The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 4

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – قسط نمبر 4

–**–**–

لوگوں کا خون لینا بہت مشکل کام تھا
ارم اور ثمین نے تو باقاعدہ اس کام کے لیے سب سے جھوٹ بولا
سکول میں کہا کہ تمھارا بلڈ گروپ چیک کرنا ہے
اور سکول سے باہر جیسا انسان ہوتا وہ دونوں ویسی ہی جھوٹی کہانی سنا کر اسے رام کرنے کی کوشش کرتیں
اور یوں سات دن مکمل ہونے سے پہلے ہی انھوں نے اپنا کام پورا کر لیا
جبکہ ولید ہادی اور ارحم نے عجیب فیصلہ کیا تینوں بائیک پہ بیٹھ کے اپنے سابقہ تجربات کو بروئے کار لا کر گن پوائنٹ پہ لوگوں کا خون حاصل کرنے لگے
جو بھی ماڈرن فیشن ایبل خاص کر داڑھی کے بغیر سا بندہ اکیلا نظر آ تا منہ نقاب میں چھپا کے چوروں کی طرح اسے گھیر لیتے اور پھر زبردستی اس کا خون سرنج سے نکال لیتے ______
اس طرح وہ بھی مقررہ دن سے پہلے ہی اپنا کام مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے______
اور اب سب مقررہ وقت پر اسی جگہ کھڑے ہو کر اس شیطانی کتاب کا انتظار کر رہے تھے
اس بار وہ کتاب ان کے سامنے نیچے زمین پہ پڑی تھی _____
سب اپنا لایا ہوا خون اس کتاب کے اوپر ڈالتے جاؤ
کتاب سے آواز سنائی دی ______
سب نے آگے بڑھ کر باری باری وہ خون شیشی کھول کے اس کے اوپر ڈالنا شروع کیا _______
خون کا ایک قطرہ بھی نیچے نہیں گرا تھا یوں لگ رہا تھا یہ کتاب خون پی رہی ہے ____
آخری باری ارحم کی تھی ارحم کے خون ڈالتے ہی وہ کتاب خود بخود بند ہو گئی
اور اس کے ساتھ ہی فضا میں ہزاروں کی تعداد میں چیل کوے اور چمگادڑیں ان کے ارد گرد چکر کاٹنے لگیں
وہ سب ڈر کے ایک دوسرے کے نزدیک ہو گئے
اس کے ساتھ ہی وہ شیطانی کتاب ان کے سروں پہ چکر کاٹنے کے بعد اب ان کے سامنے ہوا میں معلق کھڑی تھی کتاب کھلی اور اس کے درمیان میں سے ایک انتہائی بد صورت اور کریہہ صورت سر بر آ مد ہوا __________
شکریہ بہت بہت شکریہ میرے بچو
مجھے دوبارہ زندگی دینے اور میرے مردہ جسم میں اس خون سے جان ڈالنے کے لیے ______
اس کٹے ہوئے سر سے آواز بلند ہوئی
میں اتنے سالوں سے یہ کام نہیں کر سکا جو تم سب نے سات دنوں میں کر دکھایا
میں اس شیطانی کتاب کا خالق ہوں اور میرا نام زرمائن ہے میں نے آج سے لاکھوں سال پہلے پیغمبر سلیمان کے زمانے میں جنم لیا تھا میں وہاں جادو گروں کا بے تاج بادشاہ تھا پورے ملک پر میرا راج تھا تمام جن و انسان میرے آگے سجدہ ریز ہوتے تھے شیطان میرے حکم سے ہر کام انجام دیتے لیکن پھر اللّٰہ تعالیٰ نے سلیمان کو پیغمبر بنا کر بھیجا جس نے وہاں کے تمام شیاطین کو اپنے قبضے میں لے کر انھیں اپنا غلام بنا لیا اور جنھوں نے ان کا حکم نہ مانا انھیں قید کر دیا اور ہماری لکھی گئی تمام جادو کی کتابیں دفن کروا دیں اور میں نے ان کی غلامی قبول نہ کی یوں میں ایک شہنشاہ کی بجائے ایک قیدی بن گیا
لیکن میں نے اس قید خانے میں اپنی یہ انوکھی کتاب لکھی اور کسی نہ کسی طرح اسے نسل در نسل محفوظ اور منتقل کرنے کے لیے دن رات چلے کاٹے اس میں ایسے منتر لکھے کہ جو اسے پڑھے اس سے میرے مرنے کے بعد بھی میری روح کو طاقت ملتی رہے گی اور میرا وجود میری روح کی گرفت سے مکمل آ زاد نہ ہو سکے گا ______
اور میں نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھے دفنایا نہ جائے بلکہ ایک تین کونوں کی کمرے نما زمین دوز قبر بنا کر میری لاش کو وہاں رکھ دیا جائے یوں میں سالہا سال سے وہیں زیر زمین مردوں کی طرح زندگی بسر کر رہا ہوں آج برسوں بعد میری روح نے اتنی طاقت حاصل کر لی ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ بھی سکتا ہوں سن بھی سکتا ہوں اور کنٹرول بھی کر سکتا ہوں لیکن میں مکمل طور پر اس قبر کی قید سے رہائی حاصل نہیں کر سکتا اس قبر سے نکلنے کے لیے میرے بچو
مجھے تمھاری مدد کی ضرورت ہے اور اگر ایک بار تم سب نے مجھے اس تکلیف دہ زندگی سے نجات دلا دی تو میں اس زندگی کی ہر نعمت تمھارے قدموں میں لا کر رکھ دوں گا
اس دنیا پہ پھر میرا راج چلے گا
ہر شخص میرا غلام ہو گا اور تم سب میرے ساتھ مل کر اس پوری دنیا پہ حکومت کرو گے
اس دنیا پہ بہت جلد ذرمائن کا سکہ چلنے والا ہے
لیکن مجھے دوبارہ زندگی دینے کے لیے تم سب کو اس گیم کا تیسرا راؤنڈ کامیابی سے پورا کرنا ہے اس کام کے لیے تمھیں جو کام کرنا ہے وہ غور سے سنو
تم سب کو قبرستان جانا ہے اور جو بھی مرد کو مرے ہوئے چوبیس گھنٹے سے کم وقت ہوا ہو اور اس کے گھر والے اسے دفنا کر چلے جائیں تو تم سب نے اس کی لاش کو نکال کے یہاں لانا ہے کیسے لانا ہے یہ سوچنا تمھارا کام ہے مگر یاد رکھنا اگر اس کو مرے ہوئے اس سے زیادہ وقت گزر گیا تو وہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہو گا اور تم پانچوں اس راؤ نڈ میں فیل ہو جاؤ گے
اور پھر جو میں تمھیں سزا دوں گا وہ تم نے کبھی سوچی بھی نہیں ہو گی
اس کام کے لیے تمھارے پاس صرف پندرہ دن ہیں
صرف پندرہ دن
ذرمائن کی بھاری آواز گونجی اور اس کے ساتھ ہی تیز ہوا طوفان کی طرح چلنے لگی اور سب کچھ غائب ہو گیا
وہ سب ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے
ہادی یہ ہم سب نے کیا کر دیا وہ شیطان تو زندہ ہو گیا اب کیا ہو گا؟
ولید کا چہرہ خوف سے زرد ہو رہا تھا
سب کے یہی حال تھا
مگر سب خاموش تھے کسی کے پاس ایک دوسرے کے سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا
اس لیے سب واپس چل پڑے
ٹاسک بہت مشکل تھا اور اس سے بھی مشکل کام کسی مردہ کو قبر سے باہر نکالنا
وہ بھی ثمین اور ارم جیسی نازک مزاج لڑکیوں کے لیے جنھوں نے اپنی زندگی میں کبھی قبرستان کی شکل نہیں دیکھی تھی
ہادی ولید اور ارحم کی بھی حالت ان دونوں سے مختلف نہ تھی تینوں کو پہلے تو قبرستان کے نام سے ہی خوف محسوس ہو رہا تھا اور اس پہ کسی مردے کو قبر سے باہر نکالنا
سب مل کر تین چار دن سے اس معاملے پر ہی بات چیت کر رہے تھے مگر ابھی تک ان میں سے کسی کی بھی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ کسی قبرستان کی شکل ہی دیکھ لے آخر کار انھوں نے مل کر یہ طے کیا کہ اس معاملے میں گورکن کی مدد لی جائے
اور اس سے یہ کہا جائے کہ جیسے ہی قبرستان میں کوئی مردہ دفن ہو انھیں اطلاع دے
اس طرح ان سب کے لیے کام کرنا آسان ہو جائے گا
سکول سے چھٹی کے بعد ولید ارحم اور ہادی نے قبرستان کے گورکن سے مختلف حیلے بہانے تراش کے بات شروع کی اور آخر کار وہ پانچ ہزار لے کر اس کام کے لیے تیار ہو گیا
اب انھیں دن رات اس کے فون کا انتظار رہتا اور ایک دن شام پانچ بجے اس کا فون آ گیا کہ عشا کی نماز کے بعد یہاں ایک مرد دفن کیا جائے گا
تینوں فون سننے کے بعد ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے کیونکہ رات کے وقت تو وہ قبرستان میں جانا تو دور اس کے قریب سے گزرنے کا بھی تصور نہیں کر سکتے تھے
مگر اب دن کم تھے اور اگر اور کوئی مردہ نہ ملا تو پھر ان کے ساتھ جو ہو گا وہ سوچ کر ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے
پانچوں ہمت کر کے دس بجے کے قریب قبرستان پہنچے اور گورکن کی بتائی ہوئی قبر کے پاس کھڑے تھے ہادی نے کانپتے ہاتھوں سے قبر کی ایک طرف کدال سے مٹی کھرچنی شروع کی ارحم اور ثمین نے باہر پہرہ دے رہے تھے کہ کوئی آ نہ جائے
زمین کافی نرم تھی تھوڑی دیر بعد ہی وہ کافی نیچے تک پہنچ گیا اور بالآخر ان تینوں نے ایک طرف سے سرنگ بنا کے لاش باہر نکال لی ارم نے جلدی سے بوری کا منہ کھولا جس میں لاش کو ڈالنا تھا ہادی نے اور ولید نے مردے کو اٹھا کر اس کے اندر ڈالا اور بوری کا منہ باندھ دیا اب تینوں نے مل کر بوری اٹھائی اور باہر سڑک پہ کھڑی گاڑی میں لے جا کر اسے رکھا
اس کام میں انہیں رات کے دو بج گئے قبرستان میں ہر طرف سناٹا تھا
ولید نے ایک نظر قبرستان کی طرف دیکھا اور بولا
یہ جو لوگ آج قبروں میں پڑے ہیں ایک وقت ہو گا جب ہماری طرح ذندہ ہوں گے چلتے پھرتے کھاتے پیتے انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ایک دن وہ مر جائیں گے اور ان کے جان سے بھی پیارے لوگ انھیں قبر میں ڈال آئیں گے
ہاں یار ولید کی بات سن کر ہادی بولا
پتہ نہیں انھوں نے کتنا مال جمع کیا ہو گا کتنی جائداد بنائی ہو گی
کتنا بینک بیلنس بڑھانے کے لیے دن رات جتن کئے ہوں گے
لیکن یہاں پر آئے تو صرف خالی ہاتھ
میرے بابا جان کہتے ہیں کہ قبر میں صرف دو چیزیں انسان کے ساتھ جاتی ہیں
اس کی نیکیاں
اور اس کی برائیاں
باقی سب کچھ دنیا میں ہی رہ جاتا ہے
نیک لوگوں کی قبر جنت بن جاتی ہے اور برے لوگوں کی قبر جہنم بن جاتی ہے
ہادی نے ایک لمبی سانس لے کر کہا
اور بہت افسوس کی بات ہے کہ انسان ساری عمر دنیا کے کام میں لگا رہتا ہے لیکن اس کے پاس نہ تو نیکیاں کرنے کا وقت ہوتا ہے
اور نہ برائیوں سے بچنے کا شوق______
اسے صرف جنون ہوتا ہے تو اس بات کا کہ اس کے دولت کے ڈھیر میں کیسے اضافہ ہو گا
اور زیادہ دولت مزید پیسہ پیسہ پیسہ کرتے وہ قبر میں جا پہنچتا ہے
ثمین نے اپنے گھر والوں کے حالات مختصر بیان کیے
لیکن ہم کیا کر رہے ہیں؟
ارم نے سب کے سامنے سوال رکھا
ہم اس شیطان ذرمائن کا ساتھ دے کر نیکیاں کما رہے ہیں؟یا اپنی قبر کو جہنم بنا رہے ہیں
ذرا سوچو تو وہ شیطان پھر سے زندہ ہوا تو دنیا میں کتنی برائیاں پھیلائے گا
انسانوں پر کتنا ظلم کرے گا اور
سب سے بڑھ کر اس کے ہر برے کام کے ذمے دار ہم لوگ ہوں گے کیونکہ ہم اسے دوبارہ اس دنیا میں لانے کی وجہ بنے
ارم نے مایوسی سے کہا
کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس لیے سب گاڑی میں بیٹھ گئے ارحم نے گاڑی سٹارٹ کی تو انھیں باہر کھڑی ثمین کی چیخ سنائی دی
سب گاڑی سے نکل کر باہر کی طرف لپکے
اور ثمین کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا جو گاڑی کی ڈگی کی طرف خوف سے دیکھ رہی تھی
لاش کا ہاتھ ڈگی سے باہر تھا اور اس میں سے تازہ خون کے قطرے زمین پہ ٹپک رہے تھے..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: