The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 37

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 37

–**–**–

ظہان اس رات اینجل کو سیکریٹ پلیس پر لے گیا تھا جہاں پر پہلے ہی ڈاکٹرز کی ٹیم مجود تھی ۔۔۔

وہ حورا کو اپنے خوبصورت سے بیڈ روم میں لے کر گیا تھا آرام سے اسے لیٹا کر باہر جاتا ھے کیونکہ حورا دوائی کے زیراثر بے ہوش تھی ۔

وہاں وہی ڈاکٹر جس نے حورا کی ٹریٹمنٹ کی تھی وہ اور اسکے ساتھ آوٹ آف کنٹری سے سپیشل ڈاکٹرز کی ٹیم کچھ ٹائم تک پہنچ چکی تھی ۔ جن کے رہنے کا انتظام وہی کیا گیا تھا ۔۔۔

وہ اپنی اینجل کے پہلو میں ہی سونے کے لیئے لیٹتا ھے اور کافی دیر تک وہ اسکا چہرہ دیکھتا رہتا ھے اور پھر یقن کرنے کے لیئے اسے چھوتا ھے ظہان کی حالت اس وقت ایسے بچے کی سی تھی جو اندھیرے سے گھبرایا ہوا ہوتا ھے اور روشنی اس کے لئیے خوشی کا باعث تھی

ظہان کے لئیے حورا کا نا ہونا اندھیرا گھور اندھیرا تھا اور اسکا ہونا اسکے لئیے روشنی مطلب زندگی تھی اور اس نے یہ سفر ایک ہی دن میں مکمل کیا تھا

نظم

“سفر ”

اندھیرے سے روشنی کا سفر
نا امیدی سے امید کا سفر
غموں سے خوشیوں کا سفر
نابینا سے بینائی کا سفر
خزاں سے بہار کا سفر
بجھی ہوئی راکھ سے آگ کا سفر
بنجر سے زرخیزی کا سفر
ویرانے سے آبادی کا سفر
بلآخر مردہ سے زندہ کا سفر
موت کے بعد نئی زندگی کا سفر
ہاں !!
تمام سفر کی تکمیل وابسطہ ھے تم سے ۔۔۔۔
صرف اور صرف تم سے ۔۔

(ازخود بیلا بخاری )

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

نیند میں حورا بار بار چونک جاتی تھی وہی خواب اسکے حواسوں پر چھایا ہواتھا وہ ظہان کو پکارتی تھی اسکی جو تھوڑی دیر کے لیئے آنکھ لگی تھی حورا کی آواز بلکہ اسکا نام پکارنے سے جاگ جاتا ھے

اینجل وہ اسکے مزید پاس ہوتا ھے اور سرگوشی میں اسکا نام پکارتا ھے جیسے ہی وہ اسکا نام لیتا ھے اسکی بےچین روح کو قرار ملتا ھے ۔۔۔۔

ظہان پھر سے اسی کھونے والی کیفیت کا شکار ہوجاتا ھے اور وہ دیوانگی سے حورا کے چہرے کے ایک ایک نقش کو شدت سے چھو رہا تھا حورا کا جو ہاتھ اسنے تھاما ہوا تھا اس پر حورا کی پکڑ مضبوط ہوتی جارہی تھی ظہان کو جیسے ہی محسوس ہوا کہ وہ جاگ گئی ھے وہ مزید شدت سے اسے چھوتا اسے پیار کرتا ھے اور چہرے سے گردن تک آتا ھے ۔۔۔

ظ۔۔۔۔۔ظہان

وہ جو بےقابو ہورہا تھا حورا کے پکارنے پر پر ہوش میں آتا ھے مگر اس سے دور نہیں ہوتا اور پھر وہ اسکی گردن میں منہ چھپائے اپنے جذبات اپنے ڈر وسوسے کا اظہار کررہا تھا ۔۔۔۔

اینجل میں بہت ڈر گیا تھا جب تمہیں گولی لگی تھی اور تم میری باہوں میں گری تھی تب وہ تم نہیں گری اصل میں میں گرا تھا اور جب تم نے راستے میں آنکھیں بند کی تھی تب مجھے لگا ساری دنیا میں اندھیرا چھاگیا ھے اور یہ دنیا اب روشنیاں کبھی بھی نہیں دیکھ پائے گی تمہاری حالت بہت کریٹیکل تھی سب کے دل ڈرے ہوئے تھے میں تو جیسے زندگی اور موت کے بیچ کھڑا تھا جب یہ خبر دی گئی کہ تم مجھے چھوڑ کر ہمیشہ کے لئیے چلی گئی ہو تو تم جانتی ہوں میرا وجود وہی بے جان ہوکر گرا تھا

یہ سب کتنا تکلیف دہ کتنا
اذیت ناک تھا میں تمہیں بتا نہیں سکتا مگر اب جب کہ تم میرے پاس واپس آگئی ہوں اب میں کبھی بھی تمہیں جانے نہیں دوں گا ۔۔۔

اینجل میں جان چکا ہوں تمہارا ہونا ہی میرے ہونے سے جڑا ھے

اینجل ھے تب ہی ظہان کا وجود ھے

ورنہ سب کچھ بے معنی بے وقعت ھے ۔۔۔۔۔

سب بتاتے ہوئے وہ رو رہا تھا اور اسکے آنسو حورا کے چہرے کو بھگو رہے تھے ۔۔

حورا جو خود بھی ظہان حیدر شاہ اپنی محبت کی باتیں اسکی تکلیف سنتے ہوئے رو رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہ اپنے ظہان حیدر شاہ سے مخاطب ہوتی ھے ۔۔۔۔

ظ۔۔۔ظہان آپ کو پتا ھے جب میں آخری سانسیں لے رہی تھی اور مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اب نہیں بچ سکتی تب ہی آپکی آواز اس اندھیری وادی میں گونجتی تھی وہ آواز نہیں تھی میرے لئیے تو زندگی کی نوید تھی اور پھر آپکی دعا قبول ہوگئی اور مجھے دوبارہ سے زندگی دے دی گئی ۔۔۔۔

ظہان آپکے ساتھ ہی میری سانسیں جڑی ہیں اور آپ کا ہونا ہی میرے جینے کی وجہ ھے ۔۔۔

حورا بھی اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھوتی ھے اور پھر اسکے ماتھے اور گالوں پر کس کرتی ھے ۔۔۔۔

اسے بہت درد ہورہا تھا مگر وہ نظرانداز کررہی تھی مگر ظہان اسکے چہرے پر درد کے اثرات دیکھ چکا تھا وہ آہستہ سے اس سے دور ہوتا ھے مگر حورا اسکا ہاتھ پکڑ کر روک دیتی ھے وہ مسکرا کر اسکے قریب ہی لیٹتا ھے اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا ھے تاکہ اسے نیند آجائے حورا جیسے ہی سوتی ھے فجر کی آذان ہوتی ھے اور ظہان اپنے رب کی بارگاہ میں شکر کا سجدہ ادا کرنے کے لیئے جاتا ھے ۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

حورا کا مکمل چیک اپ کے بعد ظہان ڈاکٹرز کے پاس جاتا ہے ۔۔۔

مسڑ ظہان ویسے تو پیشنٹ ٹھیک ھے اور انکا زندہ ہونا کسی میریکل سے کم نا تھا مگر ہم یہ بات بہت افسوس سے کہہ رہیں ہیں کہ وہ شاید چل نہیں پائیں گی ۔۔۔

ی۔یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں امپاسبل آپ نے صحیح سے تو چیک اپ کیا تھا ناں مجھے لگتا ھے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ھے ۔۔۔

مسڑ ظہان آپ ہماری پوری بات تو سن لیں ۔۔۔۔

کیا بات سنو ۔۔۔۔
آپ جو کہہ رہیں ہیں میں مان نہیں سکتا۔۔۔۔

انہیں دو گولیاں لگی تھیں ایک گولی دل کے انتہائی قریب لگی تھی اور دوسری گولی جو کمر کے پاس لگی تھی اسکی وجہ سے انکی کمر میں مسئلہ ہوگیا ھے اور یہی وجہ ھے کہ وہ شاید چل نا پائے ۔۔۔۔

مگر کوئی بھی بیماری لاعلاج نہیں اب تقریبا ہر بیماری کا علاج ھے

تو آپ ڈھونڈیں علاج بس میری وائف کو ٹھیک کر دیں ۔۔۔

ظہان کے جانے کے بعد جونئیر ڈاکٹر اپنے سینئر ڈاکٹر کے پاس جاتا ھے

سر آپ نے جھوٹ کیوں بولا آپ کو جب پتا تھا کہ پیشنٹ چل نہیں پائے گی ایون کسی سہارے کے بغیر بیٹھ ہی نہیں پائے گی تو آپ نے انہیں جھوٹی امید کیوں دی ۔۔۔۔؟؟؟

آپ دیکھ رہے تھے وہ اپنی وائف کے لیئے کیسے جنونی ہورہے تھے پھر بھی آپ نے ایسا کہا ۔۔۔؟؟؟

ڈاکٹر بس خاموش رہتا ھے اور کوئی جواب نہیں دیتا ۔۔۔۔

حورا جاگ گئی تھی اور ظہان کواپنے پاس نا پاکر پریشان ہوگئی تھی اس سے پہلے وہ رونا شروع کرتی ظہان انٹر ہوتا ھے ۔۔۔۔

گڈ مارننگ اینجل ۔۔۔
وہ اسکے ماتھے پر کس کرتا ھے

اینجل پلیز ناراض مت ہوا کرو

آپ کو کیسے پتا چلا میں ناراض ہوں ۔۔۔۔؟؟؟

میجیک سے ۔۔۔۔

سچ میں ظہان ۔۔۔۔

وہ اشتیاق سے پوچھ رہی تھی

مجھے بچپن سے میجیک شوز بہت پسند تھے ۔۔۔۔

اف ۔۔۔۔
میں کتنا لکی ہوں آپ کو بھی میجیک آتا ھے ۔۔۔۔

ہہم تو اینجل آپ خود جادوگرنی ہیں ۔۔۔۔

حورا اسے گھورتی ھے

مطلب اپنی معصومیت اور پیار کا جادو جو آپ نے مجھ بیچارے انسان پر چلایا ھے کہ مجھے اینجل کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تو اس لحاظ سے آپ جادوگرنی ہوئی ناں ۔۔۔

اس وضاحت پر وہ مسکراتی ھے

وہ اسے مسکراتا ہوا دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کبھی نا چلنے کی بات اگر پتا چل گئی تو کیا ردعمل ہوگا ۔۔۔۔

حورا کا ٹریٹمنٹ شروع ہوگیا تھا وہ درد سے چیختی چلاتی تھی اور اس دوران ظہان اپنی اینجل کے پاس رہتا تھا ۔۔۔

آج بھی وہ ٹریٹمنٹ کے بعد چیخ رہی تھی ۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔

ظ۔۔۔ظہان مجھ سے یہ درد برداشت نہیں ہورہا وہ رو رہی تھی ۔۔۔

اینجل بس کچھ دن اور پھر آپ پہلے کی طرح ٹھیک ہوجائے گی

اور کتنے دن ظہان اب درد برداشت سے باہر ھے ۔۔۔

ظہان اسکے پاس لیٹتا ھے اور اسکا ہاتھ تھامتا ھے اسکے ماتھے پر کس کرتا ھے اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ھے تاکہ وہ یہ سب فیل نہ کرے وہ اس درد کو برداشت کرے اور کچھ دیر بعد ہی وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئی تھی ۔۔۔

ظہان کی آنکھیں ضبط کی وجہ سے سرخ انگارہ ہوگئی تھی ۔
کیونکہ وہ اپنی اینجل کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

تمام نیوز چینلز پر ظہان حیدر شاہ کی وائف ہر قاتلانہ حملے کی خبر دی جارہی تھی اور دلاور خان تو یہ خبر سن کر مزید پریشان ہوگئے تھے کیونکہ انہیں دراب خان کی باتیں اور اسکا بدلا ہوا رویہ یاد آرہا تھا وہ اب دراب کو بار بار بار کال کررہے تھے مگر کوئی اٹھا نہیں رہا تھا تھک ہار کر وہ نوید کو کال کرتے ہیں ۔۔۔

دراب کہاں ھے اور میری کال کیوں نہیں اٹھا رہا دوسری طرف خاموشی چھائی رہتی ھے ۔۔۔

نوید۔۔۔
کچھ بولو گے ۔۔۔

وہ ۔۔۔وہ سر دراب کو ظہان حیدر شاہ نے قید کر دیا ھے اور جلد ہی انکی طرف سے آپ کو کال آئے گی ۔۔۔

یہ کیا کہہ رہے ہوں تم مطلب وہ قاتلانہ حملہ دراب نے کیا تھا ۔۔

جی سر ۔۔۔۔

دلاور خان غصہ میں کال بند کرتے ہیں اپنے بے وقوف بیٹے کو کسی بھی طرح اس مصیبت سے نکالنا تھا۔۔۔۔

دراب یہ کیا کردیا سچ کہتے ہیں عشق انسان کو سوچنے کے قابل نہیں چھوڑتا اور تم تو بلکل دیوانے ہوگئے ۔۔۔۔

وہ سکندر شاہ سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔۔۔

دوسری طرف مکرم اسے بیسمنٹ میں قید کردیتا ھے

دراب خان تو جیسے پاگل ہوگیا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے بار بار حورا کے گولی سے گرنے اور آنکھیں بند کرنے کا منظر سامنے آرہا تھا دراب کو کسی بات کی فکر نا تھی اسے بس اپنی حورا کی فکر تھی ۔۔۔

یہ مجھ سے کیا ہوگیا میں نے اپنے ان ہاتھوں سے اپنی محبت کی جان لے لی پھر دراب اپنے ہاتھ زور زور سے دیوار پر مارنا شروع کردیتا ھے اسکے ہاتھ زخمی ہوگئے تھے مگر وہ پھر بھی اپنے ہاتھوں کو سزا دے رہا تھا ۔۔۔

اسکے رونے اور خود کو ملامت کرنے کی آوازیں باہر تک آرہی تھی ۔۔۔

دلاور خان بذات خود سکندر شاہ سے معافی مانگتا ھے مگر اس بار سکندر شاہ کوئی بھی مدد کرنے سے انکار کردیتے ہیں ۔۔

“دلاور خان آپ کے بیٹے کی زندگی کا فیصلہ اب ظہان حیدر شاہ ہی کرے گا فلحال آپ کے لئیے اتنا کافی ھے کہ آپ کا بیٹا زندہ اور سہی سلامت ھے اور رہی بات کیس کی یا میڈیا کی تو آپ فکر مت کریں یہ بات کسی کوبھی پتا نہیں چلے گی اور نا ہی ہم کوئی کیس کریں گے اب آپ جاسکتے ہیں ۔”

کتنے دن گزر گئے تھے دراب خان کا ضمیر بار بار اسے ملامت کررہا تھا اب وہ ہر وقت اپنے رب سے معافی مانگتا تھا اور اسکی زندگی کی دعا مانگتا تھا ۔۔۔

مکرم جب بھی اسکے پاس جاتا تھا دراب کا ایک ہی سوال ہوتا تھا کہ وہ زندہ ھے یا نہیں ۔۔۔

مکرم اسے کوئی بھی جواب نہیں دیتا تھا دراب کو ہر چیز وقت پر مہیا کی جاتی تھی اور مہمانوں جیسا رویہ رکھا جاتا تھا اور یہی بات اسے مزید شرمندہ کردیتی تھی کہ اس کے اتنے برے سلوک کے باوجود اس کے ساتھ اچھا برتاو کیا جارہا تھا ۔۔۔۔

چھوٹے سائیں ۔۔۔۔

دراب خان آپ سے ملنا چاھتا ھے اور میری بھی گزارش ھے آپ ایک بار ان سے مل لیں ۔۔۔

ظہان جو دراب کی ہروقت خبر رکھتا تھا مکرم کی پہلی بارکی گئی درخواست کی وجہ سے دراب خان سےپورے ڈیڑھ سال بعد ملنے آتا ھے ۔۔۔

ظہان حیدر شاہ ۔۔۔۔

مجھے یقین تھا تم مجھ سے ملنے ضرور آو گے

وہ دونوں ہی آمنے سامنے بیٹھے تھے

“معافی میں تم سے نہیں مانگو گا کیونکہ میرے کیے گئے گناہ کے سامنے یہ بہت چھوٹا سا لفظ ھے یاد ھے تم نے مجھے کہاتھا جس سے پیار کیا جاتا ھے اسکی خوشی میں خوش رہنے کی کوشش کی جاتی ھے
کاش!
میں تمہاری بات سمجھنے کی کوشش کرتا تو آج ایسا نا ہوتا
میں نے مکرم سے گزارش کی تھی کہ وہ سفارش کرے تاکہ تم مجھے سزا دو اور میرے ضمیر کا بوجھ ہلکا ہو ۔۔۔”

دراب اپنی بات کہہ کر خاموش ہوجاتا ھے مگر ظہان خاموش بیٹھا رہتا ھے ۔۔۔

“دراب خان جب میری زندگی مجھ سے دور جا رہی تھی تب میرا دل چاہ رہا تھا میں تمہاری جان لے لوں کیونکہ اس وقت سزا دینے کا اختیار تھا میرے پاس مگر جب وہ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی تب میرے اختیار میں کچھ نا تھا اور اسوقت میں خود کو کتنا بے بس محسوس کررہا تھا یہ میں بتا نہیں سکتا پھر اللہ نے مجھ پر رحم کیا اور اسے میری طرف واپس بھیج دیا ٹھیک اسی وقت میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں تمہیں کوئی بھی تکلیف دہ سزا نہیں دوں گا اور اس بار تمہاری سزا خود تم ہوگے اس لئیے تمہیں اکیلا رکھا اور ہر وہ آسائش مہیا کی جس کے تم عادی تھے اور آج تم سے مل کر مجھے اپنے فیصلے پر خوشی ہورہی ھے کہ تم نے اپنی اصلاح خود کی ۔۔۔۔”

وہ حیران ہوکر اپنے محسن کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

رہی بات تمہارے یہاں پر رہنے کی تو آج سے بلکہ ابھی سے تم آزاد ہوں اور دراب خان مجھے یقین ھے تم بہتر انسان بہتر بیٹے اور بہتر رہنما بنو گے ۔۔۔

ظہان اسکا کندھا تھپتپاتا ھےاور واپس چلا جاتا ھے ۔

دراب خان کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے کیونکہ آج اسکی توبہ قبول ہوگئی تھی ۔

ہر بار ضروری نہیں ہوتا کہ غلطی کی سزا دی جائے بعض اوقات معاف کردینا بھی اچھا ہوتا ھے اور اس معافی نے دراب خان کو مکمل طور پر بدل دیا تھا ۔۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

دراب کو معاف کردینا کیا ظہان کا یہ فیصلہ درست تھا ۔۔۔؟؟،

کیا حورا پھر سے چل پائے گی ۔۔۔؟،،

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: