The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 3

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – قسط نمبر 3

–**–**–

لڑکوں کے سر سے بال کاٹنے کافی مشکل کام تھا ایک تو ان کے سر پہ بال بہت کم ہوتے اس لیے کاٹتے ہی انھیں خبر ہو جاتی تھی دوسرا لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتے ہیں انھیں بیوقوف بنا کر ان سے بال حاصل کرنا کافی مشکل کام تھا ارحم نے دو دنوں میں چھ لوگوں سے اور ولید نے دو دنوں میں صرف چار لوگوں کے بال کاٹ سکا جبکہ ہادی کے ذہن میں سب سے انوکھا خیال آیا وہ نائی کی دکان پہ گیا اور وہاں سے سات مختلف رنگ کے پہلے سے کٹے ہوئے بال سیاہ کپڑے میں الگ الگ لپیٹ کے رکھ لیے دوسرے دن سب اسی ویران جگہ پر مقررہ وقت پر پہنچ گئے ابھی انھیں کھڑے صرف چند منٹ ہی گزرے تھے کہ انھیں اپنے ارد گرد بہت سے سانپ رینگتے ہوئے محسوس ہوئے جو کہ ایک دائرے کی شکل میں ان کے ارد گرد گھوم رہے تھے ثمین اور ارم کا تو خوف کے مارے چلا چلا کر برا حال ہو رہا تھا ولید ارحم اور ہادی کی حالت بھی ان سے کچھ مختلف نہیں تھی لیکن وہ مرد ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کی طرح چیخ نہیں رہے تھے
اچانک چاروں سمت دن میں بھی اندھیرا چھانے لگا
اور پھر اس اندھیرے میں وہی کتاب آہستہ آہستہ چمکتی ہوئی ان کے سامنے آ گئی
رینگتے ہوئے سانپ ایک طرف ہٹ کر منہ اوپر کی طرف اٹھا کر بڑے ادب سے کھڑے ہو گئے
تو تم سب نے اپنا اپنا ٹاسک پورا کر لیا چلو اب باری باری اپنا کام چیک کرواؤ
کتاب سے وہی شیطانی آواز ابھری
سب سے پہلے ثمین نے پرس میں سے وہ سات بالوں کی سیاہ پوٹلیاں نکالیں اور نیچے زمین پر رکھ دی
چلو اب ارم تم دکھاؤ
اور ارم نے بھی اسی طرح وہ سیاہ کپڑے میں بندھے بالوں کی پوٹلیاں زمین پہ رکھ دیں
پھر ارحم ولید اور ہادی کا نام لیا گیا
سب نے ایسے ہی کیا
گڈ چلو مارگزیدہ چیک کرو ان کا مال کون سا اصلی ہے اور کونسا نقلی
اور اس کے ساتھ ہی ان گز گز لمبے سانپوں میں سے ایک سانپ آگے رینگتا ہوا آیا اور سب پوٹلیاں بھاری بھاری سونگھ کر آگے بڑھنے لگا
سب پوٹلیاں سونگھنے کے بعد ہادی کی بنائی ہوئی پوٹلیاں اس سانپ نے بڑی آسانی سے نگل لیں اور واپس اپنی جگہ پر چلا گیا
تو اس طرح اس ٹاسک میں ثمین اور ارم کو ملے ہیں دس دس نمبر ولید اور ارحم کو ملے ہیں آٹھ نمبر اور ولید کے ہیں پانچ نمبر جبکہ ہادی نے خود کام مکمل نہیں کیا بلکہ کسی کے کٹے ہوئے بال اٹھا کے لے آیا ہے
اس لیے ہادی کو منفی پانچ نمبر دئیے جاتے ہیں ساتھ میں ٹاسک پورا نہ کرنے اور چیٹنگ کی سزا بھی دی جائے گی
ولید اور ارحم کو پہلی بار معاف کیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد انھیں بھی سزا ملے گی
اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی سانپوں کی پوری فوج رینگتے ہوئے ان سب کی طرف بڑھنے لگی
سب نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں
اچانک ہادی کو کسی غیر مرئی طاقت نے اٹھا کر ان سب سے دور پٹخ دیا
اس کے ساتھ ہی وہ سارے سانپ رینگتے ہوئے ہادی کے گرد لپٹنے لگے اور ہادی خوف سے چلانے لگا ہادی کا اب صرف چہرہ نظر آ رہا تھا
بس بس بس اتنی سزا ہی کافی ہے کسی نے ابھی کاٹنا نہیں ہے جاؤ چھوڑ دو اسے اب اسے اچھی طرح سبق مل گیا ہو گا کہ دھوکہ دینے کا انجام کیا ہوتا ہے
سب سانپ حکم ملتے ہی واپس اپنی جگہ پر جا کے کھڑے ہو گئے
ہادی وہیں بے حس و حرکت پڑا تھا شاید سانپوں کی دہشت سے بے ہوش ہو گیا تھا
ان سب کی بھی ہادی کا یہ حال دیکھ کر خوف سے ٹانگیں کانپ رہی تھیں
مارگزیدہ یہ بال یہاں سے اٹھاؤ اور انھیں جادو نگری کے طالب علموں کے تجربات کے لیے روانہ کر دو تاکہ وہ وہاں پر ان بالوں پر تجربے کر کے جان سکیں کہ انسان کو زیادہ سے زیادہ تکلیف کیسے دی جا سکتی ہے
جب ہمارے جادو گر ان پہ اپنا جادو پڑھ کر پھونکیں گے تو ان لوگوں کو پہنچنے والی اذیت سے ہمیں پتہ چلے گا کہ کوئی عمل کتنا کام کرتا ہے اور کتنا طاقتور ہو سکتا ہے
پہلا مرحلہ مکمل ہوا اب دوسرے مرحلے کی طرف چلتے ہیں
تو دوسرے مرحلے میں تم سب کو سات شیشیاں دی جا رہی ہین اس میں سات ایسے انسانوں کا خون جمع کرنا ہے جو نماز نہ پڑھتے ہوں یا کبھی کبھار پڑھتے ہوں اس میں آپ سب کو ایک آسانی دی جاتی ہے کہ اگر سات لوگوں کا نہ ہو سکے تو پانچ کا بھی کافی ہو گا مگر جس کا کہا گیا ہے اس کا ہی لے کر آنا ہے
اب تم سب واپس جا سکتے ہو
اس کام کو مکمل کرنے کے لیے تمھیں ایک ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے
اس کے ساتھ ہی یہ دم منظر بدل گیا ہر شے پتہ نہیں کہاں غائب ہو گئی ارحم اور ولید نے ہادی کو ہلایا اور اسے ہوش دلا کر واپس لے آئے
دوسرے دن سب کے چہرے لٹکے ہوئے تھے
ہادی تم ٹھیک ہو ارحم نے ہادی کے بخار زدہ زرد چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہادی نے کوئی جواب نہ دیا
ولید یہ کھیل تو ہماری سوچ سے زیادہ خطرناک ہے پلیز کچھ کرو مجھے نہیں کھیلنا یہ کھیل میری کسی طرح اس سے جان چھڑوا دو
ارم نے روتے ہوئے کہا
ولید تم سب نے اس کتاب کی بات پہ غور کیا تھا
یعنی وہ ان بالوں پہ جادو کے تجربات کریں گے
مطلب شیطان انسانوں کے خود قریب نہیں جا سکتے اس لیے وہ یہ سب چیزیں حاصل کرنے کے لیے ہمیں استعمال کر رہے ہیں
ہادی نے سب کو یاد دلایا
مگر وہ انسان کو کیوں تکلیف دیتے ہیں ؟
ارم نے پھر پوچھا
ارم شیطان پیدا ہی مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لیے ہوئے ہیں ان کو اس کام میں خوشی ملتی ہے
ہادی نے جواب دیا
اس کا مطلب ہے کہ ہم سب جو کچھ کریں گے اس سے دوسرے لوگوں کو بھی تکلیف ملے گی اور ان کی اذیت کے ذمے دار بھی ہم سب ہوں گے
ارحم نے سوچ کر کہا
یار ہادی کچھ کرو اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ورنہ مجھے لگتا ہے کہ ہم سب اس کھیل میں مارے جائیں گے
ارم نے ہادی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
ارم شیطان کا کام ہے انسان کو تکلیف دینا اور ہم سب سے جو کروا رہے ہیں اس کے ذریعے بھی انسانوں کو تکلیف ہی پہنچائیں گے
اس کا مطلب ہے کہ ہم سب بھی رفتہ رفتہ انسان سے شیطان بن رہے ہیں
ہادی نے پھر سے انکشاف کیا
ہادی یہ انسانوں کا خون وہ کیا کریں گے؟
ارم نے پوچھا
پتہ نہیں پر کوئی اچھا کام تو نہیں کریں گے
وہ میں بتانا بھول گئی کہ میں نے جن جن لڑکیوں کے بال کاٹے تھے وہ عجیب و غریب بیماریوں میں مبتلا ہو گئی ہیں
وہ جو سیکشن وائٹ کی مرحہ تھی وہ تو آج سکول بھی نہیں آئی اس کی بہن بتا رہی تھی کہ اسے مرگی جیسے دورے پڑ رہے ہیں
ارم نے انکشاف کیا
او مائی گاڈ یار اس کا مطلب کہ ان شیطانوں نے لازمی ان لوگوں کے بالوں پہ کوئی جادو وغیرہ کا شیطانی عمل کیا ہے
ثمین نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
اور سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ ان سب لوگوں کی تکلیف کے ذمے دار ہم ہیں
ہادی نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا
یار ایک اور بات مجھے پتہ چلی ہے
میری کزن ہے وردہ وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے سکارف سے سر ڈھانپتی ہے اس کی دادی نے اسے یہ سکھایا ہے اس کی وجہ سے سب اس کا مزاق اڑاتے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوا وہ بالکل ٹھیک ہے
ارم نے انکشاف کیا
ارم میرے بابا جانی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رات کو کھانے پینے کی اشیاء ڈھانپ کر رکھیں تاکہ ان میں وبا یعنی بیماری کے جراثیم نہ داخل ہو سکیں
اسلام میں خواتین کو اگر سر ڈھانپ کر باہر نکلنے کا حکم دیا گیا ہے تو اس کے پیچھے پردے کے علاوہ پھر یہی حکمت پنہاں ہو گی کہ ایسے جادو ٹونے اور شیطانی قوتوں کے بد اثرات سے محفوظ رہ سکیں
وردہ چونکہ اس بات پہ عمل کرتی ہے اس لیے وہ محفوظ رہی
ہادی نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا
لیکن ہادی وہ گھر میں تو سر سے دوپٹہ اتارتی ہے ہر وقت تو سر ڈھانپ کے نہیں رکھتی
ارم نے پوچھا
ارم میرا خیال ہے یہ شیاطین مسلمانوں کے گھروں میں جلدی داخل نہیں ہو سکتے
یہ صرف گھروں سے یوں بال کھول کے ننگے سر آوارہ پھرنے والی عورتوں کو جلدی ٹارگٹ کر لیتے ہیں بنسبت پردے میں خود کو کور کر کے باہر نکلنے والی خواتین کے
ہادی نے اپنی سوچ اور حالات سے نتیجہ اخذ کیا
ہائے میرے اللّٰہ ہم دونوں کونسا اپنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم پہ عمل کرتی ہیں
نہ ہمیں کبھی کسی نے کہا
نہ گھر میں نہ سکول میں توبہ یااللہ معاف کر دے اسی لیے تو ہم دونوں شیطان کے جال میں آسانی سے پھنس گئی
ثمین نے سوچتے ہوئے کہا
وہ جو شانزے تھی ہماری ہمسائی اس کی منگنی پھپھو کے گھر ہوئی تھی وہ صبح مما بتا رہی تھی کہ ان لوگوں نے منگنی توڑ دی بغیر کسی وجہ کے اور شانزے کا رو رو کے برا حال تھا مما کہہ رہی تھی رات اس نے صدمے سے خودکشی کی کوشش بھی کی ہے اس کے گھر والے شدید پریشان ہیں
ارم نے سب کو بتایا
ولید تم لوگوں نے جن لڑکوں کے بال کاٹے تھے ان کا کیا حال ہے؟
ثمین نے پوچھا
ارم خدا کے واسطے چپ کر جاؤ بند کرو یہ ٹاپک مجھے عجیب وحشت ہونے لگی ہے مجھ میں ہمت نہیں کسی کے بارے میں جاننے کی صبح سکول آ کر علی کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ اس کا رات ایکسیڈنٹ ہو گیا اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں _______
باقی کا مجھے نہیں پتہ اور جب سے مجھے پتہ چلا ہے مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میں اس کے ایکسیڈنٹ کا ذمے دار ہوں عجیب احساس جرم اور شرمندگی مجھے محسوس ہو رہا ہے اس لیے اب خاموش ہو جاؤ کوئی اس بارے میں کچھ نہ کہے
ولید نے سر پکڑتے ہوئے کہا
یار ساری باتیں چھوڑو اب اس نئے ٹاسک پہ کام شروع کرو ورنہ جان بچانی مشکل ہو جائے گی
ارحم نے سب کو یاد دلایا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: