The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 36

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 36

–**–**–

 

ماضی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیڑھ سال پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اندھیرا ہی اندھیرا تھا
کوئی ان دیکھی قوت حورا کو مزید گھپ اندھیرے کی طرف لے جارہی تھی ۔۔

اسکے جسم میں اتنی سکت نا تھی کہ وہ مزاحمت کرسکتی وہ بھی پانی کے بہاو کی طرح نیچے بہت ذیادہ نیچے جارہی تھی جہاں پر انسان کا نام و نشان تک نا تھا ۔۔۔

تکلیف کی شدت سے اسکے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا تھا وہ اپنی آنکھیں بند کرتی ھے اور اسے پہلے اپنے پاپا کی جھلک نظر آتی ھے وہ خوش ہوکر انہیں پکارنے کی کوشش کرتی ھے مگر آواز کہیں دب گئی تھی کچھ توقف کے بعد ممی اور فیروزے ساتھ آیت نظر آتی ھے وہ سب ہنس رہی تھی اور جہاں حورا تھی اسی جگہ سے گزر رہی تھی وہ اس امید سے انہیں دیکھتی ھے مگر وہ سب وہاں سے گزر جاتی ہیں جیسے وہاں پر اسکا وجود ہی نہیں تھا۔۔۔

پھر شیری اور فارب کی جھلک ابھرتی ھے انہیں دیکھ کر اسے تھوڑی امید ملتی ھے مگر پھر وہ دونوں بھی کہیں غائب ہوجاتے ہیں ۔۔۔

تھک ہار کر حورا کا بے جان وجود گرتا ھے اسکی بند آنکھوں سے مسلسل آنسو گررہے تھے اسے لگ رہا تھا اب شاید کوئی بھی اسکے پاس نہیں آئے گا وہ جو تھوڑی مزاحمت کررہی تھی کہ کسی طرح اندھیرے کی طرف نا جائے وہ بھی اب روک دی ۔۔۔۔

اب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اسکی روح کا جسم سے جدا ہونے کا وقت آچکا تھااس سے پہلے اسکی روح جسم سے آزاد ہوتی کسی کی فریاد اس اندھیری وادی میں گونجتی ھے اور اندھیرے کو روشنی ختم کرنا شروع کرتی ھے ۔۔۔۔

وہ بھی اپنی بند آنکھیں آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولتی ھے کوئی وجود اسکے پاس آرہا تھا اور اسکے پیچھے ہی روشنی تھی ۔۔۔

ظ۔۔۔۔ظہان

ظہان ۔۔۔۔۔

وہ وجود جیسے ہی اسکے قریب آرہا تھا ان دیکھی قوت حورا کو پیچھے کی طرف دھکیلتی جارہی تھی ۔۔۔۔

ظ۔ظہان ۔۔۔۔

اس نام نے جیسے اسکے جسم میں پھر سے زندگی پھونک دی تھی اسکا وجود اب بھر پور مزاحمت کررہا تھا اور بلآخر وہ خود کو چھڑا کر اپنی زندگی کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتی ھے اور بلآخر دونوں ہی قریب آجاتے ہیں ۔۔۔

ظہان ۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔

وعدہ کیا تھا ہر پل ساتھ رہوں گا ۔۔۔

حورا اسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھامتی ھے

مجھے یقین تھا آپ مجھے اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور پھر ظہان اسے آخری بار گلے لگاتا ھے ۔۔۔

کیونکہ اینجل کو تلاش کرنے میں اسکا وجود بہت ذیادہ زخمی ہوچکا تھا راستہ بہت کھٹن تھا مگر وہ اپنے امتحان میں کامیاب ہوچکا تھا ۔۔۔

حورا کو اپنے ہاتھوں اور چہرے پر خون محسوس ہوتا ھے وہ اس سے الگ ہوتی ھے

ظ۔۔۔ظہان

خون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب کیسے ہوا

ظہان کے چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ آتی ھے ۔۔۔

اینجل ادھر دیکھو میری آنکھوں میں ۔۔۔۔

“میں جہاں بھی رہوں گا ہمیشہ تم سے محبت کرتا رہوں گا کیونکہ تم میرا پہلا اور آخری عشق ہوں اور اگر میں تم سے دور بھی ہوجاو تو بھی یاد رکھنا تمہارا سایہ بن کر ہمیشہ ساتھ رہوں گا ۔۔۔۔”

پھر وہ اسکے ماتھے پر اپنا محبت بھرا لمس چھوڑتا ھے اور پھر وہی اسکا بے جان وجود گرتا ھے ۔۔۔

ن۔۔۔۔نہیں

ظ۔۔۔ظہان

آپ مذاق کر رہے ہیں نا آ ۔۔۔آنکھیں کھولیں ۔۔۔

اور پھر وہاں اس وادی میں حورا کی دردناک فریادیں ، گونج رہی تھی ۔۔۔

💔💔💔💔💔💔💔

نرس جو آپریشن تھیٹر میں حورا کے چہرے پر چادر ڈال رہی تھی اسکے ہاتھ کی حرکت اور مشین پر چلنے والی لائینوں سے اسکے پاس جاتی ھے اور اسکی نبض چیک کرتی ھے حورا کی مدھم مدھم سانسیں چل رہی تھی اسکی باڈی جھٹکا کھاتی ھے اور پھر وہ بےہوشی میں ہی ظہان کا نام پکارتی ھے

نرس جو اس معجزے پر حیران کھڑی تھی وہ اسکی آواز سن کر ہوش میں آتی ھے اور باہر جاتی ھے جہاں سب ظہان کو ہوش میں لانے کے بعد اسکے پاس کھڑے تھے ۔۔۔۔

ڈاکٹر ۔۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔۔
وہ آپریشن تھیٹر میں موجود مریض کی سانسیں چل رہی ہیں اور کسی ظہان کا نام پکار رہی ہیں ۔۔۔

امپاسبل ۔۔۔۔
یہ کیسے ہوسکتا ھے ۔۔۔

ڈاکٹر بھاگ کر جاتے ہیں اور اس خبر نے تمام لوگوں کو زندگی کی نوید سنا دی تھی ۔۔۔

جگر ۔۔۔۔
حورا زندہ ھے ۔۔۔

حورا اب زور سے ظہان کو پکار رہی تھی ۔۔۔۔

ظہان بھاگ کر اندر جاتا ھے جہاں وہ مشینوں میں جکڑی ہوئی بے قابو ہو رہی تھی ڈاکٹر جیسے ہی ظہان کو دیکھتے ہیں وہ کچھ دیر کے لیئے باہر چلے جاتے ہیں ۔۔۔

ظہان آ۔۔۔آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے آ۔۔۔آپ نے کہا تھا ہم اپنے خواب ایک ساتھ پورا کریں گے۔۔۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔
وہ بے ہوشی کی حالت میں بھی اسکی موجودگی پہلے ہی محسوس کرچکی تھی اب ظہان کے پکارنے پر آہستہ آہستہ ہوش کی وادی میں آنا شروع کرتی ھے ۔۔۔

ظہان بہت ہی پیار سے اسکا ہاتھ تھامتا ھے اور اسکے سر پر پیار کرتا ھے

حورا تو جیسے اسکے لمس کے انتظار میں تھی یہی لمس اسکے ہر درد کی دوا تھا ۔۔۔۔

ظہان کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو گر رہے تھے جو حورا کی آنکھوں پر ہڑرہے تھے

وہ ہوش میں آچکی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ وہ بھی رو رہی تھی پھر وہ اپنا کپکپاتا ہاتھ اٹھاتی ھے اور اسکے گال پر رکھتی ھے وہ اپنی اینجل کی طرف دیکھتا ھے جو بھیگی آنکھوں اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسکی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

ظ۔۔۔ظہان

جہاں ظہان کا لمس حورا کے لئے زندگی بخش تھا وہی حورا کی آواز اسکے لئیے کل کائنات تھی ۔۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔۔

وہ حورا کے سر کے ساتھ سر ملاتا ھے اور بولنا شروع کرتا ھے

اینجل ۔۔۔۔۔

اللہ کا شکر ھے تم میرے پاس واپس آگئی تم نہیں جانتی یہ لمحے میں نے کتنی اذیت میں گزارے ہیں پلیز اب کبھی بھی مجھ سے دور مت جانا میں کبھی بھی برداشت نہیں کرپاو گا ۔۔۔۔

ظ ۔۔۔ظہان
وہ انتہائی تکلیف میں بولتی ھے ۔۔۔

جان ظہان ۔۔۔۔

ن۔۔۔۔نئی زندگی نیا جنم مبارک ۔۔۔

تب ہی ڈاکٹر ناک کرکے اندر آتے ہیں ۔۔۔۔

سر پلیز ہمیں ٹریٹمنٹ کرنے دیں ۔۔

حورا اسکے ہاتھ پر گرفت سخت کرتی ھے کہ وہ اپنی اینجل کے پاس رہے ۔۔۔۔

اینجل میں اب پاس ہی رہوں گا ٹرسٹ می ڈاکٹر کو ٹریٹمنٹ کرنے دو پلیز ۔۔۔۔۔

وہ ناراض نظروں سے دیکھتی ھے اور ہاتھ چھوڑ دیتی ھے
وہ اسکی حرکت پر مسکراتا ھے اور پھر باہر چلا جاتا ھے ۔۔۔

سب کو حورا کے ہوش میں آنے کا بتاتا ھے ۔۔۔۔

سب ہی اس سے ملنے کا کہتے ہیں مگر ظہان سب کو روک دیتا ھے مگر شیری اور فیروزے کسی کی بات نہیں سن رہے تھے وہ بضد تھے کہ حورا کے پاس رہیں گے ۔۔۔

ظہان انہیں اپنے پاس بلاتا ھے اور پھر انہیں حورا کی ہی قسم دے کر جانے کا کہتا ھے

سب حورا کو دور سے دیکھتے ہیں سوائے فارب کے سب واپس چلے جاتے ہیں ۔۔۔

وہ فارب کو سب کا خیال رکھنے کی ذمہ داری سونپتا ھے اور پھر اسے بھی واپس بھیج دیتا ھے

مکرم اس دوران ظہان کے ساتھ سائے کی طرح رہتا ھے ۔۔۔

ظہان اپنی اینجل کو اپنی باہوں میں اٹھاتا ھے تمام ڈاکٹرز انہیں منع کرتے ہیں مگر وہ کسی کی بھی سنے بغیر اسے لے کر چلا جاتا ھے ۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: