The Moon Of Lunar Night Novel by Bella Bukhari – Episode 9

0
دی مون آف لونر نائیٹ از بیلا بخاری – قسط نمبر 9

–**–**–

 

دراب واپسی پر سارا راستہ خاموش رہتا ھے اور کوئی بھی اسکی خاموشی میں دخل نہیں دیتا ۔
یہی حال اسکے باباجان کاہے وہ بھی پریشان ہوتے ہیں کیونکہ دراب کا ردعمل خلاف توقع ہے ۔

حویلی پہنچنے کے بعد وہ سیدھا اپنے کمرے میں جاتا ھے اور حکم دیتا ہے کوئی بھی اسے ڈسٹرب نہ کریں ۔یہ حکم اسکے باباجان کے لیئے بھی ہوتا ھے ۔وہ دراب سے بات کرنا چاھتے ہیں مگر دراب کے غصے کی وجہ سے کوئی بات نہیں کرتے اور دراب اس وقت اکیلا رہنا چاھتا ہے ۔۔۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔
آخر کہاں مجھ سے غلطی ہوگئی کہ حورا مجھے نہ مل سکی ۔۔۔
دراب اضطراب کی حالت میں کمرے میں چکر لگا رہا ہے ۔۔۔
مجھ سے یہ برداشت نہیں ہورہا ۔۔۔۔
حورا کو میں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔
وہ میری محبت ہے ۔۔۔۔صرف اور میری ۔۔۔۔

زوہیب صاحب نے مجھے مجبور کردیا ہے کہ ان کو میں اپنا وہ روپ دیکھاوں جو صرف میں اپنے دشمنوں کو دیکھاتا ہوں ۔۔۔۔

“حورا کو حاصل کرنا اب میری ضد ہے ۔۔۔۔”

یہاں پر دراب خان غلطی کر جاتا ھے کیونکہ اب وہ اپنی قسمت سے لڑ رہا ہے کیونکہ قسمت کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا ۔۔۔۔
دراب کو چاہیے تھا کہ وہ صبر کر جاتا اور قسمت کے خلاف نہ جاتا اور کوئی غلط طریقہ استعمال نہ کرتا ۔۔۔
مگر اب کیا ہوسکتا ہے ۔

🤍🤍🤍🤍🤍

اسلام آباد پہنچنے کے بعد ظہان اپنے بنگلو پر ریسٹ کرتا ہے اور پھر فائل ریڈ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر شام میں میٹنگ کیلئے اپنے آفس جاتا ہے ۔۔
میٹنگ روم میں موجود ظہان حیدر شاہ اپنے کلائنٹس کے ساتھ اپنے پروجیکٹ کے اہم پوائنٹس ڈسکس کرتا ہے ہر کوئی ظہان حیدر شاہ کی پریزینٹیشن دیکھ اور سن رہا ہوتا ھے بالآخر دو گھنٹے کے بعد میٹنگ ختم ہوتی ھے اور ظہان حیدر شاہ کی ڈیل دوسری ٹیم کے ساتھ ڈن ہوجاتی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹنگ ختم ہوتے ہوتے دس بج جاتےہیں
ظہان حیدر شاہ آفس سے گھر واپس جانے کی تیاری کرتاہے
دوسری طرف نوید اپنے خاص بندوں کو ظہان حیدر شاہ پر حملےکا حکم دیتا ہے کیونکہ اسکے خاص بندے نے ظہان کی واپسی کی اطلاع دی ہوتی ہے

مکرم ۔۔۔۔
جی چھوٹے سائیں!
ہم ابھی واپس حویلی جارہے ہیں ۔۔۔
مگر سائیں _ ابھی تو کافی رات ہوچکی ھے اگر آپ برا نہ منائیں تو ہم صبح کے وقت واپس جائیں؟
مکرم ۔۔۔۔۔۔
مجھے ابھی واپس جانا ھے اسکا مطلب ابھی اور کوئی بحث نہیں
جو حکم چھوٹے سائیں!
ٹھیک ھے سیکیورٹی ریڈی کرو اور مجھے اطلاع دو
پھر ہم روانہ ہونگے اور خبردار جو بابا سائیں کو کچھ بتایا تو

💗💗💗

شاہ جی ۔۔۔
آپکی ظہان سے بات ہوئی؟
نہیں فلحال تو نہیں ہوئی البتہ مکرم سے شام کو بات ہوئی تھی اور وہ بتا رہا تھا کہ وہ میٹنگ میں بزی ھے ۔۔۔۔

اچھا آپ ایک بار کال تو کریں ظہان کو ۔۔۔
جو حکم آپ کا!
( سکندر شاہ اپنی بیگم کے ساتھ مزاق میں کہتے ہیں )

شاہ جی یہ وقت مزاق کرنے کا نہیں آپ ابھی اور اسی وقت میرے بیٹے کو کال کریں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
ناجانے کیوں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے
اللہ کرے سب ٹھیک ہو!
اچھا بیگم آپ زیادہ سٹریس نہ لیں میں کال کرتا ہوں ۔۔
سکندر شاہ ظہان کو کال کرتے ہیں لیکن وہ نہیں اٹھاتا

کیا ہوا شاہ جی؟
ظہان کال کیوں نہیں اٹھا رہا ۔۔۔

بیگم صبر کریں ابھی تو کال کی ھے اٹھا لے گا بزی ہوگا

سکندر صاحب کافی دیر تک کال کرتے رہتے ہیں لیکن دوسری طرف کوئی جواب نہیں ملتا
اب تو انھیں بھی فکر ہورہی تھی
پھر وہ مکرم کو کال کرتے ہیں اور وہ پہلی بیل پہ ہی اٹھا لیتا ھے ۔
ہاں _
مکرم ظہان کہاں ھے وہ ٹھیک تو ھے کال کیوں نہیں اٹھا رہا سکندر شاہ شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔
جی جی بڑے شاہ سائیں وہ ٹھیک ہیں
وہ میٹنگ میں بزی ہیں جیسے ہی فارغ ہوتے ہیں میں اپکی بات کرواتا ہوں
ٹھیک ھے مکرم جلانے میری بات کروانا
جی بڑے سرکار جو حکم آپ کا!

دیکھا بیگم آپ ایسے ہی پریشان ہورہی تھیں سب ٹھیک ھے

💗💗💗💗

حورا اور فیس جیسے ہی ڈائننگ ٹیبل پر اتی ہیں تو دونوں اپنی ممی پاپا کوئی خاموش دیکھ کر پریشان ہوجاتی ہیں
کیا ہوا سب ٹھیک ھے ممی پاپا کوئی پریشانی ھے سب ٹھیک تو ھے آپ دونوں خاموش کیوں ہیں
زوہیب آور رخسانہ بیگم دونوں جو اپنے خیالوں میں ہوتے ہیں ہربڑا کہ حورا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں
نہیں بچے کوئی پریشانی نہیں ھے سب ٹھیک تو ھے
آپکے پاپا آفس کے بارے میں سوچ رہے تھے اور تو کوئی بات نہیں ۔

💗💗💗💗

دراب خان کے جانے کے بعد زوہیب صاحب کو کسی کی کال اتی ھے وہ اس کال کے بعد سے ہی چپ چپ تھے ۔

پاپا ۔۔۔۔!!!
ممی کیا ٹھیک کہہ رہی ہیں یہی وجہ ھے یا کوئی اور بات ۔۔۔؟
فیروزے پوچھتی ھے ۔
وہ جلدی سے اپنے آپ کو سنبھالتےہیں کیونکہ حورا اور فیروزے دونوں پریشان اور اداس بیٹھی ہوتی ہیں ۔۔۔۔
آف کورس ۔۔۔۔۔پرنسز
آپ کی ممی ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔
میں ٹھیک ہو ۔۔۔آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔

چلو اب کھانا کھانا شروع کروں ۔۔۔۔۔
تم دونوں آتے ہی باتوں میں لگ گئی ہوں ۔

اووووو۔۔۔۔۔
ممی” ڈارلنگ ”
کھانا کھا تو رہے ہیں اور کیا چاھیے ۔۔۔۔۔؟ آپ کو
دیکھرہے ہیں آپ اپنی لاڈلی کو اسے تو بس موقع چاہیے “ڈارلنگ ” کہنے کا
(رخسانہ بیگم کو غصہآجاتا ہے )

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔حورا اور اسکے پاپا کا قہقہ گونجتا ھے ۔۔۔
کیونکہ رخسانہ بیگم کو لفظ “ڈارلنگ ” سے چڑ ہے ۔
فیروزے اٹھ کر انکے پاس آتی ہے
اووووو ۔۔۔میری پیاری ممی ان کو گال پر کس کرکے انہیں مناتی ہے ۔
اسطرح تنائو کی کیفیت فیروزے کی بدولت ختم ہوجاتی ہے اور سب ہنستے ہوئے کھانا ختم کرتے ہیں ۔

حورا ۔۔۔۔
فیروزے ۔۔۔
تم دونوں نے سونا نہیں؟؟؟
چلو اپنے روم میں جائوں ابھی ۔۔۔
ممی میں اور بجو کچھ دیر واک کریں گے ۔۔۔۔
زوہیب صاحب بھی وہاں آتے ہیں ۔۔۔
پاپا پلیز ۔۔۔۔ممی کو آپ کہیں بس تھوڑی دیر واک کرنے دیں ۔۔۔
بجو ۔۔۔۔۔
آپ بھی بولیں ۔۔۔۔
جی ممی پاپا
ہم بس کچھ دیر واک کریں گے اور پھر سونے چلیں جائ گیں ۔۔۔
اوکے بیٹا ۔۔۔۔
تھینکو سو مچ پاپا ۔۔۔
دونوں انہیں گڈ نائٹ کہتی ہیں ۔۔۔۔۔

لان میں آنے کے بعد وہ دونوں واک کرنا شروع کردیتی ہیں ۔۔۔
بجو ۔۔۔۔!!
دیکھیں کتنا اچھا موسم ہے ۔۔۔
آج رات تو” فل مون ” ہے
آپ کی فیورٹ رات
فیروزے ۔۔۔۔حورا کو کہتی ھے ۔

پورا چاند کتنا پیارا لگ رہا ہے
بلکل آپ کی طرح ۔۔۔۔
فیروزے کی بات سن کر حورا کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ھے ۔
اچھا تو میں اپنی چھوٹی بہن کو چاند کی طرح لگتی ھوں؟؟؟؟
وہ فیروزے سے سوال پوچھتی ہے۔

آف کورس ۔۔۔۔۔!!! بجو
آپ کو پتہ ہے
” آپ دنیا کی حسین ترین لڑکی ہیں اور آپ کے ہذبینڈ دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہوگے ۔کیونکہ ہماری خوبصورت سی پری اس چاند کی طرح ان کی زندگی کو روشن کردے گی ۔۔۔۔”

فیروزے ۔۔۔۔۔!
اتنی زیادہ تعریف کرنے کا شکریہ ۔۔۔۔

اووہو ۔۔۔بجو
یہ کوئی تعریف نہیں ۔۔۔
آپ سچ میں ایسی ہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے ۔۔۔۔

مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے ۔۔۔
ہمم ۔۔۔پوچھو کیا بات پوچھنی ہے ۔۔۔؟
آپ کو کیسا لائف پارٹنر چاھیے؟؟؟

کیا بتانا ضروری ھے ۔۔۔؟؟؟

فیروزے ۔۔۔ہاں میں سر ہلاتی ہے۔

جیسے ہر لڑکی کا اپنے لائف پارٹنر کے بارے میں خواب ہوتا ھے میرے بھی وہی خیالات ہیں۔

دیکھیں ۔۔۔۔۔بجو
دس از ناٹ فئیر ۔۔۔۔اب آپ ٹال رہی ہیں ۔

پہلی بات ، آپ کوئی “ہر لڑکی “نہیں ھیں ۔
دوسری بات، آپ بہت “خاص”لڑکی ہیں۔

آپ کو آج بتانا ہی پڑے گا اور میں آج جان کر ہی رہوگی ۔۔۔

ٹھیک ھے ۔۔۔۔۔بتاتی ہوں

حورا کچھ پل خاموش رہتی ہے وہ مناسب الفاظ ڈھونڈ رہی ہے ۔
ادھر فیروزے بے چین بیٹھی ہوتی ھے اس سے انتظار نہیں ہورہا ۔۔۔۔

حورا ۔۔۔۔بولنا شروع کرتی ھے ۔۔۔۔

“”میں چاہتی ہوں جو میرا لائف پارٹنر ہوں میں اسکے لیئے بہت خاص ہوں جیسے نایاب چیز ہوتی ھے اور اسکی حفاظت کرنا اسکا خیال رکھنا فرض ہوتا ھے بلکل ویسے ہی وہ میرا خیال رکھے ۔
دوسری بات ،، میں ایسے انسان کو اپنا لائف پارٹنر چوز کروں گی ۔۔۔۔جو اپنی ہر دعا میں اللہ تعالی سے مجھے مانگے اسکی پاکیزہ محبت بننا چاھتی ہوں اور مرتے دم تک اسکی “محبت “صرف اور صرف میرے لیئے ہوں ۔۔۔۔۔””

تم سوچ رہی ہوگی فیروزے کہ آج کے دور میں ایسی محبت اور ایسا انسان ملنا ناممکن ہے ۔۔۔
مگر مجھے پورا یقین ھے اللہ تعالی نے میرے لئیے ڈھونڈ رکھا ہوگا ۔
(فیروزے دل میں آمین کہتی ھے )

وہ دم سادھے حورا کی باتیں سن رہیہوتی ھے ۔۔۔

اب خوش ہو۔۔۔۔۔فیروزے
اف۔۔۔۔۔بجو
آپ اتنی پیاری باتیں کیسے کر لیتی ہیں۔

حورا ہنسنے لگ جاتی ھے ۔

میں دعا کروں گی بجو ۔۔۔آپ کو ایسا شخص جلدازجلد مل جائے
( آمین ۔۔۔)

کچھ دیر بعد وہ دونوں اپنے اپنے روم میں چلی جاتی ہیں ۔

حورا ۔۔۔روم میں آنے کے بعد کھڑکی کے پاس جاتی ہے اور چاند دیکھنے بیٹھ جاتی ھے ۔۔۔۔
وہ فیروزے کی باتیں اور دعا کو سوچ رہی ہوتی ہے ۔

💞💞💞💞💞💞

چھوٹے سائیں ۔۔۔۔!!!
سب تیاریاں ہوگئی ہیں اگر آپ کی اجازت ہوتو روانہ ہوں ۔
مکرم ۔۔۔۔
ظہان حیدر شاہ کو کہتا ھے ۔

ٹھیک ھے ۔۔۔۔۔چلیں
ظہان اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھتا ھے ساتھ مکرم بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ھے ۔

اور اور خاموشی سے سفر طے ھوتا ہے ۔

آدھے راستے میں اچانک ڈرائیور بریک لگاتا ہے ۔۔۔
کیا ھوا ۔۔مکرم ؟؟؟؟؟

چھوٹے سائیں ۔۔۔!!! سڑک پہ کسی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔
مکرم باہر جاکر دیکھتا ہے وہاں دو لوگ زخمی پڑے ہوتے ہیں

وہ ظہان کی سائیڈ پر آتا ھے اور ایکسیڈنٹ کا بتاتا ہے ۔

تو آپ کیا دیکھ رہے مکرم ۔۔۔جلدی جائیں ان کی مدد کریں ۔

روکئیے ۔۔۔۔!!!
میں خود دیکھتا ہوں ۔ ۔

چھوٹے سائیں ۔۔۔۔!!!
آپ باہر مت آئے ۔مجھے تو یہ دشمن کی کوئی چال لگتی ھے۔

دیکھا جائے گا ۔۔۔۔مکرم
ابھی مجھے دیکھنا ہے ۔

مکرم کے منع کرنے کے باوجود ظہان حیدر شاہ اپنی بلٹ پروف گاڑی سے باہر آتا ھے اور صرف چند قدم کے فاصلے کے بعد اچانک فائرنگ شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔

مکرم جلدی سے ظاہر کے پاس آتا ھے اور انھیں گاڑی میں بیٹھنا کا کہتا ھے مگر دشمن چاروں طرف سے فائٹنگ کررہے ہوتے ہیں
ظہان اور اسکے گارڈز بھی جوابی کاروائی کررہے ہوتے ہیں اور کافی سارے لوگوں کو ختم کردیتے ہیں
اچانک ایک گولی ظہان کو لگتی ھے تو وہ بھی فائر کرنے والے کو ختم کردیتا ھے ۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے کی فائرنگ کے بعد بالآخر کچھ رستہ صاف ہوجاتا ہے مگر ظہان خود کافی حد تک زخمی ہوجاتا ھے
مکرم جلدی سے ظہان کو لے کر اندھیرے میں چلنا شروع کردیتا ھے کیونکہ کچھ دیر بعد پھر سے فائرنگ شروع ہو جاتی ہے ادھر ظہان کی حالت بگڑ رہی ہوتی ہے اچانک ایک گھر کے سامنے وہ روکتے ہیں اور دیوار پھلانگ کر وہ اس گھر میں داخل ہوجاتا ھے ۔۔۔
جبکہ مکرم دوبارہ اس جگہ کی طرف جاتا ہے جہاں پر فائرنگ ہورہی ہوتی ھے تاکہ دشمن کو بھٹکا سکے ۔۔۔

جیسے ہی ظہان گھر میں داخل ہوتا ھے تو وہ انتہائی زخمی حالت میں اٹھنے کی کوشش کرتا ہے
کہ اچانک اسکی نطر کھڑکی کی سمت اٹھتی ھے اور پلٹنا بھول جاتی ________ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: