The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 38

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 38

–**–**–

دراب خان اب واپس جا رہا تھا نوید اسے لینے کے لئیے آچکا تھا

سر چلیں۔۔۔۔

دراب جو آخری بار اس گھر کو دیکھ رہا تھا جس میں اس نے اپنی زندگی کا بہترین وقت گزارا تھا نوید کے پکارنے پر ہوش میں آتا ھے ۔۔۔

ہمم چلتے ہیں ۔۔۔

دراب آخری نظر اس گھر پر ڈالتا ھے جہاں اسے اصلاح ملی اور پھر اپنی گاڑی میں بیٹھتا ھے۔۔۔۔۔
تب ہی مکرم انہیں پکارتا ھے دراب جلدی سے گاڑی سے باہر نکلتا ھے اور مکرم کو گلے ملتا ھے ۔۔

مکرم میرے دوست تم مجھ سے اب تک ناراض ہو ۔۔

نہیں میں بس اس دن چھوٹے سائیں کو پریشان دیکھ کر کچھ ذیادہ ہی سخت الفاظ بول گیا تھا ہوسکے تو مجھے معاف کردینا دوست ۔۔۔۔

وہ مسکرا کر مکرم کو دیکھتا ھے تمہارے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا ہر چیز کا بہت بہت شکریہ اور دراب خان پر تمہارا احسان ادھار رہا کبھی موقع ملا تو ضرور اتارو گا ۔۔۔

تو مکرم دراب سے کہتا ھے _____

وہ کوئی احسان نہیں تھا اور آپ بھول جائیں اور اس وقت مجھے جو درست لگا وہ میں نے کیا اور چھوٹے سائیں کو درخواست کی کہ وہ آپ سے ملنے آئیں ۔۔۔

مگر میرا جب بھی دل چاھے گا تو آپ سے ملنے آیا کرو گا ۔۔۔

ضرور مکرم میں خود بھی یہی کہنے والا تھا پھر دراب خان اپنی گاڑی میں بیٹھتا ھے ۔۔۔

نوید حیران ہوکر اپنے سر کو دیکھتا ھے کیونکہ دراب خان آج خلاف معمول فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔۔

نوید کی شکل دیکھ کر دراب کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ھے ۔۔۔

کیا ہوا نوید ایسے کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔؟؟،

ک۔۔۔کچھ نہیں سر

تم سناو نوید تم کیسے ہوں اورتمہاری فیملی ۔۔۔

آج کے دن نوید کو دوسرا بڑا جھٹکا ملا تھا دراب خان جسے صرف اپنی ذات سے غرض تھا جو ملازموں کے ساتھ نہایت برا رویہ اپناتا تھا آج اس کے ساتھ اتنے نرم رویہ میں بات کررہا تھا ۔۔

نوید کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔۔۔

سر سب ٹھیک ہیں اور بہت شکریہ آپ کا ۔۔۔۔

نوید میں جانتا ہوں کتنی بار میں تمہارے ساتھ بہت برا پیش آیا مگر تم نے پھر بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا میری وجہ سے تم اپنی فیملی سے دور رہے مگر اب تم اپنی فیملی کے پاس جاسکتے ہوں میری طرف سے اجازت ھے ۔۔۔۔

سر میں آپ کے ساتھ رہنا چاھتا ہوں جیسے ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔۔

دراب سر ہلاتا ھے ۔۔۔۔

باباجان کیسے ہیں ؟؟؟

سر وہ آپ کے لئیے بہت پریشان رہتے تھے اور سر انکی طبعیت کافی خراب رہتی ھے ۔۔۔

مگر سر آپ پریشان نہ ہوں اب پہلے سے کافی بہتر ہیں اور صبح سے آپ کا انتظار کر رہیں ہیں ۔۔۔

دراب خان جیسے حویلی پہنچتا ھے اسکے باباجان اور تمام ملازم اس کے اسقبال کے لئیے کھڑے تھے ۔۔۔

دراب میرے بیٹے آنکھیں ترس گئی تھی شکر ھے مرنے سے پہلے تمہارا چہرہ دیکھ لیا ۔۔۔

باباجان پلیز ایسی باتیں مت کریں دراب انکے گلے لگے رو کر کہتا ھے ۔۔۔

پھر وہ اندر جاتے ہیں

دراب خان کے آ جانے سے اسکے باباجان جیسے پھر سے جوان ہوگئے تھے ۔۔

چند عرصے میں ہی دراب خان نے اپنی محنت اور سچی لگن سے اپنے علاقے والوں کا دل جیت لیا تھا اور پہلے تو کسی کو دراب خان کے اتنے اچھے رویے کا یقین نہیں آیا پر پھر آہستہ آہستہ سب نے دراب خان کے نئے اور اچھے روپ کو اپنا لیا اگرچہ یہ سب انکے لیے حیران کن اور شاکنگ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دراب خان اب اپنے علاقے کا من پسند سیاست دان بن چکا تھا کیونکہ وہ ظہان حیدر شاہ کو فولو کررہا تھا ۔۔

___ ___ ___ ___ ___ ___ ___

شروع میں تو حورا کے زخم بھرنے میں کافی ٹائم لگ گیا تھا اسے کمر میں بےتحاشہ درد ہوتا تھا درد سے ساری ساری رات وہ روتی رہتی تھی ۔۔۔

۔آج بھی اسے بےتحاشہ درد کی وجہ سے اسکی رات کے آخری پہر آنکھ کھل گئی تھی مگر وہ ضبط کررہی تھی ظہان بھی ساتھ سو رہا تھا اسکی وجہ سے حورا خاموش پڑی تھی سارا دن ظہان اسکے ساتھ رہتا تھا اور رات کو ہی اسے کچھ پل ملتے تھے کہ وہ سکون سے سوتا تھا

اب درد کی شدت بڑھتی جارہی تھی اور اب وہ رو رہی تھی اور کمرے میں اسکی سسکیاں گونج رہی تھی ۔۔۔۔

ظہان کی آنکھ کسی احساس کے ساتھ کھلتی ھے جیسے ہی وہ اسکی طرف دیکھتا ھے تو حورا آنکھیں بند کرکے رو رہی تھی اور آنسو سے اسکے دونوں رخسار بھیگے ہوئے تھے ۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔

کیا ہوا کیا ذیادہ درد ہورہا ھے

ظہان اسکے قریب ہوکر اسکے آنسو صاف کرتا ھے وہ آنکھیں کھول کردیکھتی ھے تو ظہان فکرمندی سے اسکے چہرے پر جھکا ہواتھا ۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔

حورا اسکی گردن کے گرد بازو حمائل کرکے منہ چھپا کر روتی رہتی ھے

ظ ۔۔۔ظہان م۔۔۔میری کمر میں بہت درد ہوتا ھے مجھ سے یہ برداشت نہیں ہورہا ظہان یہ درد میری جان ۔۔۔۔۔

شش اینجل ۔۔۔۔

کچھ بھی نہیں ہوگا جب تک میں تمہارے پاس ہوں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا وہ اسکے بال سہلا رہا تھا ۔۔۔

کیا روزانہ ہوتا ھے یہ درد ۔۔۔؟؟

جی ۔۔۔۔

تو پھر بتایا کیوں نہیں ۔۔۔

وہ آپ ہر وقت میری وجہ سے پریشان رہتے ہیں اس لئیے آپ کو نہیں بتایا ۔۔۔

یہ تو غلط ھے اینجل ۔۔۔

وہ ناراض ہوکر اسے دیکھتا ھے اور پھر آہستہ سے دور ہوتا ھے

ظہان مجھے لگا یہ درد ختم ہوجائے گا اس لئیے نہیں بتایا مگر یہ تو دن بعد دن بڑھتا جارہا ھے میں آپ کو بتانے والی تھی ۔۔

اچھا کب ۔۔۔۔؟،،

یہ تو آج میری آنکھ کھل گئی اور مجھے خود پتا چل گیا ورنہ آپ تو بتانے والی نا تھی ۔۔۔۔

ظہان ۔۔۔۔۔

وہ اٹھنے کی کوشش کرتی ھے مگر اسکی چیخ نکلتی ھے !

اینجل ۔۔۔۔

وہ جلدی سے اسے سیدھا سلاتا ھے مگر درد مزید بڑھتا جارہا تھا ۔۔۔

ظہان پلیز کچھ کریں مجھے بہت تکلیف ہورہی ھے ۔۔۔

اینجل بس تھوڑا سا برداشت کرو میں ابھی ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں اوکے ۔۔۔

ظہان بہت تیزی سے سیڑھیاں اتر رہا تھا اور وہ گیسٹ روم پہنچ کر دروازہ ناک کرتا ھے سینئر ڈاکٹر جو ابھی اپنی ریسرچ کمپلیٹ کرکے سونے کے لیئے لیٹتا ھے دروازہ پر ہونے والی دستک سے تیزی سے اٹھتا ھے کیونکہ یہ ایسا اتنے مہینے میں پہلی بار ہوا تھا وہ جیسے ہی دروازہ کھولتا ھے ۔

Mr.Zuhan is everything alright???

No Doctor

میری وائف ٹھیک نہیں ھے پلیز آپ جلدی سے چیک اپ کریں اسکی کمر میں بہت درد ھے
ظہان ڈاکٹر کو حورا کی کنڈیشن بتا رہاتھا اور ساتھ تیزی سے سیڑھیاں بھی چڑھ رہا تھا ۔۔۔

حورا درد سے چلا رہی تھی ۔۔۔

ڈاکٹر اسکا معائنہ کرتا ھے اور اسے پین کلر دیتا ھے اسکے ذہین میں بہت سارے سوالات تھے مگر وہ فلحال انہیں ڈسڑب کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔۔۔

اینجل وہ اسکا ہاتھ تھامتا ھے اور اپنی اینجل کے پہلو میں بیٹھتا ھے ۔

کچھ آرام ہوا درد ذیادہ تو نہیں ہورہا ۔۔۔؟؟؟

تھوڑا تھوڑا درد ہورہا ھے ۔۔۔

تو ڈاکٹر کو بلاتا ہوں ۔۔۔

وہ اسکا ہاتھ پکڑتی ھے

نہیں ظہان بس آپ میرے پاس رہیں ۔۔۔

مگر ۔۔۔

ظہان ۔۔۔۔۔

اوکے اوکے غصہ تو نا کرو۔۔۔

وہ اب ظہان کی باہوں کے حصار میں تھی ۔۔۔۔

اینجل اب جب بھی آپ کو پین ہو آپ نے مجھے بتانا ھے چاھے میں سو بھی رہا ہوں تب بھی مجھے جگا دینا ۔۔۔

رو رو کر کیا حال کرلیا ھے
کیا تمہیں مجھ پر تھوڑا سا بھی ترس نہیں آتا ۔۔۔۔

ہہم ۔۔۔۔۔
بکل بھی نہیں ۔۔۔

وہ سیریس ہوکر کہتی ھے مگر اسکی آنکھوں میں شرارت تھی ۔۔

اچھا تو تھوڑا سا بھی ترس نہیں آتا ۔۔۔۔

وہ اسکی شرارت جان گیا تھا اس لئیے ناراض ہونے کی ایکٹنگ کرتا ھے ۔۔۔۔

ظہان ۔۔۔۔
میں آپ کو بتا رہی ہوں آپ مجھ سے ناراض نہیں ہوسکتے یہ آپ کو پہلی اور آخری بار بتا رہی ہوں ۔۔۔

مائنڈ اٹ

مجھے دوہرانے کی عادت نہیں ھے ۔۔۔۔

اووو تو مسز ۔۔۔۔۔۔

ہمیں آڈر دے رہیں ہیں ۔۔۔

مادام آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پہ ۔۔۔۔

حورا مسکراتی ھے اور ظہان جی جان سے اسکی ہنسی پر فدا ہوگیا تھا ۔۔۔

ظہان میں کب تک ٹھیک ہوجاو گی میں تنگ آگئی ہوں بیڈ پر سو سو کر اور مجھے سب کی بہت یاد آتی ھے ۔۔۔

اینجل ۔۔۔

مجھے کچھ بتانا ھے میری بات غور سے اور تحمل سے سننا ۔۔۔

وہ آپ کچھ عرصے تک چل نہیں پائے گی کیونکہ آپ کی کمر میں کچھ پرابلم ہوگئی تھی اور آپ کا ٹریٹمنٹ ہورہا ھے اور بہت جلد آپ چلنا شروع کریں گی ۔۔

اینجل ۔۔۔۔

وہ جیسے ہی اسکی طرف دیکھتا ھے اسے نیند آگئی تھی ۔۔

تو ظہان اسکے ماتھے پر پیار کرتا ھے

کتنے دن بعد ہمت باندھی تھی آج بتایا بھی تو اینجل کو نیند آگئی ۔۔۔۔

اف۔۔۔۔۔۔

__ ___ __ ___ __ ___ __ ___

اگلی صبح ظہان اپنی مماجانی کو کو کال کرتا ھے ۔۔۔

ہیلو ظہان میرے بچے کیسے ہوں مجھے تم دونوں کی بہت یاد آرہی تھی ظہان تم بول کیوں نہیں رہے ۔۔۔۔

ظہان ۔۔۔۔۔۔

م۔۔۔مماجانی وہ اینجل ۔۔۔۔

کیا ہوا ھے حورا کو سب ٹھیک تو ھے ناں ۔۔۔

مماجانی ۔۔۔

ظہان انہیں کل رات کے بارے میں بتاتا ھے اور ظہان حیدر شاہ اپنی مماجانی کے سامنے رو پڑتا ھے ۔۔۔

مجھ سے اینجل کی حالت دیکھی نہیں جارہی وہ بہت تکلیف میں ھے مماجانی اور میں اسے صرف تسلی اور دلاسہ کے علاوہ اور کچھ نہیں دے سکتا ۔۔۔
ظہان بلآخر اپنی مماجانی کے سامنے رو پڑتا ھے ۔۔۔

مماجانی آپ اینجل کے لئیے دعا کریں ناں ۔۔۔۔

حیات بیگم مسکراتی ہیں کیونکہ ظہان حیدر شاہ کی بچپن کی عادت تھی جو بھی بات اسے پریشان کرتی تھی وہ سیدھا اپنی پرابلم اپنی مماجانی سے شیئر کرتا تھا اور اسے یقن تھا کہ اسکی
مما جانی کی دعا بہت جلدی قبول ہوتی ھے ۔۔۔

ظہان میری جان میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔

ایک بات کہوں ۔۔۔۔

جی مما جانی حکم کریں ۔۔۔

مجھے پتا ھے آپ ہر ممکن کوشش کررہے ہیں حورا کی صحت کیلئے مگر ہماری ایک بات یاد رکھیے گا ۔۔۔

“دعا ” ہی ایک ایسا ذریعہ ھے جو ناممکن کو ممکن بناسکتی ھے اور خاص طور پر وہ دعا جو کامل یقین کے ساتھ مانگی جائے جس میں شک یا اگر مگر کا کوئی بھی عنصر شامل نا ہوں مطلب کہ میری دعا قبول ہوگی یا نہیں یہ بات بلکل بھی شامل نا ہو میرے مطابق ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ھے چاھے جلدی یا دیر مگر قبول ضرور ہوتی ھے ۔”

تم سمجھ رہے ہوں نا میری بات اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ رکھو اور ہر فکر سے آزاد ہوجاو

جی مما جانی ۔۔۔۔

اوکے مما جانی

اللہ حافظ ۔۔۔

☆☆☆☆☆

پھر ظہان اپنے بیڈ روم میں جاتا ھے جہاں اسکی زندگی اسکی اینجل اسکا انتظار کررہی تھی وہ اسکے پاس بیٹھتا ھے ۔۔۔

گڈ مارننگ اینجل ۔۔۔۔

مارننگ ظہان ۔۔۔۔

وہ جیسے ہی واچ کی طرف دیکھتی ھے اف ظہان ۔۔۔۔

دن کا ایک بج رہا ھے اور آپ مجھے اس وقت گڈ مارننگ کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔

تو کیا ہوا میری صبح تو اس وقت ہوتی ھے جب میری اینجل اٹھتی ھے ۔۔۔

یہ کیسا لاجک ھے ۔۔۔۔

بس میرا لاجک ھے ۔۔۔

اف ظہان آپ کو پتا ھے میں کبھی بھی اتنا لیٹ نہیں اٹھی میری اور پاپا کی عادت تھی ہم مارننگ واک ایک ساتھ کرتے تھے اور ڈھیر ساری باتیں کرتے تھے

ہہم تو اینجل اپنے پاپا کو ذیادہ عزیز ہیں فیروزے کے مقابلے ۔۔۔

پاپا فیروزے سے بھی بہت پیار کرتے ہیں مگر میں انکی ذیادہ لاڈلی ذیادہ پیاری پرنسسز ہوں اور فیروزے ممی کی پیاری شرارتی بیٹی ھے ۔۔۔

حورا پہلی بار اپنی فیملی کے بارے میں بات کررہی تھی اور ظہان انتہائی توجہ سے اسکی ہر بات سن رہا تھا

حورا کےکھانا اور دوائیاں کھانے کے بعد ظہان اسکے پاس بیٹھتا ھے ۔۔۔۔

اینجل وہ مجھے بہت اہم بات کرنی ھے ۔۔۔۔

جی بولیں ۔۔۔

وہ ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ کمر میں کچھ پرابلم ھے جسکی وجہ سے آپ کچھ عرصے تک چل نہیں پائے گی ۔۔۔۔

حورا جیسے ہی یہ بات سنتی ھے اپنے ہاتھ ظہان کے ہاتھوں سے الگ کرتی ھے ۔۔۔

لیکن وہ پھر سے اسکے ہاتھ تھام لیتا ھے ۔۔۔

صرف کچھ دونوں تک آپ نہیں چل پائیں گی ۔۔۔

مطلب ظہان میں معذور ۔۔۔

نہیں اینجل ایسا کچھ بھی نہیں ھے اور جب میں نے کہا ھے آپ ٹھیک ہوجائے گی تو آپ کو مجھ ہر اعتبار ہونا چاہیے ۔۔۔۔

کیا آپ کواعتبار نہیں ھے ۔۔۔

ن۔۔نہیں مجھے آپ پر اعتبار ھے ظہان ۔۔۔۔

تو پھر رو کیوں رہی ہیں جب کہ آپ کو پتا ھے آپکا رونا مجھے تکلیف دیتا ھے ۔۔۔

میں تو نہیں رو رہی ظہان ی۔۔یہ آنسو خود بخود بہہ رہیں ہیں رک نہیں رہیں تو میں کیا کرو ۔۔۔

میں جانتا ہوں اینجل یہ خبر سن کر آپ کا ری ایکشن جائز تھا مگر آپ یہ بات مت بھولیں جب تک میں آپ کے ساتھ ہوں آپ کو کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔

وہ روتی آنکھوں کے ساتھ ہاں میں سر ہلاتی ہے ۔۔۔

پھر اسکا ٹریٹمنٹ شروع کیا جاتا ھے تاکہ وہ چل سکے ۔۔۔

ظہان کے ساتھ اور اسکی محبت نے حورا کے اندر ہر درد برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیا تھااور اب وہ جو اٹھ نہیں سکتی تھی بہترین علاج کی وجہ سے اب خود سے بیٹھ سکتی تھی ۔۔۔۔

ظہان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز بھی اسکے جلدی ریکور ہونے پر خوش تھے ۔۔۔۔

حورا بیڈ سے ٹیک لگا کر اپنی سوچوں میں گم تھی تب ہی ظہان آتا ھے ۔۔۔۔

اینجل جلدی سے آنکھیں بند کرو ۔۔۔

وہ تابعداری سے آنکھیں بند کرتی ھے ۔۔۔۔

کھانے کی خوشبو سے اسے پتا لگ گیا کہ اسکی فیورٹ ڈش ھے

اف ۔۔۔۔۔
ظہان ۔۔۔۔

اب کیا میں آنکھیں کھول سکتی ہوں ۔۔۔؟؟؟

اوو سوری اینجل ۔۔۔

پھر وہ آنکھیں کھولتی ھے

میکرونی ۔۔۔۔

اینجل فرسٹ ٹائم کوکنگ کی ھے ۔۔۔۔

وہ ٹیسٹ کرتی ھے اور ظہان اسے دیکھ رہا تھا کہ پتا نہیں کیسی لگی ۔۔۔۔

مگر وہ اسے جان بوجھ کر اگنور کرکے کھانے میں لگی ہوئی تھی تنگ آکر ظہان خود ہی پوچھتا ھے ۔۔۔

اینجل بتایا نہیں کیسی لگی میکرونی ۔۔۔۔؟؟؟

بہت بہت ۔۔۔۔۔۔۔
یمی ٹیسٹی ۔۔۔۔

رئیلی ۔۔۔؟؟؟

آپ بھی تو کھائیں پھر وہ اپنے ہاتھوں سے اسے کھلاتی ھے ۔۔

ہہم ۔۔۔۔

اف اس میں تو نمک ذیادہ ھے اور تم کہہ رہی ہوں اچھی ھے ۔۔۔

نو اب تم یہ نہیں کھاو گی ۔۔۔

کیوں جب میں نے کہا ٹیسٹی ھے تو مطلب ٹیسٹی ھے ۔۔۔

دیں مجھے کھانی ھے ۔۔۔

نو۔۔۔۔۔

وہ پیچھے پکارتی رہتی ھے مگر وہ ملازم کو بلا کر شیف کا بنا ہوا کھانا لانے کو کہتا ھے ۔۔۔

حورا ناراضگی کے طور پر جلدی سے لیٹ جاتی ھے ۔۔۔

وہ مسکرا کر دیکھتا ھے ۔۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔

اٹھو کھانا کھا لوں ۔۔۔

مجھے نہیں کھانا ۔۔۔

آج اتنے دن بعد ذائقہ بدلا تھا اور وہ آپ نے نہیں کھانے دیا روزانہ ایک ہی پرہیزی کھانا کھا کر میرا ذائقہ خراب ہوگیا ھے ۔۔۔

اچھا سنو اینجل کل میں دوبارہ بناو گا ۔۔۔

پرامس ۔۔۔۔

ہہم چلو اب کھانا کھاو ۔۔۔

اوکے

کھانا کھاتے ہوئے وہ باتیں کر رہیں تھے ۔۔۔

ک ظہان کے سہارے کے ساتھ وہ پہلی بار چند قدم لیتی ھے مگر درد کی وجہ سےرک جاتی ھے وہ جلدی سے اسے سیدھا لیٹتا ھے ۔۔۔۔

ظہان مجھ سے نہیں ہوگا
ب۔۔۔۔بہت درد ہوتا ھے

اینجل یہ تو آپ کے علاج کا آخری مرحلہ ھے آپ کو حوصلہ سے کام لینا ہوگا ۔۔۔۔

نہیں ھے مجھ میں حوصلہ ظہان آپ سمجھ کیوں نہیں رہے میں کبھی بھی چل نہیں پاو گی ۔۔۔۔

چند قدم تو چل نہیں پائی اور آپ کو لگ رہا ھے میں ٹھیک ہوجاو گی ۔۔۔۔

حورا رو رہی تھی اور آج اسکی ہمت جواب دے گئی ۔۔۔۔

ظہان اسے گلے لگاتا ھے
ظہان آپ تنگ نہیں ہوئے اتنا عرصہ ہوگیا ھے مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ھے آپ ہر وقت میری وجہ سے پریشان رہتے ہیں وہ اسکے سینے میں منہ چھپائے اپنے اندر کا حال بتا رہی تھی ظہان مجھے ڈر لگتا ھے آپ کہیں مجھ سے بیزار نا ہوجائیں ۔۔۔۔

اب بس یا اور بھی کچھ کہنا ھے ۔۔۔۔

اینجل آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں میں اپنے عشق اپنے پیار سے بیزار ہوجاو گا مجھے ایک بات تو بتائیں کیا ہسبینڈ اور وائف کا رشتہ صرف سکھ تک ہوتا ھے کیا یہ رشتہ اتنا کمزور ہوتا ھے کہ جب آپ کی وائف بیمار ہو تو اس کو اگنور کر دیں کہ وہ ایک بوجھ بن گئی ھے ۔۔۔؟؟؟
نہیں میرے نزدیک ایسا نہیں ھے مثال کے طور پر اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو کیا آپ میری کیئر نا کرتی آپ دن رات ایک کردیتی تو اگر میں ایسا کررہا ہوں تو اس میں ایسا کیا ھے کہ آپ کے ذہن میں اتنے فضول سوچ آگئی ۔۔۔۔۔
رہی بات آپ کے دوبارہ سے چلنے کی تو مجھے اپنے رب پر پورا یقین ھے آپ چند دنوں میں پھر سے چلیں گی ۔۔۔

ظہان اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں سے پکڑتا ھے ۔۔۔۔

Angel just trust me

ظہان مجھے آپ کی عادت ہوتی جارہی ھے اور ویسے بھی محبت میں وسوسے تو ہوتے ہیں تو بس اس لیئے لیکن

I’m sorry

ساتھ ہی حورا اسکی طرف دیکھ کر معصوم سا چہرہ بناتی ھے اور ظہان ہنس پڑتا ھے

ظہان کے سمجھانے کا حورا پر اتنا اثر ہوتا ھے کہ اب وہ جدید مشینوں کے ذریعے بغیر ظہان کے سہارے کے چند قدم چلنا شروع کردیتی ھے مگر وہ ظہان کی نظروں کے حصار میں رہتی تھی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: