The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 39

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 39

–**–**–

شیری اور ظہان سب سے ملنے کے بعد روانہ ہوجاتے ہیں شیری آج کافی عرصے کے بعد بہت ذیادہ خوش تھا کیونکہ وہ اپنی جان سے عزیز بہن حورا سے ملنے والا تھا اور ظہان کو اسکے چہرے پر خوشی دیکھ اطمینان حاصل ہورہا تھا راستہ لمبا تھا مگر خوش ہونے کی وجہ سے شیری کو محسوس نہیں ہورہا تھا دونوں ہی اپنے اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے شیری سوچ رہا تھا کہ حورا سس سے ملوں گا تو یہ کہوں گا اور ظہان بھی اپنی اینجل کے لئیے پریشان تھا وہ پہلی مرتبہ چند گھنٹوں کے لیئے ہی سہی مگر اس سے دور ہوا تھا وہ تیز ڈرائیو کررہا تھا تاکہ اینجل کے پاس جلد سے جلد پہنچ سکے

شیری بہت ساری باتیں کرنا چاہ رہا تھا مگر ظہان کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر ارادہ ملتوی کر دیتا ھے ۔۔۔

ظہان کی لینڈ کروزر بلاآخر خوبصورت سے محل میں داخل ہوتی ھے جس کے فرنٹ ڈور پر لکھا ہوا تھا

“” Dream House Of Zuhan
and Hurrah “”

شیری اس محل کو انتہائی محویت سے دیکھ رہا تھا جہاں گیٹ کے اردگرد سیکورٹی گارڈز کی فوج تھی اس کے جدید سیکیورٹی کا بھی انتظام تھا گاڑی محل کے اندر داخل ہوتی ھے اور اردگرد کی خوبصورتی دیکھ کر شیری بھول گیا تھا کہ وہ کہاں ھے اور کیوں ھے رات کا سما تھا تو وہ محل روشنی سے نہایا ہوا تھا آس پاس تمام ڈیکوریشن بلکل اصل تھی وہ محل قدرتی خوبصورتی کا شاہکار تھا

سامنے سے نظر آتے پہاڑ اور آس پاس سرسبز درختوں نے محل کو گھیرہ ہوا تھا ۔۔۔

شیری پر تواسکی خوبصورتی کا سحر طاری تھا وہ ظہان کے ہاتھ لگانے پر ہوش میں آتا ھے۔

شیری اندر چلیں تمہاری حورا سس کے پاس ۔۔۔۔

جی بھائی چلیں ۔۔۔
وہ جیسے ہی اندر داخل ہوتے ھیں تو اسکی اندرونی خوبصورتی بھی قابل دید تھی شیری کے لیئے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ محل کا بیرونی حصہ پیارا ھے یا اندرونی ۔۔۔

محل اتنا دلکش اور حسین کیوں نا ہوتا وہ ظہان کے خوابوں کا محل تھا ۔۔۔۔۔

شیری یہ تمہارا روم ھے تم پہلے فریش ہوجاو ۔۔۔

بھائی پہلے میں حورا سس سے مل لوں پھر فریش ہوجاوگا۔

چلو پھر

شیری کے ساتھ والا کمرہ ہی حورا کا کمرہ تھا وہ دونوں ہی روم میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں حورا کی غصہ بھری آواز آتی ھے ۔۔۔

ہونہہ ویسے تو ہر وقت اینجل اینجل کرتے رہتے ہیں اور اب کتنا ٹائم ہوگیا ھے پتا نہیں کہاں چلے گئے ہیں وعدہ کیا تھا ہر وقت پاس رہوں گا مکر گئے اپنے وعدے سے میں نے بھی سوچ لیا ھے کوئی بات نہیں کرو گی پکی والی ناراض ہوجاو گی آنکھوں میں آنسو کو پرے دھکیلتی ھے ۔۔۔۔

ظہان پیچھے سے اسے ہگ کرتا ھے اینجل پلیز پکی والی ناراض مت ہونا ورنہ میرا کیا ہوگا۔ ۔

حورا کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ھے مگر وہ پھر سے سنجیدہ ہوجاتی ھے ۔ ۔۔۔

کون ہیں آپ؟
میں تو آپ کو نہیں جانتی ۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔۔

اچھا پہلے میری بات سن لو پھر ڈیسائڈ کرنا کہ ناراض ہونا ھے یا نہیں ۔۔۔۔

ظہان پھر سے اسے ہگ کرتا ھے اوراس بار اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔۔۔۔

تمہارے لیئے ایک سرپرائز ھے ۔۔۔

آنکھیں بند کرو
وہ آنکھیں بند کرتی ھے ۔ ۔۔۔

وہ شیری کو اشارہ کرتا ھے کہ سامنے آئے شیری جو خوش ہوکر اپنی سس کی باتیں مطلب شکایتیں سن رہا تھا اب اس کے سامنے آتا ھے وہ حورا کو بہت ہی پیار سے دیکھ رہا تھا اتنے عرصے بعد شیری کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں پھر وہ حورا کا ہاتھ تھامتا ھے اور حورا سرگوشی میں کہتی ھے کیوٹ ہیرو وہ جھٹ سے آنکھیں کھولتی ھے سامنے شیری کو دیکھ کر وہ بے انتہا خوش ہوجاتی ھے

ظہان ۔۔۔۔
کیا آپ کو شیری نظر آرہا ھے یا یہ پھر سے میرا خواب یا خیال ھے ۔۔۔

پھر وہ آہستہ سے ہاتھ اسکے چہرے کی طرف بڑھاتی ھے اسکا ہاتھ جیسے ہی شیری کے چہرے کو چھوتا ھے شیری اس ہاتھ کو عقیدت سے تھام لیتا ھے

شیری میرے کیوٹ ہیرو ۔۔۔۔
یہ سچ میں تم ہی ہو نا ۔۔۔۔
تم بول کیوں نہیں رہے اور یہ کیا حالت بنائی ہوئی ۔۔۔

شیری ۔۔۔۔۔

وہ اپنی سس کے گلے ملتا ھے اور پھر بے تحاشا روتا ھے حورا کا بھی یہی حال تھا وہ بھی رو رہی تھی ظہان جو اب دونوں سے دور ہوکر بیٹھا تھا جب وہ رونا بند نہیں کرتے تو وہ انکے پاس آکر دھمکی دیتا ھے

اینجل اور شیری اگر تم دونوں نے رونا بند نا کیا تو شیری تمہیں واپس بجھوا دوں گا ۔۔۔

ظہان کی دھمکی سنتے ہی دونوں جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہیں ۔۔۔

ہ ۔۔۔ہم تو نہیں رو رہے ہیں ناں شیری ۔۔۔

جی بھائی ہم کہاں رو رہے تھے

اچھا ۔۔۔۔

شیری اپنی سس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتا ھے کیونکہ وہ ابھی بھی رو رہے تھے اور انہیں ڈر تھا ظہان اپنی دھمکی پر عمل نا کرلے ۔۔۔۔

ظہان دونوں کی حرکت پر مسکراتا ھے۔۔۔۔

اوکے اب تمہاری میڈیسن کا ٹائم ہورہا ھے کھانا کھایا تھا تم نے ۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔

میں جان سکتا ہوں کیوں ۔۔؟؟؟

حورا مدد طلب نظروں سے شیری کی طرف دیکھتی ھے مگر وہ کوئی رسپانس نہیں دیتا۔۔۔

اوکے سس میں سونے جا رہا ہوں صبح ملاقات ہو گی ۔۔۔

او کے ۔۔۔۔۔۔

شیری تم نے بھی تو کھانا نہیں کھایا تھا پہلے تم کھانا کھا لوں

نو مجھے بس سونا ھے گڈ نائٹ وہ اپنے روم میں چلا جاتا ھے ۔۔

ظہان ناراض سی نظر اینجل پر ڈالتا ھے تب ہی دروازے پر دستک ہوتی ھے اور سامنے شیری ہوتا ھے

حورا سس آپ کو ان سے ڈرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ھے آپ کا بھائی آگیا ھے ناں تو سب سنبھال لے گا ۔۔

شیری کی بات سن کر وہ طنزیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتی ھے اور ظہان اس کو جواب دیے بغیر شیری کو لے کر روم سے باہر جاتا ھے۔۔۔۔

ہاں تو شیری اب بولو کیا کہہ رہے تھے

ک۔۔۔کچھ بھی تو نہیں بھائی مجھے ننید آرہی ھے وہ جلدی سے روم میں جاتا ھے پییچھے ظہان کا قہقہ سنائی دیتا ھے ۔

حورا انتظار کر رہی تھی
تب ہی ظہان آتا ھے اس کے ساتھ میڈ تھی جو کھانا لے کر آئی تھی یہاں رکھ دیں ۔۔۔

اوکے سر ۔۔۔

اسکے جانے کے بعد وہ اینجل کے پاس جاتا ھے اور ہاتھ بڑھاتا ھے جسے وہ جلدی سے تھام لیتی ھے پھر ظہان کی مدد سے وہ آہستہ آہستہ چلتی ھے اور صوفے پر بیٹھتی ھے سامنے ہی ٹیبل پر کھانا رکھا ہوا تھا۔۔۔

وہ کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلا رہا تھا حورا بھی آج بغیر تنگ کیے آرام سے کھا رہی تھی کھانا کے بعد وہ اسے دوائی کھلاتاھے اس دوران وہ کوئی بھی بات نہیں کرتا ۔۔۔

حورا اب خود چلنے کی کوشش کرتی ھے وہ آہستہ سے قدم اٹھا رہی تھی ظہان اسے دیکھتا رہتا ھے پھر وہ خود ہی بیڈ پر بیٹھتی ھے آج پہلی بار وہ اکیلی کسی سہارے کے بغیر چلی تھی ظہان بہت ذیادہ خوش تھا مگر وہ فلحال اینجل سے ناراض تھا

وہ فریش ہوکر حورا کے پاس سوتا ھے وہ جلدی سے آنکھیں بند کرلیتی ھے مگر اسکی پلکوں کی لرزش سے لگ رہا تھا کہ وہ جاگ رہی تھی وہ انتظار میں تھی ہر رات کی طرح ظہان اسے ماتھے پر کس کرے گا ۔۔۔

مگر ظہان ایسا نہیں کرتا اور کروٹ بدل کر سوجاتا ھے وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے اسکی پیٹھ دیکھتی ھے اور پھر بے آواز رونا شروع کردیتی ھے ۔۔۔

ظہان اسکی طرف دیکھتا ھے جو آنکھیں بند کرکے رو رہی تھی وہ اسکے آنسو صاف کرتا ھے ۔۔۔

حورا اب بھی رو رہی تھی وہ پہلی بار اس سے ناراض ہوا تھا ۔۔

اینجل ۔۔۔۔۔
ظہان اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیتا ھے
پلیز رونا بند کرو ۔۔

ظ ۔۔۔ظہان جب میں اٹھی تو آپ نہیں تھے میرے پاس میں کتنی دیر تک آ۔۔۔آپ کا انتظار کرتی رہی میڈ کتنی بار آئی کہ کھانا کھا لیں میڈیسن کا ٹائم ہورہا ھے مگر مجھے آپ پر بہت ذیادہ غصہ تھا اس لیئے میں نے نا کھانا کھایا اور نا ہی میڈیسن لی ۔۔

اینجل ٹھیک ھے میری غلطی تھی آپ کو بتا کر جانا چاھیے تھا مگر آپ جانتی اگر آپ نے تھوڑی بھی دوائی کھانے میں کوتاہی کی تو آپ ۔۔۔۔۔

کیوں کیا آپ نے ایسا آپ کیا مجھ سے دور ہونا چاھتی ہیں ۔۔

ن۔۔۔نہیں ظہان
سوری نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔

پھر وہ اسکے سینے میں منہ چھپالیتی ھے آپ مجھ سے ناراض ہوئے اور مجھے گڈنائٹ بھی نہیں کہا ۔۔۔

میں آپ کو بتا رہی ہوں ظہان یہ پہلی اور آخری بار تھا آپ سے ناراض ہونے کا حق صرف میرے پاس ھے آپ کبھی بھی مجھ سے ناراض نہیں ہونگے وعدہ کریں ۔۔۔۔

اوکے اینجل وعدہ وہ اسے گڈنائٹ کہتا ھے چلو اب سوجاو ۔۔

مجھے ننید نہیں آرہی میں بہت خوش ہوں آج شیری سے مل کر

آپ نے نوٹ کیا شیری کتنا ویک ہوگیا ھے میں تو پریشان ہوگئ ہوں ۔۔

اینجل اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ھے اتنے عرصے بعد ملی ہیں تو شیری ویک لگ رہا ھے

ہہم ایسا ہوگا ۔۔۔

اینجل ۔۔۔۔

ظہان پلیز کچھ اور دیر پھر وہ باتیں کرتی رہتی ھے اور ظہان اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا رہتا ھے اور پھر وہ نیند کی وادیوں میں چلی جاتی ھے ۔

♡♡♡♡♡♡

صبح شیری فریش فریش سا اٹھتا ھے وہ باہر لان میں جاتا جہاں ظہان پہلے سے موجود تھا

گڈ مارننگ بھائی ۔۔۔۔

مارننگ ۔۔۔۔۔

حورا سس جاگ گئی ہیں ۔۔؟؟

نہیں ۔۔۔

مجھے آپ سے بہت اہم بات کرنی ھے ۔۔۔

ہہم میں سن رہا ہوں ۔۔۔

وہ حورا سس اتنی ویک کیوں ہیں اور ڈاکٹر نے کیا کہا تھا وہ کب تک پہلے جیسی ہونگی بھائی میں اب آپ کے ساتھ رہوں گا جب تک وہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوتی ۔۔۔۔

شیری حورا زندہ ھے اور میرے پاس ھے یہی بات میرے لیئے کافی ھے رہی بات اسکی صحت کی تو ڈاکٹرز کے مطابق وہ جلد ہی ٹھیک ہوجائے گی اور پتا تم بہت لکی ہوں اینجل کل رات پہلی بار خود سے چلی تھی سہارے کے بغیر ۔۔۔

رئیلی بھائی

ہہم ۔۔۔۔

بھائی میں یہی رہوں گا ۔۔۔

اوکے اب ہم ایک ساتھ واپس جائیں گے ہاں فارب سے بات کرلینا کب سے کال کر رہا ھے

ناشتہ کے بعد کرو گا بات ۔۔۔

شیری پھر سارا دن حورا کے پاس رہتا ھے اور آیت کی شادی کی پکس دیکھاتا ھے وہ ہر پل دیکھ رہی تھی اور دل میں اداس بھی تھی کہ کاش میں بھی آیت کی شادی اٹینڈ کرتی ۔۔۔۔

حورا سس آپ اداس کیوں ہورہی ہیں آیت کا ولیمہ تب ہوگا جب آپ مکمل طور پر
صحت یاب ہوجائیں گی ۔۔۔

چلیں آپ کی میڈیسن کا ٹائم ہورہا ھے جلدی سے کھائیں ۔۔۔

شیری مجھے نہیں کھانی میں تنگ آگئی ہوں ۔۔

اوکے ظہان بھائی کو کال کرتا ہوں ۔۔۔۔

اف شیری ۔۔۔
لاو دو کھاتی ہوں ۔۔۔

شیری کی سنگت میں وہ جلدی ریکور ہورہی تھی اور خود شیری بھی اب مینٹلی پرسکون تھا ۔۔۔

♡♡♡♡♡♡

صبح جب ظہان کی آنکھ کھلتی ھے تو اسے حورا روم میں دکھائی نہیں دیتی وہ بھاگ کر پورے روم کو چیک کرتا ھے مگر وہ کہیں نہیں تھی ۔۔۔

ظہان حیدر شاہ کی یہی پہ صیح معنی میں جان ہوا ہوئی پھر وہ جلدی سے روم سے نکل کر پورے ڈریم ہاوس میں حورا کو دیکھتا ھے مگر وہ اسے ڈریم ہاوس کے کسی کونے میں بھی نہیں ملتی ظہان پاگلوں کی طرح سارے نوکروں پر چلاتا ھے ۔۔۔۔۔۔

پھر وہ بنا کسی کی کچھ سنے ڈریم ہاوس کے عالیشان گارڈن میں جاتا ھے جہاں دنیا کے ہر طرح کے خوبصورت پودے اور گرینری تھی جو رقبے میں اتنا بڑا تھا کہ اس پورے ڈریم ہاوس کے گارڈن میں گھومتے گھومتے شام ہوجاتی یہ ڈریم ہاوس کا گاڑڈن خوبصورتی کا شاہکار تھا ۔۔۔۔۔۔۔

پھر وہ حورا کو ڈھونڈتے ہوئے اس جگہ پہنچتا ھے جہاں اسکی متاع جاں گاڑڈن میں موجود بہت سے خوبصورت درختوں سے گرنے والے پھولوں سے کھیل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

وہ منظر ہی اتنا دلچسب تھا کہ اسکی اینجل یلو ڈریس میں سرخ اور اناری رنگ کے ملے جلے پھولوں سے کھیلنے میں مگن تھی تو یہ حسین منظر دیکھتے ہوئے ظہان اپنا غصہ بھول جاتا ہے وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کہاں ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے یاد تھا تو اتنا کہ اسکی اینجل اپنے پیروں پر چل کر بنا کسی سہارے کے یہاں آئی ھے اور اب پورے گاڑڈن میں ان خوبصورت پھولوں کے ساتھ کھیل رہی ھے جو یہاں وہاں جھوم جھوم کر گررہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید وہ بھی ظہان حیدر شاہ کی اینجل اسکی حورا کے ساتھ مستی کرتے ہوئے بہت خوش تھے ۔۔۔۔۔

پھر ظہان دوڑ کر حورا کے پاس جاتا ہے اور اسے ہگ کرتا ھے حورا اچانک ظہان کو اپنے اتنے پاس دیکھ کر گھبرا جاتی ھے مگر پھر وہ بھی اسے خود میں سموتی ھے ۔۔۔۔

اینجل میں اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کروں اتنا ہی کم ھے کہ تم خود چل کر یہاں تک آئی اور کوئی پین بھی نہیں ہوا میری اینجل کو ہاں ۔۔۔۔۔

جی ظہان میری جان میں بلکل ٹھیک ہوگئی دیکھیں میں پہلے کی طرح چل سکتی ہوں اور دوڑ بھی سکتی ہوں وہ یہ کہتے ہوئے گھوم کر چل کر دیکھاتی ھے اور ظہان کی آنکھوں میں اپنی اینجل کو ٹھیک دیکھ کر خوشی کے آنسو آجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

پھر وہ حورا کو اپنی باہوں میں اٹھا کر گول گول گھومتا ھے اور پھر حورا کے چہرے کو دیوانہ وار چومتا ھے آج ظہان حیدر شاہ اتنا خوش تھا کہ شاید ہی کوئی اتنا خوش ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر وہ ظہان کے ساتھ اب وہ مارننگ واک کررہی تھی اور ظہان نے اسکے چلنے کی خوشی سب کے ساتھ شئر کی تھی آیت بیگم اور سکندر شاہ نے پورے شہر میں مٹھائی بانٹی تھی اور اعلی’ پیمانے پر تمام امیروغریب کے لئیے کھانے کا اہتمام کیا تھا ۔۔

ظہان ہم واپس کب جائیں گے ۔۔۔؟؟؟

جب اینجل پہلے کی طرح ٹھیک ہوجائے گی ۔۔۔

میں اب ٹھیک ہوں ظہان پیلز مجھے آج بلکہ ابھی واپس جانا ھے ۔۔۔

مگر ۔۔۔۔

اگر مگر کچھ نہیں آپکو مسز ظہان حیدر شاہ کا یہ حکم ماننا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔

Hahaha……..
Ok my Queen……
My life………
My Angel………

آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔
یہ سننے کی دیر تھی کہ حورا خوشی میں ظہان کے گلے لگتی ھے اور اسے گال پر کس کرتی ھے پھر ظہان بھی اپنی اینجل کی خوشی میں خوش تھا ۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد وہ دونوں بریک فاسٹ کرتے ہیں اور پھر ظہان فارب کو کال کرکے اپنے آنے کا کہتا ھے اور ساتھ میں وہ فارب کو یہ سب سیکرٹ رکھنے کا کہتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: