The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 35

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 35

–**–**–

 

اف ممی آج تو میں کافی تھک گئی ۔۔۔۔

uffffffffff…...
I’m so tired….

ہاں بیٹا تھک تو میں بھی گئی پر میری ساری تھکن ظہان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اتر گئی ۔۔۔۔

میری ان بے چین آنکھوں کو جیسے قرار مل گیا ۔۔۔۔

تم جانتی ہو فیروزے پورے ڈیڑھ سال بعد میں اپنے بیٹے اپنے ظہان سے ملی تو آنکھوں کو سکون ہی مل گیا ۔۔۔

بس اب وہ میری حورا میری آنکھوں کی ٹھنڈک کو بھی جلد سے جلد لے آئے ۔۔۔۔

Yes momy…

My darling you are absolutely right…

I’m also miss my cutest sis Horra so much…..

ممی ۔۔۔

آپکو معلوم نہیں میں نے حورا اور ظہان برو کو کتنا مس کیا اور فائنلی ہم سب کی دعائیں قبول ہوئیں اور انشااللہ بہت جلد حورا سس اور ظہان برو ہمارے ساتھ ہم سب کے پاس ہونگے ۔۔۔۔

انشااللہ ۔۔۔۔
میرا بچہ مجھے اپنے پاک پروردگار پر بھروسہ ھے بہت جلد ہمارے پاس ہماری خوشیاں واپس آئیں گی ۔۔۔

Ok mommy now i want to sleep….

So

Gd ni8 darling 😘

اور یہ کیا رخسانہ بیگم آج کافی ٹائم بعد پھر سے فیروزے کے ڈارلنگ کہنے پر آنکھیں دکھاتی ہیں ۔۔۔

اور فیروزے ہنستے ہوئے اپنے بیڈ روم سونے چلی جاتی ھے ۔۔۔

اور رخسانہ بیگم بھی آج کافی عرصے بعد خوش ہوئیں شاید وجہ ظہان حیدر شاہ تھا ۔۔۔۔

رات کا نا جانے کونسا پہر تھا جب فیروزے نیند کی وادیوں میں کھوئی ہوتی ھے اور کوئی بہت محویت سے اسکے ایک ایک موومنٹ کو دیکھ رہا تھا خیر یہ تو اسکا ہر روز کا کام نہیں نہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ

فیروزے کو تکنا ۔۔۔۔

اسے نہارنا ۔۔۔۔

اسے آنکھوں کے رستے دل میں اتارنا ۔۔۔۔

اسے کئی کئی پل تکتے رہنا ۔ ۔۔

اسے پاگلوں کی طرح دیکھنا اور اب تو کچھ دنوں سے نہیں بلکہ جب سے فیروزے نے اس سٹرینجر سے اظہار محبت کیا تھا وہ تو پھولے نہیں سما رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فیروزے کو سب سے چرا کے کہیں دور بہت دور لے جائے جہاں صرف فیروزے اور اسکا ڈئیر جن ہو ۔۔۔۔

جہاں وہ دونوں اپنی زندگی کے حسین پل ایک ساتھ ایک جان ہوکر اینجوائے کر سکیں ۔۔۔

جہاں کہیں بہت دور خوبصورت سے گھر میں انکا بسر ہو ۔۔۔

جہاں وہ دونوں خوشی کے پل ایک ساتھ ایک دوسرے کو پیار و محبت و عقیدت سے ایک دوسرے میں گم ہوتے ہوئے گزاریں ۔۔۔۔۔

جہاں انکے پیارے سے آشنے میں انکی محبت کی نشانیاں ان دونوں کے سنگ ہنسی خوشی رہیں ۔۔۔۔

جہاں انکی خوشیوں کی دنیا قائم ہو ۔۔۔

جہاں وہ اور اسکی کیزلریم بوڑھے ہوکر خوبصورت وادی میں خوبصورت مناظر کو دیکھتے ہوئے اپنی باقی کی زندگی اپنی محبت کی نشانیوں کی زندگی کو سنورتا ہوا دیکھ کر ایک دوسرے سے نا ختم ہونے والی محبت کرتے ہوئے اپنے جہاں میں پرسکون رہیں ۔۔۔۔۔

♡♡♡♡♡♡

یہ سب سوچتے ہوئے سٹرینجر کے چہرے پر بڑی دلکش سمائل تھی ۔۔۔۔

کیونکہ اسکے لیے یہ احساس ہی خوبصورت تھا کہ اسکی کیزلریم نے نہ صرف اپنے جن سے اظہار محبت کیا بلکہ اپنا پیار بھرا لمس اپنے
“” ڈئیر جن “” کے ہیڈ پر چھوڑا تھا ۔۔۔۔۔

وہ خوشی سے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی کیزلریم کا لمس محسوس کرتا ھے ۔۔

پر جب اسے فیروزے کے الفاظ یاد آتے ہیں کہ۔۔۔

جج جن “”
چلے جاو یہاں سے ۔۔۔

مجھے تم سے محبت ھے پر میں تم سے شادی نہیں کرسکتی ۔۔۔

چلے جاو ۔۔۔

چلے جاو ۔۔۔

جیسے ہی سٹرینجر کو اسکی کیزلریم کا ٹھکرانا یاد آتا ھے غصے سے اسکی رگییں تن جاتی ہیں ۔۔۔

اور وہ غصے سے اپنے روم کی چیزیں پورے کمرے میں بکھیر دیتا ھے ۔۔۔۔

Ahhhhh …….’

Kizlarim ‘

( my girl)

Por favor ‘ Por favor ‘

( please ‘ please ‘)

Eres solo mia’

( you are only mine ‘)

Mia ‘
( mine)

اور پھر وہ اپنے غصے کو کم کرنے کے لیئے سکرین پر اپنی سوئی ہوئی کیزلریم کو دیوانہ وار کس کرتا ھے ۔۔۔

اور ساتھ ساتھ کہہ بھی رہا ہوتا ھے کہ

Kizlarim ‘
( my girl)’

Eres solo mia ‘
( you are only mine)’

وہ غصے سے اپنے روم سے نکل کر اپنی فیری کے پاس جاتا ھے اور پھر وہ جیسے ہی سٹرینجر فیروزے کے روم میں انٹر ہوتا ھے تو وہ بے چین سا ادھر ادھر دیکھنے لگتا ھے

کیونکہ اسکی کیزلریم اسے روم میں کہی بھی نظر نہیں آتی ۔۔۔

کہ اچانک اسے اسکی بےبی گرل باتھ روم سے فریش سی نکلتے ہوئے نظر آتی ھے تو وہ اسکے سامنے سے ہٹتا ھے ۔۔۔۔

اور فیروزے جسے نیند میں بے چینی سی فیل ہورہی تھی وہ پریشان سی اٹھتی ھے اور پتا نہیں اسے ایسا کیوں لگ رہا تھا جیسے اسکا کوئی پیارا تکلیف میں ہو ۔۔۔۔۔

یہ سب سوچتے ہوئے وہ نیچے نہیں دیکھتی کہ اسکا پاوں لڑکھڑاتا ھے اس سے پہلے وہ گرتی کسی نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا ۔۔۔۔۔

اور فیروزے جو نیچے گرنے کے ڈر کی وجہ سے آنکھیں نہیں کھولتی ۔۔۔۔

اچانک خود کو کسی کے محفوظ گھیرے میں محسوس کرتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولتی ھے ۔۔۔

اور فیروزے جیسے ہی اپنے جن کو دیکھتی ھے جو کے آج بھی اسے واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔

تو وہ ایک ٹرانس سی کیفیت میں اپنے جن کو دیکھتی ھے جو کے آج بھی اسے اپنی ناراضگی بھلائے اسے دیکھنے اسے ملنے آیا تھا ۔۔۔۔

تو وہ ایک ٹرانس سی کیفیت میں اپنے جن کے چہرے پر ہاتھ لگاتی ھے ۔۔۔۔

اور فیروزے اسے کہتی ھے جج جن تت تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔؟

مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم ٹھیک نہیں ہو ۔۔۔

جج جن “”

وہ کہتے ہوئے سٹرینجر کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ھے اور اسے پھر سے پوچھتی ھے ۔۔۔

جج جن “”” تم تت تم ٹھیک ہو تم روئے تو نہیں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم روئے ہو ۔۔۔۔

تم ٹھیک نہیں ہو ۔۔۔
ہاں ۔۔
بولو ڈئیر جج جن “”
بولو نہ مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔۔

ابھی وہ کچھ کہتی کہ سٹرینجر اسکے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتا ھے اور اسے کہتا ھے ۔۔۔۔

Kizlarim ‘
( my girl)’

Vida ‘
(Life)’

Ma bouee de sauvetage ‘
( my lifeline)’

Las palabras no pueden explicar cuanto’ te quiero ‘
( words can’t explain how much i love you)’

وہ جو فیروزے کو اپنی باہوں میں بھرے اس پہ جھکاو کیے کھڑا تھا ۔۔۔۔
اور فیروزے سے سپینش لینگویج میں بات کررہا تھا جو کے آج بھی فیروزے کو کہاں سمجھ آنے والی تھی ۔۔۔

کہ وہ بولنے کیلئے اپنے لب کھولتی ھے کہ اسکا جن جو پیار کی رو میں بہتے ہوئے اپنی کیزلریم سے اظہار محبت اپنی فیلنگز شئیر کررہا تھا ۔۔۔

وہ غصے میں فیروزے کے ہونٹوں پر اپنی انگلی سے دباو بڑھاتا ھے جس سے درد کی لہر فیروزے کے پورے جسم میں سرایت کر جاتی ھے ۔۔۔۔

اور وہ اس سب کی پرواہ کیے بغیر وہی سے اپنی بات کنٹینیو کرتا ھے ۔۔۔۔

Mi Amor ‘
( my love)’

Eres solo mia ‘
( you are only mine)’

Mia para amor ‘
( mine to love)’

Mia para tocar ‘
( mine to touch)’

Mia para adorar ‘
(Mine to adore)’

وہ یہ سب کہتے ہوئے فیروزے کے بے حد نزدیک ہوتا ھے بلکل ایسے جس سے فیروزے کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرا رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔

اور وہ دیوانہ وار اپنی بےبی گرل کی خوشبو کو اپنے اندر اتار رہا ہوتا ھے ۔۔۔۔

کیونکہ ایسا کرنے سے اسے کافی سکون مل رہا ہوتا ھے ۔۔۔

اور پھر وہ مدہوش ہوتا ہوا فیروزے کی گال پر اپنا دہکتا لمس چھوڑتا ھے جس میں کافی شدت نمایاں ہوتی ھے ۔۔۔۔

کہ وہ دیوانہ وار فیروزے کی اسی گال پر اپنے لب جمائے رکھتا ھے کہ فیروزے جو کب سے اپنے جن کی دیوانگی برداشت کررہی تھی جلدی سے سٹرینجر کی بانہوں کے حسار کو توڑ کر اسے پرے دھکیلتی ھے ۔۔۔۔
اور سٹرینجر بیچارہ مدہوش سا نیچے گرنے لگتا ھے کہ فیروزے اسے تھام لیتی ھے ۔۔۔۔

اور پھر وہ غصے سے اپنے جن کو گھورتی ھے ۔۔۔

تت تمہیں شرم نہیں آتی ڈئیر جج جن “””

ہاں بولو ۔۔۔
میں اب کسی کی منکوحہ ہوں ۔
کسی کے نکاح میں ہوں ۔۔۔

تت تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھے اسطرح چھونے کی ۔۔۔

دفعہ ہوجاو ۔۔۔
دور ہو جاو میری نظروں سے اور آئیندہ کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا ۔۔۔۔

چلے جاو یہاں سے ۔۔۔
چلے جاو ۔۔۔۔

پھر وہ روتے ہوئے نیچے بیٹھ جاتی ھے اور اسکا جن بھی اسکے ساتھ بیٹھتا ھے ۔۔۔

Kizlarim ‘
(My girl)’

کہ ابھی وہ کچھ کہتا فیروزے اسے چپ کرا دیتی ہے ۔۔

بس بس کرو مجھے کچھ نہیں سننا کتنی بار کہا جاویہاں سے ۔۔

جاو ۔۔۔

بس شاید یہی تک اس سٹرینجر کا ضبط تھا پھر وہ تیش کے عالم میں جلدی سے اٹھتا ھے اور پھر بنا کچھ سوچے سمجھے وہاں سے چلا جاتا ھے ۔۔۔

اور فیروزے بیچاری تکلیف سے اپنے مغرور ،،، غصے والے جن کو جاتا ہوا دیکھتی ھے ۔۔۔۔۔

اور پھر اس رات کو دونوں ہی بہت تکلیف سے گزارتے ہیں۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: