The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 7

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – قسط نمبر 7

–**–**–

اس سے پہلے کہ ہم سب کے ہاتھ چھوٹتے اور ہم باہر جا گرتے باہر سے ٹھک ٹھک کی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی بوڑھا لاٹھی زور زور سے زمین پہ مار رہا ہو
لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم
تم منحوس قوم کی کس نے رسی دراز کر دی کہ تم یہاں تک پہنچ گئے
اچانک ایک بارعب آواز سنائی دی
اور اس کے ساتھ ہی چیخنے چلانے کی آوازوں کے ساتھ ہی ہم سب پہ اس مقناطیسی کشش جو ہمیں باہر کھینچ رہی تھی کمزور ہو نے لگی
اور پھر دس پندرہ منٹ کے بعد سب کچھ پہلے جیسا نارمل ہو گیا
مزار کا صحن بالکل خالی ہو چکا تھا
اب وہاں ایک ستر اسی سال کا بوڑھا ہاتھ میں لاٹھی پکڑے پورے صحن کے چکر کاٹتے ہوئے مسلسل کچھ پڑھ رہا تھا
سب کی جان میں جان آئی
شکر ہے اللّٰہ کا
ولید نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا
اور باقی لوگ بھی اس کے قریب آ کر بیٹھ گئے مگر سب کی نظریں باہر صحن میں اس سفید داڑھی والے بزرگ پہ جمی ہوئی تھیں
تھوڑی دیر بعد وہ بزرگ خود ہی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے مزار کے اندر داخل ہوئے اور دروازے پہ کھڑے ہو کے چاروں طرف نظریں دوڑائیں
اور آہستہ آہستہ ان ڈرے سہمے بچوں کے قریب آ کر بیٹھ گئے
سب بس خاموشی سے ان کا منہ تکے جا رہے تھے
بچو تم لوگ گھر کیوں نہیں گئے
یہ عمر مزارات پہ بیٹھ کر رات کو عبادت کرنے کی تو نہیں ہے تمھاری عمر کے لوگ تو کھاتے ہیں پیتے ہیں سوتے ہیں اور زندگی انجوائے کرتے ہیں
تو پھر تم سب یہاں بیٹھ کے کیا کر رہے ہو ؟
مسافر ہو آرام کرنے کے لیے رک گئے ہو یا راستہ بھٹک گئے ہو ؟
اس بزرگ نے ایک ساتھ کئی سوال پوچھ لیے
بابا جی ہم راستہ بھٹک گئے ہیں اور ہمیں اب سیدھے راستے کا پتہ نہیں چل رہا
ہادی نے دکھ سے کہا
کہاں ہے تم لوگوں کا گھر میں چھوڑ آتا ہوں ؟
بزرگ نرم لہجے میں بولے
گھر کا راستہ نہیں بابا جی اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ بھٹک گئے ہیں!
ہادی نے اسی لہجے میں جواب دیا
تو اس میں اتنی پریشانی کی کیا بات ہے بیٹا خدا کا تک پہنچنے کا راستہ اتنا مشکل تو نہیں کہ کوئی تلاش نہ کر سکے
کسی ایک نیکی کا دامن پکڑ کے اس کے پیچھے چل پڑو تو وہی راستہ تمھیں رب تک لے جاتا ہے
سچائی کا ہاتھ پکڑ لو
رحم دلی کا راستہ اپنا لو
انصاف کا دامن تھام لو
اصل میں جس راستے پہ بھی چلو اللّٰہ نے ہر راستہ اپنے ہی طرف موڑ رکھا ہے تم جس راستے پہ بھی چلو گئے اس تک پہنچ جاؤ گے
بابا جی نے الجھا سا جواب دیا
لیکن بابا جی لوگ تو کہتے ہیں جو سیدھے راستے سے بھٹک گیا وہ جہنم میں جائے گا
ہادی نے پوچھا
بیٹا یہ تو سمجھ اور عقل والوں کی بات ہے نہ
وہ تو بہت کچھ کہتے ہیں عقل کی باتیں عشق والوں کی باتوں سے الگ ہوتی ہیں
عشق والوں کے قاعدے کلیے عقل والوں کی سمجھ سے باہر ہوتے ہیں
کونسے قاعدے کلیے ؟
ارحم نے حیرت سے پوچھا
تم لوگوں نے سائنس پڑھی ہے ؟
اس میں نظام شمسی یعنی سولر سسٹم کے بارے میں بھی پڑھا ہو گا
Eight planets and their moons revolve around the sun ______
تو کبھی تم لوگوں نے اس پاور کے بارے میں سوچا جو انہیں ایسا کرنے پہ مجبور کرتی ہے؟
جی بالکل ارم نے جواب دیا
سورج کی کشش سب سیاروں کو اپنے اردگرد گردش پہ مجبور کرتی ہے
بالکل ٹھیک اب یہ بتاؤ کہ ہم سب زمین پہ کیوں موجود ہیں
ہم۔یہ زمین چھوڑ کر ہوا میں کیوں نہیں اڑ جاتے ؟
اب کے بار ولید نے جواب دیا
زمین کی کشش ثقل ہر شے کو اپنے ساتھ جوڑے رکھتی ہے اور اسی کشش کی وجہ سے ہم زمین پہ موجود ہیں
بالکل ایسے ہی ایک اور بھی کشش اس کائنات میں موجود ہے وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کی انسان کے لیے محبت کی کشش ___________
بزرگ نے جوش سے جواب دیا
جو گہنگار انسان کی بھی صدا سنتا ہے جو اسے جھٹلانے والوں کو بھی رزق دیتا ہے
جو اس کے وجود کا انکار کرنے والوں کو بھی ہر نعمت سے نوازتا ہے
اور بیٹا ایک مسلمان کے لیے اس کی اس محبت کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا
کوئی کتنا ہی بڑا مجرم کیوں نہ ہو ایک بار صدق دل سے توبہ کر کے اسے پکارے تو وہ اس کے سب گناہ معاف کر کے اسے گلے لگا لیتا ہے
اصل میں ہم مسلمانوں میں اسلام کی روح ختم کر کے روبوٹ نما مسلمان بنا رہے ہیں
جو رب کی محبت میں نہیں بلکہ اس کے عذاب کے خوف سے نماز پڑھتا ہے
لیکن اسے پتہ ہی نہیں کہ نماز کا مقصد کیا ہے
قرآن کی بھی روز تلاوت کرتا ہے لیکن اسے پتہ ہی نہیں کہ اس قرآن میں لکھا کیا ہے
سب کام وہ کرتا ہے مگر ایک مجبور غلام کی طرح جسے ہر کام کی اجرت ملتی ہو ہم سب دیہاڑی دار مزدور بن گئے ہیں کبھی جنت کے لالچ میں کبھی جہنم کے خوف سے دن رات عبادتیں کیے جا رہے ہیں
کبھی ایک بار ہم نےاس رب کی محبت میں اس کے آگے سجدہ ریز ہوئے کبھی ہم نےیہ کہا کہ اے رب تو واقع میری عبادت کا حقدار ہے؟
تو اللّٰہ کی محبت کا حق ہم کیسے ادا کر سکتے ہیں
بھلا انسان بھی رب کا حق ادا کر سکتا ہے ؟اتنے احسانوں کے بعد پھر بھی وہ ہمیں پانچ بار نماز کی صورت میں ملاقات کے لیے بلاتا ہے انسان کے چوبیس گھنٹوں میں سے صرف تھوڑا سا وقت وہ اپنے لیے مانگتا ہے اور جب اس کے بندے اس کے حصے کا وقت بھی کسی اور کو دے دیتے ہیں تو وہ پھر ناراض ہو جاتا ہے
جب وہ ناراض ہو جاتا ہے تو یہ ساری کائنات اس سے ناراض ہو جاتی ہے
دنیا کی کوئی شے انسان کی بہتری کے لیے کام نہیں کرتی
اس کا ہر کام الٹ ہو جاتا ہے
وہ چاہتا کچھ ہے ہوتا کچھ ہے ہر تدبیر الٹ ہو جاتی ہے ہر کامیابی ناکامی میں تبدیل ہونے لگتی ہے کیونکہ اس نے اپنے محبوب کو جو خفا کیا ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی شے اس کی بھلائی کے لیے دعا نہیں
کرتی
کوئی شے مطلب بے جان چیزیں بھی سمجھ رکھتی ہیں ؟
ارم نے حیرت سے پوچھا
بیٹا اس دنیا کی ہر شے اپنے رب کو پہچانتی ہے ہر شے اسے سراہتے ہوئے اس کی تسبیح کرتی ہے
ایک غافل ہے تو بس انسان جو دنیا کے دھندوں میں الجھ کر اپنے رب کی یاد بھلا بیٹھا ہے
یوں سمجھ لو بیٹا کہ رب کے رحمت اس سے دور ہٹ جاتی ہے اور شیطان کا اس پہ زور چلنے لگ جاتا ہے
سب خاموشی سے سر جھکائے بیٹھے تھے وہ بھی تو انہیں لوگوں میں سے ہی تھے جو اپنے رب کی یاد بھول گئے تھے انھوں نے بھی کبھی محبت سے ایک بار بھی رب کے آگے سجدہ نہیں کیا تھا
اچھا بچو اب سو جاؤ میں ادھر ہی ہوں وہ سامنے جو سبز دروازے والا کمرہ ہے وہ میرا ہے اگر کسی شے کی ضرورت ہو تو ادھر آجا نا
اس بزرگ نے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کے اٹھتے ہوئے کہا____________
صبح سب کی خود بخود مؤذن کی اذان کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی
اور ان سب نے وضو کر کے وہیں نماز ادا کی کتنی دیر ہی وہ سب رات اس بزرگ کی باتوں پہ غور کرتے رہے سورج کے طلوع ہوتے ہی سب گھروں کو چلے گئے
سکول کا آخری پیریڈ تھا سر طلحہ وائٹ بورڈ پہ میتھ کے سوال سمجھا رہے تھے
جب چھٹی کی بل ہوئی ولید رات کا کیا پروگرام ہے ارحم نے سکول کے گیٹ کی طرف جاتے ہوئے پوچھا
میری بات سنو میرے دماغ میں ایک خیال آیا ہے کیوں نہ ہم اس بزرگ سے اس منحوس کتاب کے بارے میں سب کچھ بتا کے مدد لیں مجھے لگتا ہے کہ یہ ہمیں اس سے نجات دلا سکتا ہے
ہادی نے سب کو روک کے کہا
سوچ لو ہادی صرف دو راتیں رہتی ہیں وہ تو ہم جیسے تیسے نکال لیں گے لیکن اگر یہ بزرگ ہماری مدد نہ کر سکے تو مجھے یقین ہے کہ ہم اس سے بڑی مصیبت میں پھنس جائیں گے ؟
ولید نے مشورہ دیا
اچھا میرا خیال ہے پہلے مسجد میں ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں اس کے بعد گھر جا کے شام تک آرام سے اس بارے میں سوچتے ہیں پھر رات کو وہیں اکھٹے ہو کے مشورہ کر لیں گے کہ کیا کرنا ہے؟
ہادی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اور تینوں سکول سے باہر نکل کر مسجد کی طرف چل دئیے
شام کے پانچ بجے تھے جب ہادی کو ارم کی کال آئی
وہ شدید خوفزدہ تھی
ہادی مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے میرا سر بہت وزنی ہو رہا ہے جب میں کیچن میں جاتی ہوں تو میرا دل کرتا ہے کہ ماچس اٹھا کے خود پہ تیل چھڑک کے آگ لگا لوں
چھری دیکھتے ہی میرا اپنا گلا کاٹنے کو دل کر رہا ہے
چھت کے پنکھے کو دیکھ کر میرا دل کر رہا ہے کہ میں اس کے ساتھ پھانسی کے لوں ان سب خیالات سے گھبرا کر میں اوپر چھت پہ کھلی فضا میں آ گئی ہوں تو اب میرا دل کر رہا ہے کہ میں چھت سے کود جاؤ ں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا یہ اس طرح کے خیالات میرے دماغ میں کیوں آ رہے ہیں میں خود کو روک نہیں پا رہی میں کیا کروں؟
ارم میری بات دھیان سے سنو ثمین بھی اسی طرح کے حالات کا شکار ہوئی تھی
اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اسی طرح خود کشی کی صورت میں اس کتاب کے جادو کی بھینٹ چڑھ گئی
تم اپنے دماغ میں یہ بات بٹھا لو کہ خود کشی سے اللّٰہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اور تمھیں کسی صورت یہ کام نہیں کرنا اور ہر شے سے دھیان ہٹا کے درود پاک کا ورد کرتے ہوئے تم اسی مزار پہ آ جاؤ ہم بھی وہیں آ تے ہیں
رات کے آٹھ بجنے والے تھے وہ تینوں وہاں پہنچ چکے تھے مگر ارم ابھی تک وہاں نہیں آئی تھی انہوں نے کوئی سو بار اسے کال کر لی تھی بل جا رہی تھی مگر کوئی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا
یار ہادی اگر ارم نے تمھیں یہ سب بتایا تھا تو تم اس کے گھر چلے جاتے پتا نہیں اب وہ کس حال میں ہو گی
ولید نے ہادی سے کہا
بیوقوف میں کوئی لڑکی تو نہیں ہوں لڑکا ہوں ایسے کیسے منہ اٹھا کے ارم کے گھر چلا جاتا اس کے گھر والے سو قسم کے سوال کرتے مجھ سے
ہادی نے اپنی صفائی پیش کی
وہ دیکھو ارم آ گئی ارحم نے صحن کی طرف اشارہ کیا
ارم نے ایک بڑی سی چادر لپیٹ رکھی تھی اندر داخل ہوتے ہی اس نے جلدی سے اتار کے دور پھینکی سب کی حیرت سے چیخ نکل گئی اس کے دائیں بازو میں چھری آر پار ہو چکی تھی اور اس میں سے بے تحاشا خون بہہ رہا تھا ارم کا حوصلہ تھا کہ وہ اس حال میں بھی یہاں تک آ گئی تھی
یہ کیسے ہو گیا کس نے زخمی کیا تمھیں ارحم نے گھبرا کے پوچھا
پتہ نہیں میں اپنے روم میں بیٹھی تھی کہ ہماری میڈ کمرے میں جوس لے کر آئی
اور پتہ نہیں پھر اسے کیا ہوا
اس نے اس چھری سے مجھ پہ اچانک حملہ کر دیا
پتہ نہیں مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے پیدا ہو گئی میں نے یہ چھری چھیننےکے لیے اس کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا اور اس چھینا جھپٹی میں اس نے میرے بازو میں اسے پیوست کر دیا
لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری جونہی میں اس پہ جوابی وار کے لیے جھپٹی تو وہ کمرے سے نکل کر فرار ہو گئ
پہلے تو یہ تھوڑا سا ہی گوشت کے اندر گیا تھا مگر پھر خود بخود آگے کی طرف سرکتا گیا اور میرے یہاں پہنچنے تک یہ بازو کے آر پار ہو گیا
ارم نے بمشکل انہیں بتایا اور زمین پہ ڈھیر ہو گئی
ولید چلو اسے ہاسپٹل لے کر چلتے ہیں
ارحم نے مشورہ دیا
نہیں یہ کوئی عام چھری نہیں ہے جو کہ ڈاکٹر کے نکالنے سے نکل جائے گی اس کے دستے پہ اس کتاب کا نام لکھا ہوا ہے ہادی نے اسے غور سے دیکھ کر کہا
تو پھر کیا کریں ایسے تو ارم کی جان کو خطرہ ہے ولید نے ارم کی درد سے بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر کہا میرا خیال ہے کہ ارم کو
کل والے بابا جی کے پاس لے کے چلتے ہیں
ہادی نے ارم کو سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے کہا
با با جی نے ارم کے بازو پہ دم کرتے ہوئے آ ہستہ آ ہستہ وہ چھری نکالنی شروع کی ارم نے اپنی چیخوں کو دبانے کے لیے منہ پہ زور سے ہاتھ رکھا ہوا تھا
تھوڑی دیر بعد ہی وہ چھری ایک جھٹکے سے باہر آ گئی اور تکلیف کی شدت سے ارم مکمل طور پر بے ہوش ہو کر گر پڑی
بابا جی ہاتھ میں چھری پکڑ کر اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے
دا مسٹری آف ڈیتھ
انھوں نے بلند آواز میں اس کے دستے پہ کندہ نام پڑھا
دو تین منٹ کے بعد ارم کے بازو پہ نہ تو کوئی زخم تھا نہ خون یوں لگتا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں سب حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے
اوہ تو وہ لڑکے تم تھے جنھوں نے میری بیٹی کے ہاتھ سے روڈ پر جاتے ہوئے پرس چھینا تھا
اس کے پرس میں یہ شیطانی کتاب بھی تھی جو اسے میں نے دی تھی تاکہ وہ اسے دریا برد کر دے لیکن افسوس تم لوگوں نے خود ہی یہ مصیبت اپنے گلے ڈال لی ________
باباجی نے چھری کو بغور دیکھتے ہوئے کہا
تینوں کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آ
رہا تھا کہ یہ شخص بھی اس کتاب کے راز کو جانتا ہے____________
آپ کیسے یہ سب جانتے ہیں ہادی نے حیرت سے پوچھا__________
یہ کتاب میں نے ایک جادوگر سے چھینی تھی اور کافی دنوں تک ہمارے گھر میں پڑی رہی
لیکن مجھے ڈر تھا کہ یہ کتاب کہیں کسی ایسے انسان کے ہاتھ نہ لگ جائے جس کی قسمت میں ہر چیز پہ فتح حاصل کرنے کی لکیر ہو جو خدا سے اپنے لیے سعادت لکھوا کے لایا ہو تو یہ منحوس کتاب اس شخص کو اپنے قابو میں کرنے کی ضرور کوشش کرے گی __________
تم پانچوں میں سے کوئی ایک ایسا ہے جو اس خوش قسمتی کا مالک ہے وہ اس گیم کے اینڈ تک زندہ رہے گا اور باقی چار مر جائیں گے _______
بابا جی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا
بابا جی ہم میں سے ثمین مر چکی ہے اور ہم چار آپ کے سامنے موجود ہیں _______
ہادی نے شدید پریشانی میں بتایا
کتنے لیول کھیلے تم سب نے
تیسرے لیول پہ تھے
ارحم نے بتایا_____
چوتھے راؤنڈ میں کسی ایک نے مر جانا تھا جو کہ کھیلا جا چکا ہے اور ثمین جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے___________
پانچویں میں تم سب میں سے کسی ایک نے اس رات ذرمائن کی زندگی کے لیے اپنی زندگی قربان کرنا تھی جو کہ میرے وہاں آنے سے ناکام ہو گیا
چھٹے میں قسمت کے ساتھ لڑنا تھا
یعنی موت کے ساتھ جنگ
اگر جیت گئے تو زندگی ورنہ موت
جو کہ ارم نے اپنی بہادری سے جیت لیا ہے
بابا جی نے انہیں تفصیل سے بتایا
اور چار راؤنڈ باقی ہیں
ہادی نے اندازہ لگایا
چار راؤنڈ نہیں بلکہ اب شروع ہو گا موت کا رقص تم چاروں میں سے ہر راؤ نڈ میں ایک کی موت ہو جائے گی
اور آخری راؤنڈ وہی جیتے گا جو مقدر کا سکندر ہو گا اور اس بچ جانے والے خوش نصیب کے جسم پہ ذرمائن قبضہ کر لے گا اور اس کا واپس اس دنیا میں آنے کا خواب پورا ہو جائے گا
بابا جی نے پھر دھماکہ کیا ______
اففف اب کیا ہوگا ہم اس مصیبت سے کیسے جان چھڑائیں ولید نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
ایک راستہ ہے اس کتاب سے جیتنے کا اور اسے ہرانے کا _______
بابا جی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
کیا ؟؟؟؟
سب نے بیک زبان ہو کے کہا
کوئی ایسی نیکی جو اس کتاب کے جادو کے سامنے تمھارے لیے ڈھال بن کے کھڑی ہو سکے
بابا جی نے گہری سوچ میں ڈوب کر جواب دیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: