویسے ابھی تمہیں کس بات پر رونا آرہا ھے تم نے خود ہی تو مجھے دور رہنے کا کہا تھا

تمہیں تو مجھ سے ڈر لگتا ھے تم مجھے غلط انسان سمجھتی ہوں تو پھر تم ہی بتاو بات کرنے کو کیا رہ گیا تھا ۔۔۔

اینی وے ۔۔۔۔

میں نے اس لئیے کال کی تھی کہ تم اس رشتہ سے انکار ۔۔۔۔

میں نہیں کرو گی کوئی انکار سنا آپ نے ۔۔۔۔

ٹھیک ھے اب تم اپنی مرضی سے اپنی زندگی جہنم بنانا چاہتی ہوں تو کیا کیا جاسکتا ھے ۔۔

پھر کال کٹ جاتی ھے ۔۔۔

میری غلطی کیا اتنی بڑی ھے کہ اتنی سزا دی جا رہی ھے ۔۔

تب ہی فیروزے ناک کر کے روم میں آتی ھے ۔۔۔

آیت کیا ہوا ھے یہ کیا حالت بنا رکھی ھے تم نے ادھر دیکھو۔۔۔

فیروزے ۔۔۔۔۔
انہیں کہو ناں مجھے اتنی بڑی سزا نا دیں پلیز فیروزے ۔۔۔

آیت ۔۔۔۔۔
کس کے بارے میں بات کر رہی ہوں کیا ہوا ھے ۔۔۔؟؟؟

ک۔۔کچھ نہیں

ابھی تم کس کے بارے میں کہہ رہی تھی معاف کردے ۔۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔

اوکے ریلیکس آیت ۔۔۔

یہ لوں پانی پیو ۔۔۔

آیت کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ سوالوں کے جواب دے سکتی ۔۔۔

سوری فیروزے تمہیں پریشان کر دیا ۔۔

کوئی بات نہیں ۔۔۔

دیکھاو چوٹ ذرا ۔۔۔

ہہم بہت گہری چوٹ ھے اف اب کیا ہوگا ۔۔۔

فیروزے ۔۔۔۔

ہاہا ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔

اوکے جلدی ٹھیک ہو جاو گی

ہہم ۔۔۔۔

آیت ۔۔۔۔۔

اووو تو فیروزے آئی ہوئی ھے

What a pleasant surprise

شیری کیسے ہوں ۔۔۔
اور تم ہمارے گھر کیوں نہیں آئے ممی تمہارا پوچھ رہی تھی ۔۔

ایک دم فٹ ہوں ۔۔۔
بہت جلد آنٹی سے ملنے آو گا

آیت تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی نیچے تمہارے سسرال والے آگئے ہیں ۔۔۔

کیا آیت کے سسرال والے ۔۔۔

وہ ناراض نظروں سے آیت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

اچھا ناں یار سوری دیکھو تو کان پکڑ کر معافی مانگ رہی ہوں ۔۔

شیری سفارش کرو۔۔۔۔

فیروزے سس معاف کر دیں ۔۔

اوکے سوچوں گی ۔۔۔

پہلے تمہارا ڈریس سلیکٹ کر لوں

فیروزے وارڈروب کھولتی ھے اور اتنے سارے ڈریسز میں اسے بےبی پنک کلر کا ڈریس پسند آتا ھے پھر وہ آیت کو ریڈی کرتی ھے۔۔۔۔

چلو اب شروع ہوجاو ۔۔۔

حمنا کے بھائی کا رشتہ آیا ھے ۔۔۔

اوووو مطلب حنان بھائی کا ۔۔۔

واو یار حنان بھائی کی کیا پرسنیلٹی ھے تم اور وہ ایک ساتھ کتنے پیارے لگو گے ۔

آیت محض مسکراتی ھے ۔۔۔

فیروزے ماما بلا رہی ہیں آپ کو ۔۔۔

اوکے آیت تم جب تک بیٹھو میں ابھی آئی۔۔۔

فیروزے جا رہی تھی تب ہی فارب اسے کھینچ کر اپنے روم میں لے جاتا ھے ۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ھے ۔۔۔۔

فیروزے تمہیں پتا ھے کتنا مس کر رہاتھا ۔۔۔

تو میں کیا کرو۔۔۔

کہیں پڑھا تھا محبوب سنگدل ہوتا ھے آج تمہیں دیکھ کر یقین آگیا ۔۔۔

وہ اسے اپنے قریب کرتا ھے ۔۔۔

فارب ۔۔۔۔
دور رہے ۔۔۔

اور اگر نا ہوں تو کیا کرو گی ۔۔

وہ ناراض نظروں سے اسکی طرف دیکھتی ھے ۔۔

اف یار اب ایسے تو نا دیکھو تمہاری ناراضگی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی ۔۔

یہ لوں دور ہوگیا ہوں اب خوش ۔۔۔۔

فارب کی شکل دیکھ کر اسے ہنسی آجاتی ھے اور پھر کتنی دیر وہ ہنستی رہتی ھے اور فارب اسکی ہنسی میں کھو جاتا ھے ۔

ہنستے ہنستے وہ رونا شروع کردیتی ھے ۔۔۔۔

فیروزے شش ۔۔۔
فارب وہ بجو آپ کہیں ناں وہ واپس آجائیں ۔۔۔۔

وہ اسکے گلے لگی اپنا غم اسے بتا رہی تھی ۔۔۔

مجھے انکی بہت یاد آتی ھے کوئی بھی پل ایسا نہیں کہ مجھے انکی یاد نا آئی ہوں ۔۔

فارب بہت مشکل ھے انکے بغیر زندگی گزارنا ۔۔۔

وہ خود بھی رو رہا تھا ۔۔

مجھے بھی ان دونوں کی بہت یاد آتی ھے مگر صبر کے علاوہ ہم کر بھی کیا کرسکتے ہیں ۔

شاباش اب رونا بند کرو ۔۔۔

وہ آسکے آنسو صاف کرتا ھے اور فیروزے کو اسکے لمس میں کسی اور کا لمس محسوس ہوتا ھے وہ غور سے اسکی طرف دیکھتی ھے اور پھر وہ بھی اسکے آنسو صاف کرتی ھے یہ سب اچانک ہوتا ھے فارب اسکے لمس کو حیران ہوکر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔

نہیں یہ یہ میرے جن نہیں ہوسکتے پھر وہ فارب کو ایک جھٹکے میں دور کرتی ھے روم سے باہر چلی جاتی ھے ۔۔۔

یہ کس کا ذکر کر رہی تھی کیا فیروزے کسی اور کو پسند کرتی ھے نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔

فیروزے اگر ایسا ہوا بھی تو اس شخص کا اس زمین پر آخری دن ہوگا ۔

فیروزے خود کو نارمل کرکے نیچے جاتی ھے جہاں پر حنان اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھا تھا وہ سب کو سلام کرتی ھے حمنا خوش ہوکر اسے ملتی ھے۔۔۔

فیروزے تم یہاں کیسے ۔۔۔۔

وہ آیت کو چوٹ لگی تھی تو بس اسی لیئے ملنے آئی تھی ۔۔

کیا بھابھی کو چوٹ لگی ھے ۔۔

ماما ہم اور حنان بھائی کیا ان سے مل سکتے ہیں پلیز ۔۔۔۔

حنان کی ماما حسن صاحب اور حیات بیگم کی طرف دیکھتی ہیں اور حیات بیگم کے ہاں کہنے پر وہ آیت کے روم کی طرف جاتے ہیں ۔

حنان بھائی ویسے میں آپ سے ناراض تھی ۔۔۔

فیروزے بات تو سنو ۔۔۔

حمنا تم تو بات ہی نا کرو ۔۔۔

فیروزے میری غلطی ھے تم حمنا سے ناراض مت ہو ۔۔۔۔

سوری ۔۔۔۔

اٹس اوکے بھائی میں تو مذاق کر رہی تھی ۔۔۔

لیں جی آیت کا روم آگیا ھے ۔۔

بھائی آپ جائیں بھابھی سے مل لیں ۔۔۔۔

نہیں تم مل لوں ۔۔۔

اف بھائی اب نخرے مت کریں مجھے پتا ھے آپ کا بہت دل چاہ رہا تھا ۔۔۔

آپ آرام سے ملاقات کریں باہر میں اور فیروزے ہیں ناں ۔۔۔

جی حنان بھائی ۔۔۔

اوکے اگر تم دونوں اتنا انسسٹ کر رہی ہوں تو مل لیتا ہوں ۔۔۔

بھائی ۔۔۔۔۔۔

ایک تو آپ کو ان سے ملنے کا موقع دے رہے ہیں اور احسان بھی ہم پر جتایا جا رہا ھے ۔۔

بلکل صیح کہہ رہی ھے فیروزے ۔۔۔۔

پھر وہ تینوں ہی ہنستے ہیں اور حنان روم میں چلا جاتا ہے ۔۔۔

آیت اسے اپنے روم میں دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش ہوجاتی ھے ۔۔۔

حنان کو بھی اسے دیکھ کر خوشی ہوتی ھے مگر پھر اسکے چہرے پر سختی آجاتی ھے ۔۔۔

آیت اس کے بدلتے تاثرات غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

وہ خود ہی بات کا آغاز کرتی ھے ۔۔۔

کیسے ہیں آپ ۔۔۔؟،،

بہت برا ۔۔۔۔

تمہاری طبعیت اب کیسی ھے ۔۔۔

اسکا چہرہ جو اسکے جواب پر مرجھا گیا تھا پھر سے کھل اٹھا ۔۔۔

اتنی گہری چوٹ تو نہیں لگی تھی جتنا تم ڈرامہ کر رہی ہوں ۔

میری فیملی تم سے ملنے کے لیئے آئی ھے اور تمہارے نخرے ہی ختم نہیں ہورہے ۔۔۔

وہ بات تو کر رہا تھا مگر اسکا ہر لفظ زہریلا تھا جو آیت کو زخمی کر رہا تھا ۔۔

اب تم رونا مت میں نے ایسا کچھ نہیں کہا زہر لگتی ہیں مجھے وہ لڑکیاں جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا شروع کردیتی ہیں ۔۔۔

آیت اپنے آنسو جلدی سے صاف کرتی ھے ۔۔۔

مگر پھر بھی آنسو بہنا شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔

حنان کو اس پر تھوڑی دیر ترس آتا ھے مگر وہ پھر سے سختی کا خول چڑھا لیتا ھے ۔۔۔

حسن صاحب ہم ڈائریکٹ نکاح والے دن ہی رخصتی چاھتے ہیں اگر آپ کو کوئی اعتراض نا ہوں تو۔۔۔۔
حنان کے پاپا ان سے کہتے ہیں

حسن صاحب فارب کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔

بھائی صاحب آپ اگر آیت کی پڑھائی کے حوالے سے پریشان ہورہے ہیں تو آپ اس بات کی فکر نا کریں وہ شادی کے بعد اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ھے ۔۔۔

ویسے بھی وہ ہماری بہو نہیں بیٹی ھے بلکل حمنا کی طرح آپ پلیز انکار مت کیجئیے ۔۔۔

حسن صاحب انکی محبت دیکھ کر ہاں کرتےہیں اور تین دن بعد سادگی سے شادی کی تاریخ رکھی جاتی ھے ۔۔۔

حمنا اور فیروزے مٹھائی لے کر ناک کرتی ہیں اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوتی ھے ۔۔

بھائی مبارک ہوں تین دن بعد آپ دونوں کی شادی ھے ۔۔۔

خیر مبارک ۔۔۔

حنان خوش ہوکر دونوں کو مٹھائی کھلاتا ھے ۔۔۔

بھائی آپ بھابھی کو مبارک باد نہیں دیں گے ۔۔۔

جسطرح میں مبارک باد دینا چاھتا ہوں تم لوگوں کے سامنے تو میں مبارک باد نہیں دے سکتا

اوکے آپ جلدی سے مبارک باد دیں نیچے سب آپ کا ویٹ کررہے ہیں ۔۔۔

حمنا اور فیروزے چلی جاتی ہیں ۔۔۔

حنان مٹھائی کا ایک ٹکرا لے کر آیت کے پاس جاتا ھے ۔۔۔

Welcome to hell
Honey

آیت تو صدمے میں ہوتی ھے وہ اسے مٹھائی کھلاتا ھے اور پھر نیچے چلا جاتا ھے ۔۔۔

آیت ساری رات روتے ہوئے گزارتی ھے ۔۔۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

ہیلو ۔۔۔۔
فارب کسی کو کال کرتا ھے ۔۔۔

میں اب اور نہیں سنبھال سکتا اب تمہیں واپس آنا ہوگا دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا گیا تھا جس پر فارب کو تھوڑا سکون ملتا ھے ۔۔۔

کیا ظہان زندہ ھے اور فارب ظہان کو کال کر رہا ھے ۔۔۔۔؟؟؟

حنان کی ناراضگی وقتی ھے یا وہ سچ میں آیت کی زندگی جہنم بنا دے گا ۔۔۔۔؟؟؟؟

 

فارب۔۔۔۔۔
جی پاپا ۔۔۔۔
وقت بہت کم ھے اور کام بہت ذیادہ بیٹا مجھے تو ٹینشن ہو رہی ھے سب کچھ کیسے ہوگا ۔۔

پاپا میں ہوں اورپھر شیری بھی تو ھے ناں ہم سب سنبھال لیں گے ۔۔۔۔

حسن ویسے ہم آپ سے بہت ناراض ہیں ۔۔۔

ارے سکندر شاہ یار شکر ھے تم آگئے وہ ایک دوسرے سے خوش ہوکر بغل گیر ہوتے ہیں ۔۔

فارب بھی ملتا ھے

ویسے فارب چلو حسن تو بھول جاتا ھے مگرتم سے امید نہیں تھی ۔۔۔

سوسوری پاپا ۔۔۔
آپ تو جانتے ہیں جب ماما میرے پاس ہوتی ہیں تو میں کم ہی کسی کو یاد کرتا ہوں ۔۔

کیوں ماما ۔۔۔

حیات بیگم ہنس کر سکندر شاہ کی طرف دیکھتی ہیں ۔۔

ہاں یہ بات تو ھے تم جب بھی میری بیگم کے پاس ہوتے ہوں وہ تو ہمیں بھی بھول جاتی ہیں ۔۔

ہاہا ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔

یہ تو آپ کی قسمت ۔۔۔

فارب اوکے ماما سوری ۔۔۔

یار مجھے تو بہت اہم کام کرنے میں تو جا رہا ہوں اب ڈنر پر ملاقات ہوگی ۔۔

اوکے ۔۔۔

آیت کہاں ھے میری پیاری بیٹی کی شادی طے ہوگئی اور ہمیں ہی بے خبر رکھا گیا ۔۔۔

لیں آگئی آپ کی بیٹی ۔۔۔

پاپا ۔۔۔۔
میں آپ کو بہت یاد کر رہی تھی

دیکھ لیں ہماری بیٹی نے یاد کیا اور ہم آگئے ۔۔۔

پھر آیت ان کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھتی ھے اور انکے کاندھے پر سر رکھتی ھے ۔۔

فارب لڑکا کیسا ھے اسے پہلے ہی بتا دینا آیت میری بہت ہی لاڈلی بیٹی ھے وہ اسے خوش رکھے اور اسکی وجہ سے اسکی آنکھوں میں کبھی آنسو نا آئے ۔۔

جی جیسے آپ کا حکم ۔۔۔

ماما آپ دیکھ رہی ہیں ابھی ہمیں طعنہ دیا جارہا تھا اور خود کتنا آیت سے پیار کرتے ہیں اور جب بھی پاپا کے پاس آیت ہوتی ھے وہ آپ کو بھی بھول جاتے ہیں ۔۔۔

ماما دیکھ لیں آپ کا بیٹا باپ بیٹی کی محبت سے جیلس ہورہے ہیں ۔۔۔۔

آیت بھی فارب کو تنگ کررہی تھی ۔۔۔۔

اچھا اچھا بہت شکایت کرلی تم دونوں نے ۔۔۔۔

فارب جو لسٹ بنا کر دی تھی وہ تمام کام آج ہوجانے چاھیے ۔۔

چلو ابھی تم جاو۔۔۔

فارب بیٹا مکرم کو بھی اپنے ساتھ رکھنا اور سیکورٹی بھی ساتھ لے کر جانا ظہان کے بعد میں دوبارہ رسک نہیں لے سکتا دشمن اب بھی گھاٹ لگائے بیٹھے ہیں ۔۔۔

سکندر شاہ اسے ہدایت کرتے ہیں ۔۔

اوکے پاپا ۔۔۔

شیری کہاں ھے بیگم ۔۔۔۔

میں یہاں ہوں پاپا ۔۔۔

ینگ مین کیسے ہوں ۔۔۔

فائن ۔۔۔

پھر سب کتنی دیر تک باتیں کرتے رہتے ہیں پھر سکندر شاہ روم میں چلے جاتے ھیں ۔۔۔

آیت کی خواہش پر سادگی سے تمام فنکشن کیے جاتے ہیں ۔

فیروزے بھی آیت کے پاس آجاتی تھی ۔۔۔

حمنا اور اسکی فیملی آیت کو شاپنگ پر لے جانا چاھتی تھی مگر آیت نے حیات بیگم کے ذریعے منا کر دیا تھا ۔

جب حنان کو اس شادی سے کوئی دلچسپی ہی نہیں میری دلچسپی سے کیا ہوجائے گا پھر چاھے ساتھ شاپنگ کریں یا نا کریں نفرت تو ختم ہوگی ہی نہیں ۔۔۔

آیت دن بعدن کمزور ہوتی جارہی تھی وہ اپنی نئی زندگی حنان کے ساتھ شروع کرنے والی تھی وہ جتنا خوش ہونے کی کوشش کرتی مگر حنان کا رویہ یاد کرکے ساری خوش اندیشوں کا شکار ہوجاتی ۔۔۔

اسکا دل چاھتا تھا کہ ایسی شادی سے انکار کردے مگر ظہان اور حورا کے بعد سب کافی عرصے بعد خوش تھے تو وہ یہ خوشی نہیں چھین سکتی تھی اس لئیے وہ خوش ہونے کی ایکٹنگ کرتی تھی ۔۔۔

کاش ظہان بھائی آپ اور حورا بھابھی ہمارے پاس ہوتی تو میں یہ رشتہ قبول ہی نا کرتی ۔۔۔

مہندی کے فنکشن میں بھی حنان لاتعلق بنا بیٹھا تھا وہ باقی سب سے ہنس کر بات کر رہا تھا مگر اسکے ساتھ کوئی بات نا کرتا اور یہی بات آیت کو اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی ۔

بس اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا آیت اٹھتی ھے اور فیروزے کو اپنے پاس بلاتی ھے سب ہی اسکے اسطرح اچانک اٹھنے پر حیران ہوجاتے ہیں ۔۔

حنان جب دیکھتا ھے سیچویشن انڈر کنٹرول نہیں ھے تووہ بھی آیت کے پاس جاتاھے اور اسکا ہاتھ تھامتا ھے ۔۔۔

Honey are you ok..??

بظاہر تو دیکھنے والوں کو بہت ہی پیار بھرا منظر لگ رہا تھا مگر یہ تو آیت جانےکی تھی کہ اس کے پکڑنے میں کتنی سختی تھی ۔

آیت بھی اسے اگنور کرتی ھے اور فیروزے کو اشارہ سے بلاتی ھے ۔۔

کیا ہوا آیت ۔۔۔۔

فیروزے میرا دم گھٹ رہا ھے اس گھوگنٹ میں پلیز مجھے میرے روم میں لے جاو ۔۔۔

مگر آیت ابھی تو مہندی بھی لگانی ھے تمہیں ۔۔۔

فیروزے پلیز روم میں لے چلو ۔۔۔

حنان جو کب سے خاموش کھڑا دونوں کی باتیں سن رہا تھا وہ خود اسکا ہاتھ تھام کر سٹیج سے نیچے اترتا ھے ۔۔۔

بانکل آنٹی اگر آپ کو اعتراض نا ہوں تو کیا میں آیت کو اسکے روم میں چھوڑ آو ۔۔۔۔

حنان کی بات سن کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی فارب نے اسکی حالت سمجھتے ہوئے اسکا ساتھ دیا پھر انکی اجازت ملنے پر حنان اسے اسکے روم کی طرف لے کر جاتا ھے ۔۔

چھوڑے میرا ہاتھ جیسے ہی وہ ڈائینگ ہال میں انٹر ہوتے ہیں آیت اس سے دور ہوتی ھے ۔

ہنی ۔۔۔۔

آیت اپنے روم میں پہنچتے ہی دروازہ بند کرنے لگتی ھے مگر حنان جیسے پہلے سے جانتا تھا وہ جلدی سے اندر آتا ھے اور پھر خود ہی روم بند کر دیتا ھے ۔

ی ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔

آیت جلدی سے دوپٹہ ہٹاتی ھے اور حنان تو آیت کے اس خوبصورت روپ میں ہی کھو جاتا ھے ۔۔۔

آپ مجھے روم تک چھوڑنے آئے تھے اب آپ کا کام ہوگیا جائیں یہاں سے ۔۔۔

وہ رخ بدلتی ھے تاکہ حنان کی گہری نظروں سے بچ سکے ۔۔

حنان تو جیسے سب کچھ بھول گیا تھا اسے بس ہنی اور اسکا خوبصورت روپ نظر آرہا تھا ۔۔

آیت تھک ہار کر نیچے بیٹھتی ھے اور پھر حنان کا سکتہ کمرے میں گونجنے والی سسکیوں سے ٹوٹتا ھے۔۔۔

ح۔۔۔۔حنان ۔۔۔۔
اور کتنی سزا دیں گے کیا میری غلطی اتنی بڑی تھی ۔

مجھے نہیں پتا ہنی اگر تم تکلیف میں ہوں تو اذیت میں بھی ہوں ۔۔۔

کاش تم اس دن وہ بات نا کہتی کاش ۔۔۔

ہنی کیا میں تمہیں غلط ارادے سے ہاتھ لگایا تھا تمہیں یاد ھے جب میں پہلی بار تمہارے پاس آیا تھا میں نے تب ہی تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں تب تک نہیں چھو سکتا جب تک ہمارا نکاح نہیں ہوجاتا ۔۔۔

آیت کو اپنی پہلی ملاقات یاد آرہی تھی اور حنان کے کہہ گئے الفاظ بھی ۔۔۔

پھر تم کیسے کہہ سکتی ہوں کہ تمہیں مجھ سے ڈر لگ رہا بے اور میں کچھ غلط نا کر بیٹھو ۔۔

ہنی تم میری عزت تھی اور میں اپنی عزت کے ساتھ کبھی بھی غلط نہیں کرسکتا تھا۔۔۔

مطلب حنان آپ مجھے معاف نہیں کریں گے ٹھیک ھے پھر یہ شادی کرنے کا کیا فائدہ جب آپ مجھ سے نفرت کرنے لگے ہیں تو پھر آپ کی نفرت سہنے سے بہتر ھے میں آپ سے دور ہوجاو ۔۔۔

میں ابھی اور اسی وقت شادی سے انکار کرتی ہوں ۔۔۔

حنان جو اسے معاف کرنے کا سوچ رہا تھا تاکہ خود کو اور اسے اذیت سے نجات دے سکے وہ پھر سے جنونی ہو جاتا ھے ۔۔۔

وہ اسکے بازو اتنے زور سے پکڑتا ھے کہ آیت کی چیخ نکل جاتی ھے ۔۔۔

تم کیا کھیل سمجھ رکھا جب دل چاہےہاں کر دی جب دل چاہ انکار کردیا ۔۔۔

نہیں اب اور نہیں اب شادی تو تمہیں کرنی پڑے گی چاھے اس شادی کے بعد تم مر بھی جاو تو بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔

اب بات عزت کی ھے اور میں نہیں چاھتا تمہاری بے وقوفی کی وجہ سے میں سب کو دکھ نہیں دوں گا ۔۔۔

آیت بےبی ۔۔۔۔۔
شادی تو تمہیں کرنی ہی پڑھے گی ۔۔۔

سن رہی ہوں تم ۔۔۔

وہ اسے بیڈ پر زور سے دھکیلتا ھے اور پھر اسے روتا ہوا چھوڑ کر چلا جاتا ھے ۔۔۔۔

حنان کمرے سے باہر نکل کر اپنے غصے کو کنٹرول کرتا ھے اور پھر مسکراتے ہوئے سٹیج کی طرف جاتا ھے ۔۔۔

حنان بھائی بہت دیر کردی ۔۔۔

حمنا اسے تنگ کررہی تھی اور پھر ہنستے مسکراتے مہندی کا فنکشن ختم ہوتا ھے ۔۔

آیت مہندی لگوانے کیلیے بیٹھی ہوتی ھے تب ہی فارب اور شیری اسکے پاس بیٹھتے ہیں ۔۔۔

فارب اسکے ماتھے پر پیار کرتاھے ۔۔۔

میری گڑیا خوش تو ھے ناں ۔۔۔

جی بھائی ۔۔۔

آیت ہم تمہیں بہت مس کریں گے

شیری اسے بولتا ھے ۔۔

ہہم میں بھی آپ دونوں کو بہت مس کرو گی شیری اور آپ کو بھائی کتنا تنگ کرتی تھی ۔۔

ہاں یہ تو تمہاری اور شیری کی شرارتیں بہت یاد آئے گی ۔۔

آیت تمہارے جانے کے بعد فارب برو کو میں کیسے تنگ کرو گا۔۔

گھر تو سونا ہوجائے گا ۔۔۔

فارب برو کی شادی کروا دیں گے پھر بھابھی آجائیں گی تو تم بھابھی کے ساتھ مل کر انہیں تنگ کرنا ۔۔۔

ہہم یہ اچھا آئیڈیا ھے۔۔۔

مطلب مجھے سکھ نہیں ملے گا ۔۔۔

فارب معصوم سی شکل بناتا ھے ۔۔۔

آیت اور شیری بہت ہنستے ہیں ۔

میں نے تو بھابھی بھی ڈھونڈ لی ھے ۔۔۔۔

فیروزے ھے وہ آیت اور شیری ایک ساتھ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔

میں بھی یہی سوچ رہا تھا تم نے تو میرے دل کی بات کہہ دی شیری خوش ہوکر کہتا ھے ۔۔

فارب بھی مسکرا رہا تھا ۔۔۔

کیا وہ قبضہ کرنے والی چڑیل سے میری شادی کرواو گی ۔۔۔

بھائی ۔۔۔۔۔

اوکے اوکے سوری ۔۔۔۔

ویسے آپ بنے مت میں اچھی طرح سے جانتا ہوں آپ فیروزے سس کو بہت پسند کرتے ہیں ۔۔۔

رئیلی ۔۔۔۔۔

آیت اس سے پوچھتی ھے ۔۔

تم اسکی باتوں میں مت آو شیری تو بس ایسے ہی کہہ رہا ھے وہ بس اچھی لڑکی ھے ۔۔۔

اچھی مطلب پیاری
پیاری مطلب بہت زیادہ پیاری ۔۔۔

کیوں شیری ۔۔۔۔

اور پھر تینوں ہی ہنستے ہیں ۔۔۔

بھائی مجھے بہت بھوک لگ رہی ھے آپ کے ہاتھ کے نوڈلز کھانے ہیں ۔۔۔

اوکے ابھی بنا کر لاتا ہوں جب تک تم اور شیری باتیں کرو ۔۔۔

فارب کچن میں جاتا ھے ۔۔۔

آیت تم خوش تو ہونا حنان بھائی کیسے ہیں ۔۔۔

آیت حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھتی ھے ۔۔۔

آیت وہ جب تمہیں روم میں لے کر آئے تھے تو ایسی کونسی بات ہوئی تھی ۔۔۔

ک ۔۔کچھ بھی تو نہیں شیری ۔۔۔

حنان بہت اچھے ہیں ۔۔

تم کہہ رہی ہوں تو مان لیتا ہوں ۔۔

آیت کبھی بھی کوئی بھی بات پریشان کرے تو تم مجھے
بتا سکتی ہوں ۔۔۔

شیری میں سب سے پہلے تمہیں ہی بتاو گی اور پھر وہ اسکے کاندھے پر سر رکھتی ھے ۔۔۔

تمہیں پتا ھے میں ابھی تمہاری شادی کے حق میں نہیں تھا مگر ہاپا اور فارب برو کی وجہ سے چپ ہوگیا حنان مجھے کچھ عجیب سا لگا ھے ۔۔۔

شیری ایسا کچھ نہیں ھے تم پریشان مت ہوں اور پھر وہی شیری کے کاندھے پر ہی اسے نیند آجاتی ھے

شیری آہستہ سے اسکا سر تکیے پر رکھتا ھے ۔

فارب بھی روم میں آتا ھے شیری ۔۔۔۔

شش ۔۔۔
بھائی آہستہ بولیں آیت سو رہی ھے ۔۔

سو گئیں نوڈلز بھی نہیں کھائے ۔۔

پھر دونوں بھائی اسکے سر پر پیار کرتے ہیں اور روم سے چلیں جاتے ہیں ۔۔

اب نوڈلز کون کھائے گا۔۔۔؟؟،

برو اداس کیوں ہورہے ہیں میں ہوں ناں اکٹھے کھائیں گے ۔۔

فارب کے روم میں بیٹھ کر وہ باتیں کرتے ہیں اور نوڈلز کھاتے ہیں ۔۔۔

برو ۔۔۔۔
آیت بھی چلی جائے گی ۔۔

حورا سس کی بہت یاد آتی ھے بھائی کچھ کریں ۔۔۔۔

شیری بہت رو رہا تھا اور فارب سے آسکی حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی ۔۔

برو مجھے حورا سس پر جب گولی لگی تھی وہ منظر وہ دردناک منظر بار بار یاد آتا ھے ۔۔۔

شیری پھر سے پینک یورہا تھا ۔۔

شیری ریلیکس کچھ نہیں ہوا ۔۔

چلو آج تم میرے پاس سو جاو اور ویسے بھی آیت کی رخصتی والے دن تمہیں دو سرپرائز ملیں گے اب خوش ہوجاو ۔۔۔۔

Really Bro
Are you sure Farib BrO….???

Yes shery I’m 100% sure..😍

Ok then can’t wait fir the surprise 🤗

شیری خوش ہوکر فارب سے کہتا ھے
اور فارب شیری کو خوش دیکھ کر ریلیکس فیل کرتا ھے ۔۔۔۔

تو اب شیری کو کیا سرپرائز ملے گا آیت کی رخصتی والے دن ۔۔۔۔۔؟؟؟

ہاں جی کیسی لگی ایپی ۔۔۔۔؟
اپنے رویوز شئیر کریں اینڈ اچھا رسپانس دیں ویسے بھی سیزن ون اینڈ ہونے والا ھے 😇

 

Ayat Hnaan Nikha Special

سکندر شاہ کو کال آتی ھے کال کرنے والا پتا نہیں کیا کہتا ھے مگر انکی خوشی دیکھنے کے قابل تھی ۔۔۔۔

کیا بات ھے۔۔۔۔شاہ جی اکیلے مسکرایا جا رہا ھے؟

کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔

میں دیکھ رہی ہوں آپ کی حرکتیں مشکوک ہوتی جارہی ہیں ۔۔

ماما ۔۔۔۔۔

شکر ھے شیری تم آگئے ۔۔۔۔

کیا ہوا ھے ماما ۔۔۔۔؟؟؟

یار کچھ بھی نہیں ہوا آپ کی ماما مجھ پر شک کررہی تھی ۔۔

ماما۔۔۔۔۔
میرے پاپا اتنے معصوم ہیں آپ ان پر شک کرکے بلکل ۔۔۔۔صحیح مطلب غلط کر رہی تھی ۔۔

شیری کی وجہ سے آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گی وہ بھی صرف آج مگر آپ کو مجھے بتانا ہوگا کر کیا رہے ہیں آپ ۔۔۔

یہ تو فارب نے آپ کی مشکوک سرگرمیوں کی طرف توجہ دلوائی ورنہ تو میں بے خبر تھی ۔۔۔

حد ھے بیگم فارب تو ایسے کہہ دیتا ھے اور آپ اسکی باتوں میں آجاتی ہیں ۔۔۔

سکندر شاہ ناراض ہوکر چلے جاتے ہیں

ماما آپ نے انہیں ناراض کر دیا شیری تم ٹینشن نا لو کچھ دیر بعد خود ہی مجھے منانے آئیں گے وہ مجھ سے ناراض نہیں رہ سکتے ۔۔

اچھا تم بتاو کیوں بلا رہے تھے وہ ماما میرا ڈریس نہیں مل رہا تھاآپ ڈھونڈ دیں پلیز ۔۔۔

تم چلو میں ابھی آرہی ہوں ۔۔

آیت کا ڈریس اسکے سسرال والوں نے بجھوا دیا تھا اور بیوٹیشن بھی آچکی تھی شیری ذرا آیت کو دیکھ آو اور فیروزے کو بھی کال کرکے پوچھو کہاں رہ گئی میں نے اسے کہا بھی تھا جلدی آئیں ۔۔

شیری ۔۔۔۔۔
شیری ۔۔۔۔

لیں ماما آگئی آپ کی ہونے والی بہو ۔۔۔

ہم یہاں ہیں فیروزے ۔۔۔

آنٹی سوری تھوڑا سا لیٹ ہوگئی ۔۔

کوئی بات نہیں بہت پیاری لگ رہی ہوں جی ماما آج تو فیروزے سس بہت بہت خوبصورت لگ رہی ہیں ایک دم دلہن کی طرح

تھینکس ۔۔۔

آیت کہاں ھے ۔۔۔

آپ کا ویٹ کررہی تھی اچھا میں اسکے روم میں جارہی ہوں ۔۔

چلو شیری تم بھی تیار ہوجاو ماما میرا ڈریس ۔۔۔۔۔

آرہی ہوں ڈھونڈ کر دیتی ہوں ۔۔جب تک تم فریش ہوجاو

فیروزے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ خود سے باتیں بھی کرتی جا رہی تھی اف ممی کوپتا نہیں کیا ہوگیا تھا مجھے اتنا ہیوی ڈریس پہنا دیا مجھ سے تو چلا بھی نہیں جارہا وہ بے دھیانی سے چل رہی تھی کہ اسکا پاوں غلط سیڑھی پر پڑا اس سے پہلے وہ گرتی کسی نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔۔

دھیان کہا ھے تمہارا اگر تم گر جاتی تو میرا کیا ہوتا ۔۔۔

ف فارب ۔ ۔۔۔۔۔
وہ جو غصے سے فیروزے کو ڈانٹنے لگتا ھے کہ اسکا دلہن جیسا سراپا دیکھ کر فیروزے کے حسن میں قید ہوجاتا ھے

تو فیروزے اسے خود سے دور کرتی ھے

بہت پیاری لگ رہی ہوں بلکل دلہن کی طرح ۔۔۔

وہ جلدی سے دور ہوتی ھے مگر پھر سے گرنے لگتی ھے ۔۔۔

تم کیوں آج میری جان لینے پر تلی ہوئی ہوں ۔۔۔

ک ۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔

چھوڑو تمہارے چھوٹے سے دماغ کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی ۔۔۔

پھر فارب اسکا ہاتھ تھام کر آیت کے روم کے پاس لے کرجاتا ھے ۔۔۔

میں ساری زندگی ایسے ہی تمہارا ہاتھ تھامنا چاھتا ہوں فارب اسکے ماتھے پر کس کرتا ھے سب اتنا اچانک ہوتا ھے کہ فیروزے کچھ کہہ نہیں سکتی ۔۔وہ اسے حیران چھوڑ کر چلا جاتا ھے ۔

ہونہہ جلاد کو آج کیا ہوگیا ھےمجھے کیا ۔۔۔۔

آیت ۔۔۔۔
اسے بیوٹیشن تقریبا تیار کر چکی تھی اس کے جانے کے بعد فیروزے اسکے پاس جاتی ھے ۔۔

ماشااللہ آیت بہت بہت بہت بہت بہت بہت بہت پیاری لگ رہی ہوں آج تو حنان بھائی تمہیں بس دیکھتے رہیں گے ۔۔

حنان کے ذکر پر اسکے چہرے پر تلخ مسکراہٹ آجاتی ھے جو فیروزے کی نگاہوں سے چھپ نہیں سکی ۔۔

ادھر بیٹھو ۔۔۔۔

اب بتاو مجھے کیا ہوا تم اتنی اداس کیوں ہوں آج تمہارا نکاح ھے اور تمہارے چہرے پر کوئی خوشی نہیں دکھ رہی اس دن بھی میں چپ کر گئی تھی مگر آج میں جان کر رہوں گی ۔۔

ہنی ہمارے بیچ ہونے والی کوئی بھی بات تم کسی کو نہیں بتاو گی ۔۔۔۔

آیت کہاں کھو گئ ۔۔۔

ہاں نہیں کہیں نہیں ۔۔
میں نے کچھ پوچھا ھے تم سے حنان بھائی نے کچھ کہا ھے تم سے مجھے بتاو میں ابھی خبر لیتی ہوں ان کی ۔۔۔۔

کچھ بھی نہیں کہاں انہوں نے میں بس ظہان بھائی اور حورا بھابھی کو یاد کر رہی تھی بس اس لیئے اداس ہوں ۔۔

ہاں بجو کی تو مجھے بھی بہت یاد آتی ھے کتنا مزا آتا تھا انہیں تنگ کرکے تمہیں پتا ھے آیت اب تو پاپا اتنا خاموش پڑتے ہیں اگر کوئی بات کرے تو جواب دیتے ہیں ورنہ ہر وقت خاموش رہتے ہیں گھر میں اب تو خاموشی کا راج ہوتا ھے ۔

فارب برو اور میں نے کسی حد تک خود کو سنبھال لیا ھے مگر شیری نہیں سنبھل پا رہا ہم سے فیروزے میں شیری کے لئیے بہت پریشان ہوں ۔۔

کون کس کے لئیے پریشان ہو رہا ھے ۔۔۔

بھائی ۔۔۔
فیروزے نامحسوس انداز میں اٹھ جاتی ھے آیت فارب کے گلے لگی ہوئی تھی فارب نے فیروزے کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا تھا ۔۔

بھائی مجھے آپ سب کی بہت یاد آئے گی ۔۔۔

شش آیت تمہیں جب بھی ہماری یاد آئے مجھے ایک کال کرنا میں بھاگتا ہوا تمہارے پاس آو گا ۔۔

فیروزے بھی رو رہی تھی پھر وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر جلدی سے چلی جاتی ھے مگر فارب چونکہ اسے روتا ہوا دیکھ چکا تھا وہ بے چین ہوگیا تھا ۔۔۔

آیت ادھر دیکھو میری طرف چلو شاباش چپ کرو اگر تم اسی طرح روتی رہی تو میں بارات واپس بھیج دوں گا کیونکہ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا ۔۔

وہ جلدی سے چپ ہوجاتی ھے

That’s like my preety doll

ہمیشہ ایسے ہی مسکراتی رہو ۔۔

برو ۔۔۔۔
بارات آگئی ھے اور آپ یہاں ہیں چلیں انکا ویلکم کریں جب تک میں اپنی کیوٹ سی بہن سے باتیں کرلو ۔۔۔

فارب جیسے ہی کمرے سے باہر آتا ھے اسے فیروزے ایک کونے میں اداس کھڑی ہوئی نظر آتی ھے وہ جلدی سے اسکے پاس جاتا ھے اور ساتھ والے روم میں داخل ہوکر دراوازہ بند کردیتا ھے ۔۔

جلاد یہ کیا کررہے ہوں ۔۔۔
کچھ نہیں تم بتاو تم کیوں رو رہی تھی ۔۔۔

میری مرضی میں رو یا ہنسو تمہیں اس سے کیا۔۔۔

وہ اسے کھینچتا ھے اور اسکے گرد اپنی باہوں کا حصار بنا دیتا ھے ۔۔

تمہارے رونے سے بہت فرق پڑتا ھے میں تمہیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا وہ اسکے کان میں سرگوشی کررہا تھا اور فیروزے بھی اسکے الفاظوں کے جادو میں کھو رہی تھی ۔۔۔

وہ پھر سے رونا شروع کردیتی ھے ۔۔۔

فیروزے کیا بات ھے کیوں بار بار رو رہی ہوں پلیز رونا بند کرو۔۔

ای۔۔۔ایک شرط پر رونا بند کرو گی ۔۔۔

مجھے تمہاری ہر شرط منظور ھے ۔۔

سوچ لیں بعد میں مکر مت جانا ۔۔

سوچ لیا ۔۔۔

میں آپ سے شادی تب تک نہیں کروگی جب تک بجو اور ظہان بھائی واپس نہیں آجاتے ۔۔۔

مگر ۔۔۔۔

فیروزے اس سے دور ہوتی ھے مجھے پہلے ہی پتا تھا آپ مکر جائیں گے مگر میں بھی فیروزے ہوں آپ سے تب تک شادی نہیں کرو گی جب تک ۔۔۔۔

اوکے اوکے مائی لو وہ اسے واپس اپنے قریب کرتا ھے
مجھے تمہاری شرط منظور ھے ۔۔۔

ہائے آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔۔

فارب اسے خوش دیکھ کر ہاں میں سر ہلاتا ھے وہ خوشی
سے اسکے گلے لگتی ھے

Faraib you are soooo Sweet 😘

اچھا مجھے تو کوئی جلاد کہتا ھے ۔

سوری مگر آپ سچ میں کبھی کبھی جلاد لگتے ہیں ۔۔

وہ اسے گھورتا ھے اور پھر دونوں ہی ہنستے ہیں

چلو جلدی سے اپنا کاجل ٹھیک کرو

کیا ہوا ھے میرے کاجل کو وہ اسکا رخ آئینے کی طرف کرتا ھے

Oooo God

یہ میں ہوں رونے کی وجہ سے اسکے چہرے پر کالی لکیریں بنی ہوئی تھی وہ چڑیل لگ رہی تھی مگر بہت خوبصورت چڑیل
اف میں کتنی بری لگ رہی ہوں

تم بہت پیاری لگ رہی ہوں ۔۔

ہیں ۔۔۔آپ کا دماغ تو نہیں چل گیا ۔۔

اس میں دماغ چلنے والی کیا بات ھے تم مجھے ہر روپ میں اچھی لگتی ہوں ۔جلدی سے اپنا میک اپ درست کرو اور باہر آو بارات آگئی ھے ۔

فارب آپ بہت اچھے ہیں مگر میں اپنے سٹرینجر کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتی تب ہی کمرے کی لائٹس آف ہوتی ہیں
وہ گبھرا رہی تھی کیونکہ اندھیرے میں اسکا دم گھٹتا تھا ۔۔

وہ خوف سے بے ہوش ہوتی تب وہ کسی کی باہوں میں تھی ۔۔

Kizlarim
( my girl)

جن شکر ھے تم آگئے م۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا پلیز دور مت جانا

وہ فیروزے کو جھٹکے سے خود سے دور کرتا ھے ۔۔۔

Mantene alejado ‘
( stay away)’

Solo mantene alejado ‘
( just stay away)’

Me alejaste d ti ‘
( you took me away from you)’

لیکن پھر وہ اسے

فیروزے کی لینگویج یعنی اردو میں بات کرتا ھے ۔۔۔۔

دور ۔۔۔۔
تم نے مجھے خود سے بہت دور کردیا ھے اور اب کس حق سے پاس رہنے کا کہہ رہی ہو ۔۔

ج۔۔۔۔جن

تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا مجھ سے دور جانے کی بات مت کرنا میں مر جاو گا مگر تم نے میری بات کو یہ کہہ کر جھٹلا دیا کسی کے دور ہونے سے کوئی نہیں مرتا ۔۔

آج میں تم سے آخری بار ملنے آیا تھا اور یہ دیکھانے آیا تھا کہ تمہاری دوری نے میرا کیا حال کردیا ۔۔۔

جج جن”
پلیز ای۔۔۔ایسا مت کہو تمہیں کچھ نہیں ہوگا فیروزے اندھیرے میں اسکی آواز کئ سمت بڑھتی ھے اور وہاں پہنچتی ھے جہاں وہ نیچے بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔

ج۔۔۔جن ۔۔۔

Kizlarim
( my girl ) ‘

Mi Amor por favor cambia tu decision ‘

(My love Please change your descion )’

Por favor’
( please)’

م۔۔۔میں ایسا نہیں کرسکتی تم نے بہت دیر کردی ۔۔۔

اب کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔
مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا فیروزے تم سے پیار کرتی تھی اور کرتی رہے گی وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیتی ھے اور پھر اسکے ماتھے پر کس کرتی ھے ۔۔

Por favor no hagas esto ‘
( please don’t do this)’

ٹھیک ھے جب تم نے میری بات ماننی ہی نہیں تو یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ ۔۔۔ پھر وہ غصے سے فیروزے کو روتے ہوئے چلا جاتا ھے اور اسکے جاتے ہی لائٹس آن ہوجاتی ہیں ۔۔

فیروزے کتنی دیر روتی رہتی ھے آخر تھک ہار کر وہ خودکو سنبھالتی ھے اور پھر باہر چلی جاتی ھے ۔۔

ادھر آیت کو کسی کا بے صبری سے انتظار تھا وہ کسی کو میسج کرتئ ھے اور اسے یقین تھا اسکی دھمکی کام کرے گی ۔۔

ہہم آیت تو آج تمہارا نکاح ھے ان لمحوں کو جی بھر کر جیو اسکی مسکراہٹ زندگی سے بھرپور تھی ۔۔۔۔

فیروزے ، حمنا اور میرا اسے لینے کے لئیے آتی ہیں مگر وہ جانے سے انکار کردیتی ھے ۔۔

آیت ۔۔۔۔

مجھے اپنے پاپا اور بھائیوں کے ساتھ جانا ھے تو تم سب جاسکتے ہوں ۔۔۔

وہ آیت کی بات پر مسکراتی ہیں اور نیچے اسکی فرمائش بتانے جاتی ہیں حمنا اور میرا اور فیروزے پھر حنان بھائی کے ساتھ ہوجاتی ہیں ۔۔۔

حنان اپنی تینوں بہنوں کے ساتھ انٹر ہوتا ھے ہر کوئی انکے لئیے تالیاں بجا رہے تھے کیونکہ انکی انٹری دھماکے دار تھی

کچھ دیر بعد آیت سٹیج کی طرف آتی ھے اس نے سکندر شاہ اور حسن صاحب کے باذو میں اپنا بازو ڈال رکھا تھا جب کے شیری اور فارب دائیں بائیں تھے

اب کیمروں کا رخ لڑکی کہ انٹری پر تھا اب تو ہر طرف تالیوں کے ساتھ ساتھ سیٹیاں بجائی جارہی تھی ۔۔۔

حنان بھی خوش ہوکر گھوگنٹ میں چھپی اپنی ہنی کو دیکھ رہا تھا

بھابھی کی پارٹی ذیادہ دمدار ھے آپ کا تو اللہ ہی حافظ ھے ۔۔۔

حمنا اور فیروزے اسے وارن کر رہی تھی مگر وہ بس مسکرائے جا رہا تھا

لگتا ھے خوشی نے انکے دماغ پر گہرا اثر ڈالا ھے

آیت سٹیج کے قریب پہنچتی ھے تب ہی سکندر شاہ کے اشارے پر سب خاموش ہوجاتے ہیں ۔۔

حنان بھی کھڑا ہوتا ھے اور آیت کے پاس جاتا ھے ۔۔۔

انکل میں جانتا ہوں آپ کیا وعدہ لینا چاھتے ہیں تو آپ کے کہنے سے پہلے ہی میں آپ کی ہر بات ماننے کی حامی بھرتا ہوں اور آیت کو ہمشیہ جب تک زندہ رہوں گا خوش رکھنے کا وعدہ کرتا ہوں ۔

اسکی بات سن کر سکندر شاہ کے ساتھ ساتھ حسن صاحب اور باقی سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی ۔۔

اب آپ کی اجازت ہوتو کیا میں ہاتھ تھام سکتا ہوں وہ سکندر شاہ سے اجازت مانگتا ھے پھر انکے سر ہلانے پر آیت کی طرف ہاتھ بڑھاتا ھے

وہ انکی طرف دیکھتی ھے اور پھر انکے مطلب شیری فارب اور حسن صاحب اورسکندر شاہ کی اجازت پر اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیتی ھے ۔۔۔

پھر وہ حنان کے ساتھ بیٹھتی ھے

ہنی ۔۔۔۔

آیت اسے ان سنا کردیتی ھے ۔۔

ہنی ۔۔۔۔

حنان پلیز اس وقت میں آپ کی کوئی بھی طعنے والی باتیں نہیں سننا چاھتی آپ کی وجہ سے میں انجوائے نہیں کرسکتی پلیز آج کے دن تو مجھے خوش ہونے دیں پھر تو زندگی ویسے بھی جہنم ہونے والی ھے ۔۔
نا چاھتے ہوئے بھی آیت کا لہجہ تلخ ہوگیا تھا ۔۔

حنان جو اسکی تعریف کرنا چاھتا تھا وہ اسکی بات سن کر سنجیدہ ہوجاتا ھے

لو برڈز باقی باتیں بعد میں کر لیجیئے گا فلحال آیت کو آپ سے دور لے کر جارہے ہیں تاکہ نکاح کی رسم شروع کرسکیں

اف ظالم سماج ۔۔۔

تو بھائی اجازت ھے ۔۔۔۔

پھر ان دونوں کے درمیان جالی دار پردہ ڈال دیا جاتا ھے ۔۔

مولوی صاحب نکاح کی رسم شروع کرتے ہیں جب آیت کو جواب دینا ہوتا ھے تو وہ خاموش بیٹھی رہتی ھے حیات بیگم اسکے پاس جاتی ہیں اسکے سر پر ہاتھ رکھتی ہیں کہ وہ جواب دے مگر وہ کچھ نہیں بولتی ۔۔۔۔

حنان کی تو جان پر بن آئی تھی میں تو اسے بس تھوڑا سا تنگ کر رہا تھا یہ تو سیریس ہوگئی آیت پلیز انکار مت کرنا بس نکاح ہوجائے میں تم سے سوری کرو گا وہ دل ہی دل میں دعا مانگ رہا تھا اور اس وقت شدت سے اسے اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا ۔

مولوی صاحب ایک بار پھر پوچھتے ہیں مگر وہ خاموش رہتی ھے ۔۔۔

فارب اور باقی گھر والے بھی پریشان تھے سوائے سکندر شاہ کے ۔۔۔۔

وہ آخری بار پوچھتے ہیں اور آیت آنکھیں بند کرکے کسی کے آنے کی دعا مانگتی ھے اور یہی وقت قبولیت کا تھا ۔۔۔

Ayat My preety doll
Say yes……

پھر جسکا آیت کو بے صبری سے انتظار تھا وہ آگیا تھا

وہ خوشی سے آنکھیں کھولتی ھے اور آنے والے کا ہاتھ تھامتی ھے ۔۔۔

قبول ھے
وہ تین بار کہتی ھے اور حنان بھی کہتا ھے اور اسطرح آیت ہمیشہ کے لئیے حنان کی ہوجاتی ھے پھر نکاح نامے پر دستخط کیے جاتے ہیں ۔۔۔

آیت جلدی سے گھوگنٹ اٹھاتی اور ظہان کے گلے لگتی ھے ۔۔۔

ظہان بھائی مجھے پورا یقین تھاآپ ضرور آئیں گے بھائی میں نے آپ کو بہت یاد کیا ظہان بھی اسکے سر پر پیار کرتا ھے اور اسکی آنکھوں میں بھی آنسو تھے ڈیڑھ سال کا عرصہ کافی لمبا عرصہ تھا وہ اتنے عرصے تک اپنی فیملی سے دور رہا تھا ۔۔

میری کیوٹ سی بہن کی شادی تھی اور میں نا آو ایسا ہوسکتا تھا ۔۔۔

آیت کتنی دیر اسکے گلے لگی رہتی ھے ۔۔۔

اب بس بھی کرو آیت ہمیں بھی ملنے دو شیری جھنجلا کر کہتا ھے۔۔۔۔

ظہان اسے اپنی طرف بلاتا ھے اور اب دونوں ہی اسکے گلے لگے ہوئے تھے وہ شیری کو پیار کررہا تھا اس خوبصورت منظر کو دیکھ کر سب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے تھے فیروزے بھی خوش ہوکر دیکھ رہی تھی اور فارب فیروزے اور باقی سب کو دیکھ کر خوش ہورہا تھا ۔۔۔

چلو تم دونوں دور ہوجاو میرے بھائی سے فیروزے زبردستی ان دونوں کو الگ کرتی ھے شیری اور آیت غصہ سے اسکی طرف دیکھتے ہیں

کیا ایسے کیا دیکھ رہے ہوں ظہان بھائی صرف اور صرف میرے بھائی ہیں تو دور رہو ان سے ۔۔۔

قبضہ کرنے والی چڑیل ۔۔۔۔۔

آیت اور شیری بیک وقت کہتے ہیں اور پھر سب ہی ہنسنے لگ جاتے ھیں ۔

فیروزے بھی ظہان کے گلے لگتی ھے بھائی بہت مس کیا آپ کو آپ نے تو ایک بار بھی کال نہیں کی جائیں میں آپ سے ناراض ہوں وہ منہ پھلا کر ظہان سے دور ہو جاتی ھے ۔۔۔

اچھا سوری ناں فیروزے ۔۔۔

اوکے جب تم میری بات ہی نہیں سن رہی تو میں جارہا ہوں ۔۔۔

ارے ارے بھائی میں تو مذاق کر رہی تھی ۔۔۔۔

اچھا جگر رہنے دے فارب بھی اسے ملتا ھے پھر ظہان اپنی مماجانی کے پاس جاتا ھے وہ اسے بےتحاشہ پیار کررہی تھی ظہان میری جان میری تو آنکھیں ترس گئی تھی شکر ھے
آج تمہیں دیکھ لیا ۔۔۔

ویسے کیسا لگا سرپرائز ۔۔۔

مماجانی فارب اور بابا سائیں کو پتاتھا کہ میں آرہا ہوں انہوں نے نہیں بتایا ۔۔۔

جگر میں اور پاپا سب کو سرپرائز دینا چاھتے تھے اس لیئے کسی کو نہیں بتایا۔۔

ظہان حورا کی ممی اور پاپا سے ملتاھے اور پھر حنان سے ملتا ھے اور اسے مبارک باد دیتا ھے

ویسے سالے صاحب شکر ھے آپ وقت پر آگئے ورنہ مجھے تو آج ہارٹ اٹیک آجاتا ۔ ۔

اللہ نا کرے آیت جلدی سے بولتی ھے اور اسکی بات سب نے باخوبی سن لی تھی اور سب اوووو کہتے ہیں پھر آیت اور حنان کو ایک ساتھ بٹھایا جاتا ھے ۔۔۔

برو آپ نے دو سرپرائز کا کہا تھا یہ تو ایک سرپرائز ہوا دوسرا کہاں ھے ۔۔۔۔

ظہان بولتا ھے دوسرا سرپرائز فارب اور فیروزے کا نکاح ھے ۔۔

کیا سچ میں فیروزے میری بھابھی بنے گی آیت خوشی سے کہتی ھے

فیروزے تو اس اچانک ہونےوالے فیصلے پر مسکرا بھی نہیں سکی او تو ممی نے اس لئیے یہ ڈریس پہنایا تھا وہ خفا نظروں سے رخسانہ بیگم اور فارب کی طرف دیکھتی ھے دونوں ہی اسکے پاس جاتے ہیں

فیروزے
ظہان آگیا ھے تو صرف نکاح ہوگا رخصتی حورا کے آنے کے بعد ہوگی ۔۔۔

مگر ممی ۔۔۔۔
فیروزے کوئی بحث نہیں ۔۔

فارب مسکرا رہا تھا ۔۔۔

اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: