The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 2

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – قسط نمبر 2

–**–**–

ہادی نے گھبرا کر با ئیک کی سپیڈ آہستہ کی اور سڑک کے ایک طرف کر کے روک دی
کتاب ہوا میں اڑتے ہوئے ان کے سروں پہ آ کر معلق ہو گئی
تینوں خوفزدہ نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ہہہ ہادی ببب بائیک سٹارٹ کرو ولید نے ہادی کو کہنی مارتے ہوئے کہا
مگر تینوں کی نظریں کتاب پہ جمی ہوئی تھیں جونہی بائیک نے حرکت شروع کی کتاب بھی ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگی
یہ کیا بلا ہے ہادی یہ کتاب اڑ کیسے رہی ہے کیا اس کے اندر کوئی سسٹم فٹ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ موو کر رہی ہے؟
ولید نے کتاب کی طرف دیکھ کر پریشانی سے کہا
ولید مجھے لگتا ہے یہ کوئی اصل میں جادوئی کتاب ہے چونکہ ہم نے اسے کھول لیا ہے اس لیے اسے ہمارے چہرے یاد ہو گئے ہیں
ہادی نے خوف سے کہا
ہادی میرا خیال ہے کہ ہم تینوں کو جلد سے جلد الگ الگ ہو جانا چاہیے پھر یہ کتاب کنفیوز ہو جائے گی کہ کس کے پیچھے جانا ہے اس طرح شاید اس بلا سے جان چھوٹ جائے ______
یہ تو پولیس کی طرح پیچھے ہی پڑ گئی ہے _______
ارحم نے مشورہ دیا
یہ ہو بھی سکتا ہے میں بائیک روکتا ہوں ہم سب الگ الگ ہو جائیں گے اور گھر کے نزدیک پہنچ کر تینوں الگ الگ راستے سے گھروں کو چل دئیے
کتاب اب کسی کے بھی ساتھ نہیں تھی
تینوں نے شکر کیا کہ اس منحوس کتاب سے جان چھوٹی
ورنہ وہ تو ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے لگ گئی تھی
تینوں میں سے کسی کو ابھی تک اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے
ایک بے جان شے کیسے حرکت کر سکتی؟
ہادی کو رات لیٹے ہوئے پھر اس اڑنے والی کتاب کی یاد آ گئی اس نے ارحم اور ولید کو کال کر کے پوچھا کہ کیا وہ ان کے پیچھے تو نہیں آئی
ان دونوں کے نفی میں جواب سے ہادی کو اطمینان ہو گیا کہ اس شیطانی کتاب سے جان چھوٹ گئی ہے
سکول میں بریک ہوتے ہی
وہ تینوں کینٹین پہنچ گئے ______
جہاں ارم اور ثمین ان کی کلاس فیلو ان کا انتظار کر رہی تھیں
اصل میں وہ دونوں ان تینوں کے کل کے ایڈونچر کی روداد سننے کے لیے بے چین بیٹھی تھیں
باتوں باتوں میں ہادی نے کل کے کتاب والے قصے کا بھی ذکر کر دیا ______
ارم اور ثمین کا یہ عجیب و غریب بات سن کر ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ______
بات سنو اصل میں تم کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتے اس لیے وہ کتاب ہاتھ دھو کر تمھارے پییچھے لگ گئی تاکہ تمھیں سبق سکھا سکے کہ کتابیں نہ پڑھنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے
ارم نے تینوں کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا_____
ہادی سچ کہہ رہے ہو تم سب جاگ رہے تھے کہیں خواب میں تو یہ سب نہیں دیکھا تھا ثمین کو ابھی بھی ان کی باتوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ کتاب خود ہی اڑ کر ان کا پیچھا کر رہی تھی
یار ہم سچ کہہ رہے ہیں _____
حد ہے ہم تینوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا
ہادی تم ذرا اس کتاب کا نام لے کر آواز دو مجھے یقین ہے وہ فوراً حاضر ہو جائے گی _____
ولید نے ثمین اور ارم کو یقین دلانے کے لیے ہادی سے کہا _________
یہاں نہیں چلو باہر کسی ویران جگہ پہ چلتے ہیں ہو سکتا ہے وہ اتنے لوگوں کے ہجوم سے ڈر کر ادھر کا رخ ہی نہ کرے______
ارحم نے خیال پیش کیا ______
چلو ڈن چھٹی کے بعد کسی ویران جگہ چلیں گے اور
ہادی تم وہاں ہمیں وہ اڑنے والی کتاب دیکھاؤ گے اور اگر کتاب نہ آئی تو تم تینوں کو
سزا ملے گی
اور وہ سزا یہ ہو گی کہ ہمیں پیزا کھلانا پڑے گا
ثمین نے مسکراتے ہوئے کہا________
اوکے ڈن تو پھر چھٹی کے وقت ملتے ہیں ہادی نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا_________
سکول میں چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی ان سب نے اپنی اپنی بائیک نکالی اور ویران جگہ کی تلاش میں آبادی سے کافی دور نکل گئے
رکو رکو یہ جگہ کافی بہترین ہے
ہادی نے بڑے بڑے گھاس کے کھیتوں کے قریب رکتے ہوئے زور سے آواز لگائی _______
چلو آؤ سب میرے پیچھے
ہادی ارحم اور ولید ایک طرف کھڑے ہو گئے
ثمین اور ارم دوسری طرف کھڑی تھیں
ہادی نے وہاں کھڑے ہو کر اس کتاب کا بلند آ واز میں نام لیا
The mystery of death
Where are you?
Our friends want to meet you please come here______
ہادی کے دو تین بار پکارنے پہ بھی کوئی رد عمل سامنے نہ آیا _______
ہر طرف ایک پراسرار سناٹا اور خاموشی چھائی ہوئی تھی جس میں تھوڑی دیر بعد کسی پرندے کی آواز گونجتی تو زندگی کا احساس ہوتا
آخر کئی بار پکارنے پہ بھی کچھ نہ ہوا تو تینوں تھک کر وہیں آلتی پالتی مار کے زمین پہ بیٹھ گئے
ثمین اور ارم نے بیٹھتے ہی ایک زور دار قہقہہ لگا کر اپنے ونر اور ان تینوں کے لوزر ہونے کا اعلان کر دیا اور ابھی پیزا شاپ چلنے کی ضد شروع کر دی
چلو ٹھیک ہے اٹھو سب ابھی ہوٹل چلتے ہیں
ولید نے سب کو کھڑے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
جونہی سب نے واپسی کے لیے قدم بڑھایا ہی تھا کہ
اچانک انھیں اپنے ارد گرد طوفان جیسی تیز ہوا ئیں گول گول دائرے کی شکل میں گھومتی ہوئی محسوس ہوئیں
جس کے ساتھ ہی ارد گرد سے گردو غبار اور کوڑا کرکٹ فضا میں بلند ہوا پانچوں اس ہوا کے بگولے کے زد میں آ گئے تھے اور انھیں ارد گرد کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا
گردو غبار وجہ سے سانس لینا مشکل ہو رہا تھا
سب کا آنکھیں ملتے ہوئے کھانس کھانس کے برا حال ہو رہا تھا
اچانک ثمین نے ایک زور دار چیخ ماری کیونکہ ان کے سامنے دو کٹے ہوئے انسانی ہاتھ تھے جن میں سے تازہ سرخ خون ٹپک رہا تھا اور وہ
ایک کتاب پکڑے ہوئے ان کو پیش کر رہے ہوں
جس کے ٹائٹل کور پہ لکھا تھا
The mystery of death”
پانچوں میں سے کسی نے خوف کی وجہ سے اس کتاب کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کی
سب اپنی اپنی جگہ پر بے حس و حرکت کھڑے تھے جب چند منٹ یونہی خاموشی سے گزرے تو انھیں ایک گرجدار آواز سنائی دی _______
پکڑو اسے میں نے واپس بھی جانا ہے ______
ہادی نے کانپتے ہاتھوں سے کتاب پکڑ لی ہوا کا بگولا اتنی ہی سپیڈ سے گردش کرتا ہوا اوپر کی طرف اٹھ گیا _________
ہر شے پہلے کی طرح نارمل ہو چکی تھی
ہادی نے ڈرتے ڈرتے کتاب کھولی تو پہلے صفحے پر لکھا تھا ________
Welcome in the world of magic
Congratulations
All of you have selected for our new game
The mystery of death
اچانک کتاب بند ہو کر اوپر فضا میں بلند ہوئی اور ان کے سروں پہ کل کی طرح چکر کاٹنے لگی _____
اس کے ساتھ ہی انھیں دوبارہ اپنے کانوں میں وہی بھاری بھرکم مردانہ آواز سنائی دی_____
پہلے تو تم تینوں نے اس گیم کا حصہ بننے کے لیے ایک امتحان سے گزرنا تھا مگر اپنے ساتھ دو اور لوگ لانے کی وجہ سے تم سب بغیر کسی امتحان کے اس گیم کے حصے دار بن چکے ہو
جیسا کہ تم پانچوں ارحم ہادی ولید ارم اور ثمین کو معلوم ہو چکا ہے کہ تمھیں اس کھیل جس کا نام
دا مسٹری آف ڈیتھ
یعنی
“موت کا راز “
اس کے لیے چن لیا گیا ہے
اور یہ تم پانچوں کی خوش قسمتی ہے کہ تمھیں بنا کسی امتحان کے اس کھیل میں شامل کیا جا رہا ہے کیونکہ تم پانچوں کے اس دنیا کے سب انسانوں سے زیادہ خوش قسمت انسان ہو
ہمیں یقین ہے کہ تم اپنی اسی خوش قسمتی کی وجہ سے یہ کھیل بھی جیت جاؤ گے _____
لیکن اس کھیل کو کھیلنے کے کچھ خاص اصول ہیں
جن پر عمل کرنا ہر صورت میں ضروری ہے
اصول نمبر ون ______
تم میں سے کوئی بھی اب اپنی مرضی سے کھیل ادھورا چھوڑ کر نہیں جا سکتا _____درمیان میں کھیل نامکمل چھوڑ کے جانے کی سزا موت ہے
اصول نمبر دو
جس کو جو کہا جائے گا وہ کام کرنا پڑے گا اپنی مرضی کرنے کا اختیار نہیں ہو گا
اس کھیل میں دس مختلف ٹاسک یعنی کام دئیے جائیں گے جس کو پورا کرنے کے بعد تمھیں دس پوائینٹ دئیے جائیں گے اور مکمل نہ کرنے والے کو صفر پوائینٹ ملے گا ______
کھیل کے آخر میں جس کے پوائنٹس زیادہ ہوں گے وہ جیت جائے گا اور جس کے نمبر کم ہوں گے وہ ہار جائے گا
لیکن پہلی تین پوزیشن لینے والوں کو منہ مانگا انعام ملے گا اور دو لوگ جو سب سے کم نمبر لیں گے انھیں مرنا ہو گا _______
لیکن کھیل کے اصول درمیان میں بھی صورت حال دیکھ کر تبدیل کیے جا سکتے ہیں
بولو منظور ہے سبھی کو ______
اسی گرجدار آواز نے اسی بھاری لہجے میں پوچھا
سب کے حلق سے خوف سے آواز نہیں نکل رہی تھی میں پوچھ رہا ہوں منظور ہے یا کھیل سے پہلے ہی تم سب کو یہیں ختم کر دوں ؟
آواز اور غصے سے گرجی ______
جی جی منظور _______
اب کے بار ہادی نے ہمت کر کے جواب دیا
گڈ __________
چلو اب تم سب کو پہلا بہت آسان ٹارگٹ دیا جاتا ہے سات زندہ انسانوں کے بال کاٹ کر ان کو سیاہ کپڑے میں لپیٹ کر بڑی احتیاط سے اسی جگہ یہاں لے کر آ جانا ہے اس کام کے لیے تمھیں دو دن کا وقت دیا جاتا ہے______
یاد رکھنا ٹارگٹ پورا کرنے والے کو پوائنٹس کے ساتھ ساتھ انعام بھی ملے گا اور ناکام ہونے والے کو سزا دی جائے گی ______
میرا خیال ہے تم سب کو اب یہ کھیل اچھی طرح سمجھ میں آ گیا ہو گا
بس ایک بات کا خیال رکھنا
کوئی بھی چیٹنگ مت کرنا نہ کسی کو اس کھیل کے بارے میں بتانے کی نہ کسی سے مدد لینے کی اجازت ہے ہر کام خود کرنا ہے
اور اس کے ساتھ ہی وہ کتاب اسی تیز رفتاری سے چکر کاٹتی آسمان کی طرف بلند ہوئی اور غائب ہو گئی _______
پانچوں حیران ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے ______
یہ سب تم تینوں کی وجہ سے ہوا ہے تم سب نے ہم دونوں کو بھی اس شیطانی جال میں پھنسا دیا ہے
ثمین نے غم زدہ لہجے میں کہا _____
جب تم تینوں کو علم تھا کہ وہ ایک شیطانی کتاب ہے تو کیا ضرورت تھی اسے دوبارہ بلانے کی
ارم نے ثمین کی حمایت کرتے ہوئے کہا____
او ہیلو تم دونوں خود اپنی مرضی سے یہاں آئی ہو اور یہ کتاب دیکھنے کا بھوت تمھارے ذہنوں پہ سوار تھا ہم تمھیں زبردستی اٹھا کر نہیں لائے
ولید نے ثمین اور ارم کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا _______
کاش ہمیں پتہ ہوتا کہ یہ سب ہو گا تو ہم کبھی یہاں نہ آتی ارم نے جواب دیا______
سب خاموشی سے واپسی کا سفر کر رہے تھے
اب سوائے ایک دوسرے کو الزام دینے کے اور ہو بھی کیا سکتا تھا ______
سب کے سامنے صرف دو ہی راستے تھے یا تو اس کتاب کی بات مان لی جائے یا موت کے لیے تیار ہو جائیں ________
بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا
اس لیے سب نے اس کتاب کی بات ماننے میں ہی عافیت جانی ویسے بھی یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں تھا جو وہ نہ کر سکتے تھے _____
ثمین اور ارم نے تو چھوٹی قینچی ہاتھ میں پکڑ لی ان کی کلاس کی اور سبھی ملنے جلنے والی لڑکیوں کے بال ہر وقت کھلے رہتے کیونکہ سب سر ڈھانپنے کو جہالت سمجھتی تھیں ______
اس لیے وہ موقع ملتے ہی کسی کے بھی بالوں کی ایک دو لٹیں کاٹ کے سنبھال لیتی ______
اور یوں انھوں نے بڑی آسانی سے یہ ٹاسک پورا کر لیا مگر لڑکوں کو یہ کام کرنے میں کافی مشکل پیش آ رہی تھی _______

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: