The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 5

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – قسط نمبر 5

–**–**–

سب لوگ اس لاش کے ہاتھ سے بہنے والے تازہ خون کو حیرت سے دیکھ رہے تھے
لاش کو ڈگی میں رکھتے ہوئے اس کا ہاتھ باہر رہ گیا تھا اور ڈگی بند کرتے وقت وہ کچلا گیا تھا جس کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا
یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ ناممکن ہے ولید نے حیرت سے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
یار ڈگی کھول کے ایک بار چیک کر لو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بندہ زندہ ہو اور اس کے گھر والے مردہ سمجھ کے دفنا گئے ہوں؟
ارم نے تکا لگایا
میرے بابا کہتے ہیں کہ جو لوگ کسی حادثے میں فوت ہو جائیں وہ شہید ہوتے ہیں
اور شہید زندہ ہوتے ہیں ہو سکتا ہے یہ بھی کوئی شہید ہو
ہادی نے اپنی رائے پیش کی
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ثمین نے حیرت سے پوچھا مطلب شہید کی بلڈ سرکولیشن بھی چلتی رہتی ہے
ثمین کو ابھی تک اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا
ثمین میرے بابا جانی ہمیں ایک واقعہ سناتے تھے
کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بار کسی کی قبر کھود رہے تھے تو جیسا کہ قبرستان میں ہوتا ہے اکثر قبریں مٹ جاتی ہیں ان پہ نئی قبریں بن جاتی ہیں تو بابا جان بتاتے ہیں کہ ہم جب قبر کھود چکے تو میں نے جونہی کدال سے مٹی نکالنے کے لیے اس قبر کے ایک طرف اسے زور سے مارا تو تازہ خون کے فوارے بہنے لگے
ہم سب ڈر گئے اور جلدی سے باہر نکل آ ئے
جب ذرا حواس بحال ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ میں نے کدال سے کسی قریب ہی دفن کی گئی کسی لاش کا بازو زخمی کر دیا تھا اور وہ خون اس میں سے بہہ رہا تھا
ہمیں شدید حیرت کا جھٹکا لگا
خیر ہم لوگ اتنے سمجھدار نہیں تھے کہ کسی کو بتاتے یا دکھاتے
اس لیے دوبارہ اس جگہ پہ مٹی ڈالی اور دوسری جگہ قبر کھودنے لگے
ہادی نے سب کو ایک عجیب بات بتائی
چپ کرو تم سب اب اتنی محنت کے بعد یہ الٹے سیدھے اندازے لگانا بند کرو
یہ جو کچھ بھی ہے مردہ یا زندہ ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ارحم نے اپنی اتنی محنت بے کار جاتے دیکھ کر سب کو روکتے ہوئے کہا
ہادی تم اس ہاتھ کو ڈگی کھول کے اندر رکھو اور چلو اب جلدی یہاں سے
ہادی نے اس لاش کا زخمی ہاتھ پکڑا تو وہ یوں گرم تھا جیسے اس میں زندہ انسان کا ہوتا ہے ہادی نے جلدی سے ڈگی کھول کر اسے اندر دھکیلا اور ڈگی بند کی
سب گاڑی میں بیٹھ کر اسی کھلے میدان کی طرف چل پڑے
وہاں پہنچ کر ان سب نے وہ لاش نکالی اور نیچے زمین پہ رکھ دی
ہادی نے کتاب کو بلانے کا منتر پڑھا
اور دیکھتے ہی دیکھتے اس جنگل میں منگل کا سماں پیدا ہو گیا
ہزاروں جنگلی جانور ان کے اردگرد منڈلانے لگے
ان جانوروں کے حلق سے نکلنے والی خوفناک آوازیں سب کو خوفزدہ کر رہیں تھی
تھوڑی دیر میں کتاب ان کے سامنے آ گئی اور کتاب کھلتے ہی ذرمائن کی منحوس شکل باہر نکلی
آگئے میرے بچو
یقیناً آج تم نے ایک بہت بڑا کام کیا ہے اور اس کام کا انعام بھی بہت بڑا ہو گا
اگر آج میں دوبارہ ذندہ ہو گیا تو تم سب کی زندگیاں بدل دوں گا
ذرمائن نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا
اور اس کے ساتھ ہی زور دار بجلی کڑکی جس کے دھماکے کی شدت سے سب بری طرح کانپ گئے
زمین پہ پڑی لاش کے چہرے سے کفن اتر گیا اور اس کے اوپر تیزی روشنی چکر لگانے لگی کچھ دہر بعد وہ تیزی سے گردش کرتی روشنی کی شعاعیں اس لاش کے اندر گھس گئیں
لاش نے آہستہ آہستہ حرکت شروع کر دی
پہلے اس کے ہاتھ ہلنے لگے پھر ٹانگیں اور تھوڑی دیر بعد پوری لاش ہی مچھلی کی طرح تڑپنے لگے جیسے اسے زور دار کرنٹ لگ رہا ہو
یہ انسان نہیں جیل ہے میں یہاں پھنس گیا ہوں یہ تم لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے
میرا دم گھٹ رہا ہے نکالو مجھے یہاں سے جلدی کرو
لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرو اور مجھے باہر نکالو مجھے سانس نہیں آ رہی
ذرمائن کی چیخ و پکار کا شود فضا میں گونجنے لگا اور سب حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے
تم مجھے نکال کیوں نہیں رہے جلدی کرو میں اس کے اندر زیادہ دیر نہیں رہ سکتا
اس لاش پہ میرا کوئی جادو اثر نہیں کر رہا جلدی نکالو مجھے باہر
دیکھو اگر تم مجھے باہر نکالو گے تو میں تم سب کو منہ مانگا انعام دوں گا
تمھیں اس کھیل سے بھی آ زاد کر دوں گا
مجھے باہر نکالو جلدی کرو
ذرمائن کا شور مسلسل جاری تھا
فضا میں ہر طرف آ ندھیاں چلنے لگی تھیں گھپ اندھیرا خوفناک آوازیں
اور ان سب میں ذرمائن کا درد سے چیختے ہوئے مدد مانگنے کا شور
دس پندرہ منٹ کے بعد سب کچھ غائب ہو گیا
کتاب ان کے سامنے زمین پہ پڑی تھی
لیکن ذرمائن کے چلانے کی آ وازیں بند نہیں ہوئی تھیں وہ مسلسل چیخ رہا تھا
لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو تم لوگ میری بات مان کیوں نہیں رہے
وہ غصے سے دھاڑا
سب نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
میرے ساتھ آ ؤ
ہادی کے ذہن میں ایک ترکیب آ ئیں
سب نے مل کر ایک قبر کھودی اور چیختے چلاتے ذرمائن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لاش کو قبر میں دفن کرنے لگے
تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو اس کی بہت بھاری قیمت
تم سب کو چکانی پڑے گی کیونکہ ہر سال بعد اماوس کی رات میں ہم سب شیطان بالکل آزاد ہوتے ہیں اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے کر سکتے ہیں
اور جب میں آ زاد ہوا تو میں تم پانچوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا
رامائن نے انھیں دھمکی دیتے ہوئے کہا
ہادی نے وہ شیطانی کتاب بھی اسی قبر میں پھینک دی اور قبر پہ مٹی ڈال کے اسے برابر کر دیا
صبح طلوع ہونے والی تھی وہ سب اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے
____________________
اب ان میں سے کوئی اس کتاب کا نام بھی نہیں لیتا تھا کہ کہیں پھر سے دوبارہ وہ کتاب ان کے سامنے نہ آ جائے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا گریڈ نینتھ کے پیپرز دے کے اب سب ٹینتھ میں پہنچ گئے تھے
کچھ دن سے ثمین سکول نہیں آ رہی تھی اس کے گھر سے اپلیکیشن آئی تھی کہ وہ بیمار ہے سب
نے کال کر کے اس کی صحت کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کا سر وزنی ہو رہا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ کسی نے منوں وزن سر پہ رکھ دیا ہے
عجیب عجیب خیال آ رہے ہیں
دو دن کے بعد اچانک پتہ چلا کہ ثمین نے خود کشی کر لی ہے
کسی کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا
سب ثمین کے گھر پہنچے کٹی ہوئی گردن سے ابھی تک خون بہہ رہا تھا
گھر میں ہر شخص رو رہا تھا ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس سے پوچھیں کہ یہ کیسے ہو گیا ؟
تھوڑی دیر بعد پولیس بھی آ گئی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے گئے
وہ سب ثمین کی ماں کے قریب جا کر بیٹھ گئے
آنٹی کیا ہوا تھا ثمین کو کیوں کی اس نے خود کشی کیا گھر میں کسی سے جھگڑا ہوا تھا؟
ارم نے روتے ہوئے پوچھا
نہیں بیٹا کچھ بھی نہیں ہوا اور ثمین کہاں کسی سے لڑتی تھی
رات دو بجے کے قریب اس کے کمرے سے ہمیں چیخنے کی آواز آئی سب بھاگ کے وہاں پہنچے تو
ثمین کے ہاتھ میں پھل کاٹنے والی چھری تھی اور وہ چھری اس نے گلے پہ پھیر لی تھی
ہماری آنکھوں کے سامنے اس نے تڑپ تڑپ کے جان دے دی
ثمین کی ماں کے روتے ہوئے آنسو نہیں خشک ہو رہے تھے
آنٹی ہم ثمین کے کمرے میں جا سکتے ہیں ؟
ارم نے ڈرتے ڈرتے ثمین کی ماں سے پوچھا
جی بیٹا چلے جاؤ
رانی انہیں ثمین کے کمرے میں لے جاؤ
ثمین کی ماں نے ملازمہ کو آواز دیتے ہوئے کہا
سب ثمین کے کمرے میں پہنچ کر اس کا خون میں نہایا ہوا بیڈ دیکھے جا رہے تھے
اچانک ارم کی نظر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ رکھی کتاب پہ پڑی
خوف سے اس کی رگوں میں خون منجمد ہونے لگا
ہادی وہ منحوس کتاب ووووہ دیکھو
واپس آ گئی ہے
ارم نے بمشکل اٹکتے ہوئے کہا
اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے کتاب ہوا میں تحلیل ہو گئی
ولید اس سال کے پہلے مہینے کی اماوس کی راتیں شروع ہو گئی ہیں
اس شیطانی کتاب نے اپنا کام شروع کر دیا ہے
ثمین کے بعد اس کا اگلا ٹارگٹ ہم میں سے کوئی اور ہوگا
ہادی نے سب کی طرف دیکھتے ہوا جان لیوا انکشاف کیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: