The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 8

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 8

–**–**–

 

ظہان کی جلسوں میں شرکت عوام میں مقبولیت کا باعث بن رہی تھی ۔ظہان کا خطاب سننے کیلئے لوگ صبح سے آنا شروع ہو جاتے ہر اس جگہ جہاں پر ظہان حیدر شاہ کا جلسہ متوقع ہوتا ۔

ظہان بہت نرم دل ‘رحم دل طبعیت کا مالک ہے اور اپنی عوام کی ہر ضرورت کو کو پورا کرنا اسکا اولین فرض ھے یہی بات مخالفین کو کھٹک رہی تھی ۔

ظہان حیدر شاہ کی دن بعدن بڑھتی شہرت اسکے سب سے بڑے مخالف دراب خان کے لیئے پریشانی کا باعث بن گئی کیونکہ اس کے اپنے علاقے کے لوگ بھی ظہان حیدر شاہ کے گن گا رہے ہوتے ہیں ۔

دراب اب ہر وہ طریقہ استعمال کرنے کی ٹھان لیتا ھے کہ جس سے ظہان حیدر شاہ کو زیر کیا جاسکے اور اسکے بھیجے گئے جاسوس کوئی خاطرخواہ خبر نہیں دے سکے ۔

آجکل ہرکوئ دراب خان کے زیرعتاب تھا اسکا غصہ کسی بھی صورت کم نہیں ہورہا تھا ۔

بس!!
اب بہت صبر ہوگیا ظہان حیدر شاہ تمہارا کچھ بندوبست کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔
تمہیں یہ الیکشن ہر صورت ہارنا پڑے گا ۔۔۔۔۔اس کے لیئے مجھے کچھ بھی کرنا پڑا چاھے وہ صحیح ہو یا غلط میں کر گزروں گا ۔۔۔۔۔

ان پریشان کن لمحات میں حورا کی یاد دراب خان کے لیئے مسرت کا باعث تھی ۔۔۔
الیکشن میں بزی ہونے کی وجہ سے میں تمہیں بھول گیا تھا ۔۔۔۔بس اب حورا کو اپنی زندگی میں شامل کروں گا ۔۔۔۔کل صبح سب سے پہلے باباجان سے اس بارے میں بات کروں گا ۔۔۔۔وہ انہی سوچوں میں نیند کی وادیوں میں چلا جاتا ہے ۔

صبح بیدار ہونے کے بعد وہ نوید کو کال کرکے اپنے روم میں آنے کا کہتا ھے ۔
دروازہ پر دستک ہوتی ھے
آجائیں
یس سر! آپ نے ہمیں یاد کیا؟
ہاں!!
اس دن جو ایکسیڈنٹ ہوا تھا اسکے بارے میں بتائو اب میڈم کی کیسی طبعیت ہے ۔۔۔۔تم نے خیال رکھا تھا؟
یس سر! میں ہسپتال میں ہی رہا تھا اور انہیں ایک دن کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا تھا اس دوران میں زوہیب صاحب کے ساتھ سائے کی طرح رہا ہوں تاکہ ہر ضرورت کو کو پورا کر سکوں ۔۔۔۔
شکر ہے اب حورا کی طبعیت ٹھیک ھے ۔۔۔۔
(دراب اپنے دل میں کہتا ھے )
شاباش نوید مجھے تم سے یہی امید تھی کیونکہ تم اپنا کام اچھے سے کرتے ہو یہی وجہ ھے کہ تم میرے خاص ملازم ہو ۔۔۔

زوہیب صاحب کے گھر کا پتہ بتائو ۔۔۔ان کے گھر کا پتہ تمہارے پاس ہے؟
جی ۔
ٹھیک ھے پھر آج شام کو تیار رہنا ہم ان کے گھر جائیں گے اور کچھ تحائف اور مٹھائیوں کا بھی انتظام کرو ۔۔
اب تم جاسکتے ہو ۔۔۔۔

دراب خان اپنے باباجان کے ساتھ ناشتہ کرتا ہے ۔
باباجان آپ سے بہت اہم بات کرنی ھے ۔۔۔
بولو دراب!
آج آپکو میرے ساتھ کسی کے گھر جانا ھے
کہاں؟؟؟؟
اصل میں باباجان میں نے ایک لڑکی پسند کی ہے اور آپ آج شام میرے ساتھ ان کے گھر جائیں گے میرا رشتہ لے کر ۔۔۔
دراب ۔۔۔۔۔!! ایسے اچانک کیسے چلے جائے ۔لڑکی کون ہے،کیسا خاندان ہے؟؟؟ یہ سب جانے بغیر میں کسی کے گھر نہیں جاسکتا ۔۔۔۔
باباجان! میں نے سب پتہ کروالیا ہے آپ کو کیا لگتا ھے میں ایسے ہی کسی ایرے غیرے کے گھر چلا جائوں گا ۔۔۔۔آپ کو مجھ پر یقین ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ھے بیٹا ۔۔۔
بس!!!! باباجان
میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا آپ شام کو تیار رہیئے گا ہم بس جارہے ہیں ۔۔۔
ٹھیک ہے دراب!!!!
اب تمہاری خواہش پوری تو کرنی پڑے گی ۔۔۔۔

💕💕💕💕💕💕

بیگم کتنے دنوں سے میں آپ سے بہت اہم بات ڈسکس کرنا چاہتا ہوں مگر الیکشن میں مصروفیت کی وجہ سے ٹائم نہیں ملا ۔۔۔
سکندر شاہ، ظہان حیدر شاہ کی والدہ سے مخاطب ہوتے ہیں ۔
آپ بتائیں شاہ جی! ایسی کیا بات ہے جس نے آپ کو اتنا پریشان کر رکھا ھے ۔۔۔
بیگم میں سوچ رہا ہوں الیکشن سے پہلے ظہان کی شادی کر دے ۔اپنے خاندان کے لیئے میں نے بہو بھی پسند کر لی ہے ۔۔۔۔۔
آپ نے بہو بھی پسند کر لی ہے اور مجھے بتانا بھی ضروری نہ سمجھا ۔۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ کو ابھی بتایا تو ہے مصروفیت کی وجہ سے بات ذہن سے نکل گئی ۔
ہمم وہ تو ٹھیک ھے شاہ جی مگر آپ ظہان ہمارہ اکلوتا بیٹا ہے کیا پتہ وہ کسی کو پسند کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ہم ایسے کیسے اچانک کسی لڑکی کو اسکی زندگی میں شامل کردیں ۔۔
یہ تو ٹھیک نہیں ہوگا ۔۔۔
بیگم بات تو آپ کی بھی درست ہے مگر ظہان کو میری خواہش کا احترام تو کرنا پڑے گا ۔۔
پھر بھی آپ ظہان سے اسکی پسند کا پوچھ لییں ۔۔۔
لیکن رشتہ وہی ہوگا جہاں میں نے طے کردیا ہے اور مجھے یقین ھے میرا بیٹا مجھے انکار نہیں کرے گا ۔۔۔

💞💞💞💞💞💞💞

“ظہان حیدر شاہ ”
سیاست کا وہ ابھرتا ھوا سورج ہے جسکی تیز روشنی اور تپش مخالفین کے لیئے عذاب ہے ۔۔۔۔۔۔

سکندر شاہ ایک دوراندیش شخص ہیں جو ظہان حیدر شاہ کو مسقبل کے بڑے سیاستدانوں میں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔
ویسے بھی یہ بات مشہور ہے “جتنی ذیادہ شہرت اتنے زیادہ دشمن ۔۔۔۔”
یہ بات سکندر شاہ بخوبی جانتے تھے ۔

ظہان کی سیکیورٹی بھی بڑھ جاتی ھے ۔سکندر شاہ اسے کہیں بھی اکیلے نہیں جانے دیتے تھے ۔۔انہوں نے ظہان کے لیئے بہت سارے باڈی گارڈز ہاہیر کیے تھے لیکن ان میں شامل ایک باڈی گارڈ ایسا تھا جو دراب خان کا وفادار تھا ۔۔۔
آنے والے وقت میں وہ ظہان حیدر شاہ کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہونے والا تھا۔

ظہان حیدر شاہ، جسکی دہشت کا سایہ دشمنوں پہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ھے وہ اپنی حفاظت کرنا خوب اچھی طرح جانتا ہے ۔ وہ تو صرف اور صرف اپنے بابا سائیں کی تسلی کی خاطر اپنے ساتھ باڈی گارڈز رکھنے پر مجبور ہے ۔۔

اسے اسلام آباد نہایت اہم میٹنگ کے لیئے جانا ہوتا ھے ۔
بابا سائیں!!!
ظہان میرے شیر ۔۔۔ادھر آو
وہ انکے پاس جاتا ھے
مجھے آپ سے بہت اہم بات کرنی ھے ۔
بولو ۔۔
مجھے ابھی اسلام آباد جانا ھے بہت اہم کام ہے اگر آج میں نہ جاسکا تو بہت نقصان ہو جائے گا ۔
مگر ظہان ۔۔ ہم آپ کو ایسے کیسے جانے کی اجازت دیں ۔آپ کو اچھی طرح اندازہ ہے دشمن ہر طرف سے گھات لگائے بیٹھے ہیں کسی طرح آپ کو نقصان پہنچا سکے ۔۔۔
ہم جانتے ہیں بابا سائیں!!!!
اپنی حفاظت کرنا خوب اچھی طرح سے جانتا ہوں ۔بس آپ کی دعااور اعتماد کی ضرورت ھے ۔
آپ کو مجھ پر یقین ھے؟؟
ہاں!!
پھر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کل صبح ہونے سے پہلے تک آجائوں گا ۔۔۔
اجازت دیں ۔۔۔۔۔
ظہان بیٹا ۔۔۔
سیکیورٹی کے ساتھ جارہا ھوں اب تو آپ خوش ہیں ۔
ٹھیک ھے بیٹا!!!!
تمہارے ساتھ اپنا خاص، وفادار ملازم جائے گا ۔۔۔
مکرم ۔۔۔۔۔!!!
جی سائیں ۔۔۔
آج سے چھوٹے سائیں کے ساتھ تم نے رہنا ہے اور ان کی حفاظت تمھاری ذمہ داری ہے کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاھیے ۔
جیسا آپ کا حکم!!!
اچھا بابا سائیں! میں مما جانی سے مل لو ۔
وہ اپنی مما جانی کے کمرے جاتا ھے انکے گلے لگتا ہے اور عقیدت سے ان کے ہاتھوں کو چومتا ھے ۔
مما جانی!! اجازت دیجیے مجھے کچھ ضروری کام کے لیئے اسلام آباد جانا ھے
ظہان میری جان، میری آنکھوں کی ٹھنڈک ۔۔۔کیا جانا ضروری ھے ۔۔۔
جی مما جانی ۔۔۔
فی امان اللہ
جلدی آنا بیٹا
جی موم ۔۔۔کل ناشتہ آپ کے ساتھ آپ کے ساتھ کروں گا ۔۔۔
دعا کیجئے گا ۔۔۔
میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔
مجھے بھی تمہارے ساتھ بہت ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔
آپ بتائیں ۔۔۔مما
نہیں ابھی نہیں ۔۔کل صبح بات ہوگی ۔۔۔
جیسے آپ کو مناسب لگے!!
اپنا اور بابا سائیں کا خیال رکھئیے گا ۔۔۔
اللہ حافظ ۔۔۔

💞💞💞💞💞💞💞💞

کچھ دن ریسٹ کرنے کے بعد حورا بھی اب کافی حد تک ٹھیک ہوگئی ہے ۔
وہ بھی یونیورسٹی جارہی ھے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے اس نے یونیورسٹی سے چھٹیاں لی ہوئ تھی ۔اور اسکی پڑھائی کا بوجھ زیادہ بڑھ گیا تھا۔

حورا سب کو ناشتہ کی ٹیبل پر سلام کرتی ہے اور اپنے پاپا کے گلے ملتی ہے ۔
ہوگیا تیار میرا بچہ ۔۔۔
جی!! پاپا
کچھ دن اور ریسٹ کر لیتی بیٹا ۔۔۔۔۔
نہیں پاپا
پہلے ہی سڈیز کا
بہت لوس ہوگیا ہے
اب مزید نہیں ۔۔۔۔
اوکے! ایز یو ویش بیٹا ۔۔۔
فیروزے کہاں ہے؟ نظر نہیں آرہی ۔۔۔
وہ کالج چاچکی ہے ۔

حورا جلدی جوس پیتی ہے اور باہر اپنی کار کی طرف جارہی ہوتی ھے ۔۔۔
تب زوہیب صاحب اسے روکتے ہیں ۔۔۔
روکو! پرنسز
آج میں خود اپنی بیٹی کو یونیورسٹی چھوڑنے جائوں گا ۔
اوووووو۔۔۔۔سچ میں پاپا!!!!
حورا کو خوش دیکھ کر ان کے چہرے پر نرم مسکراہٹ آجاتی ھے
بلکل سچ ۔۔
اوکے ممی ہم جارہے ہیں
اللہ حافظ۔۔

پتا ہے پاپا! میرا خود کا بہت دل تھا آج یونی آپ کے ساتھ جائوں مگر آپ مصروف ہوتے ہیں اس لیئے نہیں کہا ۔۔۔۔
کار میں بیٹھتے ہی حورا بولنا شروع ہوجاتی ھے۔
میں پہلے سے ہی جانتا تھا اسلیئے آج اپنی پرنسز کو جود چھوڑنے جارہا ہوں ۔۔۔
پاپا ۔ ۔۔۔۔!!!
اس دن میں اتنا ڈر گئ تھی کہ کیا بتائوں آپ کو ۔۔۔۔۔مجھے ایسے لگ رہا جیسے میں کسی کو بھی دوبارہ نہ دیکھ پائوں گی ۔۔۔۔
آج پہلی بار حورا ایکسیڈنٹ کے بعد اپنی فیلنگز شیئر کررہی ہے ۔۔۔
وہ بات کرتے ہوئے کپکپا رہی تھی اور آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔۔
اسکے پاپا نے جلدی سے سائڈ پر کار روکتے ہیں اور حورا کو گلے لگاتے ہیں ۔
بس میری جان!!!
وہ ایک برا خواب تھا بھول جائوں اس دن کو ۔۔۔۔۔
اب تم بلکل ٹھیک ہو ۔

مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پاپا ۔۔۔
اگر پھر ایسا ہوا ۔۔۔۔تو
شش ۔۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ۔
آپ کو اپنے پاپا پر یقین ہے ناں ۔۔
حورا۔۔۔ہاں میں سر ہلاتی ہے اور ایسے کرتے ہوئے اسکے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ھے ۔۔۔۔
اب چلیں ۔ ۔
جی پاپا ۔۔
اسطرح وہ حورا کو یونی چھوڑ کر آفس چلے جاتے ہیں

دوسری طرف ۔۔۔۔
دراب خان
ظہان حیدر شاہ پر حملے کامنصوبہ بناتا ہے ۔۔۔۔
نوید ۔۔۔۔سنا ہے ظہان حیدر شاہ بہت رحمدل ہے اور ہر حال میں لوگوں کی مدد کرتا ہے ۔۔۔
تو کیوں نہ اسکی اس خاصیت کا فائدہ اٹھایا جائے ۔۔۔۔

جیسے آپ کو مناسب لگے سر۔۔۔
ہمم ۔۔۔
آج وہ اسلام آباد جارہاھے واپسی پر اسکا کام تمام ہوجانا چاھیے ۔۔۔۔
آج رات تک کام ہوجانا چاھیے ۔
اب آگے کا کام تم جانتے ہو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
جی سر ۔۔۔
رات تک آپ کو خبرمل جائے گی ۔۔۔۔

شام کے وقت دراب خان ۔۔۔۔اپنےباباجان کے ساتھ زوہیب صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوتا ہے ۔
ایک گھنٹے کے طویل سفر کے بعد بالآخر وہ انکے گھر پہنچتے ہیں ۔۔۔۔

چوکیدار ۔۔۔۔زوہیب صاحب کو مہمانوں کی آمد کی اطلاع دیتا ہے ۔۔۔
وہ خود رسیو کرنے آتے ہیں اور دراب خان کو دیکھ کر بہت خوش ہوجاتے ہیں ۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔۔۔انکل
وسلام ۔۔۔۔بیٹا
ان سے ملے یہ میرے باباجان ہیں
اسطرح انکا تعارف ہوتا ہے
آئے اندر چلے
سب ڈرائنگ روم میں جاتے ہیں
بہت خوشی ہوئ آپ سے ملکر
زوہیب صاحب دراب اور اسکے باباجان سے کہتے ہیں ۔
ہمیں بھی۔۔۔۔
باتوں کے دوران رخسانہ بیگم چائے اور دیگر لوازمات کے ساتھ اندر آتی ہیں ۔۔۔
دراب ۔۔۔کھڑے ہوکر انہیں سلام کرتا ہے ۔۔۔۔
اور سناو دراب کیسا کام چل رہا ہے
انکل آپ تو جانتے ہیں سیاست کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔۔۔پھر بھی سب ٹھیک ہےبس الیکشن کی تیاریاں ہورہی ہیں ۔۔۔
دراب کے باباجان بھی زوہیب صاحب سے بات کرتے ہیں اور باتوں میں ہی انکے خاندان کی ساری ہسٹری معلوم کرتے ہیں اور کافی حد تک مطمئین ہوجاتے ہیں ۔

انکل اب آپ کی بیٹی کی طبعیت کیسی ہے ۔ ۔میں مصروف تھا اسلیئے کال نہیں کرسکا ۔
میری بیٹی اب بلکل ٹھیک ھے ایک بار پھر آپ کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔آپ نے میری بچی کی جان بچائی ۔
انکل اب آپ مجھے شرمندہ کررہے ہیں ۔۔۔۔۔

اسطرح سیاست کی باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔

حورا بھی یونیورسٹی سے واپس آچکی ہوتی ھے وہ فیروزے کے ساتھ روم میں ہوتی ہے ۔۔۔

ہم آج بہت اہم کام کیلیے آپ کے گھر تشریف لائے ہیں ۔۔۔۔سمجھ میں نہیں آرہا کیسے بات کروں ۔۔۔
دراب کے باباجان زوہیب صاحب سے مخاطب ہوتے ہیں ۔۔۔۔

جی آپ بولیں ۔۔۔۔میں سن رہا ہوں ۔۔۔۔۔
ہم اپنے بیٹے دراب خان کے لیئے آپکی بڑی بیٹی کا رشتہ لے کر آئیں ہیں ۔۔۔۔
اور ہمیں امید ہے آپ انکار نہیں کرے گے ۔۔۔۔
ڈائننگ روم میں خاموشی چھا جاتی ھے ۔۔۔۔۔
پھر زوہیب صاحب کی آواز آتی ھے ۔۔۔۔

آپ ہمارے گھر آئیں ہیں یہ بات قابل احترام ہے مگر میری طرف سے انکار ہے ۔۔۔۔
دراب اور اسکے باباجان یہ بات سن کر پریشان ہوجاتے ہیں ہیں ۔۔۔
انکار کی وجہ جان سکتے ہیں ۔۔۔؟؟؟؟

میری بڑی بیٹی کا رشتہ طے ہوچکا ہے اور جلد ہی اسکی شادی ہو جائے گی ۔۔۔۔

دراب یہ بات سن کر شاکڈ ہوجاتا ہے اور یہی حال رخسانہ بیگم کا بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
آپ نے دیر کردی آنے میں
زوہیب صاحب کہتے ہیں ۔۔۔
بیچارہ دراب سکتے کی حالت میں ہوتا ھے اسے یقین نہیں آرہا ہوتا کہ اسےانکار ہوگا ۔۔۔۔۔

آپ کی بات میں سمجھ سکتا ہوں مگر میرے بیٹے کی اور میری بھی شدید خواہش تھی کہ آپ کی بیٹی ہمارے گھر کی بہو بنے ۔۔۔۔

میں مجبور ہوں۔۔۔اور ویسے بھی جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں ۔۔۔۔
زوہیب صاحب دراب کے باباجان کو جواب دیتے ہیں ۔۔۔۔

ٹھیک ھے ۔۔۔!!!
اب ہمیں اجازت دیجیے ۔۔۔
ارے ایسے کیسے کھانا کھا کر جائے ۔۔۔۔
نہیں بہت شکریہ
اب ہمیں جانا ہوگا ۔۔۔۔۔

باہر جاتے ہوئے دراب کی نظر اچانک ٹیرس پر جاتی ھے
۔۔۔
حورا مسکرا رہی ہوتی ہے
دراب بے اختیار ہوکر دیکھتا رہتا ہے ۔۔۔
بابا جان کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں آتا ھے
وہ واپس چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔

مہمانوں کے جانے کے بعد رخسانہ بیگم رشتے کے بارے میں ابھی پوچھ رہی ہوتی ہیں کہ زوہیب صاحب کو کال آتی ھے اور وہ جلدی سے اپنے روم میں جاتے ہیں اور کال اٹینڈ کرتے ہیں ۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: