The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 6

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 6

–**–**–

 

سفید گھوڑے پر وہ چاند اپنی چاندنی کے ساتھ سوار ہوکہ جھیل کی طرف جارہا ہوتا ہے ۔
وہ انتہائی خوش دیکھائی دے رہا ہوتا ھے کیونکہ اسکی اینجل آج پہلی بار اسکے اس حسین خواب میں اسکے ساتھ اسکے پسندیدہ گھوڑے پر سوار ہوکہ ان حسین مناظر کو اینجوائے کررہی ہوتی ھے ۔
کہ راستے میں لمبے، گھنے درخت موجود ہوتے ہیں اور چاند ان درختوں کی اوٹ سے انہیں ایک ساتھ دیکھ کہ خوش ہوتا ھے اور پھر کہیں چھپ جاتا ھے ۔
کہ اچانک سے وہ اس جھیل پر پہنچتے ہیں اور وہ اپنی اینجل کو اس گھوڑے سے نیچے اتارنے میں مدد کرنے کیلئے اپنا ہاتھ بڑھاتا
تو وہ اسکی کشادہ مگر خوبصورت ہتھیلی پر اپنا نازک ہاتھ رکھ کر جیسے ہی اترنے لگتی ھے تو نیچے گرنے لگتی ھے
کہ وہ اسے فورا” سے تھام لیتا ھے جسکی وجہ سے وہ پری پیکر اسکی بانہوں میں ہوتی ھے کہ اچانک سے اسکی ہیزل آئیز اس شہزادے کی ڈارک بلیک آئز سے ٹکڑاتی ہیں اور وہ ان سحر زدہ آنکھوں میں میں ہی کہیں کھو جاتی ھے ۔
جیسے اس شہزادے نے اس پری پر جادو کردیا ہو ۔۔۔۔۔۔
شاید یہی وجہ تھی وہ پری اسکے سحر میں جکڑ گئی تھی ۔۔۔۔
اور ادھر اس خوبرو نوجوان جس نے بلیو جینز پر وائٹ شرٹ زیب تن کی ہوئ تھی ہلکی ہلکی بیئر میں گھنی موچھوں کہ ساتھ نہایت ہی دلکش لگ رہا تھا ۔
وہ شہزادہ تو اپنی اس پری کو دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ اسے اس سحر میں نکلنے میں بھی اسکی اینجل نے مدد دی ۔

کیونکہ وہ اینجل گڑبڑا کہ اسکی بانہوںسے نکلنے کی کوشش کرتی ھے اور اسطرح وہ اس سحر سے باہر نکالتا ھے ۔
اسے پہلے وہ پری اسکے حصار سے نکلتی تو اس شہزادے نے بانہوں کہ گھیرے کو مزید تنگ کر دیا ۔
اور اپنی جگنو کہ جیسی چمکتی آنکھوں کو اسکی آنکھوں میں گاڑھ دیا
کہ اچانک اس پری نے بولنے کی کوشش کی تو اس شہزادے نے اپنی انگلی اسکے ہونٹوں پہ رکھ کر اسے کچھ بھی بولنے سے روک دیا ۔
کیونکہ اس وقت وہ صرف اور صرف اپنی اینجل کو محسوس کرنا چاہتا تھا ۔ اسے جی بھر کہ دیکھنا چاہتاتھا اسکی ہیزل آنکھوں میں کہی کھو جانا چاہتا تھا اور اسے باور کروانا چاہتا تھا کہ وہ اسکے لیے کتنی خاص ھے وہ اسے محسوس کروانا چاہتا تھا کہ وہ کتنا ترپتا تھا جب وہ اسکے پاس نہیں ہوتی تھی وہ کتنا اسے یاد کرتا تھا ۔
وہ اس پری پیکر کو بتانا چاہتا تھا کہ اس نے اپنے رب سے اس شہزادی کے ملنے کی کتنی دعائیں کیں ۔
اور پھر اچانک ٹھنڈی ہوا چلتی ھے اور وہ ہوش کی دنیا میں آتا ھے اور وہ اپنی اینجل کا ہاتھ تھام کر چلتا ھے اور جھیل کنارے پہنچتا ھے ۔
سرسبز درختوں، پھولوں اور
ڈالیوں نے ملکر ایک سحر انگیز نظارہ پیش کررہے ہوتے ہیں ۔
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے وہ دونوں جھیل کے کنارے پر اردگرد پڑے ہوئے پتھروں پر بیٹھ جاتے ہیں اور کافی دیر تک وہ یونہی خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور
پھر وہ اینجل جھیل کو دیکھ اس قدر خوش ہوتی ھے کہ اسکی خوشی کا اندازہ اسکے چہرے پر دیکھائی دے رہا ہوتا ھے ۔
اور اسطرح وہ شہزادہ اپنی اینجل کو خوش دیکھ کر خوش ہوجاتا ھے اور کافی دیر تک دیکھنے کہ بعد وہ اسے اچانک اپنی طرف کھنچتا ھے اور اسکے ماتھے پر محبت اور عقیدت بھرا لمس چھوڑ دیتا ہے اور اسکا ہاتھ تھام کر ان حسین مناظر میں کھو جاتا ہے
کہ
چاند بادلوں سے چھپ کر ان دو لو برڈز کو دیکھتا ھے اور پھر سے چھپ جاتا ھے ۔

جھیل کہ شفاف پانی میں
عکس تھا دو چہروں کا
پھر وہی چاندنی رات تھی
مگر منظر اس بار بدلہ تھا
چاند اپنی چاندنی کے سنگ
جھیل کنارے بیٹھا تھا

“““““““`““““`°“`
اچانک اس شخص کی آنکھ کھلتی ھے کتنی دیر تک وہ اپنے خواب کے بارے میں سوچتا رہتا ھے ۔ پھر فجر کی اذان کی آواز اسکے کانوں میں پڑتی ھے اور وہ وضو کرکے اپنے رب کہ حضور کھڑا ہوتا ہے اور اپنے پروردیگار سے اپنی معصوم اینجل کے ملنے کی دعا کرتا ہے ________

💕💕💕

دراب خان حویلی پہنچنے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوجاتا ھے اسکے باباجان بہت بڑے جلسے کا اہتمام کرواتے ہیں ۔

جلسے کی تیاریاں دراب خان اپنی نگرانی میں کرواتا ہے ۔اس دوران نوید سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہتا ھے ۔
اور دراب اپنے باباجانسے سیاسی مخالفین کے بارے میں پوچھتا ہے ۔
نوید کو وہ ایک فائل دیتا ہے جس میں اسکے مخالفین کے نام ہوتے ہیں
مجھے ہر ایک کی پوری ڈیٹیلز چاہیے
تمہارے پاس آج رات کا وقت ہے
کون کیا کرتا ہے؟ کہاں جاتا ہے ہر ایک بات کا پتہ لگائو ۔۔۔
اوکے سر !! کل رات تک آپ کو فائل مل جائے گی۔
ٹھیک ھے! اب تم جاسکتے ہو ۔۔ ۔۔

اگلے دن دراب خان اپنے باباجان کے ساتھ جلسے میں شریک ہوتا ھے ۔ان کے گاؤں کے لوگ چونکہ بہت عزت کرتے ہیں دراب خان کو دیکھ کر بہت خوش ہوجاتے
ہیں ۔۔۔
اپنے باباجان کے خطاب کے بعد وہ دراب کو بھی کچھ کہنے کی دعوت دیتے ہیں ۔۔۔
پوری عوام دراب کے خطاب کے بعد پاگل ہوجاتی ہے ۔۔۔۔اسکا
لب ولہجہ ہی ایسا ہوتا کہ سب کو حیران کردیتا ھے ۔۔۔
“دارب خان ” زندہ باد
“دراب خان ” زندہ باد
کے نعرے لگاتے ہیں ۔
واپسی پر وہ اپنے باباجان کے ساتھ بات چیت کرتا ہے ۔۔۔
عوام کا جوش وجذبہ دیکھ کر تو لگ رہا ھے اس دفعہ الیکشن ہم ہی جیتے گے ۔۔
گستاخی معاف باباجان!! مگر یہ تو صرف پہلہ جلسہ تھا آپ ابتدائی طور پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتے ۔ہمارے عوام بہت چالاک اور شاطر ہیں ۔ یہ ووٹ انہی کو دیں گے جہاں پر انکو ذاتی فائدہ ہوگا ۔۔۔۔اس لیئے ابھی میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا ۔۔۔۔

آج کے جلسے کے دوران مجھے یہ پتہ چل گیا ھے کہ یہ لوگ صرف اور صرف اپنے خاندانی سربراہوں کی رائے پر چلتے ہیں اس لیئے آپ کوشش کریں ان تمام لوگوں کے جو خاندانی سربراہ یا بڑے بزرگ ہیں ان سے بات کرکے معاملات طے پائیں تاکہ ذیادہ سے ذیادہ چانسز بڑھ جائیں گے ۔۔۔۔
ہمم بات تو تم صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔
ٹھیک ھے پہلے یہ کام کرتے ہیں ۔۔۔
ویسے دراب بیٹا! ہمارے زمانے میں تو لوگ بس اپنے گاؤں کے سربراہ کو ہی سب کچھ سمجھتے تھے آج کل تو یہ سوچ کہیں کھوگئی ہے ۔۔۔جی باباجان
آپ کا پہلے والا دور نہیں رہا اب الیکشن میں کامیاب ہونے کے لیئے انتہائ چالاک اور ذہین اور شاطر دماغ کی ضرورت ھے ۔۔
اور ان معمولی اور دو ٹکےکے لوگوں کو کیسے ہینڈل کرنا ھے میں اچھے سے جانتا ہوں ۔

حویلی پہنچنے کے بعد دراب سیدھا اپنے کمرے میں جاتا ھے
آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا ۔۔۔۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوتی ھے ۔۔
کم ان ۔۔۔
نوید کمرے میں داخل ہوتا ھے سر آپ نے جو کام دیا تھا وہ ہوگیا ہے ہر ایک چیز تفصیل کے ساتھ اس فائل میں موجود ہے ۔۔۔
شاباش!! نوید اب تم جاسکتے ہو ۔
فریش ہونے کے بعد دراب فائل کو پڑھنا شروع کرتا ہے ۔۔
جیسے جیسے وہ پڑھتاجاتا ہے اسکے ماتھے پہ لکیروں میں اضافہ ہوتا جاتا ھے ۔۔۔
ان مخالفین کے ناموں میں ایک نام ایسا تھا جس پردراب خان جیسے ذہین انسان کو دھچکا لگاتھا ۔۔
ناممکن!! ایسا کیسے ہوسکتا ہے اس شخص کا سارا بائیوڈیٹا بلکل کلیئر ہے ۔۔۔کوئی بھی منفی خبر نہیں ۔۔۔۔۔
عوام میں دن بعد دن مقبول ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔
اس شخص کے خلاف کوئی بھی سکینڈل نہیں جسے مہرہ بنا کر کھیل جیتاجائے ۔۔۔
خیر میرا نام بھی ” دراب خان ” ہے اور میرے سامنے کسی کا دیر تک ٹکنا ناممکن ہے۔۔۔
اس شخص کے نام کو دراب مارک کرتا ہے اور مذید انفارمیشن نکالتا ہے ۔۔۔

💞💞💞
اسلام آباد کے خوبصورت ایریا میں فوٹو شوٹ ہورہا تھا
فارب شاہ خود ماڈلنگ کر رہا ہوتا ھے ۔۔۔۔۔جوکہ مختلف اینگلز میں پوز رے رہا تھا ۔
کچھ دیر بعد وہ ماڈل زوئی کے ساتھ فوٹو شوٹ کرواتا ہے سب کچھ ٹھیک چل رہا ہوتا ھے کہ اچانک آسمان پر بادل بن جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد بارش شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔۔
فارب شاہ کا کام ادھورا رہ جاتا ہے پوری ٹیم جلدی سے سامان اکھٹا کرکے جانا شروع ہو جاتی ہے
اور وہ وہیں
بارش میں بھیگ رہا ہوتا ھے اور پھر اچانک اسے اپنے چہرے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوتا ہے آنکھیں کھولنے پہ زوئی وہی خوبصورت ماڈل ہوتی ہے جسکے ساتھ فارب کا شوٹ ہوتا ھے ۔۔۔۔

فارب کتنا اچھا موسم ہوگیا ہے کیوں نہ ہم دونوں اکٹھے انجوائے کریں ۔۔۔۔زوئی کافی عرصے سے فارب کے پیچھے پڑی ہوتی ھے ۔۔۔کنٹڑیک کی وجہ سے فارب بخاری اسے برداشت کررہا ہوتا ھے ۔
وہ انکار کردیتا ہے اور وہاں سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا جاتا ھے ۔۔۔۔
مگر کسی نے اس لمحے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیتا ہے
جب وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے ہوتے ہیں
یہ سچ ہے خوبصورتی کو سراہانا فارب شاہ کی عادت ہے مگر جو اس کے لیئے خطرہ ہو اس سے دور رہنا فارب کی فطرت ہے ۔۔۔۔
انتہائی غصے میں فارب ڈرائیونگ کرکے آفس جاتا ھے ۔
ہر شہر میں اس کے آفس کی برانچ موجود ہوتی ہے ۔۔۔۔
وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسکی پرسنل سیکٹری میٹنگ کی لسٹ لے کر آتی ہے ۔۔۔
تووہ آج کے دن کی ساری میٹنگز کینسل کردیتا ہے ۔۔۔اور واپس چلا جاتا ہے کیونکہ اسکا موڈ کافی خراب ہوتا ہے

💕💕💕💕💕

ظہان حیدر شاہ پاڑٹی کے اجلاس میں مصروف ہوتا ہے تب اسکے سیل پر کال آتی ھے ۔
سیل چونکہ سائلنٹ پر ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ دیکھ نہیں پاتا
کال دوبارہ آتی ہے تو وہ کال ڈراپ کررہا ہوتا ہے مگر کال کرنے والے کا نام دیکھ کر اسکے چہرے پر سمائل گہری ہوجاتی ہے ۔ اور پھر وہ کال اٹینڈ کرتا ھے اور میٹنگ ختم کرنے کا کہہ کر واپس اپنے آفس میں آجاتا ھے ۔
Helo buddy what’s up

اوہ
Thank God that you remember you have a best frnd.

I’m i right mr.zuhan Haider Shah?

ہاہاہاہاہاہا
ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔
ارے یار میرے جگر اتنا غصہ
تھوڑا سانس لو یار
بس تھوڑا اجلاس میں بزی تھا

Ohhhhhh
Seriously……

مجھے تو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تو بزی ھے ورنہ میں کال نہ کرتا ۔
Ok then byeeeee

تو اپنا اجلاس اٹینڈ کر
_______

بس بس ڈرامے باز ۔۔۔۔۔
اب میں بزی نہیں ہوں ۔۔۔۔
تم بتاو آج کیسے یاد کرلیا کیسے ہماری یاد آئی ۔
ہاہاہاہاہاہا یار سنا ہے موصوف بہت بڑے جانے مانے پولیٹیشن بن گئے ہیں تو سوچا کانگریس ہی کرلو وہ کیا ھے نہ کہ کبھی مجھ غریب کو کام بھی پڑ سکتا ھے اسلیے تھوڑا بریڈ، جیم وغیرہ وغیرہ لگا کہ اپنے کچھ کام نکلوا لیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ یار

ارے میں مبارک باد دے رہا ہوں اور تو ہنس رہا ہے ۔

ہاں ہنسو نہیں تو اور کیا کروں تو سالے تو اور غریب حد ھے یار تو اگر چاہے تو پورے ملک کو خرید لے اور بات کرتا ھے کہ غریب ہے مجھ سے تو زیادہ تو امیر ھے ۔۔۔۔۔

اچھا اچھا اب بس بھی کر اور بتا کیسا ھے

ہاں میں ٹھیک اور تو
I’m good but i miss you alot……..

کافی ٹائم سے ہم ملے نہیں بس اس بار کوئی پلان بناو

ہاں ٹھیک !
جب تم کہو مل لیتے ہیں ۔
Ok done
So ! Byee
T.c
Allah hafiz
&

بس میرے بھائی بس کردے اپنی اتنی لمبی گڈ بائے کو ڈرامے باز کہیں کا ۔

ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔
یار تو بھی نہ چل پھر بعد میں ملتے ہیں

اوکے بائے
Hahaha bye see you soon

💕💕💕

رات کے پچھلے پہر کوئی زوہیب ولا میں سیکنڈ فلور پر موجود رائٹ سائڈ پہ دوسرے روم کی ونڈو سے انٹر ہوتا ہے
ونڈو چونکہ کھلی ہوتی ھے اسلیے وہ باآسانی فیروزے کے کمرے میں انٹر ہوجاتا ھے اور سیدھا اس حسین لڑکی کہ پاس اتا ھے
اور کچھ دیر جی بھر کہ وہ فیروزے کو تکتا رہتا ھے کیونکہ وہ سوتے ہوئے لگ ہی اتنی پیاری رہی ہوتی ھے خوبصورت گھنے بال تکیے پر بکھرے پڑے ہوتے ہیں جن میں سے کچھ آوارہ لٹیں اسکے حسین چہرے کا طواف کررہی ہوتی ہیں ۔
جو کہ وہاں موجود شخص کو اک دم زہر لگ رہی ہوتی ہیں

” Kisses, sometimes hanging facee , sometimes lips

You have put alot of hair on your head. ”

” چوم لیتی ہیں لٹک کر کبھی چہرا کبھی لب

تم نے زلفوں کو بہت سر پر چڑھا رکھا ھے”

اسلیئے وہ ان لٹوں کو اسکے چہرے پر سے ہٹاتا ھے اور پیار بھری جسارت کرتا ھے ۔
اور پھر فیروزے نیند میں کسی کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرکے تھوڑا
کسمساتی ھے جسکی وجہ سے وہ شخص نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے دور ہٹتا ھے ۔
اور کچھ دیر کمرے میں کچھ سیٹ کر کے واپس اسکے پاس آتا ھے اور اسکے کان میں سرگوشی نما کچھ کہتا ھے

Mi bella durmiente ‘
Te veo pronto mi amor ‘

مائی سلیپنگ بیوٹی ‘
سی یو سون مائی لو ‘

اور پھر وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا _

💞💞💞

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: